وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ٹیکسٹائل انڈسٹر ی کو بحران کا خدشہ

جمعه 17 مارچ 2017 ٹیکسٹائل انڈسٹر ی کو بحران کا خدشہ

اخباری اطلاعات کے مطابق رواں سال بھی ہمارے زرعی ماہرین کپاس کی فصل کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیںاور ابتدائی اندازوں کے مطابق رواں سال بھی کپاس کی فصل مقررہ ہدف سے 25 فیصد کم ہوئی ہے۔اطلاعات کے مطابق رواں سال کپاس کی پیداوار کا ہدف ایک کروڑ 41 لاکھ گانٹھ مقرر کیاگیاتھا لیکن اب تک کے اندازوں کے مطابق رواں فصل سے صرف ایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھ کپاس حاصل ہوسکے گی، اس طرح رواں سال ایک مرتبہ پھر پاکستان کو اپنی ٹیکسٹائل کی صنعت کی کپاس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ممالک سے کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔کپاس کی پیداوار پر نظر رکھنے والے حلقوں کاکہناہے کہ چونکہ بعض کاشتکار ابھی تک اپنی فصل بازار میں نہیں لائے ہیں اور قیمت میں متوقع اضافے سے فائدہ اٹھانے کے لیے کپا س فروخت کرنے سے گریزاں ہیں اس لیے ان کی پیداوار بازار میں آنے کے بعد کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 6 لاکھ گانٹھ تک پہنچ جائے یعنی مزید ایک لاکھ گانٹھ کپاس بازار میں لائے جانے کاامکان ہے لیکن اس کے باوجود کپاس کی پیداوار مقررہ ہدف سے کم وبیش 25 فیصد کم ہی رہے گی اور ٹیکسٹائل کی صنعت کو اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے درآمدی کپاس پر انحصار کرنا پڑے گا۔
اگرچہ ہمارے زرعی ماہرین رواں سال بھی ٹیکسٹائل ملز کی ضرورت کے مطابق کپاس کی پیداوار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیںلیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ رواں سال اب تک کی رپورٹ کے مطابق کپاس کی فصل گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہی ہے کیونکہ گزشتہ سال کپاس کی پیداوار کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال مارچ کے وسط تک کپاس کی صرف 97 لاکھ گانٹھیں حاصل کی جاسکی تھیںاور سیزن کے اختتام تک کپاس کی مجموعی طورپر ایک کروڑ گانٹھ حاصل کی جاسکی تھی اس اعتبار سے رواں سال کپاس کی پیداوار کم وبیش 8 لاکھ گانٹھ زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
گزشتہ سال کم وبیش 77 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کا تخمینہ لگایاگیاتھا اور کپاس کی پیداوار کا ہدف ایک کروڑ54 لاکھ 90 ہزار گانٹھ مقرر کیاگیاتھا لیکن یہ ہدف حاصل کرنے میں بری طرح ناکامی کاسامنا کرنا پڑاتھااور کپاس کی پیداوارکے ہدف کاصرف 70 فیصد حصہ ہی حاصل کیاجاسکاتھا، گزشتہ سال کے اس تجربے کی بنیاد پر رواں سال کپاس کی پیداوار کے ہدف پر نظر ثانی کرکے اسے کم کرکے پیدا وار کا ہدف ایک کروڑ41 لاکھ گانٹھ مقرر کردیاگیاتھا ۔کپاس کی پیداوار کا ہدف مقرر کرنے والے ماہرین کا خیال تھا کہ رواں سال کم وبیش 74 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کی جائے گی لیکن یہ نظر ثانی شدہ ہدف بھی پورا نہیں کیاجاسکا۔اطلاعات کے مطابق کپاس کی بوائی کے متوقع رقبے پر کپاس کاشت نہیں کی جاسکی اور خاص طورپر پنجاب میں توقع سے21 فیصد کم رقبے پر کپاس کی بوائی ہوئی جبکہ سندھ میں رواں سال کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن جب پنجاب میں، جو کپاس پیدا کرنے والا سب سے بڑا صوبہ ہے توقع کے مطابق رقبے پر کپاس کاشت ہیں نہیں کی گئی تو توقع کے مطابق پیداوار کیسے حاصل کی جاسکتی تھی۔
اطلاعات کے مطابق کپاس کی فصل کاتخمینہ لگانے والی کمیٹی نے کپاس کی موجودہ فصل کے دوران تین مرتبہ اپنے تخمینے تبدیل کیے اور تینوں مرتبہ اس میں مسلسل کمی کی جاتی رہی لیکن اس کے باوجود کپاس کی پیداوار کے حوالے سے ان کا آخری نظرثانی شدہ ہدف بھی پورا نہیں ہوسکا۔کپاس کی فصل کاتخمینہ لگانے والی کمیٹی کی جانب سیپنجاب کو 69 لاکھ 3 ہزار گانٹھ کی پیداوار کاہدف دیاگیاتھاجبکہ ابتدائی طورپر پنجاب میں 95 لاکھ گانٹھ کی پیداوار کااندازہ لگایاگیاتھا۔سندھ کو 36 لاکھ گانٹھ پیداوار کا ہدف دیاگیاتھا جبکہ سندھ میںکپاس کی پیداوار کا ابتدائی تخمینہ 45 لاکھ گانٹھ لگایاگیاتھا۔بلوچستان کو ابتدائی اندازے کے مطابق 98 ہزار گانٹھ کے بجائے 38 ہزار گانٹھ پیداوار کا اور صوبہ خیبرپختونخوا کو15 ہزار کے بجائے10 ہزار گانٹھ پیداوار کا ہدف دیاگیاتھا۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں کاشت کاروں نے کپاس کی کاشت متوقع رقبے سے 20.82 فیصد کم رقبے پر کی، یعنی پنجاب میں متوقع 57 لاکھ ایکڑ کے بجائے43 لاکھ88 ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی۔ جبکہ کاشت کاروں نے کپاس کی پیداوار کے اہم علاقے میں18 فیصد رقبے پر کپاس کے بجائے متبادل فصلیں کاشت کیںجبکہ کپاس کی فصل کے لیے زیادہ اہم تصور نہ کیے جانے والے علاقوں میں38 فیصد زمینوں پر کپاس کی جگہ متبادل فصلیں کاشت کی گئیں۔اسی طرح درمیانے درجے کے 26 فیصدرقبے پرکپاس کے بجائے متبادل فصلیں کاشت کی گئیں، جس کی وجہ سے وزیر خزانہ کے مطابق ہماری مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس سال کپاس کی مطلوبہ پیداوار حاصل نہ کرسکنے کی بنیادی وجہ کیا رہی ،اس حوالے سے رپورٹ آنے میں غالبا ً کئی ماہ کاعرصہ درکار ہوگاجبکہ ابتدائی تخمینے میں ہدف حاصل نہ ہونے کی وجہ کپاس کی فصل کو بڑے پیمانے پر پہنچنے والا نقصان بتایاجارہاہے جبکہ فصل کے دوران تمام عوامل کے بارے میں رپورٹیں مثبت تھیں،رواں سال کے مقابلے میں کپاس کی مطلوبہ پیداوار حاصل نہ ہونے کے3بڑے اسباب سامنے آئے تھے ۔اول یہ کہ گزشتہ موسم بہت زیادہ سخت تھا،کپاس کی فصل پر جراثیم نے زبردست حملہ کیاتھااور سب سے بڑھ کر یہ کہ مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے بہت سے کاشتکاروں نے متبادل فصلوں کی بوائی کوترجیح دی تھی۔اس سال فصل کی خرابی کی مذکورہ بالا تینوں وجوہات میں کوئی ایک بھی نہیں تھی، رواںچند روزہ شدید گرمی کے سوا موسم بڑی حد تک معتدل رہا،اگرچہ اس دفعہ پھر سفید سنڈی ور نیلی سنڈیوں نے فصل پر حملے کی کوشش کی لیکن ان پر بروقت اور مؤثر طورپر قابو پالیا گیا۔رواں سال کپاس کی قیمت بھی مارکیٹ میں 3 ہزار روپے من ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال کپاس کی قیمت2 ہزار 200 سے 2 ہزار 400 روپے فی من کے درمیان تھی۔رواں سال کھاد کی قیمت بھی مناسب تھی اوررعایتی قیمت پر کھاد دستیاب ہونے کی وجہ سے گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کم وبیش30 فیصد زیادہ کھاد استعمال کی گئی جس سے فی ایکڑ پیداوار میں34 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔حکومت کی جانب سے کیڑے مار دوائوں پر جی ایس ٹی ختم کردیے جانے کے سبب اس سال کیڑے مار دوائوں کی قیمت بھی گزشتہ سال سے کم تھی جس کی وجہ سے اس سال کاشتکاروں کوفصل کو کیڑوں کے حملوں سے بچانے کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے 25 فیصد زیادہ کیڑے مار دوائیں استعمال کیں۔ان تمام مثبت عوامل کی وجہ سے اس سال کپاس کی فی ایکڑ پیداوار 20.28 من ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال فی ایکڑ پیداوار14.72 من ریکارڈ کی گئی تھی۔
مذکورہ بالا حقائق سے ظاہرہوتاہے کہ کپاس کی فصل کامطلوبہ ہدف حاصل نہ کرسکنے کی وجہ سے متوقع رقبے پر کپاس کاشت نہ کیاجانا ہے اور متوقع رقبے پر کپاس کاشت نہ کرنے کی بنیادی وجہ گنے اور چاول کی فصل کاشت کرنے کے رجحان میں اضافہ ہے کیونکہ سندھ اورپنجاب میں سیاسی بنیادوں پر شوگر ملز لگانے کے اجازت ناموں کے اجرا کے بعد گنے کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور کاشتکار کو کپاس کی نسبت کم محنت اور کم وقت میں زیادہ آمدنی ہوجاتی ہے اور ظاہر ہے کہ جب کاشتکار کو محنت کیے بغیر اچھی رقم مل رہی ہوتووہ سخت محنت کرکے کپاس کیوں اُگائے گا۔اس صورت حال کاتقاضہ ہے کہ حکومت کپاس کی پیداوار والے علاقوں میں کپاس کی بوائی کو یقینی بنائے ا ور کپاس کی فصل والی زمینوں پر کپاس کے سیزن میں متبادل فصلوں کی بوائی پر پابندی عائد کرے اور کپاس کی قیمتِ خرید بھی متبادل فصلوں سے حاصل ہونے والی قیمت سے کچھ زیادہ رکھی جائے تاکہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کے مناسب آمدن کی ادائیگی یقینی ہوسکے،کپاس کی پیداوار کے علاقے میں قائم شوگر مل مالکان کو شکر تیار کرنے کے لیے گنے کی جگہ چقندر اوردیگر متبادلات پر انحصار کرنے پر مجبور کیاجائے، جب تک ایسا نہیں ہوتا پاکستان کو اپنی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کادرجہ رکھنے والی ٹیکسٹائل کی صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کپاس کی درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرتے رہنے پر مجبور رہنا پڑے گا۔


متعلقہ خبریں


سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت وجود - بدھ 08 اپریل 2020

سعودی عرب میں کورونا وائرس کی باعث وزارت افرادی قوت نے اعلان کیا ہے کہ نجی ادارے غیر ملکیوں کو بلا تنخواہ چھٹی پر بھیج سکتے ہیں تاہم یہ ادارے ملازمین سے معاہدے ختم کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے ۔ سعودی حکومت مہلک وائرس کورونا کے باعث پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کر رہی ہے ۔وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے جاری بیان میں کہا کہ درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے نجی ادارے ملازمین کے اوقات کار اور تنخواہوں میں کمی اور انہیں بلاتنخواہ چھٹی پر بھیجنے یا ہنگامی چھٹی د...

سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد وجود - بدھ 08 اپریل 2020

دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرگئی ، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ سے بھی زائد ہے ۔عالمی ادارہ صحت اور متعدد عالمی اداروں کی جانب سے بنائے گئے کورونا وائرس کے عالمی آن لائن میپ کے مطابق 7 اپریل کی شام تک کورونا وائرس سے 75 ہزار 973 ہلاکتیں ہوچکی ہیں ، وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 60 ہزار رہی۔عالمی میپ کے مطابق دنیا بھر میں بیمار ہونے والے مریضوں میں سے 7 اپریل کی شام تک تک 2 لاکھ 91 ہزار 991 افراد صحت یاب بھی ہوچکے تھے ، ج...

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے وجود - بدھ 08 اپریل 2020

جزیرہ نما یورپی ملک آئرلینڈ کے وزیر اعظم 41 سالہ لوئے ورادکر نے ملک میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ اور وہاں پر ڈاکٹرز کی قلت کے باعث بطور ڈاکٹر ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کردیں۔لوئے ورادکر سیاست میں متحرک ہونے سے قبل بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دیتے تھے تاہم 2013 میں انہوں نے سیاست میں انٹری دی تو انہوں نے خود کو ڈاکٹری کے پیشے سے الگ کرلیا۔سیاست میں آتے ہی انہیں کامیابی ملی اور چند ہی سال میں وہ ملک کے وزیر دفاع بھی بن گئے ، اس سے قبل ہی انہوں نے آئرلینڈ کی سیاست اور حکومتی ...

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم وجود - بدھ 08 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کوورنا وائرس کوویڈ 19 کے مرض میں مبتلا برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حالت اب بہتر ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بورس جانسن بغیر کسی آلہ کی مدد سے سانس لے رہے ہیں اور ان میں نمونیا کی تشخیص نہیں ہوئی ہے ۔ گزشتہ دنوں کورونا وائرس سے متاثر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو حالت خراب ہونے پر آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا۔ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم بورس جانسن کو ڈاکٹروں کی ہدایات کے بعد ہس...

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی وجود - پیر 06 اپریل 2020

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی، امریکا میں عالمی وبا سے 9 ہزار 633 افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا کے 208 ممالک اور علاقے کورونا کی زد میں آگئے ۔ امریکا بدستور دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں مسلسل پانچویں روز ایک ہزار سے زائد اموات ریکارڈ ہو رہی ہیں، 24 گھنٹوں میں 1200 ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار 633 ہوگئی۔ 3 لاکھ 36 ہزار 830 افراد کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔نیویارک کے بعد نیو جرسی اور نیو آرلین...

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی

لاک ڈائون میں خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ،سیکرٹری جنرل یو این وجود - پیر 06 اپریل 2020

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لاک ڈائون کے دوران خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپیل کی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک گھروں میں امن سے رہیں۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن صرف جنگ کی عدم موجودگی نہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ لاک ڈائون کے دوران خواتین کو گھروں میں تشدد کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کے دوران خواتین کا تحفظ اپنے گھروں م...

لاک ڈائون میں خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ،سیکرٹری جنرل یو این

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن لندن کے مقامی ہسپتا ل میں منتقل وجود - پیر 06 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو لندن کے ایک مقامی ہسپتا ل میں منتقل کردیا گیا کیونکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے دس دن بعد بھی ان میں کورونا وائرس کی علامات مسلسل موجود تھیں اور ان کی طبیعت بدستور خراب تھی۔ٹین ڈائوننگ سٹریٹ کے ترجمان نے اس منتقلی کو احتیاطی قدم قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بورس جانسن کو ڈاکٹروں کے مشورے پر مزید ٹیسٹ کیلئے ہسپتا ل منتقل کیا گیا ۔واضح رہے کہ 55 سالہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن میں 27 مارچ کے روز کورونا وائرس کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد وہ ازخود ...

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن لندن کے مقامی ہسپتا ل میں منتقل

سعودی وزارتِ انصاف کا کورونا سے نمٹنے کے لیے امید افزا پیغام وجود - پیر 06 اپریل 2020

سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے تناظر میں ایک حوصلہ افزا ویڈیو پیغام جاری کیا ہے اور مقامی کمیونٹی کو ایک روشن مستقبل کی نوید دی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارتِ انصاف نے ٹویٹر پر یہ ویڈیو پیغام جاری کیا ۔اس میں کہا گیاکہ لوگ ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے سے ملیں گے ،ایک دوسرے سے مصافحے کریں گے ،اسکول دوبارہ کھلیں گے ،نمازیں ادا کی جائیں گی، اسٹیڈیمز دوبارہ شائقین سے بھریں گے ،طیارے فضائوں میں اڑانیں بھریں گے لیکن تب تک ہمیں کرونا وائرس کے خلاف لڑائی جاری رکھ...

سعودی وزارتِ انصاف کا کورونا سے نمٹنے کے لیے امید افزا پیغام

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ،سعودی وزارت صحت وجود - پیر 06 اپریل 2020

سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان محمد العبد العالی نے بتایا ہے کہ مملکت میں کرونا کے مزید 140 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد کل متاثرہ افراد کی تعداد 2179 ہوگئی ہے ۔ ان میں 1730 کو معمولی نوعیت کی بیماری ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرونا کے حوالے سے روزانہ کی بریفنگ کے دوران وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اب تک کرونا سے 29 افراد ہلاک اور 420 صحت یاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرونا سے متعلق افواہوں پرنہیں بلکہ مصدقہ سرکاری معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ سعودی وزارت...

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ،سعودی وزارت صحت

تیسری طاقت نے ایران ، امریکا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ،رکن پارلیمنٹ وجود - پیر 06 اپریل 2020

ایران کے ایک سرکردہ سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک تیسرے فریق کی وجہ سے غیرمعمولی طورپر جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ فلاحت پیشہ ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن بھی ہیں کا کہناتھا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو یہ دونوں ملکوں کے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ اس کا اصل سبب ایک تیسرا فریق ہے ۔حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی کرانے...

تیسری طاقت نے ایران ، امریکا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ،رکن پارلیمنٹ

وبا جاری رہی تو رمضان میں بھی مساجد بند رہیں گی ، مصری وزیر اوقاف وجود - پیر 06 اپریل 2020

مصری وزیر برائے اوقاف نے اعلان کیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی وباء اسی طرح بدستورموجود رہی تو رمضان المبارک کے دوران بھی مساجد بند کردی جائیں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار نے ایک بیان میں کہا کہ وباء کے خاتمے سے پہلے مساجد کھولنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ مساجد وبا کے ختم ہونے کے بعد ہی کھلیں گی۔مصری وزیر برائے اوقاف نے اس بات پر زور دیا کہ اگر رمضان المبارک میں یہ وائرس موجود رہتا ہے تو ہم اپنے آپ کو محفوظ رکھنے اور خدا کے قانون کی پاسداری کے لیے مساجد...

وبا جاری رہی تو رمضان میں بھی مساجد بند رہیں گی ، مصری وزیر اوقاف

مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین،اردوان کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو افشا وجود - پیر 06 اپریل 2020

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے دفتر کے ایک سینئر ذمہ دار کی افشا ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ ذمے دار نے سابق مصری صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد مصر میں انارکی پر شرط باندھی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ آڈیو ریکارڈنگ نارڈیک مانیٹر ویب سائٹ نے جاری کی ہے ۔ ویب سائٹ کے مطابق اردوان کے دفتر کے سربراہ حسن دوآن نے یہ شرط باندھی تھی کہ محمد مرسی کی معزولی کے تین سے پانچ سال بعد الاخوان المسلمین تنظیم کی بڑے پیمانے پر واپسی ہو گی۔ مرسی کو عوامی احتجاج کے ن...

مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین،اردوان کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو افشا