وجود

... loading ...

وجود

دہشت گردوں کی سرپرستی،افغان سفارتکار جی ایچ کیو طلب

هفته 18 فروری 2017 دہشت گردوں کی سرپرستی،افغان سفارتکار جی ایچ کیو طلب

پاکستان میں خودکش حملوں کا تازہ سلسلہ7 فروری کو بنوں سے شروع ہواتھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار کی دہشت گردی کی کارروائیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کے خلاف پاکستان نے افغانستان سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ 15 روز پاکستان پر بہت گراں گزرے ہیں، اس دوران ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک متعدد شہروں میں تواتر کے ساتھ کئی دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں کافی جانی نقصان ہو چکا ہے، جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بیشتر کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ لاہور میں ہونے والے خودکش دھماکے کی وجہ سے ابھی فضا سوگوار تھی کہ 16 فروری کو دہشت گردوں نے سہون شریف میں قلندر شہبار کے مزار کو نشانہ بنایا، جس میں 80 سے زائد زائرین جاں بحق ہوئے، جب کہ مزید 200 زخمی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔صوفی درگاہوں پر حملہ اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال نومبر کی 12 تاریخ کو بلوچستان کے شہر لسبیلہ میں معروف صوفی درگاہ شاہ نورانی پر خودکش حملہ ہوا تھا، جس میں 52 زائرین جاں بحق جب کہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔پاکستانی حکام کے مطابق قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے ذریعے عسکریت پسندوں کا نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے، جس سے اْن علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار کی دہشت گرد کارروائیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ جب کہ بتایا جاتا ہے صوبہ خراسان کی داعش بھی سر اٹھا رہی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ 2ہفتے کے دوران ہونے والے تمام دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کے ڈانڈے کسی نہ کسی حوالے سے افغانستان سے ملتے ہیں اور یہ ثابت ہوتاہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے گروہ پاکستان میں داخل ہوکر اس طرح کی کارروائیاں کررہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ جمعرات کو لعل شہبازقلندر کے مزار پر ہونے والا خود کش دھماکا جس میں کم وبیش 100 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھوچکے ہیں،اس کے بعد پاکستان کی فوج نے افغان سفارت خانے کے عہدیداروں کو راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر(جی ایچ کیو) میں بلا کر اْن سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان سفارت خانے کے عہدیداروں کو اس طرح فوج کے صدر دفتر میں بلانا بظاہر ایک غیر معمولی اقدام ہے کیوں کہ عموماً احتجاج یا اس طرح کے پیغام کے لیے سفارت کاروں کو وزارت خارجہ بلایا جاتا ہے۔فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جمعہ کو ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ افغان عہدیداروں کو 76 ایسے دہشت گردوں کی فہرست فراہم کی گئی جو افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔پیغام کے مطابق ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی اور اْنھیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔فوج کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن افغان عہدیداروں کو ’جی ایچ کیو‘ بلایا گیا۔تاحال افغانستان کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ خودکش حملوں کا یہ تازہ سلسلہ7 فروری کو بنوں سے شروع ہوا، جب ایک خودکش بمبار نے پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ضلع بنوں میں منڈان پولیس تھانے کی بیرونی دیوار سے بارود بھری گاڑی ٹکرا دی گئی۔ بنوں میں ہونے والے حملے میں تھانے کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ واقعے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ صوبہ خیبر پختون خواکی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا جو ابھی جاری ہے۔13فروری کو لاہور کے دھماکے میں دو پولیس اہل کار سمیت 13 افرادجاں بحق ہوئے۔ پنجاب اسمبلی کے قریب ہونے والے اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں لاہور ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی کیپٹن (ریٹائرڈ) احمد مبین اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس زاہد گوندل شامل تھے۔15 فروری کو پشاور میں موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے ایک سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا۔ واقعے کا ہدف سول جج تھے، جس میں ایک فرد ہلاک اور تین خواتین زخمی ہوئیں۔اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تحریک جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔اْسی روز قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں لیویز فورس کے تین اہل کار سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ قبائلی انتظامیہ کے مطابق دو خودکش حملہ آوروں نے مرکزی قصبے غلنئی میں پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر حملے کی کوشش کی تھی۔ ادھر پاکستانی فوج کے ایک بیان کے مطابق بروقت کارروائی کرکے مہمند ایجنسی میں بدھ کو دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنایا گیا۔ادھر15 فروری کو مظفرآباد میں مبینہ طور پر موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے شیعہ تنظیم وحدت المسلمین کے آزاد کشمیر کے سکریٹری جنرل علامہ تصور الجوادی اور اْن کی اہلیہ پر گولی چلائی ، واقعے میں دونوں زخمی ہوئے۔16 فروری کو قلندر شہباز کے مزار پر حملے کے علاوہ پاکستان کے مزید دو شہروں میں خودکش حملے ہوئے، جن میں بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل جھائومیں بم دھماکا شامل ہے، جس میں تین فوجی جاں بحق ہوئے۔ جمعرات ہی کے روزڈیرہ غازی خان میں دھماکا ہوا۔صوبہ پنجاب کے شہر خانیوال سے موصولہ خبر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چھ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ملک کی سیاسی و فوجی قیادت کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں ملک بھر میں ’’دہشت گردوں اور اْن کے معاونین کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرنے کے عزم کا اظہار‘‘ کیا گیا ہے، جب کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے یہ بیان آچکا ہے کہ ’’سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف حاصل کی جانے والی کامیابیوں کو ضائع نہیں ہونے دے گی‘‘۔وائس آف امریکا کو دیے گئے ایک انٹرویو میںخیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ’’پاک افغان سرحد پر بارڈر مینجمنٹ کا نظام نافذ کیا گیا ہے، جس سے آمد و رفت کی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے‘‘۔اطلاعات کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’افغانستان میں جماعت الاحرار کی پناہ گاہوں سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں‘‘۔ادھر پاکستان میں تعینات افغان سفیر حضرت عمر زخیل وال نے لاہور اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اْن کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان سرحد کے قریب اپنے قبائلی علاقوں میں جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تو اْس میں تمام عسکریت پسند نہیں مارے گئے بلکہ اْن میں سے کچھ افغانستان کے اْن علاقوں میں منتقل ہوگئے جو کابل حکومت کے زیر کنٹرول نہیں ہیں۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر