وجود

... loading ...

وجود

فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام

هفته 04 مارچ 2017 فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میںگزشتہ روز وفاقی کابینہ نے فاٹا اصلاحات کے لیے قانونی اور آئینی ترامیم کی سفارشات کی منظور ی دی ،وفاقی کابینہ کی منظور کردہ سفارشات کے مطابق فاٹا آئندہ 5 برس میں خیبر پختونخوا کا حصہ بن جائے گا، کابینہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ فاٹا کی ترقی پورے ملک اور قوم کی ذمہ داری ہے، فاٹا، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے لوگوں کو ان کا حق ملنا چاہیے جب کہ فاٹا کے لوگوں کے لیے وسائل فراہمی کی ذمہ داری وفاق کی تمام اکائیوں کی ہے اور تمام صوبوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے تمام حصوں کے ملکی وسائل پر برابر کے حقوق ہیں لہذا پیچھے رہ جانے والے علاقوں اور عوام پر خاص توجہ دینی چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر پاکستانی کا ہے، قومی یکجہتی کے لئے ضروری ہے کہ پاکستانیت کے جذبہ کو فروغ دیا جائے، ہر پاکستانی کو آگے بڑھنے کا یکساں موقع دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانا صرف اسلام آباد میں رہنے والوں کی ذمہ داری نہیں۔ فاٹا، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کو قومی دھارے میں لانے کے مخالفین صوبائیت کو فروغ دے رہے ہیں تاہم ہم چاہتے ہیں کہ کسی بھی تمیز کے بغیر ہر پاکستانی کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع دیے جائیں۔وفاقی کابینہ میں منظور کی گئی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے 5 سال درکارہوں گے، سفارشات میں کہا گیا ہے کہ فاٹا سے فوج کے انخلا کے لیے لیویز میں 20 ہزار مقامی افراد بھرتی کیے جائیں، فاٹاکی معاشی ترقی کیلئے جامع اصلاحات کی جائیں اور این ایف سی میں فاٹا کے لیے 3 فیصد حصہ مختص کیا جائے۔ فاٹا میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے بینچز قائم کیے جائیں اور قبائلی علاقوں میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے فاٹا اصلاحات کیلئے سفارشات کی منظوری کے اعلان کے فوری بعد ہی خود حکومت کی اتحادی جماعت جمیعت علمائے اسلام ف اور بعض دیگر رہنمائوں کی جانب ظاہر کئے گئے انتہائی سخت ردعمل سے ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت کی طرف سے فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات پر تمام سیاسی جماعتوں سے بار بار مشاورت کے باوجود اس پر تاحال مکمل اتفاق نہیں پیداکیا جاسکاہے ۔قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے کی سب سے بڑی مخالف سمجھی جانے والی مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ابتدا ہی سے اصلاحاتی کمیٹی کی بعض سفارشات پر اعتراض رہا ہے اور اس کی وہ کھل کر مخالفت بھی کرتی رہی ہے۔بعد میںیہ سلسلہ اب مخالفت سے بڑھ کر ایک باقاعدہ احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کرگیا تھا اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی طرف سے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں فاٹا اصلاحات کے خلاف ایک ریلی کا انعقادبھی کیا گیاتھا جس میں دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے طلبا اور جے یو آئی کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی۔فاٹا میں جے یو آئی کے جنرل سیکریٹری مفتی اعجاز شنواری کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت قبائلی علاقوں کی خیبر پختونخوا میں انضمام نہ کرنے کا واضح اعلان نہیں کرتی۔انھوں نے کہا تھاکہ ان کی جماعت فاٹا میں اصلاحات کی مخالف نہیں ہے تاہم قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے بہتر ہوگا کہ ان کو الگ صوبے کا درجہ دیا جائے۔ان کے مطابق فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دے بلکہ ان کو صرف وہاں اصلاحات کرانے کا اختیار دیا گیا ہے انھوں نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کااعلان کیاتھا لیکن اس کے بعد ہی مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد یہ اعلان کیاتھا کہ وزیراعظم نے ان کے تحفظات دور کردئے ہیں اور اب وہ اس معاملے میں حکومت کے ساتھ ہیں،لیکن وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں فاٹا کے حوالے سے سفارشات کی منظوری کے اعلان کے فوری بعد مولانا فضل الرحمان نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم پر وعدہ خلافی اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے متراد ف قرار دیدیاتھا۔
دوسری جانب قبائلی علاقوں سے منتخب بعض اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ‘جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ‘ڈبل گیم’ کھیل رہے ہیں وہ ایک طرف اصلاحات کی مخالفت کررہے ہیںاور دوسری طرف حمایت بھی۔’ان رہنمائوں کاموقف تھا کہ جے یو آئی اس لئے فاٹا اصلاحات کی مخالفت کررہی ہے کیونکہ فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ بن جانے سے قبائلی علاقوں میں اس پارٹی کے مینڈیٹ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے ان سفارشات کی منظوری سے صرف 2 دن پہلے وفاقی وزیر برائے سیفران اور فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے رکن جنرل (ر) عبد القادر بلوچ نے کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے ضمن میں بعض سیاسی جماعتوں کے خدشات دور کر کے اس سلسلے میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرلیا گیا ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد ان کی طرف سے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا گرین سنگل دے دیا گیا ہے۔انھوں نے یہ بات گزشتہ دنوں اسلام آباد میں فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے ایک اجلاس کے اختتام پر بعض اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی تھی۔ یہ اجلاس کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا جس میں صدر پاکستان ممنون حسین نے بھی شرکت کی تھی۔عبد القادر بلوچ نے کہا تھاکہ2سیاسی جماعتوں جے یو آئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی طرف سے فاٹا اصلاحات پر چند خدشات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن وہ معاملہ اب حل کر لیا گیا ہے۔دوسری طرف وفاقی وزیر کے واضح بیان کے باوجود بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے خلاف باقاعدہ احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال وزیر اعظم نوازشریف نے فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ وزارتِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے تمام قبائلی ایجنسیوں کے دورے کرکے ایک رپورٹ تیار کی تھی جسے بعد میں وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔تاہم وفاقی کابینہ نے اس رپورٹ پر عمل درآمد کو موخر کردیا تھا۔بعد میں وزیراعظم کی طرف سے اصلاحاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی تھی کہ فاٹا کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور اصلاحات کی مخالف سیاسی جماعتیں جے یوآئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے مشارت کر کے ایسا فیصلہ کیا جائے جس سے سب متفق ہوں۔گزشتہ سال نومبر میں بنائی جانے والی اس کمیٹی کے قیام کا مقصد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے ا سٹیٹس سے متعلق فیصلہ کرنا ہے یعنی یہ تعین کرنا کہ فاٹا الگ صوبہ ہونا چاہیے ، اسے خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے یا منتخب اراکین پر مشتمل ایگزیکٹو کونسل کی تشکیل مسائل کا حل ہے۔خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے جبکہ کمیٹی کے اراکین نے قبائلی عوام کی رائے جاننے کیلئے باری باری تمام ایجنسیوں کے دورے بھی کیے ہیں لیکن اس کے باوجود سفارشات کی منظوری کے فوری بعد خیبر پختون خوا کی دو بڑی سیاسی جماعتوں جے یو آئی ف اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اس کی مخالفت کے اعلان سے ظاہر ہوتاہے کہ کمیٹی کی سفارشات پر تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اعلانات درست نہیں تھے ۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس کمیٹی کے بارے میں قبائلی عوام کی عمومی رائے کیا ہے، کیا وہ اس اصلاحاتی عمل سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اور فاٹا کی حیثیت سے متعلق کمیٹی کی سفارشات انھیں قبول ہوں گی؟ اس ضمن میں فاٹا لائرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما اعجاز مہمند ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کے زیادہ تر سیاسی رہنما اور عمائدین پہلے ہی اس کمیٹی کو اس بنیاد پر مسترد کر چکے ہیں کہ اس میں فاٹا کی کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ان کاکہناتھا کہ’اس کمیٹی میں فاٹا سے کسی رکن اسمبلی تک کو شامل نہیں کیا گیا ہے لہٰذا ہم اسے قبائلیوں کی نمائندہ کمیٹی نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ پنجابی کمیٹی ہے۔
ان کے برعکس متحدہ قبائل پارٹی (ایم کیو پی) جنوبی وزیرستان کے صدر نقیب محسود کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں فاٹا کی نمائندگی تو نہیں لیکن سرتاج عزیز، عبدالقادر بلوچ اور اقبال ظفر جھگڑا ایسے ارکان ہیں جو قبائلی علاقوں کی روایات اور طور طریقوں سے بخوبی واقف ہیں۔فاٹا الگ صوبہ ہونا چاہیے یا اسے خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے یا وہاں آزاد کونسل کی تشکیل مسائل کا حل ہے ، اس بارے میں بات کرتے ہوئے نقیب محسود نے کہا کہ موجودہ حالات میں گلگت بلتستان کی طرز پر الگ کونسل کا قیام بہترین حل ہوگا جس سے قبائل کو الگ شناخت مل جائیگی اور ان کے مسائل بھی ان کی اپنی کونسل حل کرائے گی۔انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام فاٹا میں ایک صدی سے رائج انگریزوں کے دور کے قانون ’ایف سی آر‘ کا فوری ِطور پر خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ انھیں ملک کی اعلیٰ عدالتوں تک رسائی مل سکے۔اس معاملے پر اعجاز مہمند کا موقف تھا کہ فاٹا کے تمام مسائل حقیقی طور پر اس وقت حل ہوں گے جب اسے مالاکنڈ ڈویژن کی طرز پر پاٹا کی حیثیت دے دی جائیگی۔انھوں نے کہا کہ اس اسٹیٹس کے تحت فاٹا کا سارا انتظام صوبے کے ماتحت ہوجائے گا اور اس نظام میں جرگہ سسٹم بھی بحال ہے، نظام عدل اور شرعی عدالتیں بھی ہونگی اور ساتھ ساتھ قبائلی عوام کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی بھی حاصل ہو جائیگی جو ان کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوام فاٹا میں ایک صدی سے رائج انگریزوں کے دور کے قانون ایف سی آر کا فوری ِطور پر خاتمہ چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ فاٹا میں تمام اصلاحات باری باری ہونی چاہئیں تاکہ عرصہ دراز سے آزاد رہنے والے قبائل ایک منظم طریقے سے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔اس سوال پر کہ اگر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جاتا ہے تو اس سے اختیارات کی کھینچا تانی اور انتظامی مسائل تو پیدا نہیں ہوں گے، نقیب محسود نے کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اختیارات اور وسائل کے معاملات سامنے آئیں کیونکہ فاٹا ایک وسیع علاقے پر مشتمل ہے اور یہ ایک وزیراعلیٰ کے بس کی بات نہیں ہوگی کہ دونوں علاقوں کو ایک ہی وقت میں کنٹرول کر سکے۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اپنے اضلاع کے دورے نہیں کر سکتے تو وہ دور دراز قبائلی علاقوں پر کیا توجہ دے سکیں گے؟اعجاز مہمند ایڈوکیٹ نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو پاٹا کی حیثیت دینے یا اسے خیبر پختونخوا میں شامل کرنے سے کوئی انتظامی مسائل پیدا نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خوشحالی آئے گی اور قبائلی عوام کی اکثریت کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوجائے گا۔
فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی بڑی سیاسی جماعتوں اور فاٹا کے عمائدین کی رائے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتاہے کہ وفاقی حکومت نے فاٹا کے حوالے سے سفارشات کی منظوری میں قدرے جلد بازی کامظاہرہ کیا ہے اگر حکومت اس حوالے سے آل پارٹیز بلاکر پہلے ہی اتفاق رائے پیدا کرلیتی تو شاید یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی اور حکومت کو شرمندگی کاسامنا نہ کرنا پڑتا۔ تاہم اب بھی وقت ہے حکومت نے ان سفارشات پر عملدرآمد کیلئے 5سال کا وقت رکھاہے حکومت کو اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سفارشات پر عملدرآمد سے قبل اس اہم معاملے پر اتفاق رائے پیداکرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ طویل انتظار کے بعد فاٹا کے عوام کو دئے جانے والے حقوق اختلافات کاشکار ہوکر اپنی چمک اور افادیت نہ کھوبیٹھیں۔


متعلقہ خبریں


8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر