... loading ...
افغانستان میں اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ 20 عسکری گروپ اور خطے کے بہت سے جنگجو سرگرم ہیں اور افغانستان بدستور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا علاقائی اور عالمی میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ا س صورت حال کو تبدیل کرنے اور افغانستان سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرکے وہاں موجود دہشت گردوں کی وجہ سے خود افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو دہشت گردی کے خطرات سے نجات دلانے کا طریقہ کار طے کرنے اور افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرکے افہام وتفہیم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے روس کے شہر ماسکو میں افغانستان سے متعلق چھ ملکی اجلاس ہوا جس میں ایران، چین، بھارت، پاکستان اور روس سمیت افغانستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
1979 میں افغانستان پر حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ماسکو کی طرف سے ایسی کوشش کی جا رہی ہے،تاہم اس کانفرنس میں امریکا، یورپی یونین اور نیٹو سمیت کوئی مغربی طاقت موجود نہیں ہے۔ اس لیے امریکی حلقے اس کانفرنس کو روس کی طرف سے افغانستان میں پھر سے فعال کردار ادا کرنے کی ایک کوشش قراردینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماسکو نے اس سے قبل افغانستان کے بارے میںایک کانفرنس دسمبر 2016 میںبھی منعقد کی تھی، اْس میں صرف چین اور پاکستان شامل تھے جس کی وجہ سے افغان حکومت اس بارے میں زیادہ خوش نہیں تھی،اس لیے اس مرتبہ اس کانفرنس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور ایران کو بھی شامل کیاگیاہے لیکن امریکا اور نیٹو اس میں شریک نہیں ہیں۔جس کی وجہ سے بعض حلقے اس صورت حال کو روس اور امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اب صورت حال پہلے جیسی نہیں رہی اور امریکا اور روس کے تعلقات کے حوالے سے برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی ایک حالیہ سماعت میں کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے اس کانفرنس کاحوالہ دیئے بغیر خیال ظاہرکیا کہ روس امریکا کو نقصان پہنچانے کے لیے طالبان کو تقویت دے رہا ہے لیکن سینیٹر جان مکین کے ان خیالات کے برعکس بعض تجزیہ کار اس کانفرنس کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی آمنہ خان کہتی ہیں کہ’’ اس کانفرنس میں خطے کے وہ تمام کلیدی ممالک شامل ہیں جن کے افغانستان میں بڑے مفادات ہیں۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن میرے خیال میں علاقائی ممالک کو مزید فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘روس مشرقی افغانستان میں عسکریت پسند گروپ داعش کی موجودگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، ماسکو نہیں چاہتا کہ اس کا اثر روس کی سرحد پر واقع کاکیشیائی علاقو ں پر مرتب ہو۔ اگرچہ بظاہر اس کانفرنس کے ذریعے کسی ٹھوس نتیجے کی توقعات کم ہی ہیں،لیکن اس کانفرنس کاایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پہلی مرتبہ روس نے براہ راست افغانستان کے مسئلے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے اور چونکہ افغانستان میں برسرپیکار جنگجوئوں کی بڑی تعداد کا تعلق ان ریاستوں سے ہے جو سوویت یونین میںشامل رہی ہیں اور ان میں سے بعض میں اب بھی روس کا اثر ورسوخ موجود ہے اس لیے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ روس افغانستان میں برسرپیکار گروپوں کو افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے دھارے میں شامل ہونے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوسکتاہے اور اگر حکومت مخالف جنگجو ایک مرتبہ افغان حکومت کے ساتھ تعاون اور معاونت پر تیار ہوجائیں تو افغان حکومت کو اپنے ملک کی بحالی اور تعمیر نو کا موقع مل جائے گا۔اس طرح افغان حکومت کو غیر ملکی تسلط اور ڈکٹیشن سے بھی نجات مل جائے گی اورپاکستان سمیت افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک بھی دہشت گردوں کی دست برد سے بڑی حد تک محفوظ ہوجائیں گے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان گزشتہ37سال سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کا بوجھ اٹھانے کے باوجود افغان حکومت کے پاکستان مخالف بلکہ پاکستان دشمن رویئے اور افغانستان میں ہونے والی طالبان کی تمام کارروائیوں کو پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش پر مبنی رویئے سے نالاں ہے اور اب افغان پناہ گزینوں کو ہر قیمت پر جلد از جلد ان کے وطن واپس بھیجنا چاہتاہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روزپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک سہہ ملکی کانفرنس بھی منعقد ہوئی تھی جس میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کامسئلہ سر فہرست تھا۔ پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندوں کے اس سہ فریقی اجلاس میں افغان پناہ گزینوں سے متعلق مسائل پر غور کرنے کے علاوہ اور اْن کی رضا کارانہ وطن واپسی کے عزم کو دہرایا گیا تھا۔ اسلام آباد میں ہونے والے اس سہ فریقی اجلاس میں افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کی مشکلات اور اْنکے حل کے علاوہ پاکستان میں غیر اندراج شدہ افغانوں سے متعلق اْمور پر بات چیت کی گئی۔ بعد ازاں ’یو این ایچ سی آر‘ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ افغانستان نے واپس آنے والے پناہ گزینوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحیٰ کمیٹی بنائی ہے، جس کا مقصد اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد اور دوسرے ممالک سے واپس آنے والے افغانوں کی معاونت کرنا ہے۔بیان کے مطابق ’یو این ایچ سی آر‘ اور دیگر فریقوں کی طرف سے افغانوں کی رضا کارانہ اور باعزت واپسی کے اصولوں کی پاسداری کے عزم کو دہرایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق کانفرنس میں شریک افغان وزیر برائے مہاجرین سید حسین علمی بلخی نے کہا کہ وطن واپس آنے والوں کی بحالی اور اْنھیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے افغان حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔سہ فریقی اجلاس میں افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین سید حسین علمی بلخی، افغانستان کے نائب وزیر خزانہ محمد مصطفیٰ مستور، اور پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال کے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی‘ کے پاکستان میں سربراہ اندریکا رتواتے اور ’یو این ایچ سی‘ آر کی افغانستان میں نمائندہ فتھیا عبداللہ اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سرحدی اْمور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ نے شرکت کی۔واضح رہے کہ یہ سہ فریقی کمیشن 2002 سے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں اور اْن کی واپسی سے متعلق معاملات کی نگرانی کرنے والا باضابطہ فورم ہے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی انسانی حقوق کے موقر غیر سرکاری ادارے ’ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین پر افغانوں کو زبردستی واپس بھیجنے کا الزام لگایا تھا۔تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ اور پاکستان نے اس الزام کو رد کیا تھا۔پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ہیومین رائٹس واچ‘ کی رپورٹ میں جو الزامات لگائے گئے وہ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان گزشتہ 37 سال سے لاکھوں افغانوں کی میزبانی کر رہا ہے اور رپورٹ میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان افغانوں کی رضاکارانہ اور باعزت واپسی چاہتا ہے اور حکومت کی اس بارے میں کسی طرح کی زبردستی کی پالیسی نہیں ہے۔پاکستان کی طرف سے اس توقع کا اظہار بھی کیا گیا کہ افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی میں بین الاقوامی برداری بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔
کینیڈا اور فرانس کے لیے افغانستان کے سابق سفیر عمر صمد نے اسکائپ کے ذریعے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ اس وقت 3 مزید ملکوں کو اس کانفرنس میں شامل کیا گیا ہے، یہ اس بات کی غماز ہے کہ صورت حال ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جہاں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کے بیانیے پر غور کیا جاتا ہے اور پھر اس سے موثر نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس کانفرنس سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور اعتماد کے فقدان کی وجہ سے متعدد کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ عمل کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار روس اور چین کی صلاحیت پر ہے کہ وہ دونوں ملکوں کو اپنے اختلافات دور کرنے کے لیے کس حد تک قائل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
کانفرنس میں شریک افغانستان کی وزارت خارجہ پالیسی اورا سٹریٹجی کے ڈائریکٹر جنرل اشرف حیدری نے اپنی تقریر میں افغانستان کو درپیش مسائل اور ترجیحات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی قومی حکومت، اس ملک کی قانونی اور منتخب حکومت ہے جو تمام افغانوں کی آئین کے تحت مساوی حقوق کی نمائندگی کرتی ہے۔ہماری حکومت کو افغان عوام کی حمایت حاصل ہے جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں بدستور ہمارا اثاثہ ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ طالبان افغان عوام کی قومی اور قانونی نمائندگی سے محروم ہیں کیونکہ وہ اسلام کے نام پر طالبان اور ان کے غیر ملکی دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کی لائی گئی دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت امن پر پختہ یقین رکھتی ہے اور اس سے ان مسلح گروپس کے ساتھ کسی مفاہمت پر پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جنہوں نے تشدد کی مذمت میں اپنی حقیقی رضامندی کا اظہار کیا، دہشت گرد نیٹ ورکس سے اپنے رابطے توڑ اور مذاکرات کے ذریعے امن کے حصول کا راستہ اختیار کیا۔ اس سلسلے میں حالیہ عرصے میں ہم کابل میں ہونے والے ایک مذاکراتی عمل میں حزب اسلامی کے ساتھ ایک کامیاب سیاسی معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔افغان نمائندے کا کہنا تھا کہ امن کے لیے ہماری حکومت کی کوششوں اور اس سلسلے میں ہونے والی کامیابیوں کے نتیجے میں پچھلے ایک سال کے دوران پاکستان سے ساڑھے چھ لاکھ افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس آئے۔بلاشبہ یہ افغان قیادت کے تحت افغان کا اپنے عمل کی جانب پیش رفت ہے۔ ہم گلبدین حکمت یار کا نام پابندیوں کی فہرست سے نکالنے اور اس سلسلے میں روسی فیڈریشن کی حمایت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان اور پابندیوں سے متعلق کمیٹی کے انتہائی شکرگزار ہیں۔ افغانستان کی اندرونی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جاری لڑائیاں خانہ جنگی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ 20 دہشت گرد گروپ، اور ہمارے خطے کے بہت سے ملکوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہمارے ملک میں سرگرم ہیں۔ بدقسمتی سے ہم بدستور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا علاقائی اور عالمی میدان جنگ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ دہشت گرد گروپ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یا الگ الگ کارروائیاں کرتے ہیں اور وہ افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں سے وہ خطے میں یا دنیا میں دہشت گرد حملے کر سکیں۔ہم اس توقع کے ساتھ چار فریقی تعاون کے گروپ کے اجلاسوں میں فعال حصہ لے رہے ہیں کہ اس سے مختلف ملکوں کی جانب سے کئے گئے وعدے پورے ہوں گے۔ لیکن اس سلسلے میں طے شدہ اہم امور پر عمل نہیں کیا گیا۔ اچھے طالبان اور برے طالبان میں تفریق کی پالیسی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس سے وہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے جس کی ہم سب کو ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ جب تک ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے ایشیا کو درپیش خطرے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...
شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...
حکومت مذاکرات کیلئے تیار ،جماعت اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی منعم ظفر کون ہوتے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کریں، سینئر صوبائی وزیرکی گفتگو سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،حکومت مذاکر...
رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتا ہیں پرامن رہ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے دستبردار نہیں ہوں گے،امیر جماعت اسلامی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم...
سندھ نے پاکستان بنایا، ورغلانے والے سن لیں، صوبے کے باسی کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے سندھ متحد رہے گا، کل بھی کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ ...
پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...
میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...
دو ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل پینل تشکیل،ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں میڈیکل پینل کے معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ ہوگا وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک بیان میں رہنما مسلم لیگ (ن) ط...
میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی، ایران کی فوج ہائی الرٹ ہے کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن ،مناسب جواب دیا جائیگا، علی شمخانی کا انٹرویو ایران نے ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کے مذاکرات کو ناقابل قبول قرار دیدیا۔...
ٹی 20 ورلڈ کپ ، کولمبو میں متوقع بارش نے ممکنہ طور پر میچ پر سوالیہ نشان لگا دیا پاک بھارت میچ بارش کی نذر ہوگیا تو دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ ملے گا آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج ٹاکر آج ہوگا ۔ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھا...
اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...
عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...