وجود

... loading ...

وجود

امریکی سیاحت کو زبردست دھچکالگنے کاخدشہ

هفته 04 مارچ 2017 امریکی سیاحت کو زبردست دھچکالگنے کاخدشہ

 

نیویار ک سٹی کے حکام نے خدشہ ظاہرکیاہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اور رویئے کی وجہ سے امریکا کی سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوگی۔ نیویارک سٹی کے حکام کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات کی وجہ سے رواں سال گزشتہ 7 سال کی نسبت سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔نیویارک سٹی کے حکام کا کہناہے کہ صدر کے تند وتیز بیانات کی وجہ سے سیاح اب امریکا آنے سے گریز کررہے ہیں جس کی وجہ سے خاص طورپر نیویارک کی معیشت پر نمایاں منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے، حکام کا کہناہے کہ سیاح نیویارک سمیت امریکا کے دیگر شہروں کی معیشت کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور شدید کساد بازاری کے دوران بھی ان سیاحوں کی آمد کی وجہ سے نیویارک اور دیگر شہروں کی معیشت کو نمایاں سہارا ملا رہا جس کی وجہ سے عوام کو کساد بازاری کے اتنے زیادہ منفی اثرات کا مقابلہ نہیں کرنا پڑ ا جتنا دیگر ممالک کے عوام کو کرنا پڑا تھا۔
نیویار ک سٹی کی ٹورازم مارکیٹنگ کمپنی این وائی سی اینڈ کمپنی کے حکام نے گزشتہ روز بتایا کہ نومبرمیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد سے سیاحوں کی امریکا آمد کے حوالے سے پیشگوئی مثبت سے منفی میں تبدیل ہوگئی ہے۔حکام کا کہناہے کہ رواں سال 2016 کے مقابلے میں0 3 لاکھ کم سیاحوں کی نیویارک آمد متوقع ہے کیونکہ سیاح کسی بھی ایسی جگہ کا انتخاب کرنے سے عام طورپر گریز کرتے ہیں جہاں انھیں دوستانہ ماحول اور فضا میسر نہ ہو۔یعنی یہ کہ سیاح کبھی ناپسندیدہ مہمان کی حیثیت سے کسی ملک میں جانا نہیں چاہتے۔حکام کا کہناہے کہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ 2016 کے دوران 12.7 ملین سیاح نیویارک آئے تھے لیکن اس سال اس تعداد میں نمایاں0 3 لاکھ سے بھی زیادہ کی کمی کاخدشہ ہے، سیاحوں کی تعداد میں اس کمی سے اس شہر کے کاروباری طبقے کو زبردست دھچکا لگے گا جس سے نہ صرف یہ کہ کاروبارمندی کاشکار رہے گا بلکہ سیاحوں کی آمد کے پیش نظر دکانوں پر رکھے جانے والے اضافی ملازمین کی تعداد میں بھی کٹوتی ہوگی جس سے شہر کے عام لوگ متاثر ہوں گے اوراس کی وجہ سے سرکاری خزانے پر بوجھ میں بھی اضافہ ہوسکتاہے۔
این وائی سی اینڈ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بریڈ ڈسکون کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تند وتیز بیانات اور جارحانہ خیالات نے امریکیوں کی مہمان نوازی کے حوالے سے سیاحوں کے ذہنوں کو بری طرح تبدیل کیاہے اور اب 2017 کا تفریحی پروگرام بناتے ہوئے وہ امریکی شہروں کو پسندیدہ اور ترجیحی شہروں میں شامل نہیں کررہے ہیں۔ڈسکون نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یورپی ممالک کے شہری ایسٹر سے قبل ہی سے امریکا کے مختلف شہروں کارخ کرنا شروع کردیتے ہیں اوریہ سلسلہ پورے موسم گرما کے دوران جاری رہتاہے لیکن اس مرتبہ اس رجحان میں نمایاں کمی نظر آرہی ہے۔ڈسکون کاکہناہے کہ امریکی سیاحت کو فروغ دینے والے غیر ملکی ادارے ہماری توجہ بار بار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امیگرنٹس کے خلاف بیانات اور7 اسلامی ممالک کے باشندوں کی امریکا آمد پر پابندی لگانے کے بیانات کی جانب مبذول کراتے ہیں اور ان بیانات کو تبدیل کرانے کیلئے زور ڈالتے ہیں۔ڈکسن کا کہناہے کہ ان بیانات سے دنیا بھر میں یہی پیغام جارہاہے کہ امریکا غیر ملکیوں کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ڈکسن کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے دنیا بھر میں شائع ہونے والی خبروں سے امریکا آنے والے سیاحوں پر اور زیادہ منفی اثرات پڑتے ہیں۔
جب وائٹ ہائوس سے نیویارک کی سیاحتی مارکیٹنگ کمپنی این وائی سی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے بیان کردہ خیالات پر تبصرے کیلئے رجوع کیاگیا تووائٹ ہائوس کی جانب سے اس کا فوری جواب دینے سے گریز کیاگیا۔ڈسکون کاکہنا ہے کہ امریکا کے دیگر شہروں میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میںاگلے دوبرس کے دوران اس سے بھی کہیں زیادہ کمی ہونے کاخدشہ ہے۔
امریکا کے مختلف شہروں میں سیاحوں کی آمد کے بارے میں پیشگوئی کرنے والے سیاحت کی بین الاقوامی ادارے ٹورازم اکنامکس کے صدر ایڈم سیکس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تندوتیز بیانات کی وجہ سے اگلے دوبرس کے دوران امریکا آنے والے سیاحوں کی تعداد میں مجموعی طورپر6.3 ملین کی کمی ہونے کاخدشہ ہے۔ایڈم کاکہناہے کہ سیاحت کے حوالے سے اب ہمیں انتہائی چیلنجنگ صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔کیونکہ امریکا آنے کے خواہاں لوگوں کی جانب سے امریکی ہوٹلوں اورشہروں کے بارے میں آن لائن معلومات حاصل کرنے والے لوگوں کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔ان کا کہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کے سفر پر پابندیوں کے حوالے سے قانون پر دستخط کے بعد امریکا آنے کے خواہاںلوگوں کی تعداد میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ایڈم کا کہناہے کہ امریکا کے بارے میں لوگوں کی رائے میں یہ تبدیلی انتہائی ڈرامائی اور چیلنجنگ ہے۔ایڈم کے مطابق سیاحوں کی آمد کے حوالے سے پیشگوئی کے بارے میں ان کے ادارہ کا ریکارڈ بہت شاندار رہاہے لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج کی وجہ سے اس حوالے سے کوئی قطعی اور حتمی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہوچکاہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کے سفر پر پابندیوں کے حوالے سے بیانات کے بعد مغربی یورپی ممالک سے امریکا آنے کیلئے ٹکٹوں کی بکنگ کی شرح میں 18.6 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اسپین میں سیاحت سے متعلق ادارے اورسیاحت سے متعلق اعدادوشمار مرتب کرنے والی کمپنی فارورڈ کیز کا کہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کے سفر پر پابندی کے حوالے سے بیان کے بعد امریکا کیلئے ٹکٹ بک کرانے والوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ کمی 18 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
نیویارک کی سیاحت سے متعلق کمپنی این وائی سی اینڈ کمپنی نے اب ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے اثرات کو کم کرنے اورغیر ملکی سیاحوں کو یہ باور کرانے کیلئے امریکا اب بھی غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہتاہے، بیرون ملک اپنے سیاحتی کتابچے تبدیل کرنے اور مختلف شہروں میں بڑے بڑے بل بورڈز لگانے کافیصلہ کیاہے جن میں لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ امریکا اب بھی غیرملکیوں کو خوش آمدید کہتاہے اور امریکی عوام غیر ملکیوں کی مہمان نوازی کیلئے تیار ہیں۔
نیویارک سٹی کی ڈپٹی میئر برائے ہائوسنگ اوراقتصادی ترقی علیشیا گلین کاکہناہے کہ نیویارک کے شہری اپنے مہمانوں کو کبھی مایوس نہیں کرتے ، مہمانوں کو دھتکارنا نیویارک کے عوام کا شیوہ نہیں ہے۔ہمارا شہر ایسا شہر ہے جو ہر ایک کاخیرمقدم کرتا ہے۔یہ ہماری قدیم اقدار اور روایت بھی ہے اور اس میں ہمارا معاشی فائدہ بھی ہے۔ہم اپنے مہمانوں کو یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ ہم ان کیلئے دیدہ ودل فرش راہ کئے رہیں گے۔تاکہ ہمارے شہر کو سب سے زیادہ سیاحوں کی آمد کے شہر کادرجہ حاصل رہے اور ہماری معیشت کو بھی سہارا ملتا رہے۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر