وجود

... loading ...

وجود

کے الیکٹرک کا 184 ارب کا سودا جانچ پڑتال کے بغیر جاری

منگل 21 مارچ 2017 کے الیکٹرک کا 184 ارب کا سودا جانچ پڑتال کے بغیر جاری

کے الیکٹرک کی شنگھائی الیکٹرک پاو¿ر کمپنی لمیٹڈ کو فروخت کے حوالے اصل حقیقت تو بے نقاب کی جاچکی۔ دنیا میں کہیں بھی چھوٹے سے چھوٹا سودا‘ کام یا کاروبار کیا جاتا ہے تو اس کی بہت زیادہ دیکھ بھال جانچ پڑتال اس کا حجم‘ وزن‘ قابلیت‘ صلاحیت‘ مالیت اور ساکھ ان تمام ہی پہلوؤں پر بہت باریکی سے سوچ بچار‘ تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ غلطی‘ کوتاہی کا احتمال نہ رہے لیکن اس 184 ارب ڈالر کے سودے میں ایسا کچھ بھی نہیں کیا جارہا۔ صرف اور صرف آنکھوں میں دھول جھونک کر جلد از جلد اس سودے کو نمٹانے‘ بھگتانے کی کوششں کی جارہی ہے اور یہ کوئی اور نہیں خود کے الیکٹرک کررہا ہے ۔ اس سودے کی خاص بات یہ ہے کہ لین دین کرنے والے دونوں اداروں کا اپنا وجود صاف شفاف نہیں ۔
کے ای ایس پاو¿ر لمیٹڈ کا جس طرح کوئی قانونی جواز نہیں تھا بالکل اسی طرح ”شنگھائی الیکٹرک پاو¿ر کمپنی لمیٹڈ‘ (جسے قومی‘ عوامی ادارے کے 66.40 فیصد حصص جن کی مالیت 1.77 بلین ڈالر بنتی ہے، فروخت کیے جارہے ہیں) نام کی کسی کمپنی کا ویب سائٹ پر وجود ہی نہیں۔ اگر ”Shanghai electric power company ltd“ لکھ کر انٹر دبائیں گے تو اس کمپنی کی اصل ویب سائٹ اس کے اصل نام سے نہیں بلکہ اسٹاک‘ مالیاتی یا میڈیا سے تعلق رکھنے والے کسی میگزین میں چھپنے والی رپورٹ میں تحریر ہونے کی بناءپر اس میگزین/جریدے کے مضمون میں اس کا تذکرہ ملے گا جس میں شنگھائی الیکٹرک پاور لمیٹڈ کے بارے میں بڑھاچڑھاکر اور اس کی کارکردگی کے برعکس خوبیاں ہی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ معاوضے کے عوض کہیں بھی کچھ بھی لکھوایا جاسکتا ہے۔ مگریہ فراڈ پاکستان اور اس کے عوام سے کیوں کیا جارہا ہے؟
آخر صرف www.shanghaipower.com لکھنے پر ہی شنگھائی الیکٹرک پاور لمیٹڈ کا ویب سائٹ پیج کھلتا ہے‘ اس کے بغیر کیوں نہیں کھلتا؟ قارئین شنگھائی الیکٹرک پاو¿ر کمپنی لمیٹڈ‘ شنگھائی کارپوریشن اور شنگھائی پاور میں کچھ تو فرق ہے کہ جب www.shanghaipower.com ویب سائٹ پر شنگھائی پاور کے سرمایہ کاروں‘ تجارتی تعلقات کی سائٹ پر جائیں تو وہاں 140 صفحات پر اس کی آخری سالانہ رپورٹ برائے سال 2013ءنظر آتی ہے اور وہ بھی چینی زبان میں ہے ۔‘ یہ سالانہ رپورٹ ہے بھی یا نہیں اس کا اندازہ لگانا بھی دشوار ہے۔ اس پر کسی کے دستخط تک نظر نہیں آتے ہیں۔ جبکہ کے الیکٹرک لمیٹڈ (ابراج) کی جانب سے نیپرا کو دی گئی درخواست میں شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کی دستاویزات میں سیکورٹیز ایکٹ 2015ءپڑھیں تو پہلا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ لسٹڈ کمپنیز ریگولیشنز 2008ءمیں شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کا ذکر کیوں ہے کیونکہ اس کمپنی نے نہ تو کبھی پاکستان میں کام کیا اور نہ ہی پاکستان میں رجسٹرڈ ہے؟
ان حقائق کے بعد ایک اور حیرت انگیز انکشاف یہ ہے کہ 184 ارب ڈالر کی کثیر وخطیر سرمایہ کار کمپنی کا دفتر 42 منزلہ عمارت کی 36 ویں منزل پر قائم ہے جو کمپنی صرف ایک سودا 66.40 فیصد حصص یعنی 1.77 بلین ڈالر کا کررہی ہے تو اس کی سرمایہ کاری کا عالم کیا ہونا چاہئے؟ لیکن بہت بڑی سرمایہ کار کمپنی کا پتہ جو نیپرا درخواست میں تحریر ہے وہ Company`s Reg & Office Add: No,268 Zhongshan Road South Shanghai درج ہے ،شنگھائی پاو¿ر کی سائٹ پر کلک Contact Us پر جو ایڈریس نظر آتا ہے وہ اس طرح ہے کہ 36F‘ چھتیس نمبر فلور اور کمرہ نمبر F۔ #268 Zhongshan South Road یعنی پلاٹ نمبر 268 زونگ شن روڈ پر واقع ہے، جس سے ایڈریس نامکمل محسوس ہوتا ہے صرف پلاٹ اور روڈ کے نمبر کا ذکر ہے۔ مزید غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ویب سائٹ پر موجود پتے پر گوگل کا نقشہ اور نشاندہی کرنے والا نشان …….. ایک عمارت پر ہے جس پر واضح طورپر لکھا ہوا ہے کہ Building 1,Resource Plaza ۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ گوگل نقشہ کے اوپر NEWS AND EVENTS دکھائی دے رہا ہے جبکہ کمپیوٹر استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ Contact Us کو کلک کرنے پر 99.99 فیصد پیج سروق پر Contact Us ہی لکھا ہوا آتا ہے جبکہ شنگھائی پاور کی ویب سائٹ کے غلط اور جعلی ثابت ہونے کے لئے کافی ہے کہ جلد بازی‘ عجلت اور اس کی اہمیت کو سمجھے بغیر ہی ایڈریس کو NEWS AND EVENTS کے پیچ پر ہی چسپاں کردیا گیا۔ اس پورے کھیل میں یہ سمجھا گیا کہ کسی کو کیا پتہ چلے گا سب جاہل ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ”چائنا کی ہر چیز پائیداراوردیرپا نہیں ہوتی‘ اس لئے احتیاط لازمی ہے۔
مزید حیرت ناک امر یہ ہے کہ پلاٹ 268 شنگھائی کے زونگ شن روڈ اور فوژنگ روڈ کے سنگم پر واقع ہے۔جہاں دو عدد ایک سی کثیر المنزلہ عمارتیں (ٹوئن ٹاورز) قائم ہیں جس کا بلاک A‘ 2003 اور دوسری عمارت B‘ 2005 میں مکمل ہوئیں اور ان دونوں عمارتوں کے تین نام سامنے آتے ہیں۔ گوگل نقشے کے مطابق (1) Resource Plaza (2) XINYUAN SQUARE جو شنگھائی پاور کے Contact Us میں دکھائی دیتا ہے اور انہی ناموں سے ان کی پہچان بھی ہے جبکہ دراصل ان عمارتوں کا نام HUAXIA FINANCIAL SQUARE TOWER A&B ہے تو کیا یہ حیرت انگیز پریشان کن نہیں کہ ایک ہی پروجیکٹ کے (3) نام ہیں جکہ چینی سرکار اور شنگھائی کے بلدیاتی اداروں میں یہ عمارت رہائشی ظاہر کی گئی ہے۔
الغرض کے الیکٹرک کے اتنے بڑے سودے میں خرید وفروخت کا پورا عمل ہی اسرار کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے۔ اور اس حوالے سے جتنی بھی تحقیق کی جائے بدعنوانیوں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ ہاتھ لگتی ہی چلی جاتی ہے۔
(مزید تفصیلات آئندہ)
عمیمہ حمزہ


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب وجود - منگل 28 اپریل 2026

غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز وجود - منگل 28 اپریل 2026

جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

مضامین
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر