وجود

... loading ...

وجود

سیکریٹری آبپاشی احمد جنید میمن کوغرور تکبرلے ڈوبا

جمعرات 09 مارچ 2017 سیکریٹری آبپاشی احمد جنید میمن کوغرور تکبرلے ڈوبا

کہتے ہیں کہ غرور تکبرصرف اﷲ تعالیٰ کی ذات کوزیب دیتا ہے، اس کے بعدجس نے غرور کیا وہ شیطان کہلایایاشیطان کا دوست قرار پایا۔پس سرکاری افسران اورسیاستدان جب بھی غروروتکبر کرتے ہیں تو منہ کے بل گرجاتے ہیں اوران کا جوحشر ہوتاہے وہ دنیا دیکھتی ہے۔ سندھ میں ایک چیف سیکریٹری احمد صادق تھے ،انہوں نے ایک دن کسی غریب کو اپنے دفتر میں بے عزت کردیا۔ اس شخص نے کہاکہ” اے احمد صادق !کرسی تواﷲ تعالیٰ دیتاہے ،وہ چاہے توکرسی واپس بھی لے سکتاہے پھرکیا کروگے؟“احمد صادق نے غرورتکبر میں جو اب دیا کہ ”ہاں ہاں تم جاؤ ،تم بڑے بزرگ پیدا ہوئے ہو۔ میری کرسی کوکچھ نہیں ہونے والا“۔ اگلے ہی لمحے ان کوٹیلیکس پرپیغام ملا کہ فوری طورپر چارج چھوڑ کر اسلام آبادپہنچیں۔ احمد صادق نے اس غریب کوڈھونڈا، پورا اسٹاف اس کے پیچھے دوڑایا مگروہ نہ ملا اورپھروہ اسلام آباد چلے گئے۔ کچھ دنوں بعد پی پی کی دوسری حکومت برطرف کردی گئی۔یوں احمد صادق جیل اورمقدمات کی نذرہوگئے اورپھرکرسی کے لئے ترستے رہے ۔وہ آج بھی اس واقعہ کویاد کرکے تڑپ اٹھتے ہیں۔
اس طرح کے کئی افسران اورسیاستدان آئے اورچلے گئے۔ 24نومبر2016ءکو دبئی سے حاجی علی حسن زرداری نے وزیراعلیٰ کوفون کیا کہ روہڑی کینال کا ٹھیکا تاحال کیوں نہیں دیاگیا؟ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ سیکریٹری آبپاشی ظہیرحیدرشاہ سے پوچھ کر بتائیں گے۔ انہوں نے سیکریٹری آبپاشی سے پوچھا توانہوںنے جواب دیا کہ یہ فوری ممکن نہیں ہے ۔وزیراعلیٰ نے حاجی علی حسن زرداری کوبتایا کہ روہڑی کینال کی لائیننگ کا ٹھیکا فوری ممکن نہیں۔ حاجی علی حسن زرداری سیخ پاہوگئے اورانہوں نے فوری طورپر آصف زرداری سے شکایت کی۔ آصف زرداری نے حکم دیا کہ سیکریٹری آبپاشی کوہٹادیا جائے ۔یوں ایک گھنٹے میں سیکریٹری آبپاشی ظہیر حیدرشاہ کوہٹادیا گیا کیونکہ حاجی علی حسن زرداری نے روہڑی کینال کی لائیننگ کے ٹھیکے پربات کرلی تھی اوریہ ٹھیکا 16ارب روپے کا تھا اوراس کی راہ میں سیکریٹری آبپاشی رکاوٹ بن رہے تھے ۔اس کے بعد فوری طورپر چیف انجینئر احمد جنید میمن کوسیکریٹری آبپاشی مقرر کردیاگیا حالانکہ ظہیر حیدرشاہ 6جنوری 2017ءکوریٹائرڈ ہونے والے تھے۔ احمد جنید نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ ایک ماہ میں کیا ہوتاہے لیکن انہوں نے فوری طورپر سیکریٹری آبپاشی کا چارج لے لیا۔ اورآتے ہی انہوں نے غروروتکبر کی نئی مثال قائم کردی۔یہی غرور وتکبر اﷲ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اور7مارچ 2017ءکو3ماہ دس دن میں ان سے سیکریٹری کا عہدہ چھن گیا۔
احمد جنید میمن نے جس دن سیکریٹری کا چارج سنبھالااس وقت شام کے5بج چکے تھے۔ اگلے دن انہوں نے تمام چیف انجینئرز اورسپرنٹنڈنٹ انجینئرز کا اجلاس بلایا۔ اچانک اجلاس میں کہاکہ سپرنٹنڈنگ انجینئرز کیوں آئے ہیں؟ اور پھران کواجلاس سے زبردستی نکال دیاگیاحالانکہ سپرنٹنڈنگ انجینئرز گریڈ19کے افسر ہوتے ہیں جبکہ چیف انجینئراورسیکریٹری گریڈ20کے افسر ہوتے ہیں۔ سپرنٹنڈنگ انجینئرز خاموشی سے اٹھ کرچلے گئے اس کے بعد احمدجنید میمن نے دفتر میں حکم جاری کیاکہ کوئی بھی ایگزیکٹو انجینئر اورسپرنٹنڈنگ انجینئر اب سیکریٹری آبپاشی کے دفتر میں نہیں آئیں گے، اگرکوئی آیاتو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے چیف انجینئر سکھر بیراج ولی محمد نائچ کوفون پرکہاکہ وہ چیف انجینئر ہیں یا چورہیں ؟ جس پروہ خاموش ہوگئے ۔اپنے دفتر میں ایک اجلاس کے موقع پر ایم ڈی سیڈا سے کہاکہ وہ اگرکام نہیں جانتے تو پھراپنا عہدہ چھوڑدیں، وہ بے چارے خاموش رہے۔
ان کے اس رویے اور تکبروغرور کے باعث محکمہ آبپاشی کے افسران نے سیکریٹری آبپاشی کے دفتر میں آناچھوڑ دیا اوران کے روزانہ کے اس طرح کے احکامات سے افسران کی بے عزتی ہونے لگی ۔یہ وہ احمد جنید میمن ہیں جن کو2016ءمیں نیب نے کراچی سے حیدرآباد جاتے ہوئے گرفتار کرلیا اوران کوچار ماہ جیل میں رکھا گیا اور پھر آزاد ہوکر دوبارہ چیف انجینئر بن گئے ۔اورجب سیکریٹری بن گئے توان میں احساس ،نیاز مندی، نرمی نہ رہی بلکہ وہ الٹا ایسے بن گئے جیسے وہ زمین پرخدا بن بیٹھے ہوں۔ان کی ناانصافیاں اورماتحت افسران کی بے عزتی بڑھ گئیں تو خدا کی بے آواز لاٹھی حرکت میں آئی اورسپریم کورٹ نے احمد جنید میمن کوان کے عہدے سے ہٹادیا ۔ اب وہ دوبارہ کسی جگہ چیف انجینئربن جائیں گے یا پھر محکمہ آبپاشی میں ایڈوائزر یا ایڈیشنل سیکریٹری ٹیکنیکل بن سکتے ہیں اب ان کوسوچنا چاہئے کہ غرورتکبر کا انجام کیا ہوتاہے؟


متعلقہ خبریں


8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر