وجود

... loading ...

وجود

امریکی دستبرداری فلسطین کی پیٹھ میں خنجرکے مترادف

منگل 21 فروری 2017 امریکی دستبرداری فلسطین کی پیٹھ میں خنجرکے مترادف

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل سے دست برداری کو مبصرین نے اس حل کی پیٹھ میں ’رحم دلانہ گولی‘ مارنے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ کے موقف کے بعد اسرائیل کو فلسطینی عرب علاقوں میں یہودی آباد کاری کا مزید موقع ہاتھ آگیا ہے۔
1993میں تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے اور جواب میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے بعد دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری میں چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں کے درمیان جگہ جگہ بنائی گئی دیوارِ فاصل اس کے سوا ہے جس نے فلسطینی بستیوں کو عملًا تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ بستیاں اور اسرائیل کی تعمیر کردہ دیوار فاصل 1967 کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔
القدس اسٹڈی سینٹر میں شعبہ نقشہ جات سے وابستہ تجزیہ نگار خلیل تفکجی نے ایک عرب خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے خیال میں فلسطینی ریاست صرف غزہ کی پٹی کے علاقے میں ہونی چاہیے۔ جہاں تک غرب اردن کے شہروں کا تعلق ہے تو وہ اردن کے ساتھ مربوط ہیں۔ یہ علاقے چھوٹے چھوٹے قصبوں اور کالونیوں کی شکل میں ہیں جہاں قبائلی طرز کا نظام رائج ہے۔ ان قصبوں کا بھی آپس میں کوئی دوستانہ تعلق نہیں ۔ اسرائیل انہی بنیادوں پر فلسطینی علاقوں کو تقسیم کرکے صہیونی ریاست میں شامل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک دوریاستی حل کی ناکامی کی صورت میں کئی متبادل آپشنز سامنے آتے ہیں۔
اگر فلسطین۔ اسرائیل تنازع کا ’دو ریاستی حل‘ ناکام ہوتا ہے تو اس کے متبادل دوسرے آپشن کیا ہوسکتے ہیں اس پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر تفکجی نے کہا کہ دو ریاستی حل کی ناکامی کی صورت میں چار متبادل حل زیر غور لائے جاسکتے ہیں۔ان میں سے بعض فلسطینیوں کے لیے قابل قبول اور اسرائیل کے لیے ناقابل قبول ہوسکتے ہیں۔
متبادل تجاویز میں فلسطین میں ’ایک جمہوری ریاست‘ کا قیام ہے جہاں دونوں قومیں موجود ہوں، اس حل کو فلسطینی کلیتاً مسترد نہیں کریں گے۔ فلسطینی جس انداز میں اپنی اراضی پرصہیونی ریاست کے غاصبانہ قبضے کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کی روک تھام کے لیے اس حل کو قبول کرسکتے ہیں۔ فلسطینیوں کا ایک طبقہ تمام فلسطینی شہروں کو اسرائیل سے آزاد کرانے اور صرف فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب دیکھ رہا ہے۔ ایک جمہوری ریاست کا آپشن اسرائیل کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔صہیونی اسرائیل کو خالص یہودی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جمہوری ریاست کے قیام کی صورت میں ان کا یہودی ریاست کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔
دوسرا آپشن فلسطین میں ایک ہی نسل پرستانہ نو آبادیاتی نظام کی طرز کی ریاست کا قیام ہے۔ یہ تجویز اسرائیل کی خواہش تو ہوسکتی ہے کیونکہ وہ اپنی فوج اور دوسرے سیکیورٹی اداروں کی مدد سے جس طرح بدسلوکی کا نشانہ بنا رہا ہے اس سے اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔
تیسرا آپشن اسرائیلی صدر روؤف ریفیلین نے حال ہی میں پیش کیا جس میں تجویز دی گئی ہے کہ فلسطین اور اسرائیل دونوں قوموں کی ایک کنفیڈریشن قائم کی جائے مگراس کنفیڈریشن کا سیکورٹی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہو۔
تیسرا آپشن فلسطین، اردن اور اسرائیل پر مشتمل کنفیڈریشن کا قیام ہے۔ اس کنفیڈریشن میں اسرائیل کی سرحدوں کا تعین کیا جائے۔ مگر آخر الذکر تینوں آپشن فلسطینیوں کے لیے قابل قبول نہیں کیونکہ وہ ایک ایسی آزاد ریاست کے لیے جدو جہد کررہے ہیں جس میں بیت المقدس کو اس کے دارالحکومت کا درجہ حاصل ہو۔
پرامن حل میں ناکامی
اسرائیل میں اس وقت وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی قیادت میں دائیں بازو کے شدت پسند یہودیوں کی حکومت ہے۔ اسرائیل کی داخلہ پالیسیاں عموما خارجہ پالیسی پر فوقیت کی حامل رہی ہیں۔ اس لیے موجودہ اسرائیلی حکومت سے مسئلے کے کسی بھی پرامن حل اور دونوں قوموں کے لیے قابل قبول آپشن پر عمل درآمد کی توقع نہیں۔
اگرچہ اسرائیلی وزیراعظم اپنی تقاریر میں ایک ریاستی حل کی بات ضرور کرتے ہیں مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے وہ ایک ریاست کا حل کہاں پیش کریں گے۔ ایک ریاست کے حل کی صورت میں فلسطینیوں کو بھی فایدہ پہنچ سکتا ہے بہ شرطیکہ ریاست جمہوری ہو۔
اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمان )کے عرب رکن احمد الطیبی نے عرب صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلے کا حل ایک ریاستی ہے تو میں ریاست کا وزیراعظم بن سکتا ہوں کیونکہ فلسطینی تعداد میں اکثریت میں ہیں اور یہودی اقلیت ہوں گے۔
اسرائیل کو سب سے زیادہ تشویش فلسطینیوں کے آبادیاتی غلبے سے ہے۔ کیوںکہ تاریخی فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کی تعداد اب بھی زیادہ ہے۔
الطیبی کاکہنا تھا کہ میں تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہوں، اس کے باوجود اگر دو ریاستی حل کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کے مطابق فلسطین میں ایک ہی ریاست قائم ہوتی ہے تو اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ یا وہ نسل پرستانہ اور نوآبادیاتی طرز کی ریاست ہوگی جسے فلسطینی قوم اور عالمی برادری مسترد کردے گی۔ یا وہ جمہوری ریاست ہوگی جس میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی فلسطینی خود وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرسکتا ہے، اس طرح ہم نیتن یاھو کو شکست دے سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر