وجود

... loading ...

وجود

ایرانی شہر چاہ بہار سے کراچی کے ملیر تک اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

پیر 06 مارچ 2017 ایرانی شہر چاہ بہار سے کراچی کے ملیر تک اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب

ایف آئی اے نے ایران کے شہر چاہ بہار سے کراچی کے علاقے ملیر تک چلنے والے اسمگلنگ کے منظم ایرانی نیٹ ورک کا سراخ لگا لیا ہے ، تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پنجاب کی 25فیکٹریاں چاہ بہار سے چلنے والے ایرانی نیٹ ورک کے ذریعے چاول سمیت دیگر مصنوعات ایران منتقل کرنے میں ملوث ہیں۔ ایف آئی اے نے ان فیکٹریوںکے مالکان کو بیانات قلم بند کرنے اور تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے خطوط ارسال کرنے شروع کر دیے ہیں۔ تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ایران سے اسمگل ہو کر آنے والے تیل کو سندھ اور بلوچستان میں فروخت کر کے 8ارب روپے سے زائد رقم کمائی گئی اور اس رقم سے پاکستانی کارخانوں سے مصنوعات اور مویشی خرید کر اسی نیٹ ورک کے ذریعے ایران منتقل کیے گئے، ایف آئی اے نے کارخانوں اور مویشیوں کے تاجروں کو ملنے والی ادائیوںں کا بھی ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ ملک بھر میں موجود اس نیٹ ورک سے جڑے لوگوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ چاہ بہار ایران کا ہی علاقہ ہے جہاں سے بھارتی جاسوس پاکستان علاقوں میں داخل ہوتے رہے ہیں اور اسی علاقے سے پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے خلاف سازشیں تیار کی جاتی رہی ہیں، تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ چاہ بہار سے اربوں روپے کراچی کے علاقے ملیر میں قائم بینکوں کے پانچ اکاؤنٹس میں منتقل ہوتے رہے ہیں ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں، ملیر میں موجود بینک اکاؤنٹس میں اربوں روپے گوادر ، تربت اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں قائم بینکوں سے حاصل کردہ آرٹی سی یعنی روپیز ٹریول چیک کی مدد سے جمع کروائے جاتے رہے ۔یہ اربوں روپے پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود درجنوں افراد کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ اب تک کی تحقیقات میں ایف آئی اے نے ساڑھے 8ارب روپے کی منتقلی کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ مزید چھان بین جاری ہے ۔ اس ضمن میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایران سے پاکستان تک چلنے والے نیٹ ورک کے خلاف ایف آئی اے کو مشکوک بینک ٹرانزیکشن کی صورت میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس پر ایف آئی اے کے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی میں انکوائری نمبر 04\2016شروع کی گئی تھی ، مذکورہ انکوائری میں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک کے افسر نے جب تحقیقات کا آغاز کیا توانکشاف ہوا کہ چاہ بہار اسمگلنگ نیٹ ورک میں ایرانی تیل پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے اور اسی کے عوض پاکستان سے چاول ، آٹا ، گنا اور کپاس سمیت دیگر اشیاغیر قانونی طور پر ایران منتقل ہوتی رہیں، اسمگلنگ نیٹ ورک کی رقم دہشت گردی میں استعمال ہونے کی علیحدہ سے تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات میں اہم ثبوت اور شواہد سامنے آنے پر گزشتہ دنوں ایف آئی اے ٹیم نے کراچی کے علاقے ملیر سے ایک شخص زبیر ولد حاجی لال بخش کو گرفتار کر لیا،اور ایسے 5 اکاؤنٹس پر تحقیقات شروع کی گئیں جس سے بھاری مالیت کی ٹرانزیکشن سامنے آئی ہیں، جب مذکورہ اکاؤنٹس پر تحقیقات شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ حبیب بینک دیہہ ملاح برانچ ملیر میں بلوچ اینڈ کمپنی کے ٹائٹل سے موجود اکاونٹ نمبر 03547900077003، مذکورہ بینک میں زبیر نامی شخص کے اکاونٹ نمبر 03547900077003، ملیر سٹی میں واقع یونائٹیڈ بینک لمیٹڈ میں زبیر کے نام سے موجود اکانٹ نمبر 200612616، مسلم کمرشل بینک ملیر سٹی برانچ میں موجود بلوچ اینڈ کمپنی کے نام سے موجود اکانٹ نمبر 462347571002511، اور مذکورہ برانچ میںزبیر نامی شخص کے اکانٹ نمبر 462347531001109، میں ساڑھے 8 ارب کی ٹرانزیکشن کے ثبوت ملے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اکاونٹس کے مکمل ثبوت ملنے پر آیف آئی اے نے اپنی تحقیقات کو آگے بڑھایا تو تفشیشی افسران کو اسمگلنگ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا کہ پاکستان سے چاہ بہار تک رقوم کی غیر قانونی ترسیل کس طرح سے ہوتی رہی ہے،یہ رقم ایران سے اسمگل ہو کر پاکستان آنے والے تیل کے عوض پاکستانی اسمگلروں اور ڈیلروں سے وصول کی گئی اور پھر اسی رقم کو ٹریول ٹرانزیکشن یا حوالہ کے نیٹ ورک کے ذریعے ایران منتقل کر دیا گیا جبکہ بعض اوقات تیل پاکستانی اسمگلروں کو ڈیلروں کو سپلائی کرنے کے بعد ان اسمگلروں اور ڈیلروں کے ذریعے چاول ، چینی ، آٹا، کپاس اور دیگر اشیاکی کھیپ حاصل کرکے ان اشیاکو بڑے پیمانے پر ایران میں غیر قانونی طور پر سپلائی کیا جاتا رہا ۔اس طرح سے پاکستان معیشت کو ایک لمبے عرصے تک دُہرے بلکہ تہرے طریقوں سے نقصان پہنچایا جاتا رہا ۔ ایک جانب پاکستان میں ایرانی تیل اسمگل کر کے پاکستان کو ٹیکس کی مد میں کروڑوں کا نققصان پہنچایا گیا جبکہ دوسری جانب پاکستان سے ٹیکس کی ادائی کے بغیر سامان ایران منتقل کیا گیا۔ اسی طرح سے پاکستان سے کرنسی غیر قانونی طور پر ایران منتقل کر کے بھی پاکستانی معیشت کو زک پہنچائی گئی۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل پاکستانی اداروں نے جس بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سنگھ کو ایران سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا، وہ بھی چاہ بہار میں موجود نیٹ ورک کی مدد سے پاکستان آتا جاتا رہتا تھا۔بھارتی فوج کے حاضر سروس فوجی جاسوس کو ایرانی خفیہ ایجنسی کی بھر پور معاونت حاصل رہی، جس کی وجہ سے یہی سمجھا جا رہا ہے کہ جاسوسی کا یہ نیٹ ورک اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کے مذکورہ گروپ کی آڑ میں چلایا جاتا تھا جس کے اخراجات بھی پاکستان میں اسمگلنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم سے پورے کیے جارتے رہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے نے مقدمے میں ایرانی شہری حاجی رقیب کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حاجی رقیب ایران سے ملنے والی تمام رقم زبیر کے اکا ؤنٹ میں منتقل کرتا رہا ہے جس کا ریکارڈ بھی ایف آئی اے کو مل چکا ہے، تا ہم ملزم کی ایران میں موجودگی کے باعث گرفتاری فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزم کے ریکارڈ کی چھان بین کی جا رہی ہے کہ وہ کتنی بار ماضی میں پاکستان آچکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ انتہائی بااثر مافیا ہے جسے کئی تحقیقاتی اداروں میں موجود کرپٹ افسران کی سرپرستی کے ساتھ اہم سیاسی اور کاروباری شخصیات کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔کراچی میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں پولیس خود ہی ملوث پائی گئی، پیٹی بند بھائیوں کے خلاف اسپیشل برانچ پولیس نے رپورٹ جاری کردی۔کراچی پولیس ایک طرف شہر میں جرائم کے خاتمے کے دعوے کر رہی ہے تو دوسری جانب خود ہی ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث نکلی۔شہر میں پندرہ مقامات پر ایرانی تیل کے اڈے موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ضلع ویسٹ میں سات اور ضلع ملیر میں چھ اڈے جبکہ ایک ضلع ساؤتھ اور ایک ڈپو ایسٹ میں بھی موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق علاقہ پولیس اڈوں کی سرپرستی کر رہی ہے جبکہ رپورٹ میں ایرانی تیل کی اسمگلرز کے نام بھی واضح کر دیے گئے ہیں۔
ایرانی ڈیزل مافیا ایک بار پھر سے سرگرم ہوگئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق گوادر اور تربت سمیت مختلف علاقوں سے مسافر کوچز میں ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پھر سے شروع ہوگئی لیاری زیرو پوائنٹ سے حب ساکران تک پولیس کی سرپرستی میں ایک بار پھر سے یہ کاروبار شروع ہوچکا ہے۔
اس حوالے سے کچھ عرصے قبل ایک نجی ٹی وی چینل نے اس کاروبار کے حوالے سے ایک رپورٹ بنائی جس پر آئی جی پولیس بلوچستان نے نوٹس لیتے ہوئے سابقہ ایس ایچ او حب اور ایڈیشنل ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں معطل کر کے تنزلی بھی کی۔
اس کے بعد کافی عرصے تک یہ کاروبار بند رہا تاہم سابقہ ڈی پی او کے تبادلے کے بعد دوبارہ یہ کاروبار عروج پر چل رہا ہے۔ اس حوالے سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ زیرو پوائنٹ سے لیکر حب ساکران تک 120000 روپے فی گاڑی پولیس لین لی جاتی ہے جبکہ ہر تھانے کے ایس ایچ اوز نے اس کاروبار کیلئے اپنے مخصوص بندے رکھے ہوئے ہیں جو ان سے باقاعدہ پولیس لین لے کر اعلیٰ افسران تک پہنچاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ماہانہ ایرانی ڈیزل کا کاروبار کرنے والے 25000000 دو کروڑ پچاس لاکھ ماہانہ حب پولیس کو دیتے ہیں جو آگے اعلی حکام سمیت دیگر پولیس افسران میں تقسیم ہوتی ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر