وجود

... loading ...

وجود

محکمہ تعلیم میں لوٹ مار کے بعد فضل اللہ پیچوہو نے محکمہ صحت میں بساط بچھالی

بدھ 29 مارچ 2017 محکمہ تعلیم میں لوٹ مار کے بعد فضل اللہ پیچوہو نے محکمہ صحت میں بساط بچھالی


کہتے ہیں کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور انسان دوست وہی بناتا ہے جو اس کی فطرت کے مطابق ہوں گے۔ نیک انسان کے دوست نیک ہوتے ہیں اور چور کے دوست ہمیشہ چور ہوتے ہیں۔ اس لیے تو یہ بات مشہور ہے کہ ہم اپنی مرضی سے نہ پیدا ہوتے ہیں نہ مرتے ہیں اور نہ ہی اپنی مرضی کے رشتہ دار رکھ سکتے ہیں لیکن ہم اپنی مرضی کے دوست ضرور رکھ سکتے ہیں۔ سندھ میں اس وقت سب سے زیادہ طاقتور افسر فضل اللہ پیچوہو ہیں جو آصف زرداری کے بہنوئی ہونے کے ناتے زمین پر خدا بنے بیٹھے ہیں اور وہ اپنے محکمے کے وزیر، چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ انہوں نے پہلے محکمہ تعلیم اور اب محکمہ صحت میں لوٹ مار کرنے کے لیے اپنے فرنٹ مین بنا رکھے ہیں جو جعلی طریقے سے افسر بن بیٹھے ہیں ۔یہ بات کم لوگوں کو پتہ ہے کہ خود فضل اللہ پیچوہو کو ڈی ایم جی گروپ بھی جعلی طریقے سے ملا تھا ۔انہوں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیا تو ان کو انکم ٹیکس گروپ ملا، اس وقت 1988 ء کا الیکشن ہو گیا تھا، آصف زرداری نے بینظیر بھٹو کو کہہ کہ فضل اللہ پیچو ہو کا گروپ تبدیل کروا کر ان کو ڈی ایم جی گروپ دلوایا۔ جب فضل اللہ پیچو ہو خود غلط طریقے سے ڈی ایم جی افسر بنا تو پھر وہ اپنے فرنٹ مین بھی وہی رکھے گا جو جعلی طریقے سے افسر بنے ہوں گے۔
جرأت کو ملنے والی معلومات کے مطابق فضل اللہ پیچو ہو کے تین فرنٹ مین ہیں، ان میں پہلا نام ریحان بلوچ کا ہے ،جس کی یہ قابلیت ہے کہ وہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان بھی پاس نہ کرسکا اور براہ راست اسسٹنٹ کمشنر لگ گیا۔ یہ تو اس صوبے کی بدقسمتی ہے کہ سیاسی حکومتوں نے مقابلہ بازی اور ذہانت کو پیچھے دھکیل کر خوشامدیوں کو براہ راست اسسٹنٹ کمشنر، ڈی ایس پی ، ایکسائز انسپکٹر بھرتی کرلیا۔ ریحان بلوچ میں سندھ پبلک سروس کمیشن پاس کرنے کی اہلیت نہیں تھی، اس لیے سیاسی حکومتوں کو منتیں کرکے اسسٹنٹ کمشنر بنا، اور پھر اسی خوشامد کو ترقی کی سیڑھی بنا کر اب گریڈ 19 تک جا پہنچا ہے۔ فضل اللہ پیچو ہو جب سیکریٹری تعلیم تھے تو اس وقت 17 منصوبوں کا پروجیکٹ ڈائریکٹر ریحان بلوچ کو بنا دیا۔ حالانکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر تو کسی ٹیکنیکل تعلیم رکھنے والے کو ہی بنایا جاتا ہے اور ریحان بلوچ کے پاس تو کوئی ٹیکنیکل تعلیم نہیں تھی مگر وہ خوشامد کی تعلیم میں بہت آگے تھا اس لیے 17 منصوبوں کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بن گیا۔ ذرا تصور کیجئے جو خود جعلی طریقے سے اس حد تک پہنچا ہے وہ ان منصوبوں کے ساتھ کیا حشر کر گیا ہوگا، مگر کون بولے؟ یہاں تو سب کے پرجل جاتے ہیں۔
ان کے دوسرے فرنٹ مین سید ذاکر حسین ہیں وہ سندھ سیکریٹریٹ میں کلرک بھرتی ہوئے پھر اسٹینو گرافر بن گئے اگر وہ اپنی ملازمت مکمل کرتے تو آفس سپرنٹنڈنٹ بن کر ہی ریٹائرڈ ہو جاتے مگر سیاسی حکومتوں نے ان کا ہاتھ پکڑا ااوران کو سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان دلائے بغیر براہ راست سیکشن افسر اور پھر جلد ہی ڈپٹی سیکریٹری کا عہدہ دلا دیا، یوں وہ گریڈ 20 تک پہنچ گئے۔ سید ذاکر حسین کو اس جگہ پہنچانے والے عرفان اللہ مروت تھے اور آج بھی وہ عرفان اللہ مروت کے ساتھ وفاداری نبھا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں جب عرفان مروت نے آصف زرداری سے ملاقات کی تھی اور خبریں آئیں کہ وہ پی پی میں شامل ہوا ہے تو اس وقت بختاور زرداری اور آصفہ زرداری نے اعتراض اٹھایا، یوں وقتی طور پر عرفان مروت کی پی پی میں شمولیت رک گئی۔ یہ سب رابطے سید ذاکر حسین نے فضل اللہ پیچوہو کے ذریعہ کرایا تھا۔ سید ذاکر حسین خوشامد میں چونکہ سب ڈگریاں اپنے پاس رکھتے ہیں اس لیے اس کو بیک وقت ایڈیشنل سیکریٹری اور چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے عہدے دیئے گئے ۔
فضل اللہ پیچوہو کے تیسرے فرنٹ مین کا نام عبدالستار جتوئی ہے یہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان دے کر ہیلتھ ایجوکیشن افسر بھرتی ہوئے مگر جب اویس مظفر ٹپی نصف درجن وزارتیں رکھتے تھے تو اس نے ستار جتوئی کو فوری طور پر گریڈ 19 میں ایڈیشنل سیکریٹری بنوایا۔ سپریم کورٹ نے جب ایسے قبل از وقت ترقی پانے والے افسران کو ہٹایا تو ستار جتوئی بھی گریڈ 17 میں واپس محکمہ صحت میں چلے گئے لیکن جب فضل اللہ پیچو ہو محکمہ تعلیم میں سیکریٹری بنے تو انہوںنے ستار جتوئی کو محکمہ تعلیم میں 6 منصوبوں کا پی ڈی بنا دیا۔ ہیلتھ ایجوکیشن کے ملازم کو بھلا محکمہ تعلیم کے منصوبوں کا کیا پتہ ہوگا۔ مگر چونکہ اس نے لوٹ کھسوٹ سیکھ لیا تھا اس لیے اس نے ان منصوبوں کا بھی پوسٹ مارٹم کر دیا اور جب سپریم کورٹ نے تمام ملازمین کو اپنے اصل محکموں میں واپس جانے کا حکم دیا تو فضل اللہ پیچوہو نے سید ذاکر حسین کو اسٹینو گرافر، ستار جتوئی کو ہیلتھ ایجوکیشن افسر بننے نہ دیا اور کھل کر سامنے آگئے جبکہ ریحان بلوچ کو بھی برطرف ہونے نہ دیا۔ حکومت سندھ بھی فضل اللہ پیچو ھو کے سامنے بے بس تھی۔ فضل اللہ پیچوہو اب محکمہ صحت میں سیکریٹری بن گئے ہیں تو سب سے پہلے ستار جتوئی کو لے جا کر ڈی جی ہیلتھ کے دفتر میں ایک نئی غیر قانونی پوسٹ ’’ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ اکائونٹس‘‘ پیدا کرکے اس کی تعیناتی کرادی ہے۔ ریحان بلوچ کو محکمہ صحت میں ایڈیشنل سیکریٹری بنوا دیا ہے اور سید ذاکر حسین کو محکمہ تعلیم (اسکول ایجوکیشن) میں رہنے دیا ہے تاکہ جو کام وہ کرکے آئے تھے سید ذاکر حسین ان کا تحفظ کرتے رہیں۔


متعلقہ خبریں


بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

مضامین
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر