وجود

... loading ...

وجود

مہاجر لبریشن آرمی کے قیام کا خفیہ منصوبہ: قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے

جمعرات 16 مارچ 2017 مہاجر لبریشن آرمی کے قیام کا خفیہ منصوبہ: قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے

بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو سندھ کے شہری عوام نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ مگر انہوں نے عام آدمی کے اعتماد کاگلا گھونٹا ۔طارق میر اور محمد انور نے منی لانڈرنگ کیس میں برطانوی تحقیقاتی اداروں کے سامنے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ انہیں بھارت سے مسلسل فنڈز مل رہے ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے افسران مختلف ممالک میں اُن سے ملتے رہے ہیں‘ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کیس ایم کیو ایم کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئے اور نتیجہ میں ایم کیو ایم کی دہشت اور خوف کی سیاست زوال پزیر ہونا شروع ہوئی اور رہی سہی کسر 22 اگست کو الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر نے پوری کردی۔ جس کے بعد خود اُن کی اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں کے لیے اُن کی حمایت کرنا دشوار تر ہوتا چلا گیا۔اور اُن سے خود اُن کی ہی جماعت نے ایک مناسب فاصلہ پیدا کرنے کی صورت پیدا کرنا شروع کردی۔ یوںکراچی اور پاکستان کے عوام‘ ذرائع ابلاغ پر جبراً الطاف حسین کی دو تین گھنٹے کی تقاریر سننے سے نجات پاسکے۔اس تقریر کے نتیجے میں ایم کیو ایم دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ابتدا میں ڈاکٹر فاروق ستار کے لاکھ کہنے کے باوجود کہ وہ الطاف حسین سے الگ ہوچکے ہیں ، عام آدمی اور ذرائع ابلاغ اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھے۔اس کا سبب یہ بھی تھا کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کیلئے تیار نہیں تھے، مگر اس کی وجہ دراصل ایم کیوایم کا وہ ورثہ تھا جو ایم کیوایم پاکستان چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔مگر چند روز قبل ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن کے کچھ اس طرح بیانات آئے کہ ایسا لگنے لگا کہ دونوں پارٹیاں ایک ہیں صرف وقتی طورپر حالات کا انتظار کیا جارہا ہے جیسے حالات سازگار ہوں گے دونوں پارٹیاں یک جان دو قالب ہ وجائیں گی۔ اور حسب روایت اس کی ایک ایسی منطق پیش کر دی جائے گی کہ عوام اور میڈیا بھی خاموش ہوجائیں گے ۔
آخر کوئی تو ایسا جادو ہے کہ برطانیہ جیسے انصاف پسند ملک میں منی لانڈرنگ کا کیس بند ہوگیا بھلا کوئی یہ پوچھے کہ الطاف حسین کے گھر سے تو پانچ لاکھ پائونڈ ملے تھے اُس رقم کا قصہ کس طرح نمٹایا جائے گا؟ اس پر کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ تو برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مشترکہ کارستانی ہے کہ منی لانڈرنگ کیس داخل دفتر کردیا گیا ہے اور عمران فاروق قتل کیس بھی اس طرح ختم ہوجائے گا اور بیماریوں میں مبتلا الطاف حسین سرخرو ہوکر نکلیں گے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں الطاف حسین کا بیان شائع یا نشر کرنے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود الطاف حسین بیرون ممالک اپنی پارٹی کارکنوں سے مسلسل خطاب کیے جارہے ہیں اور اب تو ان کا وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ ہر تقریر پاکستان مخالف کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق الطاف حسین نے اتوار 12 مارچ 2017 کو ایک مرتبہ پھر اپنے ٹیلی فونک خطاب میں ایسی ناپسندیدہ گفتگو کی ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نزدیک ہر گز قابلِ قبول نہیں۔ ذرائع کے مطابق اپنے اس خطاب میں اُنہوں نے مہاجر لبریشن آرمی کے نام سے نئی مسلح دہشت گرد تنظیم بنانے کا عزم دہرایا ہے۔ اس اعلان پر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہلچل مچ گئی انہوں نے فوری طورپر باہمی رابطے کیے اور ہنگامی بنیادوں پر رینجرز ہیڈ کوارٹر میں پیر 13 مارچ 2017 کو ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا۔ جس میں پولیس‘ رینجرزاور حساس اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید خان نے کی۔ اجلاس میں ڈی جی رینجرز نے کہا کہ پاک فوج‘ رینجرز اور پولیس نے ملک کی سلامتی کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔ کوئی بھی ملک کی سلامتی کے خلاف بات کرے گا یہ ادارے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ ڈی جی رینجرز نے اس موقع پر خاصی پرجوش اور ولولہ انگیز باتیں کیں اور واضح کیا کہ اگر کسی نے مہاجر لبریشن آرمی بناکر دہشت گردی اور تخریب کاری کی تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور ان کو کسی بھی صورت میں نہیں بخشا جائے گا۔ انہوں نے تمام اداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ فوری طورپر اپنا نیٹ ورک فعال بنائیں اور جو لوگ اس نئی دہشت گرد تنظیم کی داغ بیل ڈالنے میں ہمہ تن مصروف ہیں ان کی بیخ کنی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ایسے ملک دشمن عناصر کی ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ۔
اس موقع پر بعض اداروں کے افسران نے پی ایس پی کا نام لیے بغیر کہا کہ جناب اگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک جیسی کارروائی کرنی ہے تو پھر کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرنی چاہئے، اس پر ڈی جی رینجرز نے واضح الفاظ میں کہا کہ سب سن لیں جرائم پیشہ افراد قانون شکن ہیں ان کے خلاف بلاتفریق اور بلااشتعال کارروائی کی جائے۔ چاہے ان جرائم پیشہ افراد کا تعلق پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) سے ہی کیوں نہ ہو ۔ہمیں ہر صورت میں آپریشن ردالفساد کامیاب بنانا ہے اور اس کے لیے کسی جرائم پیشہ شخص سے رعایت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس‘ رینجرز اور حساس اداروں کا مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا تاکہ کوئی بھی ادارہ انفرادی طورپر کامیابی کا کریڈٹ نہ لے بلکہ یہ مشترکہ کریڈٹ ہونا چاہئے۔دیکھنا یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مہاجر لبریشن آرمی کے حوالے سے پائے جانے والے یہ تحفظات درست ثابت ہوتے ہیں یا یہ محض الزامات ہی رہتے ہیں۔ ماضی میں کچھ زیرزمین سرگرمیوں کی برسرزمین نقاب کشائی نے اُس وقت منفی اثرات ڈالے تھے جب یہ عوام الناس کے سامنے حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے تھے۔ اس طرح اس کا فائدہ بھی ایم کیوایم کی لندن قیادت اُٹھانے میں کامیاب رہی تھی۔ اب اس پورے معاملے کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کس طرح سمجھداری سے سنبھالتے ہیں کہ معاملات قابو میں بھی رہے اور اس کا فائدہ کسی بھی طرح لندن قیادت اُٹھا نہ سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اصل امتحان ہی یہ ہوگا۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر