وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں خواتین پرجنسی حملے اینٹی رومیواسکواڈقائم ،مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا؟؟

هفته 01 اپریل 2017 بھارت میں خواتین پرجنسی حملے اینٹی رومیواسکواڈقائم ،مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا؟؟

بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ان کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں حیرت انگیز طورپر اضافہ ہواہے یہاں تک کہ اب غیر ملکی خواتین بھی بھارت کے جنسی درندوں کی دست برد سے محفوظ نہیں ہیں اور گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر ملکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے پے درپے واقعات نے پوری دنیا میں بھارت کے نام نہاد تہذیب کے اس لبادے کو تار تار کردیا ہے جو عالمی سطح پر بھارت کو ایک انتہائی پرامن اور قانون پسند لوگوں کاملک قرار دینے کے لیے بھارتی رہنما اوڑھے رکھتے ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اب خود بھارتی خواتین اور اسکول وکالج کی طالبات برملا یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ بسوں، ویگنوں، رکشاؤں میں ، یہاں تک کہ پیدل چلتے ہوئے بھی اب ہم خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں ، صورت حال کی اس سنگینی کے پیش نظر بھارت کی سابق حکومت نے خواتین کو ان جنسی درندوں سے نجات دلانے کے لیے ایک ہیلپ لائن قائم کی تھی اوریہ دعویٰ کیاتھا کہ 1090پر کال ملتے ہی پولیس حرکت میں آئے گی اور لڑکیوں اور خواتین کو چھیڑنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی لیکن بھارت میں بیشتروالدین کی جانب سے لڑکیوں کو موبائل فون استعمال نہ کرنے دینے کی وجہ سے اس منصوبے کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوسکا، اب حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے خواتین کوان جنسی درندوں سے بچانے محکمہ پولیس میں ہی ایک نیا شعبہ قائم کردیاہے جس کانام اینٹی رومیو اسکواڈ رکھا گیاہے ،اس اینٹی رومیو اسکواڈ میں شامل پولیس اہلکاروں کو کالجوں ، اسکولوں، بازاروں، بس اسٹاپس ،مندروں اور دیگر بھیڑ بھاڑ والے مقامات اور تفریحی پارکوں، سینمائوں جیسے مقامات پر موجود رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ جیسے ہی کوئی دل پھینک نوجوان کسی خاتون یا لڑکی کو چھیڑنے یا اس کے ساتھ دست درازی کی کوشش کرے اسے فوری طورپر حوالات کی سیر کرائی جاسکے۔
بی جے پی نے ریاستی انتخابات سے قبل اپنے منشور میں خواتین سے اینٹی رومیو اسکواڈ بناکر ان کی عزتوں کو محفوظ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اپنے اس منشور پر عمل کرتے ہوئے اب ریاستی حکمرانوں نے بھارت میں اینٹی رومیو دستے بنا کر لڑکیوں کو چھیڑنے والوں کو پکڑنے کی مہم شروع کردی ہے ۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش میں آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اپنے منشور پر عمل شروع کر دیا ہے۔ منشور میں بی جے پی نے خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے رومیو اسکواڈ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔پولیس کی ذمہ داریوں میں اب نیا کام رومیو یعنی عاشقوں کو پکڑنے کا کام بھی شامل ہو گیا ہے۔ حکام نے ضلع کے ہر تھانے میں ‘اینٹی رومیوا اسکواڈ ‘بنانے کا حکم دیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی کے چیت گنج تھانے کے تحت آنے والے آریہ گرلز کالج میں پولیس نے کالج کے باہر آوارہ گردی کرنے والے منچلوں کو پکڑنے کی مہم چلائی ہے۔ اینٹی رومیو اسکواڈ کی ابتدا ایک گرلز کالج سے ہوئی ہے ابھی تک کوئی ‘عاشق توپولیس کے ہاتھ نہیں آیا ہے، لیکن اس سے وہاں افراتفری ضرور پھیل گئی۔چیت گنج علاقے کے رہائشی انوراگ آریہ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ مہم پارک، بھیڑ بھاڑ والی جگہوں اور لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں کے باہر چلائی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک اس کی کوئی گائیڈ لائن نہیں آئی ہے لیکن اب تھانے کی سطح پر ‘اینٹی رومیواسکواڈ ‘ بنا دیے گئے ہیں۔
آریہ گرلز کالج کی ایشوریہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات شروع تو ہوتے ہیں لیکن انہیںجاری بھی رکھا جانا چاہیے اور ان پر پوری طرح عمل بھی کیاجانا چاہیے۔طالبات کا کہنا ہے کہ
شروعات تو اچھی ہے لیکن اس پر عمل درآمدجاری رہنا چاہیے ،ایک اور طالبہ نینسی ورما نے بتایا کہ پچھلی حکومت نے خواتین کی مدد کے لیے 1090 نمبر ڈائل کرنے کی سہولت شروع کی تھی، لیکن آگہی کی کمی اور لڑکیوں کو ان کے والدین کی جانب سے موبائل کے استعمال کی اجازت نہ ہونے پر یہ طریقہ کارگر نہیں ہو پایا۔ایک اور طالبہ پریرنا شری واستو نے بتایا کہ حکومت کا یہ قدم اچھا تو ہے لیکن اس پر صحیح طریقے سے عمل بھی کیاجانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آگہی بھی کافی ضروری ہے۔ورشا سنگھ کا کہنا تھا کہ چھیڑ چھاڑ کے سبب روزمرہ کی زندگی میں سڑک پر چلنے سے لے کر آٹورکشا اور بسوں میں بیٹھنا تک مشکل ہو چکا ہے، ایسے میں یہ ایک اچھا قدم ہے۔
ایک طرف بھارت میں خواتین کو جنسی درندوں سے بچانے کے لیے اینٹی رومیو اسکواڈ بنائے جارہے ہیں اور دوسری جانب بھارتی فلموں میں لچر مناظر ،گانوں اور رقص کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ سب کچھ کرنے والے اسے خواتین کا حق قرار دے رہے ہیں ، اس حوالے سے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی معاشرے میں خواتین کے جنسی اظہار کے معاملے میں پہلے بہت زیادہ باتوں سے گریز کیا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ اب یہ خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔
اس حلقے کا کہنا ہے کہ اس کی تازہ مثال شاہ رخ خان کی فلم رئیس ہے۔ اس فلم کا آئٹم نمبر ‘لیلیٰ او لیلیٰ فلم سے بھی کئی ہفتے پہلے ریلیز ہوا تھا۔اداکارہ سنی لیونی پر فلمایا جانے والا ‘لیلیٰ او لیلیٰ نغمہ یوٹیوب پر اب تک 8 کروڑ سے بھی زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔لیلیٰ او لیلیٰ ہو، ‘چکنی چنبیلی ہو یا پھر ‘شیلا کی جوانی اس طرح کے آئٹم سانگ اب فلموں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔تاہم زبردست ہٹ ہونے کے باوجود ان پر یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ ایسے آئٹم سانگ میں خواتین کو ایک ’آبجیکٹ‘ کے طور پر دکھایا جاتا
ہے۔نوجوان گلوکارہ پونی پانڈے کے لیے فلموں میں ایسے آئٹم سانگ ایک عام بات ہے،آج کل پورے بھارت میں بحث اس بات پر ہورہی ہے کہ ایسے نغموں میں عورت کو ’اوبجیکٹیفائی‘ کیا جاتا ہے یا پھر انہیں اپنے جسم کے ساتھ مطمئن ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔اداکارہ سنی لیونی کا کہنا ہے کہ اس طرح کا جنسی اظہار کسی بھی طرح سے غلط نہیں ہے۔لیکن گھریلو خاتون مینا پانڈے کو ایسے آئٹم سانگ سے شکایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘لیلیٰ او لیلیٰ جیسے نغمے کو وہ بچوں کے ساتھ، یا پورے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتی۔
لیکن دوسری طرف نئی نسل کی لڑکیاں ہیں جواس طرح کے جنسی اظہار کو غلط نہیں سمجھتیں۔بالی وڈ کی اداکارہ سورا بھاسکر کہتی ہیں کہ اگر آبجیکٹی فکیشن کی بات کریں تو پوری فلم انڈسٹری ہی اس کا شکار ہے۔فلم رئیس کے نغمے ‘لیلیٰ او لیلیٰ کی نوجوان گلوکارہ پونی پانڈے بھی انہی میں سے ایک ہیں۔انکا کہنا ہے کہ ‘پہلے بھی آئٹم نمبر، جیسے پیا تو اب تو آجا، ہوتے رہے ہیں، وہ فلم کی کہانی کا حصہ ہوتے ہیں۔ سنی نے اس گانے کو بہت اچھی طرح سے پورٹرے کیا ہے۔ اس میں وہ کہیں سے بھی فحش نہیں لگ رہی ہیں۔لیکن خواتین کے مسائل پر لکھنے والی معروف مصنفہ میتری پشپا کو ‘لیلیٰ او لیلیٰ پر تھوڑا اعتراض ہے۔ انہیں اس طرح کے آئٹم نمبر میں جس طرح سے جسم کی نمائش کی جاتی ہے وہ پسند نہیں ہے۔وہ کہتی ہیں: ‘ایسے گانوں پر نوجوان نسل بہت اشتعال انگیزی کی طرف بڑھتی ہے، وہ عقل کھو بیٹھتی ہے(جس کے بعد جنسی حملے کی باری آتی ہے)۔ جس طرح کا ماحول ہے اس کے بارے میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر لڑکیوں کے ساتھ ریپ یا چھیڑ چھاڑ کے واقعات اتنے کیوں بڑھ گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

مضامین
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے! وجود منگل 24 مارچ 2026
زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!

لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر