وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی پیش رفت۔۔۔پڑوسی ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ

بدھ 22 مارچ 2017 خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی پیش رفت۔۔۔پڑوسی ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ

انسان سائنسی ترقی، خاص طورپر خلائی جہازوں اور راکٹوں کی تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد سے خلا میں جھانکنے کی کوشش کرتا رہا ہے ،انسان اپنی اسی فطرت کے تحت خلا میں پہنچنے کاخواہاںہے ،دیگر ملکوں کے ساتھ ہی بھارت نے بھی خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت نے گزشتہ دنوں اب تک کا اپنا سب سے بڑا راکٹ اور ایک کیپسول خلا میں بھیجا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ 630 ٹن وزنی سیٹلائٹ جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے سری ہری کوٹا سیخلا سے خلا میں بھیجا گیا۔یہ نیا راکٹ نسبتاً وزنی سیٹلائٹ بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بھارت نے حالیہ برسوں میں کم وزنی سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کیے ہیں لیکن بھاری سیٹلائٹ بھیجنے میں مسائل کا سامنا تھا۔اطلاعات ہیں کہ نیا راکٹ رابطے کے لیے بنائے گئے 4000 کلو وزنی سیٹلائٹ لے جانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کے بھارت کو اب اس معاملے میں دوسرے ممالک کے لانچرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایک کیپسول بھی لانچ کیا گیا ہے جو ممکنہ طور پر خلا بازوں کو بھی خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے
اس لانچ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ میں کہا ’جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیاب لانچ ہمارے سائنسدانوں کی محنت اور قابلیت کی ایک اور کامیابی ہے۔ ان سب کو ان کی کوششوں کے لیے مبارکباد۔‘
بھارت کے خلائی ادارے اسرو کے چیئرمین کے رادھا کرشنن کا کہنا ہے کہ ’یہ بھارت کی خلائی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔‘راکٹ کا مرکزی کارگو ایک بھارتی ساختہ کیپسول تھا جس میں دو سے تین خلابازوں کو لے جانے کی صلاحیت ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا خلائی ادارہ خلا بازوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے حکومت سے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور یہ کامیاب لانچ اس ضمن میں پہلا قدم ہے۔بھارت نے ستمبر میں کامیابی سے مریخ کے مدار میں ایک سیٹلائٹ بھیجا تھا اور وہ ایسا کرنے والا چوتھا ملک بن گیا۔
سائنسی امور کے نامہ نگار صحافی پلو باگلا نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ اس راکٹ کو 170 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، جو دنیا کی باقی خلائی ایجنسیوں کے مقابلے میں صرف نصف خرچ ہے۔اگر ایشیائی خلائی دوڑ کی بات کی جائے توبھارت چین سے ہمیشہ پیچھے رہا ہے، لیکن مگلان کے بعد مریخ کی ریس میں بھارت چین سے آگے بڑھ گیا ہے۔’اب بھارتی خلائی ایجنسی دوسرے ممالک کے سیٹلائٹ بھیجنے میں ان کی مدد کر سکے گی۔ مگلان سے لے کر چدران اور جی ایس ایل وی، ایم کے 3 کی کامیابی کے بعد اب دوسرے ملک اپنے کمرشل سیٹلائٹ لانچ کے لیے بھارتی خلائی ادارے کا رخ کریں گے۔‘باگلا کے مطابق ’اس کے دو سبب ہیں۔ ایک تو یہ کہ بھارت کے پاس سستی ٹیکنالوجی موجود ہے اور دوسرا یہ کہ ہمارا معیار اب عالمی سطح پر ثابت ہو چکا ہے۔. یعنی اربوں ڈالر کی لانچ مارکیٹ میں بھارت اپنے لیے ایک قابل اعتماد جگہ بنا سکے گا۔‘
بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے گزشتہ دنوں 104 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیج کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔اس سے قبل ایک خلائی مہم کے دوران ایک ساتھ اتنے سیٹلائٹس نہیں بھیجے گئے تھے۔بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے گزشتہ سال ایک وقت میں 20 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔اب تک کسی ایک خلائی مشن میں سب سے زیادہ سیٹلائٹس بھیجنے کا عالمی ریکارڈ روس کے نام تھا، جس نے 2014 ء میں ایک وقت میں 37 مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے تھے۔اس مہم میں بھیجے جانے والے 104 مصنوعی سیٹلائٹس میں سے تین انڈیا کے ہیں جب کہ باقی 101 سیٹلائٹس اسرائیل، قزاقستان، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے ہیں۔اس مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرو کے چیئرمین ایس ایس کرن کمار نے میڈیا کو بتایا: ‘ان میں سے ایک مصنوعی سیارے کا وزن 730 کلوگرام ہے ان کے علاوہ ہمارے پاس 600 کلوگرام مزید وزن خلا میں بھیجنے کی صلاحیت تھی، اس لیے ہم نے 101 دوسرے سیٹلائٹس کو بھی لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔’کرن کمار نے اس پوری مہم پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات تو نہیں دیں لیکن یہ واضح کیا کہ مشن کا نصف خرچ غیر ملکی سیٹلائٹس کو بھیجنے سے آ رہا ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ اسرو کو غیر ملکی مصنوعی سیاروں سے 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدن ہوئی ہے۔سینئر صحافی پلّو باگلا نے کہا: ‘یہ محض ریکارڈ بنانے کے لیے نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اس میں انڈین خلائی مشن کے ساتھ اسرو کا کمرشل پہلو بھی شامل ہے۔ یہ مشکل کام ہے اس لیے دنیا بھر کی نظر یںاس پر ٹکی ہیں۔’گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارت نے دنیا کے 21 ممالک کے 79 سیٹلائٹس کو خلا میں لانچ کیا ہے جس میں گوگل اور اییربس جیسی بڑی کمپنیوں کے سیٹلائٹس بھی شامل تھے۔
بھارت نے گزشتہ دنوں ہری کوٹا میں اپنے خلائی ادارے اسرو کے مرکز سے ایک ایسے راکٹ کو لانچ کیا ہے جو8 مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے کر گیا ہے۔بھارت نے موسم کی پیش گوئی کے لیے بھیجے جانے والے اپنے ایک مصنوعی سیارے کے ساتھ ساتھ امریکہ، کینیڈا اور الجزائر سمیت5 ممالک کے مصنوعی سیاروں کو بھی خلا میں چھوڑا۔گزشتہ سال جون میں بھی اسرو نے پی ایس ایل وی کی مدد سے ایک ساتھ 20 مصنوعی سیاروں کو خلا میں چھوڑا تھا جن میں سے صرف تین مقامی اور بقیہ 17 غیر ملکی تھے۔گزشتہ سال جون میں زبردست کامیابی کے بعد ہی گزشتہ دنوں پی ایس ایل وی نے پہلی بار یہ سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں۔
اس مشن میں کامیابی کے بعد اب بھارت مجموعی طور پر 79 غیر ملکی مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے والا ملک بن جائے گا اور اس کے ساتھ ہی خلائی مہم سے بھارت کو ہونے والی کمائی بھی 12 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔یہ بھارت کے لیے ایک اچھی خبر ہے کیونکہ اس پر اکثر خلائی پروگرام پر پیسے خرچ کرنے کے لیے تنقید ہوتی رہتی ہے۔نکتہ چینی کی ایک وجہ بھارت میں شدید غربت اور بھوک جیسے کئی مسائل بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انڈیا اپنے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے دولت کا ایک بڑا حصہ خلائی مشن پر خرچ کرتا ہے۔اب انڈیا اسی خلائی مشن سے پیسے بھی کمانے لگا ہے۔ اسرو کے چیئرمین کرن کمار کا کہنا ہے کہ اسرو اپنے کام کو اور زیادہ اقتصادی اور کفایت شعار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔لیکن اب بھارت خلائی مشن سے پیسے بھی کمانے لگا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’اپنے ملک کی ضروریات کے لیے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے دوران راکٹ میں موجود اضافی جگہ کے استعمال سے ہم اپنے خرچ کی تلافی کرنے میں کامیاب ہوں گے۔‘ایک ہی بار میں کئی مصنوعی سیاروں کو لانچ کرنے کی صلاحیت نے انڈیا کو دنیا کے اس بازار میں ایک بڑا کھلاڑی بنا دیا ہے۔’ارتھ -2 آربٹ‘ ایک ایسی کمپنی ہے جو اسرو اور نجی کمپنیوں کے درمیان سیٹلائٹ لانچ کے لیے معاہدے کرانے میں مدد کرتی ہے۔کمپنی کی چیف ایگزیکٹو افسر سشمیتا موہنتی کہتی ہیں: ’اس طرح کے سیٹلائٹ لانچ کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ نئی کمپنیاں کاروباری طور پر تیار کی گئی سیٹلائٹس کو ایک ساتھ بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔‘ان کے مطابق بھارت کو اس کاروبار میں، مقررہ وقت کے اندر کامیابی کے ساتھ کام کرنے پرکافی فائدہ مل سکتا ہے۔
بھارت اب ہر سال تقریباً 12 سیٹلائٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ تعداد دگنی ہے۔موہنتی بتاتی ہیں: ’بیرونی ملکوں سے سیٹلائٹ لانچ کر پانا اب بھی بہت آسان نہیں ہے۔ سرکاری سیٹلائٹ ایجنسی کے راکٹ سے غیر ملکی کاروباری سیٹلائٹ بھیجنے کا عمل کافی پیچیدہ بھی ہے۔ اس میں اصول و ضوابط، معاہدے اور قانون جیسی کئی دشواریاں ہیں۔‘اس کے علاوہ سائنسدانوں کو اب دوسرے ملکوں کی خلائی ایجنسیوں سے ہی نہیں بلکہ اسپیس ایکس جیسی نجی کمپنیوں سے بھی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارت اب تک صرف چھوٹے اور ہلکے غیر ملکی سیٹلائٹ ہی لانچ کر رہا ہے۔ پی ایس ایل وی کی مدد سے انڈیا نے اب تک مسلسل 35 بار لانچ میں کامیابی حاصل کی ہے۔لیکن بھاری سیٹلائٹ لانچ کرنے سے کمائی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے سے وابستہ کئی کمپنیوں نے قیمتوں کی اپنی شرح میں کمی کی ہے تاکہ انہیں زیادہ بزنس مل سکے۔اگر بھارت زیادہ بڑے مصنوعی سیاروں کو خلا میں پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے سیٹلائٹ لانچنگ کے بازار میں بھارت کی پوزیشن اور مضبوط ہو سکتی ہے اور بھارت اس سے اربوں ڈالر کی کمائی کر سکتا ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارتی سائنسدانوں کی یہ کامیابی پاکستان کی حکومت اور سائنسدانوں کے لیے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ بھارت اپنی کینہ پرور فطرت کے سبب کسی بھی وقت خلائی ٹیکنالوجی میں اپنی اس مہارت کو پاکستان اورچین کے خلاف جاسوسی کے لیے بھی استعمال کرسکتاہے ، اور خلا میں بھیجے گئے اپنے کسی بھی سیٹلائٹ میں جاسوسی کے آلات نصب کرکے پاکستان کے راز حاصل کرنے کی کوشش کرسکتاہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے رہنما بھارت کی اس کامیابی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے پاکستان پر اس کے منفی اثرات کو سمجھنے اور اس کا توڑ کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دیں،امید کی جاتی ہے کہ ہمارے سائنسداں اس حوالے سے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں بروئے کار لانے اور خلائی ٹیکنالوجی میں بھارت کی برتری کے اس خواب کو چکناچور کرنے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر