وجود

... loading ...

وجود

دہشت گردوں کی جوابی فہرست اور دھمکی آمیز لہجہ معنی خیز!

جمعرات 23 فروری 2017 دہشت گردوں کی جوابی فہرست اور دھمکی آمیز لہجہ معنی خیز!

افغان وزراتِ خارجہ نے پاکستان سے طالبان، حقانی نیٹ ورک اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 85 رہنماؤں کی گرفتاری و حوا لگی اور دہشت گردوں کے 32 مبینہ تربیتی مراکز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے،افغانستان کی جانب سے مطلوبہ دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ کیاگیا یہ مطالبہ بظاہر معمول کے مطابق ہے کیونکہ خود پاکستان کے وزیر خزانہ گزشتہ روز یہ بتاچکے ہیں کہ پاکستان نے افغان حکومت کو مطلوبہ دہشت گردوں اوران کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کیلئے فہرست افغان حکومت کے حوالے کرتے ہوئے یہ پیشکش کی تھی کہ اگر کوئی دہشت گرد انہیں مطلوب ہے تو پاکستان کو اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اس طرح افغانستان کی جانب سے بعض مطلوب دہشت گردوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کیاجانا معمول کی کارروائی ہے۔
تشویشناک بات یہ کہ رپورٹ کے مطابق افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں پاکستان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تشدد کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے تو کابل دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے،پاکستان کے خلاف افغان حکومت کا یہ دھمکی آمیز لہجہ معنی خیز ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پس پردہ کوئی اور قوت کارفرما ہے جو اس واقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک افغان تعلقات میں دراڑیں ڈالنا چاہتی ہے ۔افغان حکومت کو اس باریکی کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے اور یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی قومی سلامتی اورخودمختاری کانہ صرف یہ کہ احترام کیا ہے بلکہ افغانستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا ہے ۔اس اعتبار سے افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز لہجہ کسی طور بھی مناسب نہیں ہے، اگر افغان حکومت نے کسی اشارے پر یہ لہجہ اختیار کیا ہے تو اسے اس کے مابعد اثرات پر بھی غور کرنا چاہئے اوراس طرح کا دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرکے معاملات کو خراب کرنے کے بجائے معاملات کو افہام وتفہیم کے ماحول میں خوش اسلوبی سے طے کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ ا س حوالے سے یہ بات خوش آئند ہے کہ اس دھمکی کے ساتھ ہی افغان وزارتِ خارجہ کے حکام نے اسلام آباد کے ساتھ مل کر 4فریقی رابطہ گروپ کے تحت دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیاہے۔
افغان وزراتِ خارجہ کا کہناہے کہ 85 شدت پسند رہنماؤں اور سرحد پار دہشت گردوں کے 32 خفیہ ٹھکانوں کی فہرست پاکستان کو فراہم کی جاچکی ہے جو بقول ان کے افغانستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں۔افغان وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے مثبت انداز میں یہ فہرست وصول کی،افغان وزارت خارجہ کے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے ان کے خلاف مؤثر کارروائی بھی کی جائے گی۔

افغان وزارت دفاع نے سرحدی علاقوں میں پاکستانی شیلنگ کو ‘جارحانہ عمل’ قرار دیتے ہوئے اسے سفارتی سطح پر حل کرنے کا مطالبہ کیاہے۔خیال رہے کہ افغانستان کا یہ مطالبہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود 76 دہشت گردوں کی فہرست افغان حکومت کے حوالے کرنے کے بعد سامنے آیاہے۔20 فروری کوپاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان کی مشترکہ کوششوں کو جاری رہنا چاہیے۔
پاک فوج کے سربراہ نے مؤثر بارڈر کوآرڈی نیشن اور افغان سیکورٹی فورسز سے تعاون کی ہدایات دیتے ہوئے افغان حکام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کے حوالے سے تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا تھا۔آرمی چیف کا یہ بیان پاک افغان سرحد پر دہشت گرد تنظیم ’جماعت الاحرار‘ کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے کئی ٹھکانوں کو تباہ کئے جانے کے بعد سامنے آیا ہے اس حملے میں مبینہ طور پر جماعت الاحرار کے ڈپٹی کمانڈر عادل باچا کا کیمپ، تربیتی کمپاؤنڈ اور 4 دیگر کیمپ تباہ کردیئے گئے تھے۔
دوسری جانب پولیٹیکل انتظامیہ نے پاک- افغان سرحد کے قریب آباد لوگوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ مقام کی طرف نقل مکانی کرجائیں۔3 روز قبل افغان سفارتخانے کے اعلیٰ حکام کو بھی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) طلب کرکے افغانستان میں چھپے ‘انتہائی مطلوب’ 76 دہشت گردوں کی فہرست حوالے کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ یا تو ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے یا پھر انھیں پاکستان کے حوالے کردیا جائے۔اس سے دو روز قبل بھی پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے اسلام آباد میں تعینات افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن سید عبدالناصر یوسفی سے ملاقات میں افغانستان میں سرگرم تنظیموں کی جانب سے پاکستان پر حملوں کا معاملہ اٹھایا تھا، اس طرح پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کو کسی بھی اعتبار سے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا جارحیت قرار نہیں دیاجاسکتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ افغان حکومت کو اس طرح کی کارروائی پر پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہئے کیونکہ جو دہشت گرد سرحد پار کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرسکتے ہیں وہ خود افغانستان میں بھی اس طرح کی کارروائیاں کرسکتے ہیں جس کا مظاہرہ وہ وقفے وقفے سے کرتے رہتے ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضہ ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں کو جارحانہ قرار دینے اور اس کے خلاف بین الاقوامی فورم کی مدد حاصل کرنے کی دھمکیاں دینے کے بجائے اس طرح کی کارروائیوں میں پاک فوج کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کرنی چاہئے کیونکہ دہشت گردوں کاصفایا دونوں ہی ملکوں کے نزدیک ضروری ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ و یورپی کمیشن (یو این اینڈ ای سی) کی ایڈیشنل سیکریٹری تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کی کارروائیوں پر تشویش ہے جو کہ افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں سے آپریٹ کررہے ہیں۔آرمی چیف نے خبردار کیا تھاکہ پاکستان مخالف ایجنسیاں خطے کے امن و استحکام سے کھیلنے سے باز رہیں، اس قسم کی مخالفانہ سرگرمیوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا تھاکہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا جبکہ ہم دوسروں سے بھی یہی توقع کرتے ہیں ۔ پاک فوج کے سربراہ بھی پہلے ہی افغان حکومت کو یہ باور کرا چکے ہیں کہ دہشت گرد دوبارہ افغانستان میں منظم ہورہے ہیں اور افغانستان سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیںہمیں باہم مل کر دہشت گردوں کی کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ آرمی چیف نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا تھاکہ فوج فاٹا میں سڑکیں ، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ سمیت انفراسٹرکچر میں بہتری کیلئے کام کرتی رہے گی۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
پاک فوج نے افغان علاقے میں قائم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی بلااختیار نہیں کی ہے بلکہ وزیر اعظم نے پاک فوج کے سربراہ کو اس خطے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کیلئے پاک فوج کو اختیار دیاتھا جس کی تصدیق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے سینیٹ میں دیئے گئے تازہ ترین بیان سے ہوتی ہے جس میں انھوں نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر میں افغان سرزمین کے استعمال ہونے کے ٹھوس شواہد حاصل کرنے کے بعد فوج کو دہشت گردوں کے خلاف سرحد پار کارروائی کرنے کے اختیارات دیئے گئے۔انگریزی روزنامے کی ایک رپورٹ کے مطابق پیر 20 فروری کوسینیٹ کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کی بحالی سے متعلق قانون سازی کی مشاورت سے سینیٹرز کے اخراج سمیت امن و امان اور دیگر کئی اہم معاملات پر بحث کی گئی۔عوامی اہمیت سے متعلق اہم معاملات پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ جہاں کہیں بھی دہشت گرد موجود ہیں وزیراعظم نے ان کے خلاف کارروائی کے اختیارات فوج کو دے دیئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لاہور اور حیات آباد میں ہونے والے دونوں خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں غیر ملکی سرزمین استعمال کی گئی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام وجود - منگل 30 دسمبر 2025

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط وجود - منگل 30 دسمبر 2025

میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید وجود - منگل 30 دسمبر 2025

شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بر...

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید

پی ٹی آئی کی لاہور سے عوامی تحریک شروع ،سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال، عمران خان کے حق میں نعرے وجود - اتوار 28 دسمبر 2025

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ رک کر عوام سے خطابات کیے، نعرے لگوائے، عوام کی جانب سے گل پاشی ، لاہور ہائیکورٹ بار میںتقریب سے خطاب سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں عمران خان زندہ بادکے نعرے گونج رہے ہیں،خان صاحب کا آخری پیغام سڑکوں پر آئیں ت...

پی ٹی آئی کی لاہور سے عوامی تحریک شروع ،سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال، عمران خان کے حق میں نعرے

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ وجود - اتوار 28 دسمبر 2025

جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل ان...

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ

مضامین
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

فنا کی کہانی وجود جمعرات 01 جنوری 2026
فنا کی کہانی

آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت وجود بدھ 31 دسمبر 2025
آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت

بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟ وجود بدھ 31 دسمبر 2025
بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر