وجود

... loading ...

وجود

خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی پیش رفت۔۔۔پڑوسی ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ

بدھ 22 مارچ 2017 خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی پیش رفت۔۔۔پڑوسی ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ

انسان سائنسی ترقی، خاص طورپر خلائی جہازوں اور راکٹوں کی تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد سے خلا میں جھانکنے کی کوشش کرتا رہا ہے ،انسان اپنی اسی فطرت کے تحت خلا میں پہنچنے کاخواہاںہے ،دیگر ملکوں کے ساتھ ہی بھارت نے بھی خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت نے گزشتہ دنوں اب تک کا اپنا سب سے بڑا راکٹ اور ایک کیپسول خلا میں بھیجا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ 630 ٹن وزنی سیٹلائٹ جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے سری ہری کوٹا سیخلا سے خلا میں بھیجا گیا۔یہ نیا راکٹ نسبتاً وزنی سیٹلائٹ بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بھارت نے حالیہ برسوں میں کم وزنی سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کیے ہیں لیکن بھاری سیٹلائٹ بھیجنے میں مسائل کا سامنا تھا۔اطلاعات ہیں کہ نیا راکٹ رابطے کے لیے بنائے گئے 4000 کلو وزنی سیٹلائٹ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کے بھارت کو اب اس معاملے میں دوسرے ممالک کے لانچرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایک کیپسول بھی لانچ کیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے
اس لانچ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ میں کہا ’جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیاب لانچ ہمارے سائنسدانوں کی محنت اور قابلیت کی ایک اور کامیابی ہے۔ ان سب کو ان کی کوششوں کے لیے مبارکباد۔‘
بھارت کے خلائی ادارے اسرو کے چیئرمین کے رادھا کرشنن کا کہنا ہے کہ ’یہ بھارت کی خلائی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔‘راکٹ کا مرکزی کارگو ایک بھارتی ساختہ کیپسول تھا جس میں دو سے تین خلابازوں کو لے جانے کی صلاحیت ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا خلائی ادارہ خلا بازوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے حکومت سے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور یہ کامیاب لانچ اس ضمن میں پہلا قدم ہے۔بھارت نے ستمبر میں کامیابی سے مریخ کے مدار میں ایک سیٹلائٹ بھیجا تھا اور وہ ایسا کرنے والا چوتھا ملک بن گیا۔
سائنسی امور کے نامہ نگار صحافی پلو باگلا نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ اس راکٹ کو 170 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، جو دنیا کی باقی خلائی ایجنسیوں کے مقابلے میں صرف نصف خرچ ہے۔اگر ایشیائی خلائی دوڑ کی بات کی جائے توبھارت چین سے ہمیشہ پیچھے رہا ہے، لیکن مگلان کے بعد مریخ کی ریس میں بھارت چین سے آگے بڑھ گیا ہے۔’اب بھارتی خلائی ایجنسی دوسرے ممالک کے سیٹلائٹ بھیجنے میں ان کی مدد کر سکے گی۔ مگلان سے لے کر چدران اور جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیابی کے بعد اب دوسرے ملک اپنے کمرشل سیٹلائٹ لانچ کے لیے بھارتی خلائی ادارے کا رخ کریں گے۔‘باگلا کے مطابق ’اس کے دو سبب ہیں۔ ایک تو یہ کہ بھارت کے پاس سستی ٹیکنالوجی موجود ہے اور دوسرا یہ کہ ہمارا معیار اب عالمی سطح پر ثابت ہو چکا ہے۔. یعنی اربوں ڈالر کی لانچ مارکیٹ میں بھارت اپنے لیے ایک قابل اعتماد جگہ بنا سکے گا۔‘
بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے گزشتہ دنوں 104 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیج کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔اس سے قبل ایک خلائی مہم کے دوران ایک ساتھ اتنے سیٹلائٹس نہیں بھیجے گئے تھے۔بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے گزشتہ سال ایک وقت میں 20 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔اب تک کسی ایک خلائی مشن میں سب سے زیادہ سیٹلائٹس بھیجنے کا عالمی ریکارڈ روس کے نام تھا، جس نے 2014 ء میں ایک وقت میں 37 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔اس مہم میں بھیجے جانے والے 104 مصنوعی سیٹلائٹس میں سے تین انڈیا کے ہیں جب کہ باقی 101 سیٹلائٹس اسرائیل، قزاقستان، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے ہیں۔اس مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرو کے چیئرمین ایس ایس کرن کمار نے میڈیا کو بتایا: ‘ان میں سے ایک مصنوعی سیارے کا وزن 730 کلوگرام ہے ان کے علاوہ ہمارے پاس 600 کلوگرام مزید وزن خلا میں بھیجنے کی صلاحیت تھی، اس لیے ہم نے 101 دوسرے سیٹلائٹس کو بھی لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔’کرن کمار نے اس پوری مہم پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات تو نہیں دیں لیکن یہ واضح کیا کہ مشن کا نصف خرچ غیر ملکی سیٹلائٹس کو بھیجنے سے آ رہا ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ اسرو کو غیر ملکی مصنوعی سیاروں سے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدن ہوئی ہے۔سینئر صحافی پلّو باگلا نے کہا: ‘یہ محض ریکارڈ بنانے کے لیے نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اس میں انڈین خلائی مشن کے ساتھ اسرو کا کمرشل پہلو بھی شامل ہے۔ یہ مشکل کام ہے اس لیے دنیا بھر کی نظر یںاس پر ٹکی ہیں۔’گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارت نے دنیا کے 21 ممالک کے 79 سیٹلائٹس کو خلا میں لانچ کیا ہے جس میں گوگل اور اییربس جیسی بڑی کمپنیوں کے سیٹلائٹس بھی شامل تھے۔
بھارت نے گزشتہ دنوں ہری کوٹا میں اپنے خلائی ادارے اسرو کے مرکز سے ایک ایسے راکٹ کو لانچ کیا ہے جو8 مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے کر گیا ہے۔بھارت نے موسم کی پیش گوئی کے لیے بھیجے جانے والے اپنے ایک مصنوعی سیارے کے ساتھ ساتھ امریکہ، کینیڈا اور الجزائر سمیت5 ممالک کے مصنوعی سیاروں کو بھی خلا میں چھوڑا۔گزشتہ سال جون میں بھی اسرو نے پی ایس ایل وی کی مدد سے ایک ساتھ 20 مصنوعی سیاروں کو خلا میں چھوڑا تھا جن میں سے صرف تین مقامی اور بقیہ 17 غیر ملکی تھے۔گزشتہ سال جون میں زبردست کامیابی کے بعد ہی گزشتہ دنوں پی ایس ایل وی نے پہلی بار یہ سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں۔
اس مشن میں کامیابی کے بعد اب بھارت مجموعی طور پر 79 غیر ملکی مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے والا ملک بن جائے گا اور اس کے ساتھ ہی خلائی مہم سے بھارت کو ہونے والی کمائی بھی 12 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔یہ بھارت کے لیے ایک اچھی خبر ہے کیونکہ اس پر اکثر خلائی پروگرام پر پیسے خرچ کرنے کے لیے تنقید ہوتی رہتی ہے۔نکتہ چینی کی ایک وجہ بھارت میں شدید غربت اور بھوک جیسے کئی مسائل بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انڈیا اپنے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے دولت کا ایک بڑا حصہ خلائی مشن پر خرچ کرتا ہے۔اب انڈیا اسی خلائی مشن سے پیسے بھی کمانے لگا ہے۔ اسرو کے چیئرمین کرن کمار کا کہنا ہے کہ اسرو اپنے کام کو اور زیادہ اقتصادی اور کفایت شعار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔لیکن اب بھارت خلائی مشن سے پیسے بھی کمانے لگا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’اپنے ملک کی ضروریات کے لیے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے دوران راکٹ میں موجود اضافی جگہ کے استعمال سے ہم اپنے خرچ کی تلافی کرنے میں کامیاب ہوں گے۔‘ایک ہی بار میں کئی مصنوعی سیاروں کو لانچ کرنے کی صلاحیت نے انڈیا کو دنیا کے اس بازار میں ایک بڑا کھلاڑی بنا دیا ہے۔’ارتھ -2 آربٹ‘ ایک ایسی کمپنی ہے جو اسرو اور نجی کمپنیوں کے درمیان سیٹلائٹ لانچ کے لیے معاہدے کرانے میں مدد کرتی ہے۔کمپنی کی چیف ایگزیکٹو افسر سشمیتا موہنتی کہتی ہیں: ’اس طرح کے سیٹلائٹ لانچ کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ نئی کمپنیاں کاروباری طور پر تیار کی گئی سیٹلائٹس کو ایک ساتھ بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔‘ان کے مطابق بھارت کو اس کاروبار میں، مقررہ وقت کے اندر کامیابی کے ساتھ کام کرنے پرکافی فائدہ مل سکتا ہے۔
بھارت اب ہر سال تقریباً 12 سیٹلائٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ تعداد دگنی ہے۔موہنتی بتاتی ہیں: ’بیرونی ملکوں سے سیٹلائٹ لانچ کر پانا اب بھی بہت آسان نہیں ہے۔ سرکاری سیٹلائٹ ایجنسی کے راکٹ سے غیر ملکی کاروباری سیٹلائٹ بھیجنے کا عمل کافی پیچیدہ بھی ہے۔ اس میں اصول و ضوابط، معاہدے اور قانون جیسی کئی دشواریاں ہیں۔‘اس کے علاوہ سائنسدانوں کو اب دوسرے ملکوں کی خلائی ایجنسیوں سے ہی نہیں بلکہ اسپیس ایکس جیسی نجی کمپنیوں سے بھی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارت اب تک صرف چھوٹے اور ہلکے غیر ملکی سیٹلائٹ ہی لانچ کر رہا ہے۔ پی ایس ایل وی کی مدد سے انڈیا نے اب تک مسلسل 35 بار لانچ میں کامیابی حاصل کی ہے۔لیکن بھاری سیٹلائٹ لانچ کرنے سے کمائی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے سے وابستہ کئی کمپنیوں نے قیمتوں کی اپنی شرح میں کمی کی ہے تاکہ انہیں زیادہ بزنس مل سکے۔اگر بھارت زیادہ بڑے مصنوعی سیاروں کو خلا میں پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے سیٹلائٹ لانچنگ کے بازار میں بھارت کی پوزیشن اور مضبوط ہو سکتی ہے اور بھارت اس سے اربوں ڈالر کی کمائی کر سکتا ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارتی سائنسدانوں کی یہ کامیابی پاکستان کی حکومت اور سائنسدانوں کے لیے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ بھارت اپنی کینہ پرور فطرت کے سبب کسی بھی وقت خلائی ٹیکنالوجی میں اپنی اس مہارت کو پاکستان اورچین کے خلاف جاسوسی کے لیے بھی استعمال کرسکتاہے ، اور خلا میں بھیجے گئے اپنے کسی بھی سیٹلائٹ میں جاسوسی کے آلات نصب کرکے پاکستان کے راز حاصل کرنے کی کوشش کرسکتاہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے رہنما بھارت کی اس کامیابی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے پاکستان پر اس کے منفی اثرات کو سمجھنے اور اس کا توڑ کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دیں،امید کی جاتی ہے کہ ہمارے سائنسداں اس حوالے سے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لانے اور خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی برتری کے اس خواب کو چکناچور کرنے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر