وجود

... loading ...

وجود

تخریب کاری میں ملوث قوم پرستوں کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع

جمعه 24 فروری 2017 تخریب کاری میں ملوث قوم پرستوں کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع

سندھ میں 1970ء کی دہائی سے قوم پرست سیاست ایک طاقت کی حیثیت رکھتی آرہی ہے، اہم صوبائی ایشو پر قوم پرستوں کی جدوجہد قابل تعریف بھی رہی ہے لیکن پچھلے پانچ سال سے جئے سندھ متحدہ محاذ (جسمم)نے جس طرح بلوچستان کے قوم پرستوں کی طرز پرتخریب کاری شروع کی ہے اس کونہ صرف سندھ کے عوام نے مسترد کردیا ہے بلکہ سنجیدہ قوم پرست رہنمائوں نے بھی اس سے نفرت کااظہار کیاہے۔ اپنی اس تخریب کاری میں شفیع برفت جرمنی گئے ۔ اطلاعات کے مطابق ہردوسرے تیسرے ماہ کروڑوں روپے یا لاکھوں ڈالرمختلف ذرائع سے سندھ میں بھیجے جاتے ہیں تاکہ یہ رقم ان تخریب کاروں کومل سکے اوروہ اس رقم سے دھماکا دار مادہ اوراسلحہ خرید سکیں۔ شفیع برفت ہنڈی کے ذریعے بھی لاکھوں ڈالر بھیجتے ہیں جوکراچی سے ان کے کارندے وصول کرتے ہیں۔

’’جرأت‘‘ نے پہلی مرتبہ شفیع برفت کے کارندوں اورجئے سندھ قومی محاذ (جسقم)کے ان کارکنوں کی فہرست شائع کی جوتخریب کاری میں ملوث ہیںتوان جرائم پیشہ قوم پرستوں میں بھونچال آگیا ہے۔ اس وقت شفیع برفت اورجسقم کے تخریب کاروں کے مشترکہ علاقے سچل گوٹھ، ریڑھی گوٹھ،گلشن حدید،صدرشانتی نگر ہیں جہاں انہیں مطلوب رقم اورٹارگٹ ملتاہے اوروہ پھراپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے بم دھماکے کرتے ہیں۔تحقیقاتی اداروں کویہ چونکا دینے والی معلومات ملی ہے کہ اس وقت جئے سندھ متحدہ محاذ ( جسمم)کا سندھ میں آپریشنل کمانڈر ایک ہندو نوجوان رمیش کمار ہے جوبم بنانے اوربم فٹ کرکے اس کوڈیوائس کے ذریعے اڑانے کا ماہر ہے۔ رمیش کمار کی دیدہ دلیری سے تحقیقاتی ادارے حیران وپریشان ہیں کیونکہ وہ جی ایم سید کی سالگرہ اورجی ایم سید کی برسی کے پروگراموں میں ’’سن‘‘ جاتے ہیں اوروہاں باقاعدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہیں اورپھر سلیمانی ٹوپی پہن کر غائب ہوجاتے ہیں۔ رمیش کمار کے پورے گروپ کی نشاندہی کرلی گئی ہے لیکن تاحال وہ غائب ہیں اوراپنی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رمیش کمار زیادہ تروقت کراچی میں گزارتاہے وہ کراچی کے پانچ علاقوں میں بھیس بدل کر اورمختلف اوقات میں رہائش اختیار کرتا ہے وہ واٹس اپ ،اسکائپ، لائن، ٹینگو، ایمو،وائبر اورانسٹا گرام کے ذریعے شفیع برفت سے رابطے میں رہتاہے اورجہاں وہ بات کرتاہے وہاں سے وہ پانچ منٹ کے اندر کسی دوسرے علاقے میں چلا جاتاہے ۔ ذرائع کے مطابق وہ موبائل فون استعمال نہیں کرتا تاکہ کہیں اس موبائل فون کی لوکیشن سے ٹریس نہ ہوجائے اورپکڑا نہ جائے۔
شفیع برفت نے اپنے دہشت گردوں کوموبائل فون استعمال کرنے سے روکا ہواہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو میسر شواہد کے مطابق شفیع برفت جب کبھی اپنے تخریب کارساتھیوں سے ملنے آتاہے تووہ ان کولانچ کے ذریعے دبئی بلاتاہے یا پھران سے ملنے افغانستان آجاتاہے ان کے ساتھی بھارت بھی جاتے ہیں تاکہ وہاں سے وہ تخریب کاری ،دہشت گردی کی جدید تربیت حاصل کرسکیں۔ اس وقت کراچی میں 18سے زائد تخریب کارموجود ہیں جبکہ5ایسے افراد کا بھی سراغ لگالیاگیاہے جوہنڈی سے پیسے لے کرتخریب کاروں تک پہنچاتے ہیں ۔شفیع برفت گروپ کواس فہرست کی اشاعت پر اس لیے بھی پریشانی ہے کیونکہ تمام تخریب کاروں اوردہشت گردوں کے نام اورتفصیلات پہلی بار منظرِ عام پر آئی ہیں اوروہ اس فہرست کی تردید کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس فہرست کی اشاعت کا یہ فائدہ یہ ہواہے کہ ایک درجن نوجوانوں کی عقل ٹھکانے آگئی ہے اورانہوں نے واضح طورپر پریس کانفرنس کرکے یا پریس ریلیز جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ ان کا جسمم یا شفیع برفت سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے جس سے شفیع برفت کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ صحافتی حلقوں میں بھی اس فہرست پربحث شروع ہوگئی ہے۔ شفیع برفت کے کارندے اس کھوج میں لگے ہوئے ہیں کہ فہرست کس نے اورکس طرح تیا رکی ؟ اور پھرمیڈیا تک کیسے پہنچی؟ بہرکیف اس فہرست کی اشاعت کے بعدسندھ کی قوم پرست سیاست میں بھونچال آگیاہے۔ اکثرسیاسی رہنمائوں نے ان قوم پرستوں سے دوری اختیار کرلی ہے اوراکثر قوم پرستوں نے دہشت گردی اورتخریب کاری سے خود کوالگ کرلیاہے ۔جرات کی اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شفیع برفت گروپ کی تمام سرگرمیوں ،رقومات کی ترسیل، اسلحہ اور تخریب کاری کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں اوراس گروپ کے خلاف ایک فیصلہ کن آپریشن کی تیاری کرلی گئی ہے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر