وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں خواتین پرجنسی حملے اینٹی رومیواسکواڈقائم ،مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا؟؟

هفته 01 اپریل 2017 بھارت میں خواتین پرجنسی حملے اینٹی رومیواسکواڈقائم ،مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا؟؟

بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ان کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں حیرت انگیز طورپر اضافہ ہواہے یہاں تک کہ اب غیر ملکی خواتین بھی بھارت کے جنسی درندوں کی دست برد سے محفوظ نہیں ہیں اور گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر ملکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے پے درپے واقعات نے پوری دنیا میں بھارت کے نام نہاد تہذیب کے اس لبادے کو تار تار کردیا ہے جو عالمی سطح پر بھارت کو ایک انتہائی پرامن اور قانون پسند لوگوں کاملک قرار دینے کے لیے بھارتی رہنما اوڑھے رکھتے ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اب خود بھارتی خواتین اور اسکول وکالج کی طالبات برملا یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ بسوں، ویگنوں، رکشاؤں میں ، یہاں تک کہ پیدل چلتے ہوئے بھی اب ہم خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں ، صورت حال کی اس سنگینی کے پیش نظر بھارت کی سابق حکومت نے خواتین کو ان جنسی درندوں سے نجات دلانے کے لیے ایک ہیلپ لائن قائم کی تھی اوریہ دعویٰ کیاتھا کہ 1090پر کال ملتے ہی پولیس حرکت میں آئے گی اور لڑکیوں اور خواتین کو چھیڑنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی لیکن بھارت میں بیشتروالدین کی جانب سے لڑکیوں کو موبائل فون استعمال نہ کرنے دینے کی وجہ سے اس منصوبے کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوسکا، اب حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے خواتین کوان جنسی درندوں سے بچانے محکمہ پولیس میں ہی ایک نیا شعبہ قائم کردیاہے جس کانام اینٹی رومیو اسکواڈ رکھا گیاہے ،اس اینٹی رومیو اسکواڈ میں شامل پولیس اہلکاروں کو کالجوں ، اسکولوں، بازاروں، بس اسٹاپس ،مندروں اور دیگر بھیڑ بھاڑ والے مقامات اور تفریحی پارکوں، سینمائوں جیسے مقامات پر موجود رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ جیسے ہی کوئی دل پھینک نوجوان کسی خاتون یا لڑکی کو چھیڑنے یا اس کے ساتھ دست درازی کی کوشش کرے اسے فوری طورپر حوالات کی سیر کرائی جاسکے۔
بی جے پی نے ریاستی انتخابات سے قبل اپنے منشور میں خواتین سے اینٹی رومیو اسکواڈ بناکر ان کی عزتوں کو محفوظ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اپنے اس منشور پر عمل کرتے ہوئے اب ریاستی حکمرانوں نے بھارت میں اینٹی رومیو دستے بنا کر لڑکیوں کو چھیڑنے والوں کو پکڑنے کی مہم شروع کردی ہے ۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش میں آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اپنے منشور پر عمل شروع کر دیا ہے۔ منشور میں بی جے پی نے خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے رومیو اسکواڈ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔پولیس کی ذمہ داریوں میں اب نیا کام رومیو یعنی عاشقوں کو پکڑنے کا کام بھی شامل ہو گیا ہے۔ حکام نے ضلع کے ہر تھانے میں ‘اینٹی رومیوا اسکواڈ ‘بنانے کا حکم دیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی کے چیت گنج تھانے کے تحت آنے والے آریہ گرلز کالج میں پولیس نے کالج کے باہر آوارہ گردی کرنے والے منچلوں کو پکڑنے کی مہم چلائی ہے۔ اینٹی رومیو اسکواڈ کی ابتدا ایک گرلز کالج سے ہوئی ہے ابھی تک کوئی ‘عاشق توپولیس کے ہاتھ نہیں آیا ہے، لیکن اس سے وہاں افراتفری ضرور پھیل گئی۔چیت گنج علاقے کے رہائشی انوراگ آریہ نے میڈیا کو بتایا کہ یہ مہم پارک، بھیڑ بھاڑ والی جگہوں اور لڑکیوں کے اسکولوں اور کالجوں کے باہر چلائی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک اس کی کوئی گائیڈ لائن نہیں آئی ہے لیکن اب تھانے کی سطح پر ‘اینٹی رومیواسکواڈ ‘ بنا دیے گئے ہیں۔
آریہ گرلز کالج کی ایشوریہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات شروع تو ہوتے ہیں لیکن انہیںجاری بھی رکھا جانا چاہیے اور ان پر پوری طرح عمل بھی کیاجانا چاہیے۔طالبات کا کہنا ہے کہ
شروعات تو اچھی ہے لیکن اس پر عمل درآمدجاری رہنا چاہیے ،ایک اور طالبہ نینسی ورما نے بتایا کہ پچھلی حکومت نے خواتین کی مدد کے لیے 1090 نمبر ڈائل کرنے کی سہولت شروع کی تھی، لیکن آگہی کی کمی اور لڑکیوں کو ان کے والدین کی جانب سے موبائل کے استعمال کی اجازت نہ ہونے پر یہ طریقہ کارگر نہیں ہو پایا۔ایک اور طالبہ پریرنا شری واستو نے بتایا کہ حکومت کا یہ قدم اچھا تو ہے لیکن اس پر صحیح طریقے سے عمل بھی کیاجانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آگہی بھی کافی ضروری ہے۔ورشا سنگھ کا کہنا تھا کہ چھیڑ چھاڑ کے سبب روزمرہ کی زندگی میں سڑک پر چلنے سے لے کر آٹورکشا اور بسوں میں بیٹھنا تک مشکل ہو چکا ہے، ایسے میں یہ ایک اچھا قدم ہے۔
ایک طرف بھارت میں خواتین کو جنسی درندوں سے بچانے کے لیے اینٹی رومیو اسکواڈ بنائے جارہے ہیں اور دوسری جانب بھارتی فلموں میں لچر مناظر ،گانوں اور رقص کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ سب کچھ کرنے والے اسے خواتین کا حق قرار دے رہے ہیں ، اس حوالے سے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی معاشرے میں خواتین کے جنسی اظہار کے معاملے میں پہلے بہت زیادہ باتوں سے گریز کیا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ اب یہ خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔
اس حلقے کا کہنا ہے کہ اس کی تازہ مثال شاہ رخ خان کی فلم رئیس ہے۔ اس فلم کا آئٹم نمبر ‘لیلیٰ او لیلیٰ فلم سے بھی کئی ہفتے پہلے ریلیز ہوا تھا۔اداکارہ سنی لیونی پر فلمایا جانے والا ‘لیلیٰ او لیلیٰ نغمہ یوٹیوب پر اب تک 8 کروڑ سے بھی زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔لیلیٰ او لیلیٰ ہو، ‘چکنی چنبیلی ہو یا پھر ‘شیلا کی جوانی اس طرح کے آئٹم سانگ اب فلموں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔تاہم زبردست ہٹ ہونے کے باوجود ان پر یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ ایسے آئٹم سانگ میں خواتین کو ایک ’آبجیکٹ‘ کے طور پر دکھایا جاتا
ہے۔نوجوان گلوکارہ پونی پانڈے کے لیے فلموں میں ایسے آئٹم سانگ ایک عام بات ہے،آج کل پورے بھارت میں بحث اس بات پر ہورہی ہے کہ ایسے نغموں میں عورت کو ’اوبجیکٹیفائی‘ کیا جاتا ہے یا پھر انہیں اپنے جسم کے ساتھ مطمئن ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔اداکارہ سنی لیونی کا کہنا ہے کہ اس طرح کا جنسی اظہار کسی بھی طرح سے غلط نہیں ہے۔لیکن گھریلو خاتون مینا پانڈے کو ایسے آئٹم سانگ سے شکایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘لیلیٰ او لیلیٰ جیسے نغمے کو وہ بچوں کے ساتھ، یا پورے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتی۔
لیکن دوسری طرف نئی نسل کی لڑکیاں ہیں جواس طرح کے جنسی اظہار کو غلط نہیں سمجھتیں۔بالی وڈ کی اداکارہ سورا بھاسکر کہتی ہیں کہ اگر آبجیکٹی فکیشن کی بات کریں تو پوری فلم انڈسٹری ہی اس کا شکار ہے۔فلم رئیس کے نغمے ‘لیلیٰ او لیلیٰ کی نوجوان گلوکارہ پونی پانڈے بھی انہی میں سے ایک ہیں۔انکا کہنا ہے کہ ‘پہلے بھی آئٹم نمبر، جیسے پیا تو اب تو آجا، ہوتے رہے ہیں، وہ فلم کی کہانی کا حصہ ہوتے ہیں۔ سنی نے اس گانے کو بہت اچھی طرح سے پورٹرے کیا ہے۔ اس میں وہ کہیں سے بھی فحش نہیں لگ رہی ہیں۔لیکن خواتین کے مسائل پر لکھنے والی معروف مصنفہ میتری پشپا کو ‘لیلیٰ او لیلیٰ پر تھوڑا اعتراض ہے۔ انہیں اس طرح کے آئٹم نمبر میں جس طرح سے جسم کی نمائش کی جاتی ہے وہ پسند نہیں ہے۔وہ کہتی ہیں: ‘ایسے گانوں پر نوجوان نسل بہت اشتعال انگیزی کی طرف بڑھتی ہے، وہ عقل کھو بیٹھتی ہے(جس کے بعد جنسی حملے کی باری آتی ہے)۔ جس طرح کا ماحول ہے اس کے بارے میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر لڑکیوں کے ساتھ ریپ یا چھیڑ چھاڑ کے واقعات اتنے کیوں بڑھ گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ وجود - پیر 16 فروری 2026

کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری وجود - پیر 16 فروری 2026

شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن وجود - پیر 16 فروری 2026

حکومت مذاکرات کیلئے تیار ،جماعت اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی منعم ظفر کون ہوتے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کریں، سینئر صوبائی وزیرکی گفتگو سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،حکومت مذاکر...

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم وجود - پیر 16 فروری 2026

رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتا ہیں پرامن رہ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے دستبردار نہیں ہوں گے،امیر جماعت اسلامی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم...

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ وجود - پیر 16 فروری 2026

سندھ نے پاکستان بنایا، ورغلانے والے سن لیں، صوبے کے باسی کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے سندھ متحد رہے گا، کل بھی کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ ...

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا وجود - اتوار 15 فروری 2026

پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی وجود - اتوار 15 فروری 2026

میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی

حکومت کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 15 فروری 2026

دو ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل پینل تشکیل،ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں میڈیکل پینل کے معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ ہوگا وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک بیان میں رہنما مسلم لیگ (ن) ط...

حکومت کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ

میزائل پروگرام ریڈ لائن ، ایران کاپھر مذاکرات سے انکار وجود - اتوار 15 فروری 2026

میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی، ایران کی فوج ہائی الرٹ ہے کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن ،مناسب جواب دیا جائیگا، علی شمخانی کا انٹرویو ایران نے ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کے مذاکرات کو ناقابل قبول قرار دیدیا۔...

میزائل پروگرام ریڈ لائن ، ایران کاپھر مذاکرات سے انکار

پاک بھارت مقابلہ، بارش سے پوائنٹس کی تقسیم کا خطرہ وجود - اتوار 15 فروری 2026

ٹی 20 ورلڈ کپ ، کولمبو میں متوقع بارش نے ممکنہ طور پر میچ پر سوالیہ نشان لگا دیا پاک بھارت میچ بارش کی نذر ہوگیا تو دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ ملے گا آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج ٹاکر آج ہوگا ۔ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھا...

پاک بھارت مقابلہ، بارش سے پوائنٹس کی تقسیم کا خطرہ

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

مضامین
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط وجود پیر 16 فروری 2026
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط

امریکہ میں بھارتی دہشت گردی وجود پیر 16 فروری 2026
امریکہ میں بھارتی دہشت گردی

انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے! وجود پیر 16 فروری 2026
انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے!

بنگلہ دیش کا فیصلہ وجود اتوار 15 فروری 2026
بنگلہ دیش کا فیصلہ

عمران خان کا مقدمہ وجود اتوار 15 فروری 2026
عمران خان کا مقدمہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر