وجود

... loading ...

وجود

افغان امن عمل کے لیے روس کی مزید پیش رفت

جمعه 17 فروری 2017 افغان امن عمل کے لیے روس کی مزید پیش رفت

افغانستان میں اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ 20 عسکری گروپ اور خطے کے بہت سے جنگجو سرگرم ہیں اور افغانستان بدستور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا علاقائی اور عالمی میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ا س صورت حال کو تبدیل کرنے اور افغانستان سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرکے وہاں موجود دہشت گردوں کی وجہ سے خود افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو دہشت گردی کے خطرات سے نجات دلانے کا طریقہ کار طے کرنے اور افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرکے افہام وتفہیم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے روس کے شہر ماسکو میں افغانستان سے متعلق چھ ملکی اجلاس ہوا جس میں ایران، چین، بھارت، پاکستان اور روس سمیت افغانستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
1979 میں افغانستان پر حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ماسکو کی طرف سے ایسی کوشش کی جا رہی ہے،تاہم اس کانفرنس میں امریکا، یورپی یونین اور نیٹو سمیت کوئی مغربی طاقت موجود نہیں ہے۔ اس لیے امریکی حلقے اس کانفرنس کو روس کی طرف سے افغانستان میں پھر سے فعال کردار ادا کرنے کی ایک کوشش قراردینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماسکو نے اس سے قبل افغانستان کے بارے میںایک کانفرنس دسمبر 2016 میںبھی منعقد کی تھی، اْس میں صرف چین اور پاکستان شامل تھے جس کی وجہ سے افغان حکومت اس بارے میں زیادہ خوش نہیں تھی،اس لیے اس مرتبہ اس کانفرنس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور ایران کو بھی شامل کیاگیاہے لیکن امریکا اور نیٹو اس میں شریک نہیں ہیں۔جس کی وجہ سے بعض حلقے اس صورت حال کو روس اور امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اب صورت حال پہلے جیسی نہیں رہی اور امریکا اور روس کے تعلقات کے حوالے سے برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی ایک حالیہ سماعت میں کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے اس کانفرنس کاحوالہ دیئے بغیر خیال ظاہرکیا کہ روس امریکا کو نقصان پہنچانے کے لیے طالبان کو تقویت دے رہا ہے لیکن سینیٹر جان مکین کے ان خیالات کے برعکس بعض تجزیہ کار اس کانفرنس کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی آمنہ خان کہتی ہیں کہ’’ اس کانفرنس میں خطے کے وہ تمام کلیدی ممالک شامل ہیں جن کے افغانستان میں بڑے مفادات ہیں۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن میرے خیال میں علاقائی ممالک کو مزید فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘روس مشرقی افغانستان میں عسکریت پسند گروپ داعش کی موجودگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، ماسکو نہیں چاہتا کہ اس کا اثر روس کی سرحد پر واقع کاکیشیائی علاقو ں پر مرتب ہو۔ اگرچہ بظاہر اس کانفرنس کے ذریعے کسی ٹھوس نتیجے کی توقعات کم ہی ہیں،لیکن اس کانفرنس کاایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پہلی مرتبہ روس نے براہ راست افغانستان کے مسئلے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے اور چونکہ افغانستان میں برسرپیکار جنگجوئوں کی بڑی تعداد کا تعلق ان ریاستوں سے ہے جو سوویت یونین میںشامل رہی ہیں اور ان میں سے بعض میں اب بھی روس کا اثر ورسوخ موجود ہے اس لیے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ روس افغانستان میں برسرپیکار گروپوں کو افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے دھارے میں شامل ہونے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوسکتاہے اور اگر حکومت مخالف جنگجو ایک مرتبہ افغان حکومت کے ساتھ تعاون اور معاونت پر تیار ہوجائیں تو افغان حکومت کو اپنے ملک کی بحالی اور تعمیر نو کا موقع مل جائے گا۔اس طرح افغان حکومت کو غیر ملکی تسلط اور ڈکٹیشن سے بھی نجات مل جائے گی اورپاکستان سمیت افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک بھی دہشت گردوں کی دست برد سے بڑی حد تک محفوظ ہوجائیں گے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان گزشتہ37سال سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کا بوجھ اٹھانے کے باوجود افغان حکومت کے پاکستان مخالف بلکہ پاکستان دشمن رویئے اور افغانستان میں ہونے والی طالبان کی تمام کارروائیوں کو پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش پر مبنی رویئے سے نالاں ہے اور اب افغان پناہ گزینوں کو ہر قیمت پر جلد از جلد ان کے وطن واپس بھیجنا چاہتاہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روزپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک سہہ ملکی کانفرنس بھی منعقد ہوئی تھی جس میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کامسئلہ سر فہرست تھا۔ پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندوں کے اس سہ فریقی اجلاس میں افغان پناہ گزینوں سے متعلق مسائل پر غور کرنے کے علاوہ اور اْن کی رضا کارانہ وطن واپسی کے عزم کو دہرایا گیا تھا۔ اسلام آباد میں ہونے والے اس سہ فریقی اجلاس میں افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کی مشکلات اور اْنکے حل کے علاوہ پاکستان میں غیر اندراج شدہ افغانوں سے متعلق اْمور پر بات چیت کی گئی۔ بعد ازاں ’یو این ایچ سی آر‘ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ افغانستان نے واپس آنے والے پناہ گزینوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحیٰ کمیٹی بنائی ہے، جس کا مقصد اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد اور دوسرے ممالک سے واپس آنے والے افغانوں کی معاونت کرنا ہے۔بیان کے مطابق ’یو این ایچ سی آر‘ اور دیگر فریقوں کی طرف سے افغانوں کی رضا کارانہ اور باعزت واپسی کے اصولوں کی پاسداری کے عزم کو دہرایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق کانفرنس میں شریک افغان وزیر برائے مہاجرین سید حسین علمی بلخی نے کہا کہ وطن واپس آنے والوں کی بحالی اور اْنھیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے افغان حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔سہ فریقی اجلاس میں افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین سید حسین علمی بلخی، افغانستان کے نائب وزیر خزانہ محمد مصطفیٰ مستور، اور پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال کے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی‘ کے پاکستان میں سربراہ اندریکا رتواتے اور ’یو این ایچ سی‘ آر کی افغانستان میں نمائندہ فتھیا عبداللہ اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سرحدی اْمور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ نے شرکت کی۔واضح رہے کہ یہ سہ فریقی کمیشن 2002 سے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں اور اْن کی واپسی سے متعلق معاملات کی نگرانی کرنے والا باضابطہ فورم ہے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی انسانی حقوق کے موقر غیر سرکاری ادارے ’ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین پر افغانوں کو زبردستی واپس بھیجنے کا الزام لگایا تھا۔تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ اور پاکستان نے اس الزام کو رد کیا تھا۔پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ہیومین رائٹس واچ‘ کی رپورٹ میں جو الزامات لگائے گئے وہ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان گزشتہ 37 سال سے لاکھوں افغانوں کی میزبانی کر رہا ہے اور رپورٹ میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان افغانوں کی رضاکارانہ اور باعزت واپسی چاہتا ہے اور حکومت کی اس بارے میں کسی طرح کی زبردستی کی پالیسی نہیں ہے۔پاکستان کی طرف سے اس توقع کا اظہار بھی کیا گیا کہ افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی میں بین الاقوامی برداری بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔
کینیڈا اور فرانس کے لیے افغانستان کے سابق سفیر عمر صمد نے اسکائپ کے ذریعے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ اس وقت 3 مزید ملکوں کو اس کانفرنس میں شامل کیا گیا ہے، یہ اس بات کی غماز ہے کہ صورت حال ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جہاں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کے بیانیے پر غور کیا جاتا ہے اور پھر اس سے موثر نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس کانفرنس سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور اعتماد کے فقدان کی وجہ سے متعدد کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ عمل کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار روس اور چین کی صلاحیت پر ہے کہ وہ دونوں ملکوں کو اپنے اختلافات دور کرنے کے لیے کس حد تک قائل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
کانفرنس میں شریک افغانستان کی وزارت خارجہ پالیسی اورا سٹریٹجی کے ڈائریکٹر جنرل اشرف حیدری نے اپنی تقریر میں افغانستان کو درپیش مسائل اور ترجیحات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی قومی حکومت، اس ملک کی قانونی اور منتخب حکومت ہے جو تمام افغانوں کی آئین کے تحت مساوی حقوق کی نمائندگی کرتی ہے۔ہماری حکومت کو افغان عوام کی حمایت حاصل ہے جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں بدستور ہمارا اثاثہ ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ طالبان افغان عوام کی قومی اور قانونی نمائندگی سے محروم ہیں کیونکہ وہ اسلام کے نام پر طالبان اور ان کے غیر ملکی دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کی لائی گئی دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت امن پر پختہ یقین رکھتی ہے اور اس سے ان مسلح گروپس کے ساتھ کسی مفاہمت پر پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جنہوں نے تشدد کی مذمت میں اپنی حقیقی رضامندی کا اظہار کیا، دہشت گرد نیٹ ورکس سے اپنے رابطے توڑ اور مذاکرات کے ذریعے امن کے حصول کا راستہ اختیار کیا۔ اس سلسلے میں حالیہ عرصے میں ہم کابل میں ہونے والے ایک مذاکراتی عمل میں حزب اسلامی کے ساتھ ایک کامیاب سیاسی معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔افغان نمائندے کا کہنا تھا کہ امن کے لیے ہماری حکومت کی کوششوں اور اس سلسلے میں ہونے والی کامیابیوں کے نتیجے میں پچھلے ایک سال کے دوران پاکستان سے ساڑھے چھ لاکھ افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس آئے۔بلاشبہ یہ افغان قیادت کے تحت افغان کا اپنے عمل کی جانب پیش رفت ہے۔ ہم گلبدین حکمت یار کا نام پابندیوں کی فہرست سے نکالنے اور اس سلسلے میں روسی فیڈریشن کی حمایت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان اور پابندیوں سے متعلق کمیٹی کے انتہائی شکرگزار ہیں۔ افغانستان کی اندرونی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جاری لڑائیاں خانہ جنگی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ 20 دہشت گرد گروپ، اور ہمارے خطے کے بہت سے ملکوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہمارے ملک میں سرگرم ہیں۔ بدقسمتی سے ہم بدستور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا علاقائی اور عالمی میدان جنگ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ دہشت گرد گروپ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یا الگ الگ کارروائیاں کرتے ہیں اور وہ افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں سے وہ خطے میں یا دنیا میں دہشت گرد حملے کر سکیں۔ہم اس توقع کے ساتھ چار فریقی تعاون کے گروپ کے اجلاسوں میں فعال حصہ لے رہے ہیں کہ اس سے مختلف ملکوں کی جانب سے کئے گئے وعدے پورے ہوں گے۔ لیکن اس سلسلے میں طے شدہ اہم امور پر عمل نہیں کیا گیا۔ اچھے طالبان اور برے طالبان میں تفریق کی پالیسی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس سے وہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے جس کی ہم سب کو ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ جب تک ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے ایشیا کو درپیش خطرے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔


متعلقہ خبریں


آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

مضامین
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر