وجود

... loading ...

وجود

دہشت گردوں کی سرپرستی،افغان سفارتکار جی ایچ کیو طلب

هفته 18 فروری 2017 دہشت گردوں کی سرپرستی،افغان سفارتکار جی ایچ کیو طلب

پاکستان میں خودکش حملوں کا تازہ سلسلہ7 فروری کو بنوں سے شروع ہواتھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار کی دہشت گردی کی کارروائیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کے خلاف پاکستان نے افغانستان سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ 15 روز پاکستان پر بہت گراں گزرے ہیں، اس دوران ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک متعدد شہروں میں تواتر کے ساتھ کئی دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں کافی جانی نقصان ہو چکا ہے، جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بیشتر کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ لاہور میں ہونے والے خودکش دھماکے کی وجہ سے ابھی فضا سوگوار تھی کہ 16 فروری کو دہشت گردوں نے سہون شریف میں قلندر شہبار کے مزار کو نشانہ بنایا، جس میں 80 سے زائد زائرین جاں بحق ہوئے، جب کہ مزید 200 زخمی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔صوفی درگاہوں پر حملہ اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال نومبر کی 12 تاریخ کو بلوچستان کے شہر لسبیلہ میں معروف صوفی درگاہ شاہ نورانی پر خودکش حملہ ہوا تھا، جس میں 52 زائرین جاں بحق جب کہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔پاکستانی حکام کے مطابق قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے ذریعے عسکریت پسندوں کا نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا ہے، جس سے اْن علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار کی دہشت گرد کارروائیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ جب کہ بتایا جاتا ہے صوبہ خراسان کی داعش بھی سر اٹھا رہی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ 2ہفتے کے دوران ہونے والے تمام دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کے ڈانڈے کسی نہ کسی حوالے سے افغانستان سے ملتے ہیں اور یہ ثابت ہوتاہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے گروہ پاکستان میں داخل ہوکر اس طرح کی کارروائیاں کررہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ جمعرات کو لعل شہبازقلندر کے مزار پر ہونے والا خود کش دھماکا جس میں کم وبیش 100 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھوچکے ہیں،اس کے بعد پاکستان کی فوج نے افغان سفارت خانے کے عہدیداروں کو راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر(جی ایچ کیو) میں بلا کر اْن سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان سفارت خانے کے عہدیداروں کو اس طرح فوج کے صدر دفتر میں بلانا بظاہر ایک غیر معمولی اقدام ہے کیوں کہ عموماً احتجاج یا اس طرح کے پیغام کے لیے سفارت کاروں کو وزارت خارجہ بلایا جاتا ہے۔فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جمعہ کو ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ افغان عہدیداروں کو 76 ایسے دہشت گردوں کی فہرست فراہم کی گئی جو افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔پیغام کے مطابق ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی اور اْنھیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔فوج کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن افغان عہدیداروں کو ’جی ایچ کیو‘ بلایا گیا۔تاحال افغانستان کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ خودکش حملوں کا یہ تازہ سلسلہ7 فروری کو بنوں سے شروع ہوا، جب ایک خودکش بمبار نے پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ضلع بنوں میں منڈان پولیس تھانے کی بیرونی دیوار سے بارود بھری گاڑی ٹکرا دی گئی۔ بنوں میں ہونے والے حملے میں تھانے کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ واقعے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ صوبہ خیبر پختون خواکی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا جو ابھی جاری ہے۔13فروری کو لاہور کے دھماکے میں دو پولیس اہل کار سمیت 13 افرادجاں بحق ہوئے۔ پنجاب اسمبلی کے قریب ہونے والے اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں لاہور ٹریفک پولیس کے ڈی آئی جی کیپٹن (ریٹائرڈ) احمد مبین اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس زاہد گوندل شامل تھے۔15 فروری کو پشاور میں موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے ایک سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا۔ واقعے کا ہدف سول جج تھے، جس میں ایک فرد ہلاک اور تین خواتین زخمی ہوئیں۔اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تحریک جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔اْسی روز قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں لیویز فورس کے تین اہل کار سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ قبائلی انتظامیہ کے مطابق دو خودکش حملہ آوروں نے مرکزی قصبے غلنئی میں پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر حملے کی کوشش کی تھی۔ ادھر پاکستانی فوج کے ایک بیان کے مطابق بروقت کارروائی کرکے مہمند ایجنسی میں بدھ کو دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنایا گیا۔ادھر15 فروری کو مظفرآباد میں مبینہ طور پر موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے شیعہ تنظیم وحدت المسلمین کے آزاد کشمیر کے سکریٹری جنرل علامہ تصور الجوادی اور اْن کی اہلیہ پر گولی چلائی ، واقعے میں دونوں زخمی ہوئے۔16 فروری کو قلندر شہباز کے مزار پر حملے کے علاوہ پاکستان کے مزید دو شہروں میں خودکش حملے ہوئے، جن میں بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل جھائومیں بم دھماکا شامل ہے، جس میں تین فوجی جاں بحق ہوئے۔ جمعرات ہی کے روزڈیرہ غازی خان میں دھماکا ہوا۔صوبہ پنجاب کے شہر خانیوال سے موصولہ خبر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چھ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ملک کی سیاسی و فوجی قیادت کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں ملک بھر میں ’’دہشت گردوں اور اْن کے معاونین کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرنے کے عزم کا اظہار‘‘ کیا گیا ہے، جب کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے یہ بیان آچکا ہے کہ ’’سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف حاصل کی جانے والی کامیابیوں کو ضائع نہیں ہونے دے گی‘‘۔وائس آف امریکا کو دیے گئے ایک انٹرویو میںخیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ’’پاک افغان سرحد پر بارڈر مینجمنٹ کا نظام نافذ کیا گیا ہے، جس سے آمد و رفت کی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے‘‘۔اطلاعات کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’افغانستان میں جماعت الاحرار کی پناہ گاہوں سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں‘‘۔ادھر پاکستان میں تعینات افغان سفیر حضرت عمر زخیل وال نے لاہور اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اْن کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان سرحد کے قریب اپنے قبائلی علاقوں میں جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تو اْس میں تمام عسکریت پسند نہیں مارے گئے بلکہ اْن میں سے کچھ افغانستان کے اْن علاقوں میں منتقل ہوگئے جو کابل حکومت کے زیر کنٹرول نہیں ہیں۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر