... loading ...
کے الیکٹرک کی شنگھائی الیکٹرک پاو¿ر کمپنی لمیٹڈ کو فروخت کے حوالے اصل حقیقت تو بے نقاب کی جاچکی۔ دنیا میں کہیں بھی چھوٹے سے چھوٹا سودا‘ کام یا کاروبار کیا جاتا ہے تو اس کی بہت زیادہ دیکھ بھال جانچ پڑتال اس کا حجم‘ وزن‘ قابلیت‘ صلاحیت‘ مالیت اور ساکھ ان تمام ہی پہلوؤں پر بہت باریکی سے سوچ بچار‘ تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ غلطی‘ کوتاہی کا احتمال نہ رہے لیکن اس 184 ارب ڈالر کے سودے میں ایسا کچھ بھی نہیں کیا جارہا۔ صرف اور صرف آنکھوں میں دھول جھونک کر جلد از جلد اس سودے کو نمٹانے‘ بھگتانے کی کوششں کی جارہی ہے اور یہ کوئی اور نہیں خود کے الیکٹرک کررہا ہے ۔ اس سودے کی خاص بات یہ ہے کہ لین دین کرنے والے دونوں اداروں کا اپنا وجود صاف شفاف نہیں ۔
کے ای ایس پاو¿ر لمیٹڈ کا جس طرح کوئی قانونی جواز نہیں تھا بالکل اسی طرح ”شنگھائی الیکٹرک پاو¿ر کمپنی لمیٹڈ‘ (جسے قومی‘ عوامی ادارے کے 66.40 فیصد حصص جن کی مالیت 1.77 بلین ڈالر بنتی ہے، فروخت کیے جارہے ہیں) نام کی کسی کمپنی کا ویب سائٹ پر وجود ہی نہیں۔ اگر ”Shanghai electric power company ltd“ لکھ کر انٹر دبائیں گے تو اس کمپنی کی اصل ویب سائٹ اس کے اصل نام سے نہیں بلکہ اسٹاک‘ مالیاتی یا میڈیا سے تعلق رکھنے والے کسی میگزین میں چھپنے والی رپورٹ میں تحریر ہونے کی بناءپر اس میگزین/جریدے کے مضمون میں اس کا تذکرہ ملے گا جس میں شنگھائی الیکٹرک پاور لمیٹڈ کے بارے میں بڑھاچڑھاکر اور اس کی کارکردگی کے برعکس خوبیاں ہی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ معاوضے کے عوض کہیں بھی کچھ بھی لکھوایا جاسکتا ہے۔ مگریہ فراڈ پاکستان اور اس کے عوام سے کیوں کیا جارہا ہے؟
آخر صرف www.shanghaipower.com لکھنے پر ہی شنگھائی الیکٹرک پاور لمیٹڈ کا ویب سائٹ پیج کھلتا ہے‘ اس کے بغیر کیوں نہیں کھلتا؟ قارئین شنگھائی الیکٹرک پاو¿ر کمپنی لمیٹڈ‘ شنگھائی کارپوریشن اور شنگھائی پاور میں کچھ تو فرق ہے کہ جب www.shanghaipower.com ویب سائٹ پر شنگھائی پاور کے سرمایہ کاروں‘ تجارتی تعلقات کی سائٹ پر جائیں تو وہاں 140 صفحات پر اس کی آخری سالانہ رپورٹ برائے سال 2013ءنظر آتی ہے اور وہ بھی چینی زبان میں ہے ۔‘ یہ سالانہ رپورٹ ہے بھی یا نہیں اس کا اندازہ لگانا بھی دشوار ہے۔ اس پر کسی کے دستخط تک نظر نہیں آتے ہیں۔ جبکہ کے الیکٹرک لمیٹڈ (ابراج) کی جانب سے نیپرا کو دی گئی درخواست میں شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کی دستاویزات میں سیکورٹیز ایکٹ 2015ءپڑھیں تو پہلا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ لسٹڈ کمپنیز ریگولیشنز 2008ءمیں شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کا ذکر کیوں ہے کیونکہ اس کمپنی نے نہ تو کبھی پاکستان میں کام کیا اور نہ ہی پاکستان میں رجسٹرڈ ہے؟
ان حقائق کے بعد ایک اور حیرت انگیز انکشاف یہ ہے کہ 184 ارب ڈالر کی کثیر وخطیر سرمایہ کار کمپنی کا دفتر 42 منزلہ عمارت کی 36 ویں منزل پر قائم ہے جو کمپنی صرف ایک سودا 66.40 فیصد حصص یعنی 1.77 بلین ڈالر کا کررہی ہے تو اس کی سرمایہ کاری کا عالم کیا ہونا چاہئے؟ لیکن بہت بڑی سرمایہ کار کمپنی کا پتہ جو نیپرا درخواست میں تحریر ہے وہ Company`s Reg & Office Add: No,268 Zhongshan Road South Shanghai درج ہے ،شنگھائی پاو¿ر کی سائٹ پر کلک Contact Us پر جو ایڈریس نظر آتا ہے وہ اس طرح ہے کہ 36F‘ چھتیس نمبر فلور اور کمرہ نمبر F۔ #268 Zhongshan South Road یعنی پلاٹ نمبر 268 زونگ شن روڈ پر واقع ہے، جس سے ایڈریس نامکمل محسوس ہوتا ہے صرف پلاٹ اور روڈ کے نمبر کا ذکر ہے۔ مزید غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ویب سائٹ پر موجود پتے پر گوگل کا نقشہ اور نشاندہی کرنے والا نشان …….. ایک عمارت پر ہے جس پر واضح طورپر لکھا ہوا ہے کہ Building 1,Resource Plaza ۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ گوگل نقشہ کے اوپر NEWS AND EVENTS دکھائی دے رہا ہے جبکہ کمپیوٹر استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ Contact Us کو کلک کرنے پر 99.99 فیصد پیج سروق پر Contact Us ہی لکھا ہوا آتا ہے جبکہ شنگھائی پاور کی ویب سائٹ کے غلط اور جعلی ثابت ہونے کے لئے کافی ہے کہ جلد بازی‘ عجلت اور اس کی اہمیت کو سمجھے بغیر ہی ایڈریس کو NEWS AND EVENTS کے پیچ پر ہی چسپاں کردیا گیا۔ اس پورے کھیل میں یہ سمجھا گیا کہ کسی کو کیا پتہ چلے گا سب جاہل ہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ”چائنا کی ہر چیز پائیداراوردیرپا نہیں ہوتی‘ اس لئے احتیاط لازمی ہے۔
مزید حیرت ناک امر یہ ہے کہ پلاٹ 268 شنگھائی کے زونگ شن روڈ اور فوژنگ روڈ کے سنگم پر واقع ہے۔جہاں دو عدد ایک سی کثیر المنزلہ عمارتیں (ٹوئن ٹاورز) قائم ہیں جس کا بلاک A‘ 2003 اور دوسری عمارت B‘ 2005 میں مکمل ہوئیں اور ان دونوں عمارتوں کے تین نام سامنے آتے ہیں۔ گوگل نقشے کے مطابق (1) Resource Plaza (2) XINYUAN SQUARE جو شنگھائی پاور کے Contact Us میں دکھائی دیتا ہے اور انہی ناموں سے ان کی پہچان بھی ہے جبکہ دراصل ان عمارتوں کا نام HUAXIA FINANCIAL SQUARE TOWER A&B ہے تو کیا یہ حیرت انگیز پریشان کن نہیں کہ ایک ہی پروجیکٹ کے (3) نام ہیں جکہ چینی سرکار اور شنگھائی کے بلدیاتی اداروں میں یہ عمارت رہائشی ظاہر کی گئی ہے۔
الغرض کے الیکٹرک کے اتنے بڑے سودے میں خرید وفروخت کا پورا عمل ہی اسرار کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے۔ اور اس حوالے سے جتنی بھی تحقیق کی جائے بدعنوانیوں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ ہاتھ لگتی ہی چلی جاتی ہے۔
(مزید تفصیلات آئندہ)
عمیمہ حمزہ
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...
حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...