... loading ...
افغان وزراتِ خارجہ نے پاکستان سے طالبان، حقانی نیٹ ورک اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 85 رہنماؤں کی گرفتاری و حوا لگی اور دہشت گردوں کے 32 مبینہ تربیتی مراکز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے،افغانستان کی جانب سے مطلوبہ دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ کیاگیا یہ مطالبہ بظاہر معمول کے مطابق ہے کیونکہ خود پاکستان کے وزیر خزانہ گزشتہ روز یہ بتاچکے ہیں کہ پاکستان نے افغان حکومت کو مطلوبہ دہشت گردوں اوران کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کیلئے فہرست افغان حکومت کے حوالے کرتے ہوئے یہ پیشکش کی تھی کہ اگر کوئی دہشت گرد انہیں مطلوب ہے تو پاکستان کو اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اس طرح افغانستان کی جانب سے بعض مطلوب دہشت گردوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کیاجانا معمول کی کارروائی ہے۔
تشویشناک بات یہ کہ رپورٹ کے مطابق افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں پاکستان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تشدد کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے تو کابل دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے،پاکستان کے خلاف افغان حکومت کا یہ دھمکی آمیز لہجہ معنی خیز ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پس پردہ کوئی اور قوت کارفرما ہے جو اس واقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک افغان تعلقات میں دراڑیں ڈالنا چاہتی ہے ۔افغان حکومت کو اس باریکی کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے اور یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی قومی سلامتی اورخودمختاری کانہ صرف یہ کہ احترام کیا ہے بلکہ افغانستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا ہے ۔اس اعتبار سے افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز لہجہ کسی طور بھی مناسب نہیں ہے، اگر افغان حکومت نے کسی اشارے پر یہ لہجہ اختیار کیا ہے تو اسے اس کے مابعد اثرات پر بھی غور کرنا چاہئے اوراس طرح کا دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرکے معاملات کو خراب کرنے کے بجائے معاملات کو افہام وتفہیم کے ماحول میں خوش اسلوبی سے طے کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ ا س حوالے سے یہ بات خوش آئند ہے کہ اس دھمکی کے ساتھ ہی افغان وزارتِ خارجہ کے حکام نے اسلام آباد کے ساتھ مل کر 4فریقی رابطہ گروپ کے تحت دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیاہے۔
افغان وزراتِ خارجہ کا کہناہے کہ 85 شدت پسند رہنماؤں اور سرحد پار دہشت گردوں کے 32 خفیہ ٹھکانوں کی فہرست پاکستان کو فراہم کی جاچکی ہے جو بقول ان کے افغانستان میں تخریب کاری میں ملوث ہیں۔افغان وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے مثبت انداز میں یہ فہرست وصول کی،افغان وزارت خارجہ کے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے ان کے خلاف مؤثر کارروائی بھی کی جائے گی۔
افغان وزارت دفاع نے سرحدی علاقوں میں پاکستانی شیلنگ کو ‘جارحانہ عمل’ قرار دیتے ہوئے اسے سفارتی سطح پر حل کرنے کا مطالبہ کیاہے۔خیال رہے کہ افغانستان کا یہ مطالبہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود 76 دہشت گردوں کی فہرست افغان حکومت کے حوالے کرنے کے بعد سامنے آیاہے۔20 فروری کوپاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق آرمی چیف نے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان کی مشترکہ کوششوں کو جاری رہنا چاہیے۔
پاک فوج کے سربراہ نے مؤثر بارڈر کوآرڈی نیشن اور افغان سیکورٹی فورسز سے تعاون کی ہدایات دیتے ہوئے افغان حکام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کے حوالے سے تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا تھا۔آرمی چیف کا یہ بیان پاک افغان سرحد پر دہشت گرد تنظیم ’جماعت الاحرار‘ کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے کئی ٹھکانوں کو تباہ کئے جانے کے بعد سامنے آیا ہے اس حملے میں مبینہ طور پر جماعت الاحرار کے ڈپٹی کمانڈر عادل باچا کا کیمپ، تربیتی کمپاؤنڈ اور 4 دیگر کیمپ تباہ کردیئے گئے تھے۔
دوسری جانب پولیٹیکل انتظامیہ نے پاک- افغان سرحد کے قریب آباد لوگوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ مقام کی طرف نقل مکانی کرجائیں۔3 روز قبل افغان سفارتخانے کے اعلیٰ حکام کو بھی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) طلب کرکے افغانستان میں چھپے ‘انتہائی مطلوب’ 76 دہشت گردوں کی فہرست حوالے کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ یا تو ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے یا پھر انھیں پاکستان کے حوالے کردیا جائے۔اس سے دو روز قبل بھی پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے اسلام آباد میں تعینات افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن سید عبدالناصر یوسفی سے ملاقات میں افغانستان میں سرگرم تنظیموں کی جانب سے پاکستان پر حملوں کا معاملہ اٹھایا تھا، اس طرح پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کو کسی بھی اعتبار سے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا جارحیت قرار نہیں دیاجاسکتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ افغان حکومت کو اس طرح کی کارروائی پر پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہئے کیونکہ جو دہشت گرد سرحد پار کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرسکتے ہیں وہ خود افغانستان میں بھی اس طرح کی کارروائیاں کرسکتے ہیں جس کا مظاہرہ وہ وقفے وقفے سے کرتے رہتے ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضہ ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں کو جارحانہ قرار دینے اور اس کے خلاف بین الاقوامی فورم کی مدد حاصل کرنے کی دھمکیاں دینے کے بجائے اس طرح کی کارروائیوں میں پاک فوج کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کرنی چاہئے کیونکہ دہشت گردوں کاصفایا دونوں ہی ملکوں کے نزدیک ضروری ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ و یورپی کمیشن (یو این اینڈ ای سی) کی ایڈیشنل سیکریٹری تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کی کارروائیوں پر تشویش ہے جو کہ افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں سے آپریٹ کررہے ہیں۔آرمی چیف نے خبردار کیا تھاکہ پاکستان مخالف ایجنسیاں خطے کے امن و استحکام سے کھیلنے سے باز رہیں، اس قسم کی مخالفانہ سرگرمیوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا تھاکہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا جبکہ ہم دوسروں سے بھی یہی توقع کرتے ہیں ۔ پاک فوج کے سربراہ بھی پہلے ہی افغان حکومت کو یہ باور کرا چکے ہیں کہ دہشت گرد دوبارہ افغانستان میں منظم ہورہے ہیں اور افغانستان سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیںہمیں باہم مل کر دہشت گردوں کی کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ آرمی چیف نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا تھاکہ فوج فاٹا میں سڑکیں ، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ سمیت انفراسٹرکچر میں بہتری کیلئے کام کرتی رہے گی۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
پاک فوج نے افغان علاقے میں قائم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی بلااختیار نہیں کی ہے بلکہ وزیر اعظم نے پاک فوج کے سربراہ کو اس خطے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کیلئے پاک فوج کو اختیار دیاتھا جس کی تصدیق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے سینیٹ میں دیئے گئے تازہ ترین بیان سے ہوتی ہے جس میں انھوں نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر میں افغان سرزمین کے استعمال ہونے کے ٹھوس شواہد حاصل کرنے کے بعد فوج کو دہشت گردوں کے خلاف سرحد پار کارروائی کرنے کے اختیارات دیئے گئے۔انگریزی روزنامے کی ایک رپورٹ کے مطابق پیر 20 فروری کوسینیٹ کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کی بحالی سے متعلق قانون سازی کی مشاورت سے سینیٹرز کے اخراج سمیت امن و امان اور دیگر کئی اہم معاملات پر بحث کی گئی۔عوامی اہمیت سے متعلق اہم معاملات پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ جہاں کہیں بھی دہشت گرد موجود ہیں وزیراعظم نے ان کے خلاف کارروائی کے اختیارات فوج کو دے دیئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لاہور اور حیات آباد میں ہونے والے دونوں خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں غیر ملکی سرزمین استعمال کی گئی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...
وزیراعلیٰ نے نئے مالی سال کے 48 ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا، کم ازکم تنخواہ 45 ہزار کرنے کی تجویز اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے ...
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...