وجود

... loading ...

وجود

مہاجر لبریشن آرمی کے قیام کا خفیہ منصوبہ: قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے

جمعرات 16 مارچ 2017 مہاجر لبریشن آرمی کے قیام کا خفیہ منصوبہ: قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے

بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو سندھ کے شہری عوام نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ مگر انہوں نے عام آدمی کے اعتماد کاگلا گھونٹا ۔طارق میر اور محمد انور نے منی لانڈرنگ کیس میں برطانوی تحقیقاتی اداروں کے سامنے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ انہیں بھارت سے مسلسل فنڈز مل رہے ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے افسران مختلف ممالک میں اُن سے ملتے رہے ہیں‘ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کیس ایم کیو ایم کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئے اور نتیجہ میں ایم کیو ایم کی دہشت اور خوف کی سیاست زوال پزیر ہونا شروع ہوئی اور رہی سہی کسر 22 اگست کو الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر نے پوری کردی۔ جس کے بعد خود اُن کی اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں کے لیے اُن کی حمایت کرنا دشوار تر ہوتا چلا گیا۔اور اُن سے خود اُن کی ہی جماعت نے ایک مناسب فاصلہ پیدا کرنے کی صورت پیدا کرنا شروع کردی۔ یوںکراچی اور پاکستان کے عوام‘ ذرائع ابلاغ پر جبراً الطاف حسین کی دو تین گھنٹے کی تقاریر سننے سے نجات پاسکے۔اس تقریر کے نتیجے میں ایم کیو ایم دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ابتدا میں ڈاکٹر فاروق ستار کے لاکھ کہنے کے باوجود کہ وہ الطاف حسین سے الگ ہوچکے ہیں ، عام آدمی اور ذرائع ابلاغ اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھے۔اس کا سبب یہ بھی تھا کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کیلئے تیار نہیں تھے، مگر اس کی وجہ دراصل ایم کیوایم کا وہ ورثہ تھا جو ایم کیوایم پاکستان چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔مگر چند روز قبل ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن کے کچھ اس طرح بیانات آئے کہ ایسا لگنے لگا کہ دونوں پارٹیاں ایک ہیں صرف وقتی طورپر حالات کا انتظار کیا جارہا ہے جیسے حالات سازگار ہوں گے دونوں پارٹیاں یک جان دو قالب ہ وجائیں گی۔ اور حسب روایت اس کی ایک ایسی منطق پیش کر دی جائے گی کہ عوام اور میڈیا بھی خاموش ہوجائیں گے ۔
آخر کوئی تو ایسا جادو ہے کہ برطانیہ جیسے انصاف پسند ملک میں منی لانڈرنگ کا کیس بند ہوگیا بھلا کوئی یہ پوچھے کہ الطاف حسین کے گھر سے تو پانچ لاکھ پائونڈ ملے تھے اُس رقم کا قصہ کس طرح نمٹایا جائے گا؟ اس پر کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ تو برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مشترکہ کارستانی ہے کہ منی لانڈرنگ کیس داخل دفتر کردیا گیا ہے اور عمران فاروق قتل کیس بھی اس طرح ختم ہوجائے گا اور بیماریوں میں مبتلا الطاف حسین سرخرو ہوکر نکلیں گے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں الطاف حسین کا بیان شائع یا نشر کرنے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود الطاف حسین بیرون ممالک اپنی پارٹی کارکنوں سے مسلسل خطاب کیے جارہے ہیں اور اب تو ان کا وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ ہر تقریر پاکستان مخالف کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق الطاف حسین نے اتوار 12 مارچ 2017 کو ایک مرتبہ پھر اپنے ٹیلی فونک خطاب میں ایسی ناپسندیدہ گفتگو کی ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نزدیک ہر گز قابلِ قبول نہیں۔ ذرائع کے مطابق اپنے اس خطاب میں اُنہوں نے مہاجر لبریشن آرمی کے نام سے نئی مسلح دہشت گرد تنظیم بنانے کا عزم دہرایا ہے۔ اس اعلان پر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہلچل مچ گئی انہوں نے فوری طورپر باہمی رابطے کیے اور ہنگامی بنیادوں پر رینجرز ہیڈ کوارٹر میں پیر 13 مارچ 2017 کو ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا۔ جس میں پولیس‘ رینجرزاور حساس اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید خان نے کی۔ اجلاس میں ڈی جی رینجرز نے کہا کہ پاک فوج‘ رینجرز اور پولیس نے ملک کی سلامتی کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔ کوئی بھی ملک کی سلامتی کے خلاف بات کرے گا یہ ادارے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ ڈی جی رینجرز نے اس موقع پر خاصی پرجوش اور ولولہ انگیز باتیں کیں اور واضح کیا کہ اگر کسی نے مہاجر لبریشن آرمی بناکر دہشت گردی اور تخریب کاری کی تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور ان کو کسی بھی صورت میں نہیں بخشا جائے گا۔ انہوں نے تمام اداروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ فوری طورپر اپنا نیٹ ورک فعال بنائیں اور جو لوگ اس نئی دہشت گرد تنظیم کی داغ بیل ڈالنے میں ہمہ تن مصروف ہیں ان کی بیخ کنی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ایسے ملک دشمن عناصر کی ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ۔
اس موقع پر بعض اداروں کے افسران نے پی ایس پی کا نام لیے بغیر کہا کہ جناب اگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایک جیسی کارروائی کرنی ہے تو پھر کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرنی چاہئے، اس پر ڈی جی رینجرز نے واضح الفاظ میں کہا کہ سب سن لیں جرائم پیشہ افراد قانون شکن ہیں ان کے خلاف بلاتفریق اور بلااشتعال کارروائی کی جائے۔ چاہے ان جرائم پیشہ افراد کا تعلق پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) سے ہی کیوں نہ ہو ۔ہمیں ہر صورت میں آپریشن ردالفساد کامیاب بنانا ہے اور اس کے لیے کسی جرائم پیشہ شخص سے رعایت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس‘ رینجرز اور حساس اداروں کا مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا تاکہ کوئی بھی ادارہ انفرادی طورپر کامیابی کا کریڈٹ نہ لے بلکہ یہ مشترکہ کریڈٹ ہونا چاہئے۔دیکھنا یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مہاجر لبریشن آرمی کے حوالے سے پائے جانے والے یہ تحفظات درست ثابت ہوتے ہیں یا یہ محض الزامات ہی رہتے ہیں۔ ماضی میں کچھ زیرزمین سرگرمیوں کی برسرزمین نقاب کشائی نے اُس وقت منفی اثرات ڈالے تھے جب یہ عوام الناس کے سامنے حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے تھے۔ اس طرح اس کا فائدہ بھی ایم کیوایم کی لندن قیادت اُٹھانے میں کامیاب رہی تھی۔ اب اس پورے معاملے کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کس طرح سمجھداری سے سنبھالتے ہیں کہ معاملات قابو میں بھی رہے اور اس کا فائدہ کسی بھی طرح لندن قیادت اُٹھا نہ سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اصل امتحان ہی یہ ہوگا۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر