وجود

... loading ...

وجود

اسرائیلی ٹینک و بلڈوزر غزہ میں داخل ،فلسطینی املاک مسمار

جمعرات 09 مارچ 2017 اسرائیلی ٹینک و بلڈوزر غزہ میں داخل ،فلسطینی املاک مسمار

اسرائیلی فوج اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بوٹوں تلے کچلتی ہوئی بلڈوزر‘فوجی گاڑیاں اور ٹینک لے کر گزشتہ دنوں فلسطین کے علاقے غزہ میں داخل ہوگئی اور اس نے غزہ کے علاقے میں فلسطینیوں کی ذاتی املاک کو منہدم کرکے جگہ ہموار کرنا شروع کردی۔
غزہ سے ملنے والی خبروں اور تصاویر سے پتہ چلتاہے کہ اسرائیلی فوج بکتر بند کیٹر پلر ڈی 9 قسم کے بلڈوزر ،متعدد ٹینکوں اور دیگر فوجی گاڑیوں کے ساتھ گزشتہ روز صبح سویرے خان یونس کے جنوبی صوبے فوخاری شہر کے مشرقی حصے میں داخل ہوئی ۔
ٹی وی رپورٹس اور مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والے اسرائیلی فوج کے دستے کو اسرائیل کے علاقے صوفہ کے فوجی اڈے پر قائم چیک پوسٹ سے بھیجا گیاتھا ، اسرائیل کے اس فوجی دستے میں شامل اہلکار فوخاری شہر کے شمالی علاقے میں فلسطینیوں کے علاقے کو خاردار تار لگا کر علیحدہ کیے جانے والے علاقے میں کئی میٹر اندر تک گھس گئے اور اپنے ساتھ موجود توپخانے کی مدد سے زبردستی علاقے کو خالی کراکے اور اس علاقے کے گھروں میں موجود فلسطینیوں کو زبردستی بیدخل کرکے مکانوں اور دیگر تنصیبات کو مسمار کرنا شروع کردیا۔اس دوران اسرائیلی فوج کا توپ خانہ چوکس رہا اور فلسطینیوں کو کسی طرح کی مزاحمت سے روکنے کے لیے فوجی دستے بندوقیں تانے کھڑے رہے۔
خان یونس اور فوخاری شہر سے ملنے والی خبروں کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فضائیہ کے طیارے فضا میںنیچی پروازکرکے چکرلگاتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کی کارروائی کی نگرانی کرتے رہے۔اور اسرائیلی فوجی اہلکار بلڈوزروں کی مدد سے علاقے کی زمین ہموار کرتے رہے۔تاہم اس کارروائی کے دوران فلسطینیوں پر فائرنگ یا تشدد کے کسی واقعہ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
خان یونس کے علاقے میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے علاقے کو علیحدہ کرنے والے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کی دخل اندازی کا یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں تھا بلکہ علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ اسرائیلی فوجی وقفے وقفے سے فلسطینیوں کے علاقے میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں ، ان کی ان کارروائیوں کامقصد علاقے کے فلسطینیوں کو اشتعال دلانا ہوتاہے تاکہ انہیں فلسطینیوں پر ظلم وتشدد کرنے اور بے قصور فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کرکے داخل زنداں کرنے کاموقع مل سکے، اسرائیلی فوجیوں کے اسی حربے کو بھانپتے ہوئے گزشتہ روز کی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کانشانہ بننے والے فلسطینیوں نے مزاحمت سے گریز کیا اور خاموشی کے ساتھ اپنے مکانوں کو منہدم ہوتا دیکھتے رہے۔ علاقے کے لوگوں کاکہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی برّی راستے کے علاوہ بعض اوقات سمندر ی راستے سے بھی فلسطینیوں کے علاقے میں داخل ہوکر اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے رہتے ہےں۔ علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فلسطینیوںکے علاقے میں داخل ہوکر نہتے فلسطینیوں پر فائرنگ روز مرہ کامعمول بن چکاہے ۔
خان یونس اور اس کے گردونواح کے مکین فلسطینیوں کاکہناہے کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کاسلسلہ جاری رکھنے کے لیے فلسطینیوں کے علاقے کی حد بندی کرنے سے گریز کررہی ہے کیونکہ ایک دفعہ حد بندی ہوجانے کے بعد پھر اسرائیلی فوجیوں کو فلسطینیوں کے علاقے میں داخل ہونے میں دشواری کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے۔فلسطینیوں کا کہناہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی اس طرح کی کارروائیوں کی وجہ سے وسیع علاقے پر فلسطینیوں کی کاشت کردہ فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں اور ان کی ماہی گیری کی سرگرمیوں میں بھی خلل پڑتاہے۔
واضح رہے کہ غزہ کا علاقہ 2007ءسے اسرائیل کے قبضے اور عملاً اسرائیلی فوج کے محاصرے میں ہے، اسرائیل نے علاقے میں فسلطینیوں کی نقل وحرکت کو محدود کرنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں آباد فلسطینیوں کے لیے روزی کمانا مشکل ہوگیاہے جس کی وجہ سے علاقے میں لوگوں کامعیار زندگی بری طرح متاثر ہوگیاہے او ر فلسطینی جو معاشی طورپر پہلے ہی کمزور تھے ،غربت کی آخری حدوں کوچھونے لگے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے علاقے کے مسلسل محاصرے اور فلسطینیوں کی نقل وحرکت محدود کردیے جانے کی وجہ سے اس علاقے میں بیروزگاری کی سطح میں روزبروز اضافہ ہورہاہے اور غربت کی شرح اور سطح میں مسلسل بلکہ خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہاہے۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مسلسل فوج کشی کی یہ صورت حال فسلطینیوں کی نسل کشی کے مترادف اور فلسطینیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی جانے والی قراردادوں ہی کانہیں بلکہ ان قراردادوں کی منظوری دینے والے تمام ممالک کامنہ چڑانے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کے مترادف ہے کہ اقوام متحدہ جیسے اداروں کی قراردادوں کواسرائیل کوئی اہمیت نہیں دیتا اور وہ اس علاقے میں طاقت کے بل پر جو چاہے کرسکتاہے۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میںاسرائیل کی جانب سے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف منظور کی جانے والی حالیہ قرارداد کی اس کھلی خلاف ورزی پر کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسرائیلی حکومت پر کسی طرح کی پابندی عائد کرنے پر غور کرے گی ، غالب امکان اس بات کا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک نہ صرف ایسا کچھ نہیں کریں گے بلکہ اپنی منظور کردہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی کی مذمت کرنے کی بھی جرا¿ت نہیں کرےں گے، اقوام متحدہ کے ارکان کا یہی وہ رویہ ہے جس نے دنیا بھر میں انصاف اور امن کا پرچم سربلند رکھنے کے نیک عزم کے ساتھ قائم ہونے والے اس ادارے کی وقعت ختم کردی ہے اور اس کی حیثیت بھی لیگ آف نیشنز سے زیادہ نہیں رہ گئی ہے،یہاں یہ سوال بھی پیداہوتاہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں خود اپنے ہاتھوں اس ادارے کوتباہ کرنے کے بعد دنیا میں امن قائم کرنے اورمختلف ممالک کے درمیان رونماہونے والے تنازعات کا تصفیہ کرانے میں کوئی کردار ادا کرسکیں اور کیا اس ادارے کی تباہی کے بعد دنیا میں پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے قانون پر عملدرآمد شروع نہیں ہوجائے گا اور کیا یہ صورتحال خود بڑی طاقتوں کے مفاد میںہوگی۔
بڑی طاقتوں خاص طورپر اقوام متحدہ کوکنٹرول کرنے والے ممالک جن میں امریکہ ،برطانیہ ، فرانس اور جرمنی پیش پیش ہیں اس صورتحال پر غور کرکے اسرائیل کو فلسطینیوں پر مظالم کاسلسلہ روکنے پر مجبور کرنے کے لیے کسی عملی کارروائی پر غور کرنا چاہیے کیونکہ اسی میں خود ان کااپنا مفاد بھی وابستہ ہے۔
کیرول عدل


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر