وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی پیش رفت۔۔۔پڑوسی ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ

بدھ 22 مارچ 2017 خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی پیش رفت۔۔۔پڑوسی ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ

انسان سائنسی ترقی، خاص طورپر خلائی جہازوں اور راکٹوں کی تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد سے خلا میں جھانکنے کی کوشش کرتا رہا ہے ،انسان اپنی اسی فطرت کے تحت خلا میں پہنچنے کاخواہاںہے ،دیگر ملکوں کے ساتھ ہی بھارت نے بھی خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت نے گزشتہ دنوں اب تک کا اپنا سب سے بڑا راکٹ اور ایک کیپسول خلا میں بھیجا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ 630 ٹن وزنی سیٹلائٹ جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے سری ہری کوٹا سیخلا سے خلا میں بھیجا گیا۔یہ نیا راکٹ نسبتاً وزنی سیٹلائٹ بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بھارت نے حالیہ برسوں میں کم وزنی سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کیے ہیں لیکن بھاری سیٹلائٹ بھیجنے میں مسائل کا سامنا تھا۔اطلاعات ہیں کہ نیا راکٹ رابطے کے لیے بنائے گئے 4000 کلو وزنی سیٹلائٹ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کے بھارت کو اب اس معاملے میں دوسرے ممالک کے لانچرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایک کیپسول بھی لانچ کیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے
اس لانچ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ میں کہا ’جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیاب لانچ ہمارے سائنسدانوں کی محنت اور قابلیت کی ایک اور کامیابی ہے۔ ان سب کو ان کی کوششوں کے لیے مبارکباد۔‘
بھارت کے خلائی ادارے اسرو کے چیئرمین کے رادھا کرشنن کا کہنا ہے کہ ’یہ بھارت کی خلائی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔‘راکٹ کا مرکزی کارگو ایک بھارتی ساختہ کیپسول تھا جس میں دو سے تین خلابازوں کو لے جانے کی صلاحیت ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا خلائی ادارہ خلا بازوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے حکومت سے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور یہ کامیاب لانچ اس ضمن میں پہلا قدم ہے۔بھارت نے ستمبر میں کامیابی سے مریخ کے مدار میں ایک سیٹلائٹ بھیجا تھا اور وہ ایسا کرنے والا چوتھا ملک بن گیا۔
سائنسی امور کے نامہ نگار صحافی پلو باگلا نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ اس راکٹ کو 170 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، جو دنیا کی باقی خلائی ایجنسیوں کے مقابلے میں صرف نصف خرچ ہے۔اگر ایشیائی خلائی دوڑ کی بات کی جائے توبھارت چین سے ہمیشہ پیچھے رہا ہے، لیکن مگلان کے بعد مریخ کی ریس میں بھارت چین سے آگے بڑھ گیا ہے۔’اب بھارتی خلائی ایجنسی دوسرے ممالک کے سیٹلائٹ بھیجنے میں ان کی مدد کر سکے گی۔ مگلان سے لے کر چدران اور جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیابی کے بعد اب دوسرے ملک اپنے کمرشل سیٹلائٹ لانچ کے لیے بھارتی خلائی ادارے کا رخ کریں گے۔‘باگلا کے مطابق ’اس کے دو سبب ہیں۔ ایک تو یہ کہ بھارت کے پاس سستی ٹیکنالوجی موجود ہے اور دوسرا یہ کہ ہمارا معیار اب عالمی سطح پر ثابت ہو چکا ہے۔. یعنی اربوں ڈالر کی لانچ مارکیٹ میں بھارت اپنے لیے ایک قابل اعتماد جگہ بنا سکے گا۔‘
بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے گزشتہ دنوں 104 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیج کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔اس سے قبل ایک خلائی مہم کے دوران ایک ساتھ اتنے سیٹلائٹس نہیں بھیجے گئے تھے۔بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے گزشتہ سال ایک وقت میں 20 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔اب تک کسی ایک خلائی مشن میں سب سے زیادہ سیٹلائٹس بھیجنے کا عالمی ریکارڈ روس کے نام تھا، جس نے 2014 ء میں ایک وقت میں 37 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔اس مہم میں بھیجے جانے والے 104 مصنوعی سیٹلائٹس میں سے تین انڈیا کے ہیں جب کہ باقی 101 سیٹلائٹس اسرائیل، قزاقستان، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے ہیں۔اس مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرو کے چیئرمین ایس ایس کرن کمار نے میڈیا کو بتایا: ‘ان میں سے ایک مصنوعی سیارے کا وزن 730 کلوگرام ہے ان کے علاوہ ہمارے پاس 600 کلوگرام مزید وزن خلا میں بھیجنے کی صلاحیت تھی، اس لیے ہم نے 101 دوسرے سیٹلائٹس کو بھی لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔’کرن کمار نے اس پوری مہم پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات تو نہیں دیں لیکن یہ واضح کیا کہ مشن کا نصف خرچ غیر ملکی سیٹلائٹس کو بھیجنے سے آ رہا ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ اسرو کو غیر ملکی مصنوعی سیاروں سے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدن ہوئی ہے۔سینئر صحافی پلّو باگلا نے کہا: ‘یہ محض ریکارڈ بنانے کے لیے نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اس میں انڈین خلائی مشن کے ساتھ اسرو کا کمرشل پہلو بھی شامل ہے۔ یہ مشکل کام ہے اس لیے دنیا بھر کی نظر یںاس پر ٹکی ہیں۔’گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارت نے دنیا کے 21 ممالک کے 79 سیٹلائٹس کو خلا میں لانچ کیا ہے جس میں گوگل اور اییربس جیسی بڑی کمپنیوں کے سیٹلائٹس بھی شامل تھے۔
بھارت نے گزشتہ دنوں ہری کوٹا میں اپنے خلائی ادارے اسرو کے مرکز سے ایک ایسے راکٹ کو لانچ کیا ہے جو8 مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے کر گیا ہے۔بھارت نے موسم کی پیش گوئی کے لیے بھیجے جانے والے اپنے ایک مصنوعی سیارے کے ساتھ ساتھ امریکہ، کینیڈا اور الجزائر سمیت5 ممالک کے مصنوعی سیاروں کو بھی خلا میں چھوڑا۔گزشتہ سال جون میں بھی اسرو نے پی ایس ایل وی کی مدد سے ایک ساتھ 20 مصنوعی سیاروں کو خلا میں چھوڑا تھا جن میں سے صرف تین مقامی اور بقیہ 17 غیر ملکی تھے۔گزشتہ سال جون میں زبردست کامیابی کے بعد ہی گزشتہ دنوں پی ایس ایل وی نے پہلی بار یہ سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں۔
اس مشن میں کامیابی کے بعد اب بھارت مجموعی طور پر 79 غیر ملکی مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے والا ملک بن جائے گا اور اس کے ساتھ ہی خلائی مہم سے بھارت کو ہونے والی کمائی بھی 12 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔یہ بھارت کے لیے ایک اچھی خبر ہے کیونکہ اس پر اکثر خلائی پروگرام پر پیسے خرچ کرنے کے لیے تنقید ہوتی رہتی ہے۔نکتہ چینی کی ایک وجہ بھارت میں شدید غربت اور بھوک جیسے کئی مسائل بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انڈیا اپنے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے دولت کا ایک بڑا حصہ خلائی مشن پر خرچ کرتا ہے۔اب انڈیا اسی خلائی مشن سے پیسے بھی کمانے لگا ہے۔ اسرو کے چیئرمین کرن کمار کا کہنا ہے کہ اسرو اپنے کام کو اور زیادہ اقتصادی اور کفایت شعار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔لیکن اب بھارت خلائی مشن سے پیسے بھی کمانے لگا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’اپنے ملک کی ضروریات کے لیے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے دوران راکٹ میں موجود اضافی جگہ کے استعمال سے ہم اپنے خرچ کی تلافی کرنے میں کامیاب ہوں گے۔‘ایک ہی بار میں کئی مصنوعی سیاروں کو لانچ کرنے کی صلاحیت نے انڈیا کو دنیا کے اس بازار میں ایک بڑا کھلاڑی بنا دیا ہے۔’ارتھ -2 آربٹ‘ ایک ایسی کمپنی ہے جو اسرو اور نجی کمپنیوں کے درمیان سیٹلائٹ لانچ کے لیے معاہدے کرانے میں مدد کرتی ہے۔کمپنی کی چیف ایگزیکٹو افسر سشمیتا موہنتی کہتی ہیں: ’اس طرح کے سیٹلائٹ لانچ کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ نئی کمپنیاں کاروباری طور پر تیار کی گئی سیٹلائٹس کو ایک ساتھ بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔‘ان کے مطابق بھارت کو اس کاروبار میں، مقررہ وقت کے اندر کامیابی کے ساتھ کام کرنے پرکافی فائدہ مل سکتا ہے۔
بھارت اب ہر سال تقریباً 12 سیٹلائٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ تعداد دگنی ہے۔موہنتی بتاتی ہیں: ’بیرونی ملکوں سے سیٹلائٹ لانچ کر پانا اب بھی بہت آسان نہیں ہے۔ سرکاری سیٹلائٹ ایجنسی کے راکٹ سے غیر ملکی کاروباری سیٹلائٹ بھیجنے کا عمل کافی پیچیدہ بھی ہے۔ اس میں اصول و ضوابط، معاہدے اور قانون جیسی کئی دشواریاں ہیں۔‘اس کے علاوہ سائنسدانوں کو اب دوسرے ملکوں کی خلائی ایجنسیوں سے ہی نہیں بلکہ اسپیس ایکس جیسی نجی کمپنیوں سے بھی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارت اب تک صرف چھوٹے اور ہلکے غیر ملکی سیٹلائٹ ہی لانچ کر رہا ہے۔ پی ایس ایل وی کی مدد سے انڈیا نے اب تک مسلسل 35 بار لانچ میں کامیابی حاصل کی ہے۔لیکن بھاری سیٹلائٹ لانچ کرنے سے کمائی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے سے وابستہ کئی کمپنیوں نے قیمتوں کی اپنی شرح میں کمی کی ہے تاکہ انہیں زیادہ بزنس مل سکے۔اگر بھارت زیادہ بڑے مصنوعی سیاروں کو خلا میں پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے سیٹلائٹ لانچنگ کے بازار میں بھارت کی پوزیشن اور مضبوط ہو سکتی ہے اور بھارت اس سے اربوں ڈالر کی کمائی کر سکتا ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارتی سائنسدانوں کی یہ کامیابی پاکستان کی حکومت اور سائنسدانوں کے لیے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ بھارت اپنی کینہ پرور فطرت کے سبب کسی بھی وقت خلائی ٹیکنالوجی میں اپنی اس مہارت کو پاکستان اورچین کے خلاف جاسوسی کے لیے بھی استعمال کرسکتاہے ، اور خلا میں بھیجے گئے اپنے کسی بھی سیٹلائٹ میں جاسوسی کے آلات نصب کرکے پاکستان کے راز حاصل کرنے کی کوشش کرسکتاہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے رہنما بھارت کی اس کامیابی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے پاکستان پر اس کے منفی اثرات کو سمجھنے اور اس کا توڑ کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دیں،امید کی جاتی ہے کہ ہمارے سائنسداں اس حوالے سے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لانے اور خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی برتری کے اس خواب کو چکناچور کرنے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر راس العین میں ترکی کے فضائی حملے میں شہریوں اور صحافیوں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی شام کے علاقے القاشملی سے راس العین میں یکجہتی کے لیے آنے والے ایک گروپ پر کیا گیا۔شام میں کردوں کی نمایندہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز'ایس ڈی ایف' کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے "سویلین قافلے" پر حمل...

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

2017 تک تاشپولات طیپ ایک جانے پہچانے معلم اور سنکیانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے، ان کے دنیا بھر میں رابطے تھے جبکہ انھوں نے فرانس کی مشہور پیرس یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔لیکن اسی برس وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاپتہ ہو گئے اور اس حوالے سے چینی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ پروفیسر طیپ کو علیحدگی کی تحریک چلانے کا ملزم قرار دیا گیا، ان پر خفیہ انداز میں مقدمہ چلا اور بعدازاں اس جرم کی پاداش میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔پروف...

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور ...

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

کیلیفورنیا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس امریکی ریاست کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔اخبار سان فرانسیسکو کرانیکل کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید...

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 2011 سے 2018 کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 424 افراد غیرت کی بھینٹ چڑھے۔پنجاب پولیس کی جانب سے مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور چنیوٹ کے علاقوں پر مشتمل فیصل آباد ریجن غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں سر فہرست رہا جہاں گزشتہ آٹھ سال کے دوران 527 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سرگودھا ریجن میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے علاقے شامل ہیں، 338 مقدمات کے س...

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

خوش شکل اور خوش لباس حدیقہ کیانی کا شمار پاکستان میں پاپ موسیقی کی گنی چنی کامیاب گلوکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ہم عصر مرد گلوکاروں کو فن کے میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ حدیقہ کیانی نے ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے۔روایتی آلات موسیقی اور جدید میوزک کے دلآویز امتزاج سے گلوکارہ حدیقہ کیانی 1995ء سے 2017ء تک مسحور کن آواز اور مدھر دھنوں سجے اپنے البمز ’راز، روشنی، رنگ، رف کٹ، آسمان اور وجد‘ سے اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔نفسیا...

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہاہے آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے،اگر سندھ میں معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو یہ آخری آپشن ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جمہوری اقدار میں ہر ایک کو احتجاج کا حق ہے،اس وقت حکومت دنیا بھر میں کشمیریوں کے حقوق اور آزادی کا مقدمہ لڑ رہی ہے،ان تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو دھرنا نہیں دینا چاہیئے،مولاناکواپنے ف...

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،موکل نے کسی معززجج کیخلاف تعصب یاذاتی عناد کاالزام نہیں لگایا، فل کورٹ اورالگ ہونے والے ججز پرکوئی اعتراض نہیں، اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے، لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا، پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسی جج بنے، دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں ج...

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار