وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ پالیسیز: سیاحتی شعبے کو 7 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کااندیشہ

اتوار 19 مارچ 2017 ٹرمپ پالیسیز: سیاحتی شعبے کو 7 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کااندیشہ

امریکا کے نومنتخب صدرڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات خاص طورپر غیر ملکیوں کے بارے میں ان کے خیالات اور اس کے پرتشدد انداز میں اظہار امریکی معیشت کے لیے بوجھ بنتے جارہے ہیں،امریکی ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تندوتیز بیانات سے سب سے پہلے سیاحت کے شعبے پر منفی اثرات نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیںاور سیاحت کی غرض سے امریکا آنے والے لوگوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہونا شروع ہوگئی ہے ،ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات امریکی معیشت کے لیے بوجھ بنتے جارہے ہیں کیونکہ ان بیانات کی وجہ سے امریکا کے صرف سیاحتی شعبے کورواں سال کے دوران 7 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کااندیشہ ہے۔اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کی وجہ سے امریکا کی دیگر صنعتوں کوبھی ہنر مند افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے نقصان یہاں تک کہ بندش تک کاسامنا کرنا پڑسکتاہے، جس سے لاکھوں امریکی بیروزگار ہوجائیں گے۔
امریکا میں سیاحتی شعبے کے ماہرین کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تند وتیز بیانات کی وجہ سے نیویارک اور دیگر امریکی شہروں میں سیر وسیاحت کے لیے آنے والے لوگوں نے اپنے سفر کی ترجیحات میں تیزی سے تبدیلی شروع کردی ہے جس کی وجہ سے نیویارک آنے والے سیاحوں کی تعداد جس میں رواں سال اضافے کی توقع کی جارہی تھی،اب یہ شعبہ روبہ زوال نظر آرہاہے اور صرف نیویارک آنے والے سیاحوں کی تعداد میں0 2 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل گزشتہ 8 سال سے نیویارک آنے والے سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیاجارہاتھا۔اعدادوشمار کے مطابق نیویارک کے علاوہ لاس اینجلس اور میامی آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی نمایاںکمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے لوگوں پر امریکا میں داخلے کے حوالے سے احکامات کو اگرچہ امریکی عدالت نے معطل کردیاہے لیکن ان احکامات کی وجہ سے پوری دنیا کے سامنے جو پیغام گیاہے وہ یہ ہے کہ اب امریکا پوری دنیا کے لوگوں کے لیے کھلا ملک نہیں رہا اوراب بتدریج امتیازی نسلی پالیسیوں کا مرکز بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس منفی پیغام کا سب سے پہلا اثر سیر وتفریح کے لیے امریکا آنے والے سیاحوں کی تعداد کی کمی کی صورت میں سامنے آیاہے، لیکن یہ صرف ابتدا ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق حصول تعلیم کے لیے امریکا آنے والے غیر ملکی طلبہ نے بھی امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے حاصل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنا شروع کردی ہے اور اب غیر ملکی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں برطانیہ،آسٹریلیا اور کینیڈا کی یونیورسٹیوں کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں عالمی معیار کے بیشمار تعلیمی ادارے موجود ہیں ۔یہی نہیں بلکہ ان ملکوں میں حصول تعلیم کے لیے آنے والے طالبعلموں کو بعض ایسی سہولتیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں جو امریکا میں حصول تعلیم کے دوران ان کو نہیں ملتیں۔ ان سہولتوں میں دوران تعلیم جز وقتی ملازمتوں کی اجازت اور تعلیم کی تکمیل کے بعد متعلقہ ملک کی شہریت کے حصول کے حوالے سے رعایتیں اور ترغیبات شامل ہیں۔
امریکی ماہرین معاشیات کاکہناہے کہ حصول تعلیم کے لیے امریکا آنے والے طلبہ کی تعداد میں کمی کی صورت میں امریکا کے بعض مشہور تعلیمی ادارے مالی بحران کا شکار ہوجائیں گے اور ان کا وجود برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو ان کی مدد کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس طرح غیر ملکی طلبہ کی وجہ سے امریکی خزانے کو ہونے والی متوقع آمدنی میں کمی کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی مدد کے لیے سرکاری اداروں کو غیر متوقع بوجھ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔
امریکی ماہرین کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے نتیجے میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے بچوں کے معروف ادیب میم فاکس کو لاس اینجلس کے ایئرپورٹ پرر وک کر ان سے پوچھ گچھ اور ان کی کڑی جانچ پڑتال اور فلوریڈا کے فورٹ لائوڈر ڈل بین الاقوامی ایئر پورٹ پر امریکا کے مایہ ناز باکسر محمد علی کے بیٹے کوروک کر اس سے کڑی پوچھ گچھ کے واقعات نے پوری دنیا میں امریکا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان واقعات کی وجہ سے اب امریکا کو بھی دنیا کے نسل پرست ممالک کے زمرے میں شمار کیاجانے لگاہے۔
امریکا میں سیاحوں کی آمد کے حوالے سے اعدادوشمار مرتب کرنے والے ادارے ’’فارورڈ کیز ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق20 جنوری 2017 یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد فروری کے دوران یعنی صرف ایک ماہ کے دوران امریکا میں سیر وتفریح کے لیے آنے والے لوگوں کی جانب سے کرائی گئی بکنگ میں 14 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے،جس کے معنی یہ ہیں کہ اس سال امریکا میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم وبیش15 فیصد کم لوگ سیر وتفریح کے لیے امریکا کارخ کریں گے، اعدادوشمار کے مطابق امریکا آنے والے غیر ملکی مجموعی طورپر ہرسال امریکا میں250 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں. سیاحوں کی آمد میں کمی کے سبب ان کی جانب سے کیے گئے اخراجات کی صورت میں قومی خزانے کو ہونے والے فائدے میں اسی شرح سے کمی ہوگی اور کمی کا یہ رجحان عارضی نہیں ہوگا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار رہنے یا ان کی طرف سے غیر ملکیوں کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں مثبت تبدیلیوں کے باقاعدہ اعلان تک کمی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔سیاحوں کی آمد میں کمی کی وجہ سے امریکا کے مختلف شہروں میں سیاحوں کی دلچسپی کی اشیا تیار و فروخت کرنے والے اداروں اور دکانداروں کو بھی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ اس طرح ان دکانوں اور فیکٹریوںا ور کارخانوں سے درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں ملازمین کو سڑکوںپر آنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
ماہرین کاکہناہے کہ نیویارک میں سیاحوں کی آمد میں کمی کے نتیجے میں اس شہر کو سالانہ کم وبیش90 کروڑ ڈالر کانقصان اٹھانا پڑے گا ۔اسی طرح لاس اینجلس اورمیامی کے دکانداروں اورفیکٹری مالکان کوبھی مجموعی طورپر کروڑوں ڈالر کانقصان اٹھانا پڑے گا۔ماہرین کاکہناہے کہ امریکا میں سیاحوں کی آمد میں کمی کا ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست بھی نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ وہ خود امریکا کے کئی بڑے ہوٹلوں کے مالک ہیں جن کی آمدنی کابڑا ذریعہ غیر ملکی سیاح ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب سیاحوں کی آمد کی شرح میں کمی ہوگی تو اسی مناسبت سے ان ہوٹلوں کی آمدنی بھی متاثر ہوگی جس کا براہ راست نقصان ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی فیملی کے دیگر ارکان کو ہوگا۔

ہینری گولڈ مین


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر