وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سندھ حکومت شعبہ تعلیم وصحت میں بری طرح ناکام

اتوار 12 مارچ 2017 سندھ حکومت شعبہ تعلیم وصحت میں بری طرح ناکام


سندھ حکومت ہسپتالوں کاانتظام چلانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے جس کا اندازہ کراچی ، حیدرآباد ،سکھر ،نوابشاہ ،لاڑکانہ اور سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں موجود ہسپتالوں کی حالت زار سے بخوبی لگایاجاسکتاہے جبکہ چھوٹے شہروں اور دیہات میں سندھ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتالوں کے بارے میں تو کچھ کہناہی عبث ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کاانتظام چلانے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اب حکومت سندھ نے تعلیمی اداروں کی طرح ہسپتالوں کا انتظام بھی نجی شعبے اور حکومت کے درمیان اشتراک کے اصول کے تحت نجی شعبے کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، اس حوالے سے اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت نے تھر پارکر،جیکب آباد، میرپور خاص ، گھوٹکی ، سانگھڑ، دادو ، سکھر، مٹیاری اور ٹنڈو الہٰ یار میں موجود مزید 10 سرکاری ہسپتالوںکو نجی شعبے کے حوالے کردیاہے جبکہ کراچی میں نیپا پر واقع 400 بستروں کے اسپتال کاانتظام نجی این جی اوز کے حوالے کرنے کا اصولی طورپر فیصلہ کرلیاہے۔
سندھ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ان ہسپتالوں کا انتظام این جی اوز کے حوالے کرنے کے فیصلے کااعلان گزشتہ روز وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں کیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق سندھ کی حکومت اب تک کم وبیش 167 سرکاری ہسپتالوں کاانتظام نجی شعبے کے حوالے کرچکی ہے اور سرکاری طورپر مرتب کی جانے والی رپورٹوں میں ظاہر کیاگیاہے کہ نجی شعبے کے حوالے کئے گئے ان سرکاری ہسپتالوں کا انتظام اب پہلے سے کافی بہتر ہوگیاہے اور ہسپتال آنے والے مریضوں کی شکایات میں بڑی حد تک کمی آئی ہے ۔
سندھ کے وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو کا کہناہے کہ حکومت نے سندھ کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے سرکاری ہسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاہم حکومت نجی شعبے کے حوالے کئے جانے والے ان ہسپتالوں کی کارکردگی اور ان سے صوبے کے غریب عوام کو فراہم کی جانے والی علاج معالجے کی سہولتوں کی مانیٹرنگ کرتی رہے گی اور اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
نجی شعبے کے حوالے کرنے کیلئے ان ہسپتالوں کا انتخاب ان کے اخراجات اور ان سے استفادہ کرنے والے لوگوں کی حالت اور ضروریات کی نوعیت کے پیش نظر کیاگیاہے۔سیکریٹری صحت ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو کاکہناہے کہ ٹھٹھہ ،سجاول،لاڑکانہ اور بدین کے ہسپتال نجی شعبے کے حوالے کرنے کے معاہدوں کے بعد اب شکارپور اورٹنڈو محمد خان کے ہسپتال بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کیلئے ابتدائی کارروائیاں جاری ہیں ۔وزیر اعلیٰ بورڈ کے دیگر ارکان اور محکمہ صحت کے حکام سے مشورے اور ان کی رضامندی کے مطابق ان ہسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی منظوری دے چکے ہیںاور جلد ہی ان کو بھی نجی شعبے کے حوالے کردیاجائے گا۔
سندھ کے سیکریٹری صحت کاکہناہے کہ نیپا پر زیر تعمیر 400 بستروں کے ہسپتال کی تعمیر کا 80 فیصد کام مکمل کیا جاچکاہے اور یہ ہسپتال تعمیر کے بعد علاقے اور قر ب وجوار کے لوگوں کو کم خرچ میں علاج معالجے کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کا ذریعہ بن جائے گا ،بورڈ کے ارکان کی رائے اور منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ ہسپتال بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
ادھر وزیر تعلیم سندھ جام مہتاب ڈاہر نے بھی ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشن کے تحت چلائے جانے والے5 اسکول ایک رعایتی معاہدے کے تحت نجی شعبے کے حوالے کرنے کی سفارش کی ہے۔وزیر موصوف کاکہناہے کہ اس سے قبل اس ادارے کے تحت چلنے والے 4 سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے کئے جاچکے ہیں جہاں تعلیم وتدریس کاسلسلہ بہتر طریقے سے جاری ہے۔انھوں نے بتایا کہ بورڈ اس تجویز پر یہ اسکول نجی شعبے کے حوالے کرنے کی منظوری دے چکاہے۔
اس حوالے سے سیکریٹری تعلیم کااستدلال یہ ہے کہ حکومت ہر قیمت پر صوبے میں تعلیم کامعیار بہتر بناناچاہتی ہے اور حکومت کی خواہش ہے کہ اساتذہ کی تربیت کے اداروں کامعیار بھی بہتر بنایا جائے تاکہ ان اداروں سے فارغ التحصیل ہوکر نکلنے والے اساتذہ حقیقی معنوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرسکیں ۔ان کاکہناتھا کہ نجی شعبے کی شراکت اور اشتراک سے یہ ہدف حاصل کرنا زیادہ آسان ہوجائے گا ۔انھوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کو اساتذہ کی تعلیم اور تدریس کے اداروں کے حوالے سے بھی نجی شعبے کی شراکت اور معاونت کی اجازت دینے پر غور کرنا چاہئے۔
عوام کو علاج معالجے اور تعلیم کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلئے نجی شعبے کے ساتھ اشتراک عمل کوئی بری بات نہیں ہے امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی ہزاروں اسکول اور کالج یہاں تک کہ یونیورسٹیاں بھی حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے کامیابی کے ساتھ کام کررہی ہیں اور ان کی کارکردگی کے بارے میں کبھی کوئی منفی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے ،لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا حکومت سندھ اپنے زیر انتظام ہسپتالوں اور اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے بعد ان کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کرنے اور ان میں پائی جانے والی خامیوں اور غلط کاریوں کے تدارک کیلئے کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کیا حکومت کے پاس سرکاری اداروں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ اور اس کی اصلاح کیلئے کوئی ادارہ یا اس حوالے سے انتظامات موجود ہیں؟یقینا ایسا نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو کے ای ایس سی جیسے ادارے کو نجی شعبے کے حوالے کئے جانے کے بعد کراچی کے عوام پر مصائب کا پہاڑ نہ ٹوٹتا اور حکومت یہ ادارہ اپنی تحویل میں لینے والے لوگوں کا موثر طورپراحتساب کرکے ان کو معاہدے کے مطابق سرمایہ کاری کرنے اور عوام اور اپنے ملازمین کو سہولتیں بہم پہنچانے پر مجبور کردیتی ۔جب حکومت کے ای ایس سی جیسے ادارے کی نجی شعبے کو حوالگی کے بعد نجی شعبے کی ناقص ترین کارکردگی کااحتساب نہیں کرسکی تو سندھ کے دیہی اورشہری علاقوں میں واقع درجنوں ہسپتالوں اور اسکولوں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کیونکر کرے گی؟ اور حکومت کے پاس نجی شعبے کو غلط کاریوں اور بد انتظامیوں سے روکنے کا کیا طریقہ کار موجود ہے؟جب تک حکومت کے پاس تمام اداروں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کا کوئی موثر طریقہ کار اور ذریعہ موجود نہیں ہے، محض یہ اعلان کردینا کہ حکومت ان اداروں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کرتی رہے گی، طفل تسلی کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
ہمیں صوبے کے سرکاری ہسپتالوں اور اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کو سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے نجی شعبے کے ساتھ تعاون اور اشتراک پر اصولی طورپر کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتاہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عوام کو سہولتیں ملنا تو درکنار ان کے مسائل میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نجی شعبے کے حوالے کئے جانے والے اداروں کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کا کوئی موثر نظام قائم کرے اور یہ ادارے لینے والے اداروں پر یہ واضح کردیاجائے کہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا اور اس حوالے سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور جوں ہی ان اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی شکایت سامنے آئے متعلقہ ادارے کاانتظام فوری طورپر متعلقہ ادارے سے واپس لے کر اس پر بھاری جرمانہ عاید کیاجائے تاکہ یہ ادارے حاصل کرنے والے ادارے من مانی نہ کرسکیں اور عوام کو حقیقی معنوں میں سہولتیں حاصل ہوسکیں۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان