وجود

... loading ...

وجود

برطانوی باشندے شہریت کے لیے کوشاں،مسلم تارکین حملوں کی زد میں

بدھ 01 مارچ 2017 برطانوی باشندے شہریت کے لیے کوشاں،مسلم تارکین حملوں کی زد میں

جرمن وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں آنے والے تارکینِ وطن پرگزشتہ برس کے دوران تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دس حملے ہوئے۔بتایا گیا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں 43 بچوں سمیت 560 افراد زخمی ہوئے۔دوسری طرف جرمنی میں موجود ایک لاکھ برطانوی شہری جرمنی کی شہریت کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوگا۔
خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی وزارتِ داخلہ کے مطابق تین چوتھائی حملوں میں تارکینِ وطن کو ان کی رہائش گاہوں سے باہر کے علاقوں میں نشانہ بنایا گیا جب کہ 1000 کے قریب ایسے حملے تھے جن میں ان کی قیام گاہیں نشانہ بنیں۔جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کی جانب سے تارکینِ وطن کے لیے دروازے کھولنے کے بعد اِن پرُتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔اس وقت جرمنی میں بہت سے تارکینِ وطن نے پناہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں جس کی بنیاد پر تعصب پسند تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ تارکین کی وجہ سے یورپ بھر میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے۔جرمن وزارتِ داخلہ کے مطابق 2016 ء میں 3553 حملے تارکینِ وطن اور پناہ حاصل کرنے والوں کے ہوسٹلوں پر ہوئے۔ 2545 حملے تنہا تارکینِ وطن پر ہوئے۔988 حملے تارکینِ وطن کی رہائش گاہوں پر ہوئے۔217 حملے تارکینِ وطن کی تنظیموں اور ان کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والوں پر ہوئے۔مگر جرمنی میں گزشتہ برس پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھنے کو ملی۔ یہ تعداد 2015ء میں 6 لاکھ تھی جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 2 لاکھ اسّی ہزار تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ جرمنی جانے والے اہم راستے کی بندش تھی۔ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان معاہدے کے بعد بلقان کے راستے سے آنے والے تارکینِ وطن کا راستہ بند ہو گیا تھا۔یہ معاملہ جرمنی کے رواں برس ستمبر میں ہونے والے انتخابات پر اثر انداز ہوگا۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ابتدائی اعدادوشمار میں کہا گیا کہ یہ پارلیمانی سوالات کے جواب میں جاری کیے گئے ہیں۔تاہم ان اعدادوشمار کا 2015 ء کے ساتھ مکمل طور پر موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے افراد پر انفرادی طور پر ہونے والے حملوں کا ریکارڈ 2016ء میں رکھنے کا آغاز ہوا تھا۔جنوری 2016ء میں ویلیگن کے جنوب مغربی دیہی علاقے میں 170 افراد کے ہوسٹل کو نشانہ بنایا گیا تاہم اسے اڑانے میں انہیں ناکامی ہوئی۔رواں برس ایک جرمن سیاستدان، جن کا تعلق دائیں بازو کی جماعت این پی ڈی سے ہے ،کو آٹھ سال قید کی سزا ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مک کے سپورٹس ہال، جسے تارکینِ وطن کے لیے استعمال کیا جانا تھا، میں آگ لگا دی تھی۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بریگزٹ کے تناظر میں سوال اٹھایا ہے کہ جرمنی میں موجود ایک لاکھ برطانوی شہری کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ برطانوی خبررساں ادارے کادعویٰ ہے کہ بہت سے برطانوی شہری جرمنی کی شہریت کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔
‘تو تم جرمن کب بن رہے ہو؟’ یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج کل برلن میں موجود برطانوی دوستوں کے ساتھ بات چیت کے دوران اکثر ابھر آتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تو جرمن شہریت کی درخواستیں جمع کروا رہے ہیں یا وہ دن گن رہے ہیں جب وہ یہ درخواست جمع کروانے کے اہل ہو جائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ وہ تارکینِ وطن ہیں جو نوجوان فری لانسر ہیں جنہیں فکر ہے کہ اگر انہیں کام کرنے کے لیے ویزا لینا پڑا تو ان کی ملازمت کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ یا پھر ریٹائرڈ پینشنرز ہیں جن کی آمدن پاؤنڈ کی گرتی قیمت سے منسلک ہے۔
ایک برطانوی جرمن اپنی کہانی یوں بیان کرتا ہے کہ ہمارے دوستوں میں سب سے زیادہ ذمہ دار فرد یعنی ایسمے نے جرمن حکام کے ساتھ اپنی پہلی اپوائنٹمنٹ ریفرینڈم سے ایک ہفتہ قبل رکھی تھی۔ اس نے شہریت کا امتحان دیا، اپنی تمام دستاویزات جمع کروائیں اور چند ہفتے پہلے ہی اپنی مقامی کونسل میں ایک تقریب میں جرمنی کی شہریت حاصل کر لی۔جس بات نے اسے حیران کیا وہ یہ تھی کہ اس موقع پر وہ کتنی جذباتی ہوگئیں۔ اس تقریب میں 22 مختلف قومیت کے تقریباً 50 افراد کو جرمن شہریت دی جا رہی تھی اور ان میں شامی، امریکی، عراقی، ترکی، اطالوی، فرانسیسی اور کچھ دیگر برطانوی بھی شامل تھے۔ایسمے نے بتایا ‘مجھے اس سفر کا خیال آ رہا تھا جو سب لوگ کر کے یہاں تک پہنچے تھے۔ وہ جنگیں جن سے بچ کر لوگ پہنچے تھے۔ اور جرمنی میں نئی زندگیاں شروع کرنے کے لیے کیا کیا جتن کیے تھے۔
مقامی میئر نے ایک تقریر کی، سب کو خوش آمدید کہا اور وطن کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور جب انہوں نے جرمن آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام صنف، نسل یا قومیت سے بالاتر ہو کر برابر ہیں تو ایسمے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ایک فنکار نے وہاں موجود لوگوں کے لیے 22 ترانوں کی دھنیں بجائیں۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تک کسی برطانوی کو یہ کہنا کہ آپ جرمن بن رہے ہیں، گفتگو کو عموماً نازیوں کے بارے میں کسی پرانے لطیفے کی طرف لے جاتا تھا۔ اگرچہ کچھ برطانوی شہ سرخیوں میں آج بھی یہی مطلب پنہاں ہوتا ہے، مگر جدید جرمنی کو رواداری کی اقدار کا مرکز سمجھا جاتا ہے، بین الاقوامی، جمہوری، اور پناہ گزینوں کے لیے کھلی بانہوں والاملک۔ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ جرمن چانسلر انگیلا مرکل پر تنقید کرتے ہیں مگر نئے نویلے برطانوی جرمنوں کو وہ ملک پسند ہے جو غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔تاہم گذشتہ چند دہائیوں کے دوران جرمنی اس حوالے سے ایک مشکل مگر کامیاب عمل سے گزرا ہے کہ جرمن ہونے کا مطلب کیا ہے۔ انگیلا مرکل اب جرمنی کو تارکینِ وطن کا ملک کہتی ہیں اور ایسے بیان کا کچھ عرصہ پہلے تک بھی دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی چانسلر کے منہ سے سننے کا امکان ہی نہیں تھا۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے وجود - جمعه 13 فروری 2026

تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حی...

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف وجود - جمعه 13 فروری 2026

تین ماہ سے دائیںآنکھ کی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، بانی چیئرمین کی عدالتی معاون سے ملاقات دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا، باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، رپورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بارے رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے س...

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ وجود - جمعه 13 فروری 2026

ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف ...

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی وجود - جمعه 13 فروری 2026

نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں...

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

مضامین
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ وجود جمعه 13 فروری 2026
پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر