وجود

... loading ...

وجود

رکن پارلیمان لڑکی سے زیادتی ،بی جے پی رہنما بچوں کی فروخت میں ملوث

جمعه 03 مارچ 2017 رکن پارلیمان لڑکی سے زیادتی ،بی جے پی رہنما بچوں کی فروخت میں ملوث

بھارت میں بچوں کی غیر ملکیوں کو مبینہ فروخت میں ملوث ہونے کے الزام میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک سینیئر علاقائی خاتون سیاست دان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے بتایا کہ بی جے پی کی اس اعلیٰ علاقائی عہدیدار جوہی چوہدری پر الزام ہے کہ اس کے انسانوں کی تجارت کرنے والے ایک ایسے جرائم پیشہ گروہ کے ساتھ رابطے تھے، جو بے اولاد غیر ملکی جوڑوں کو بھارتی بچے فروخت کرنے کا کام کرتا ہے۔اس وسیع تر اسکینڈل کی چھان بین کرنے والے تفتیشی ماہرین نے بتایا کہ اس گروہ کی طرف سے ’گود لینے کے نام پر‘ لیکن ایک قطعی غیر قانونی عمل کے دوران جو بچے یورپ، امریکا اور کئی ایشیائی ملکوں سے آنے والے بے اولاد جوڑوں کو بیچے گئے، ان کی عمریں چھ ماہ اور چودہ برس کے درمیان تک ہوتی تھیں۔جبکہ اس سال کے آغازمیںبھارتی سیاستدانوں کے کالے کرتوتوں پرمبنی ایک اوربھیانک واقعے کاانکشاف ہوا تھا کہ بھارت میں انسانوں کی اسمگلنگ کا شکار ایک چودہ سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ کے الزام میں ایک رکن پارلیمان ملوث پایا گیا ہے جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں اس سیاستدان کی گرفتاری کی پولیس نے تصدیق کر دی ہے۔گرفتار کیے جانے والے پارلیمانی رکن کا تعلق شمالی مشرقی ریاست میگھالیا سے ہے۔
بردہ فروشی کے اسکینڈل سے متعلق پولیس کے مطابق انسانوں کی خرید و فروخت کے اس مجرمانہ کاروبار کے دوران کسی بھی بے اولاد غیر ملکی جوڑے کو کوئی بچہ 12 ہزار اور 23 ہزار امریکی ڈالر کے برابر تک رقم میں بیچا جاتا تھا، جس کے بعد ایسے بھارتی بچے بیرون ملک بھیج دیے جاتے تھے۔بھارتی حکام اس مرکز کی کارکردگی پر گزشتہ برس کے وسط سے نظر رکھے ہوئے تھے۔گرفتار کی گئی بی جے پی کی اس سرکردہ خاتون سیاست دان کا نام جوہی چوہدری ہے، جو ریاست مغربی بنگال میں وزیر اعظم مودی کی ہندو قوم پسند جماعت بی جے پی کی جنرل سیکرٹری ہیں۔ جوہی چوہدری کو منگل اٹھائیس فروری کی رات گرفتار کیا گیا اور ان پر فرد جرم بھی عائد کر دی گئی ہے۔
مغربی بنگال میں جرائم کی چھان بین کے ریاستی پولیس کے ادارے سی آئی ڈی کے ڈائریکٹر جنرل راجیش کمار نے صحافیوں کو بتایا، ’’جوہی چوہدری کو ملکی تعزیرات کی کئی دفعات کے تحت چارج شیٹ کیا گیا ہے اور ان پر دھوکا دہی، استحصال اور انسانوں کی تجارت سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘‘
اسی دوران اس اسکینڈل میں مرکزی اہمیت کے حامل ایک مرکز، جس کے ذریعے غیر ملکی جوڑے بھارتی بچوں کو ’گود‘ لے سکتے تھے، کی سربراہ چندنا چکرابورتی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ جوہی چوہدری گزشتہ کئی برسوں سے بچوں کی تجارت اور اسمگلنگ میں ملوث رہی تھیں۔
ایک اسکول کی ریٹائرڈ پرنسپل چندنا چکرابورتی اور ان کی ایک نائب سونالی مونڈل کو پولیس نے پچھلے ماہ فروری میں ایک خفیہ اطلاع ملنے پر گرفتار کیا تھا۔ اس مرکز کے خلاف شکایت بچوں کو قانونی طور پر گود لینے سے متعلق بھارت کی ایک وفاقی ایجنسی نے کی تھی۔
کولکتہ میں اس مرکز کی ایک رہائش گاہ میں مقیم تمام بچوں کو اب دوسری جگہوں پر منتقل کیا جا چکا ہے
راجیش کمار کے بقول چندنا چکرابورتی اور سونالی مونڈل مل کر ’بیمالا سیشو گریہا‘ نامی وہ مرکز چلاتی تھیں، جس کے ذریعے مقامی بچوں کو 1.5 ملین بھارتی روپے یا 23 ہزار امریکی ڈالر کے برابر تک رقم کے بدلے بیرون ملک بیچ دیا جاتا تھا۔
مغربی بنگال میں جرائم کی چھان بین کرنے والے ریاستی پولیس کے اعلیٰ ترین تفتیش کار راجیش کمار نے یہ بھی بتایا کہ اس مرکز کے ذریعے کم از کم 17 بچوں کو بیرون ملک فروخت کیا گیا اور پھر یہ بچے امریکا، یورپ میں فرانس اور اسپین اور ایشیا میں سنگاپور جیسے ملکوں میں بھیج دیے گئے۔
تفتیشی ماہرین کے مطابق وہ ایک خیراتی ادارے کے طور پر کام کرنے والے اس مرکز کی کارکردگی پر گزشتہ برس جون سے نظر رکھے ہوئے تھے، جب پہلی بار بچوں کی بہبود کے ذمے دار ملکی حکام کو اس ’گریہا‘ کے ریکارڈ میں تضادات اور خامیوں کا علم ہوا تھا۔ اب حکام اس مرکز کے زیر انتظام کام کرنے والی ایک رہائش گاہ میں مقیم تمام بچوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کر چکے ہیں۔
قبل ازیں ایک سال کے آغاز میں بھارت میں انسانوں کی اسمگلنگ کا شکار ایک چودہ سالہ لڑکی کے مبینہ ریپ کے الزام میں ایک رکن پارلیمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں اس سیاستدان کی گرفتاری کی پولیس نے تصدیق کر دی ہے۔بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے گزشتہ دنوں ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار کیے جانے والے پارلیمانی رکن کا تعلق شمالی مشرقی ریاست میگھالیا سے ہے۔
ریاستی دارالحکومت شیلونگ میں پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے رکن پارلیمان کا نام جولیئس دورپھنگ ہے، جسے کئی روز تک پولیس کی گرفت میں آنے سے بچنے کی کوششوں کے بعد بالآخر چھ جنوری کو رات گئے نزدیکی شہر گوہاٹی سے حراست میں لے لیا گیا۔
ویویک سائیم نامی اس پولیس اہلکار نے ہفتے کے روز بتایا، ’’ملزم جولیئس کو گزشتہ شب گرفتار کر کے اس پر ایک کم عمر لڑکی کے ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔‘‘
بتایا گیا ہے کہ ملزم کی عمر 51 برس ہے اور وہ ایک ایسا سابقہ عسکریت پسند کمانڈر ہے، جو اب ریاستی قانون ساز ادارے کا رکن ہے۔ اس ملزم نے مبینہ طور پر ایک ایسی 14 سالہ لڑکی کے ساتھ دو مرتبہ جنسی زیادتی کی، جسے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے مجرموں نے اس کے ہاتھ بیچا تھا۔پولیس کے مطابق اس لڑکی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ جولیئس دورپھنگ نے اسے ایک گیسٹ ہاؤس میں قید کر رکھا تھا اور اسے سات ایسے افراد نے اس منتخب عوامی نمائندے کے ہاتھ فروخت کیا، جن میں سے ایک اسی گیسٹ ہاؤس کا ایک ملازم بھی تھا۔ پولیس اہلکار ویویک سائیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ گیسٹ ہاؤس ریاست میگھالیا کے ایک وزیر کے بیٹے کی ملکیت ہے۔
جولیئس دورپھنگ نے 2000میں ایک ایسے عسکریت پسند گروپ کی بنیاد رکھی تھی، جس کا مطالبہ تھا کہ دو مقامی قبائلی گروپوں کو زیادہ حقوق دیے جائیں۔ پھر 2007میں دورپھنگ اور اس کے گروپ نے ہتھیار پھینک دیے تھے اور یہ عسکریت پسند رہنما عملی سیاست میں آ گیا تھا۔
میگھالیا کا شمار بھارت کی ان سات شمال مشرقی ریاستوں میں ہوتا ہے، جہاں عشروں تک کئی مسلح بغاوتیں جاری رہی ہیں، جن میں ریاست مخالف مزاحمت کرنے والے عناصر اپنے مقاصد بھارت سے علیحدگی سے لے کر قبائلی عوام کے لیے زیادہ حقوق کی جدوجہد تک بتاتے تھے۔اے ایف پی کے مطابق بھارت میں انسانوں کی تجارت کرنے والے جرائم پیشہ افراد ہر سال غریب خاندانوں کے ہزاروں بچوں کو ملازمتوں کا جھانسہ دے کر انہیں ساتھ لے جاتے ہیں اور پھر انہیں عام گھروں یا مختلف صنعتی پیداواری اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے طور پر یا پھر ایسے مجرموں کے ہاتھ بیچ دیا جاتا ہے، جو ان سے زبردستی جسم فروشی کرواتے ہیں۔
قبل ازیںاقوام متحدہ کے سبکدوش ہونے والے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان کہا تھا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف ہر ملک تادیبی اقدامات کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف تفتیش کر کے عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔
اقوام متحدہ کے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پندرہ رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اِس وقت انسانی اسمگلنگ کے انتہائی پیچیدہ مسئلے کا سامنا ہے اور ضرورت اِس بات کی ہے کہ دنیا کا ہر ملک اس معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے فوجداری تفتیش کا عمل شروع کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اِس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا لازمی ہے۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر