... loading ...
جرمن وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں آنے والے تارکینِ وطن پرگزشتہ برس کے دوران تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دس حملے ہوئے۔بتایا گیا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں 43 بچوں سمیت 560 افراد زخمی ہوئے۔دوسری طرف جرمنی میں موجود ایک لاکھ برطانوی شہری جرمنی کی شہریت کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوگا۔
خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی وزارتِ داخلہ کے مطابق تین چوتھائی حملوں میں تارکینِ وطن کو ان کی رہائش گاہوں سے باہر کے علاقوں میں نشانہ بنایا گیا جب کہ 1000 کے قریب ایسے حملے تھے جن میں ان کی قیام گاہیں نشانہ بنیں۔جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کی جانب سے تارکینِ وطن کے لیے دروازے کھولنے کے بعد اِن پرُتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔اس وقت جرمنی میں بہت سے تارکینِ وطن نے پناہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں جس کی بنیاد پر تعصب پسند تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ تارکین کی وجہ سے یورپ بھر میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے۔جرمن وزارتِ داخلہ کے مطابق 2016 ء میں 3553 حملے تارکینِ وطن اور پناہ حاصل کرنے والوں کے ہوسٹلوں پر ہوئے۔ 2545 حملے تنہا تارکینِ وطن پر ہوئے۔988 حملے تارکینِ وطن کی رہائش گاہوں پر ہوئے۔217 حملے تارکینِ وطن کی تنظیموں اور ان کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والوں پر ہوئے۔مگر جرمنی میں گزشتہ برس پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھنے کو ملی۔ یہ تعداد 2015ء میں 6 لاکھ تھی جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 2 لاکھ اسّی ہزار تھی۔ اس کی ایک اہم وجہ جرمنی جانے والے اہم راستے کی بندش تھی۔ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان معاہدے کے بعد بلقان کے راستے سے آنے والے تارکینِ وطن کا راستہ بند ہو گیا تھا۔یہ معاملہ جرمنی کے رواں برس ستمبر میں ہونے والے انتخابات پر اثر انداز ہوگا۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ابتدائی اعدادوشمار میں کہا گیا کہ یہ پارلیمانی سوالات کے جواب میں جاری کیے گئے ہیں۔تاہم ان اعدادوشمار کا 2015 ء کے ساتھ مکمل طور پر موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے افراد پر انفرادی طور پر ہونے والے حملوں کا ریکارڈ 2016ء میں رکھنے کا آغاز ہوا تھا۔جنوری 2016ء میں ویلیگن کے جنوب مغربی دیہی علاقے میں 170 افراد کے ہوسٹل کو نشانہ بنایا گیا تاہم اسے اڑانے میں انہیں ناکامی ہوئی۔رواں برس ایک جرمن سیاستدان، جن کا تعلق دائیں بازو کی جماعت این پی ڈی سے ہے ،کو آٹھ سال قید کی سزا ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مک کے سپورٹس ہال، جسے تارکینِ وطن کے لیے استعمال کیا جانا تھا، میں آگ لگا دی تھی۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بریگزٹ کے تناظر میں سوال اٹھایا ہے کہ جرمنی میں موجود ایک لاکھ برطانوی شہری کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ برطانوی خبررساں ادارے کادعویٰ ہے کہ بہت سے برطانوی شہری جرمنی کی شہریت کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔
‘تو تم جرمن کب بن رہے ہو؟’ یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج کل برلن میں موجود برطانوی دوستوں کے ساتھ بات چیت کے دوران اکثر ابھر آتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تو جرمن شہریت کی درخواستیں جمع کروا رہے ہیں یا وہ دن گن رہے ہیں جب وہ یہ درخواست جمع کروانے کے اہل ہو جائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ وہ تارکینِ وطن ہیں جو نوجوان فری لانسر ہیں جنہیں فکر ہے کہ اگر انہیں کام کرنے کے لیے ویزا لینا پڑا تو ان کی ملازمت کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ یا پھر ریٹائرڈ پینشنرز ہیں جن کی آمدن پاؤنڈ کی گرتی قیمت سے منسلک ہے۔
ایک برطانوی جرمن اپنی کہانی یوں بیان کرتا ہے کہ ہمارے دوستوں میں سب سے زیادہ ذمہ دار فرد یعنی ایسمے نے جرمن حکام کے ساتھ اپنی پہلی اپوائنٹمنٹ ریفرینڈم سے ایک ہفتہ قبل رکھی تھی۔ اس نے شہریت کا امتحان دیا، اپنی تمام دستاویزات جمع کروائیں اور چند ہفتے پہلے ہی اپنی مقامی کونسل میں ایک تقریب میں جرمنی کی شہریت حاصل کر لی۔جس بات نے اسے حیران کیا وہ یہ تھی کہ اس موقع پر وہ کتنی جذباتی ہوگئیں۔ اس تقریب میں 22 مختلف قومیت کے تقریباً 50 افراد کو جرمن شہریت دی جا رہی تھی اور ان میں شامی، امریکی، عراقی، ترکی، اطالوی، فرانسیسی اور کچھ دیگر برطانوی بھی شامل تھے۔ایسمے نے بتایا ‘مجھے اس سفر کا خیال آ رہا تھا جو سب لوگ کر کے یہاں تک پہنچے تھے۔ وہ جنگیں جن سے بچ کر لوگ پہنچے تھے۔ اور جرمنی میں نئی زندگیاں شروع کرنے کے لیے کیا کیا جتن کیے تھے۔
مقامی میئر نے ایک تقریر کی، سب کو خوش آمدید کہا اور وطن کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور جب انہوں نے جرمن آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام صنف، نسل یا قومیت سے بالاتر ہو کر برابر ہیں تو ایسمے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ایک فنکار نے وہاں موجود لوگوں کے لیے 22 ترانوں کی دھنیں بجائیں۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تک کسی برطانوی کو یہ کہنا کہ آپ جرمن بن رہے ہیں، گفتگو کو عموماً نازیوں کے بارے میں کسی پرانے لطیفے کی طرف لے جاتا تھا۔ اگرچہ کچھ برطانوی شہ سرخیوں میں آج بھی یہی مطلب پنہاں ہوتا ہے، مگر جدید جرمنی کو رواداری کی اقدار کا مرکز سمجھا جاتا ہے، بین الاقوامی، جمہوری، اور پناہ گزینوں کے لیے کھلی بانہوں والاملک۔ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ جرمن چانسلر انگیلا مرکل پر تنقید کرتے ہیں مگر نئے نویلے برطانوی جرمنوں کو وہ ملک پسند ہے جو غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔تاہم گذشتہ چند دہائیوں کے دوران جرمنی اس حوالے سے ایک مشکل مگر کامیاب عمل سے گزرا ہے کہ جرمن ہونے کا مطلب کیا ہے۔ انگیلا مرکل اب جرمنی کو تارکینِ وطن کا ملک کہتی ہیں اور ایسے بیان کا کچھ عرصہ پہلے تک بھی دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی چانسلر کے منہ سے سننے کا امکان ہی نہیں تھا۔
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...