وجود

... loading ...

وجود

خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی پیش رفت۔۔۔پڑوسی ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ

بدھ 22 مارچ 2017 خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی پیش رفت۔۔۔پڑوسی ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ

انسان سائنسی ترقی، خاص طورپر خلائی جہازوں اور راکٹوں کی تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد سے خلا میں جھانکنے کی کوشش کرتا رہا ہے ،انسان اپنی اسی فطرت کے تحت خلا میں پہنچنے کاخواہاںہے ،دیگر ملکوں کے ساتھ ہی بھارت نے بھی خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت نے گزشتہ دنوں اب تک کا اپنا سب سے بڑا راکٹ اور ایک کیپسول خلا میں بھیجا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ 630 ٹن وزنی سیٹلائٹ جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے سری ہری کوٹا سیخلا سے خلا میں بھیجا گیا۔یہ نیا راکٹ نسبتاً وزنی سیٹلائٹ بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بھارت نے حالیہ برسوں میں کم وزنی سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کیے ہیں لیکن بھاری سیٹلائٹ بھیجنے میں مسائل کا سامنا تھا۔اطلاعات ہیں کہ نیا راکٹ رابطے کے لیے بنائے گئے 4000 کلو وزنی سیٹلائٹ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کے بھارت کو اب اس معاملے میں دوسرے ممالک کے لانچرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایک کیپسول بھی لانچ کیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے
اس لانچ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ میں کہا ’جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیاب لانچ ہمارے سائنسدانوں کی محنت اور قابلیت کی ایک اور کامیابی ہے۔ ان سب کو ان کی کوششوں کے لیے مبارکباد۔‘
بھارت کے خلائی ادارے اسرو کے چیئرمین کے رادھا کرشنن کا کہنا ہے کہ ’یہ بھارت کی خلائی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔‘راکٹ کا مرکزی کارگو ایک بھارتی ساختہ کیپسول تھا جس میں دو سے تین خلابازوں کو لے جانے کی صلاحیت ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا خلائی ادارہ خلا بازوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے حکومت سے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور یہ کامیاب لانچ اس ضمن میں پہلا قدم ہے۔بھارت نے ستمبر میں کامیابی سے مریخ کے مدار میں ایک سیٹلائٹ بھیجا تھا اور وہ ایسا کرنے والا چوتھا ملک بن گیا۔
سائنسی امور کے نامہ نگار صحافی پلو باگلا نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ اس راکٹ کو 170 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، جو دنیا کی باقی خلائی ایجنسیوں کے مقابلے میں صرف نصف خرچ ہے۔اگر ایشیائی خلائی دوڑ کی بات کی جائے توبھارت چین سے ہمیشہ پیچھے رہا ہے، لیکن مگلان کے بعد مریخ کی ریس میں بھارت چین سے آگے بڑھ گیا ہے۔’اب بھارتی خلائی ایجنسی دوسرے ممالک کے سیٹلائٹ بھیجنے میں ان کی مدد کر سکے گی۔ مگلان سے لے کر چدران اور جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیابی کے بعد اب دوسرے ملک اپنے کمرشل سیٹلائٹ لانچ کے لیے بھارتی خلائی ادارے کا رخ کریں گے۔‘باگلا کے مطابق ’اس کے دو سبب ہیں۔ ایک تو یہ کہ بھارت کے پاس سستی ٹیکنالوجی موجود ہے اور دوسرا یہ کہ ہمارا معیار اب عالمی سطح پر ثابت ہو چکا ہے۔. یعنی اربوں ڈالر کی لانچ مارکیٹ میں بھارت اپنے لیے ایک قابل اعتماد جگہ بنا سکے گا۔‘
بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے گزشتہ دنوں 104 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیج کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔اس سے قبل ایک خلائی مہم کے دوران ایک ساتھ اتنے سیٹلائٹس نہیں بھیجے گئے تھے۔بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے گزشتہ سال ایک وقت میں 20 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔اب تک کسی ایک خلائی مشن میں سب سے زیادہ سیٹلائٹس بھیجنے کا عالمی ریکارڈ روس کے نام تھا، جس نے 2014 ء میں ایک وقت میں 37 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔اس مہم میں بھیجے جانے والے 104 مصنوعی سیٹلائٹس میں سے تین انڈیا کے ہیں جب کہ باقی 101 سیٹلائٹس اسرائیل، قزاقستان، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے ہیں۔اس مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرو کے چیئرمین ایس ایس کرن کمار نے میڈیا کو بتایا: ‘ان میں سے ایک مصنوعی سیارے کا وزن 730 کلوگرام ہے ان کے علاوہ ہمارے پاس 600 کلوگرام مزید وزن خلا میں بھیجنے کی صلاحیت تھی، اس لیے ہم نے 101 دوسرے سیٹلائٹس کو بھی لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔’کرن کمار نے اس پوری مہم پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات تو نہیں دیں لیکن یہ واضح کیا کہ مشن کا نصف خرچ غیر ملکی سیٹلائٹس کو بھیجنے سے آ رہا ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ اسرو کو غیر ملکی مصنوعی سیاروں سے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدن ہوئی ہے۔سینئر صحافی پلّو باگلا نے کہا: ‘یہ محض ریکارڈ بنانے کے لیے نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اس میں انڈین خلائی مشن کے ساتھ اسرو کا کمرشل پہلو بھی شامل ہے۔ یہ مشکل کام ہے اس لیے دنیا بھر کی نظر یںاس پر ٹکی ہیں۔’گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارت نے دنیا کے 21 ممالک کے 79 سیٹلائٹس کو خلا میں لانچ کیا ہے جس میں گوگل اور اییربس جیسی بڑی کمپنیوں کے سیٹلائٹس بھی شامل تھے۔
بھارت نے گزشتہ دنوں ہری کوٹا میں اپنے خلائی ادارے اسرو کے مرکز سے ایک ایسے راکٹ کو لانچ کیا ہے جو8 مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے کر گیا ہے۔بھارت نے موسم کی پیش گوئی کے لیے بھیجے جانے والے اپنے ایک مصنوعی سیارے کے ساتھ ساتھ امریکہ، کینیڈا اور الجزائر سمیت5 ممالک کے مصنوعی سیاروں کو بھی خلا میں چھوڑا۔گزشتہ سال جون میں بھی اسرو نے پی ایس ایل وی کی مدد سے ایک ساتھ 20 مصنوعی سیاروں کو خلا میں چھوڑا تھا جن میں سے صرف تین مقامی اور بقیہ 17 غیر ملکی تھے۔گزشتہ سال جون میں زبردست کامیابی کے بعد ہی گزشتہ دنوں پی ایس ایل وی نے پہلی بار یہ سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں۔
اس مشن میں کامیابی کے بعد اب بھارت مجموعی طور پر 79 غیر ملکی مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے والا ملک بن جائے گا اور اس کے ساتھ ہی خلائی مہم سے بھارت کو ہونے والی کمائی بھی 12 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔یہ بھارت کے لیے ایک اچھی خبر ہے کیونکہ اس پر اکثر خلائی پروگرام پر پیسے خرچ کرنے کے لیے تنقید ہوتی رہتی ہے۔نکتہ چینی کی ایک وجہ بھارت میں شدید غربت اور بھوک جیسے کئی مسائل بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انڈیا اپنے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے دولت کا ایک بڑا حصہ خلائی مشن پر خرچ کرتا ہے۔اب انڈیا اسی خلائی مشن سے پیسے بھی کمانے لگا ہے۔ اسرو کے چیئرمین کرن کمار کا کہنا ہے کہ اسرو اپنے کام کو اور زیادہ اقتصادی اور کفایت شعار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔لیکن اب بھارت خلائی مشن سے پیسے بھی کمانے لگا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’اپنے ملک کی ضروریات کے لیے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے دوران راکٹ میں موجود اضافی جگہ کے استعمال سے ہم اپنے خرچ کی تلافی کرنے میں کامیاب ہوں گے۔‘ایک ہی بار میں کئی مصنوعی سیاروں کو لانچ کرنے کی صلاحیت نے انڈیا کو دنیا کے اس بازار میں ایک بڑا کھلاڑی بنا دیا ہے۔’ارتھ -2 آربٹ‘ ایک ایسی کمپنی ہے جو اسرو اور نجی کمپنیوں کے درمیان سیٹلائٹ لانچ کے لیے معاہدے کرانے میں مدد کرتی ہے۔کمپنی کی چیف ایگزیکٹو افسر سشمیتا موہنتی کہتی ہیں: ’اس طرح کے سیٹلائٹ لانچ کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ نئی کمپنیاں کاروباری طور پر تیار کی گئی سیٹلائٹس کو ایک ساتھ بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔‘ان کے مطابق بھارت کو اس کاروبار میں، مقررہ وقت کے اندر کامیابی کے ساتھ کام کرنے پرکافی فائدہ مل سکتا ہے۔
بھارت اب ہر سال تقریباً 12 سیٹلائٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ تعداد دگنی ہے۔موہنتی بتاتی ہیں: ’بیرونی ملکوں سے سیٹلائٹ لانچ کر پانا اب بھی بہت آسان نہیں ہے۔ سرکاری سیٹلائٹ ایجنسی کے راکٹ سے غیر ملکی کاروباری سیٹلائٹ بھیجنے کا عمل کافی پیچیدہ بھی ہے۔ اس میں اصول و ضوابط، معاہدے اور قانون جیسی کئی دشواریاں ہیں۔‘اس کے علاوہ سائنسدانوں کو اب دوسرے ملکوں کی خلائی ایجنسیوں سے ہی نہیں بلکہ اسپیس ایکس جیسی نجی کمپنیوں سے بھی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارت اب تک صرف چھوٹے اور ہلکے غیر ملکی سیٹلائٹ ہی لانچ کر رہا ہے۔ پی ایس ایل وی کی مدد سے انڈیا نے اب تک مسلسل 35 بار لانچ میں کامیابی حاصل کی ہے۔لیکن بھاری سیٹلائٹ لانچ کرنے سے کمائی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے سے وابستہ کئی کمپنیوں نے قیمتوں کی اپنی شرح میں کمی کی ہے تاکہ انہیں زیادہ بزنس مل سکے۔اگر بھارت زیادہ بڑے مصنوعی سیاروں کو خلا میں پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے سیٹلائٹ لانچنگ کے بازار میں بھارت کی پوزیشن اور مضبوط ہو سکتی ہے اور بھارت اس سے اربوں ڈالر کی کمائی کر سکتا ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارتی سائنسدانوں کی یہ کامیابی پاکستان کی حکومت اور سائنسدانوں کے لیے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ بھارت اپنی کینہ پرور فطرت کے سبب کسی بھی وقت خلائی ٹیکنالوجی میں اپنی اس مہارت کو پاکستان اورچین کے خلاف جاسوسی کے لیے بھی استعمال کرسکتاہے ، اور خلا میں بھیجے گئے اپنے کسی بھی سیٹلائٹ میں جاسوسی کے آلات نصب کرکے پاکستان کے راز حاصل کرنے کی کوشش کرسکتاہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے رہنما بھارت کی اس کامیابی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے پاکستان پر اس کے منفی اثرات کو سمجھنے اور اس کا توڑ کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دیں،امید کی جاتی ہے کہ ہمارے سائنسداں اس حوالے سے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لانے اور خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی برتری کے اس خواب کو چکناچور کرنے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر