وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

افغان امن عمل کے لیے روس کی مزید پیش رفت

جمعه 17 فروری 2017 افغان امن عمل کے لیے روس کی مزید پیش رفت

افغانستان میں اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ 20 عسکری گروپ اور خطے کے بہت سے جنگجو سرگرم ہیں اور افغانستان بدستور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا علاقائی اور عالمی میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ا س صورت حال کو تبدیل کرنے اور افغانستان سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرکے وہاں موجود دہشت گردوں کی وجہ سے خود افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو دہشت گردی کے خطرات سے نجات دلانے کا طریقہ کار طے کرنے اور افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرکے افہام وتفہیم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے روس کے شہر ماسکو میں افغانستان سے متعلق چھ ملکی اجلاس ہوا جس میں ایران، چین، بھارت، پاکستان اور روس سمیت افغانستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
1979 میں افغانستان پر حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ماسکو کی طرف سے ایسی کوشش کی جا رہی ہے،تاہم اس کانفرنس میں امریکا، یورپی یونین اور نیٹو سمیت کوئی مغربی طاقت موجود نہیں ہے۔ اس لیے امریکی حلقے اس کانفرنس کو روس کی طرف سے افغانستان میں پھر سے فعال کردار ادا کرنے کی ایک کوشش قراردینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماسکو نے اس سے قبل افغانستان کے بارے میںایک کانفرنس دسمبر 2016 میںبھی منعقد کی تھی، اْس میں صرف چین اور پاکستان شامل تھے جس کی وجہ سے افغان حکومت اس بارے میں زیادہ خوش نہیں تھی،اس لیے اس مرتبہ اس کانفرنس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور ایران کو بھی شامل کیاگیاہے لیکن امریکا اور نیٹو اس میں شریک نہیں ہیں۔جس کی وجہ سے بعض حلقے اس صورت حال کو روس اور امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اب صورت حال پہلے جیسی نہیں رہی اور امریکا اور روس کے تعلقات کے حوالے سے برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی ایک حالیہ سماعت میں کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے اس کانفرنس کاحوالہ دیئے بغیر خیال ظاہرکیا کہ روس امریکا کو نقصان پہنچانے کے لیے طالبان کو تقویت دے رہا ہے لیکن سینیٹر جان مکین کے ان خیالات کے برعکس بعض تجزیہ کار اس کانفرنس کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی آمنہ خان کہتی ہیں کہ’’ اس کانفرنس میں خطے کے وہ تمام کلیدی ممالک شامل ہیں جن کے افغانستان میں بڑے مفادات ہیں۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن میرے خیال میں علاقائی ممالک کو مزید فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘روس مشرقی افغانستان میں عسکریت پسند گروپ داعش کی موجودگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، ماسکو نہیں چاہتا کہ اس کا اثر روس کی سرحد پر واقع کاکیشیائی علاقو ں پر مرتب ہو۔ اگرچہ بظاہر اس کانفرنس کے ذریعے کسی ٹھوس نتیجے کی توقعات کم ہی ہیں،لیکن اس کانفرنس کاایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پہلی مرتبہ روس نے براہ راست افغانستان کے مسئلے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے اور چونکہ افغانستان میں برسرپیکار جنگجوئوں کی بڑی تعداد کا تعلق ان ریاستوں سے ہے جو سوویت یونین میںشامل رہی ہیں اور ان میں سے بعض میں اب بھی روس کا اثر ورسوخ موجود ہے اس لیے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ روس افغانستان میں برسرپیکار گروپوں کو افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے دھارے میں شامل ہونے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوسکتاہے اور اگر حکومت مخالف جنگجو ایک مرتبہ افغان حکومت کے ساتھ تعاون اور معاونت پر تیار ہوجائیں تو افغان حکومت کو اپنے ملک کی بحالی اور تعمیر نو کا موقع مل جائے گا۔اس طرح افغان حکومت کو غیر ملکی تسلط اور ڈکٹیشن سے بھی نجات مل جائے گی اورپاکستان سمیت افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک بھی دہشت گردوں کی دست برد سے بڑی حد تک محفوظ ہوجائیں گے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان گزشتہ37سال سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کا بوجھ اٹھانے کے باوجود افغان حکومت کے پاکستان مخالف بلکہ پاکستان دشمن رویئے اور افغانستان میں ہونے والی طالبان کی تمام کارروائیوں کو پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش پر مبنی رویئے سے نالاں ہے اور اب افغان پناہ گزینوں کو ہر قیمت پر جلد از جلد ان کے وطن واپس بھیجنا چاہتاہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روزپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک سہہ ملکی کانفرنس بھی منعقد ہوئی تھی جس میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کامسئلہ سر فہرست تھا۔ پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندوں کے اس سہ فریقی اجلاس میں افغان پناہ گزینوں سے متعلق مسائل پر غور کرنے کے علاوہ اور اْن کی رضا کارانہ وطن واپسی کے عزم کو دہرایا گیا تھا۔ اسلام آباد میں ہونے والے اس سہ فریقی اجلاس میں افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کی مشکلات اور اْنکے حل کے علاوہ پاکستان میں غیر اندراج شدہ افغانوں سے متعلق اْمور پر بات چیت کی گئی۔ بعد ازاں ’یو این ایچ سی آر‘ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ افغانستان نے واپس آنے والے پناہ گزینوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحیٰ کمیٹی بنائی ہے، جس کا مقصد اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد اور دوسرے ممالک سے واپس آنے والے افغانوں کی معاونت کرنا ہے۔بیان کے مطابق ’یو این ایچ سی آر‘ اور دیگر فریقوں کی طرف سے افغانوں کی رضا کارانہ اور باعزت واپسی کے اصولوں کی پاسداری کے عزم کو دہرایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق کانفرنس میں شریک افغان وزیر برائے مہاجرین سید حسین علمی بلخی نے کہا کہ وطن واپس آنے والوں کی بحالی اور اْنھیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے افغان حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔سہ فریقی اجلاس میں افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین سید حسین علمی بلخی، افغانستان کے نائب وزیر خزانہ محمد مصطفیٰ مستور، اور پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال کے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی‘ کے پاکستان میں سربراہ اندریکا رتواتے اور ’یو این ایچ سی‘ آر کی افغانستان میں نمائندہ فتھیا عبداللہ اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سرحدی اْمور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ نے شرکت کی۔واضح رہے کہ یہ سہ فریقی کمیشن 2002 سے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں اور اْن کی واپسی سے متعلق معاملات کی نگرانی کرنے والا باضابطہ فورم ہے۔
یہاں یہ واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی انسانی حقوق کے موقر غیر سرکاری ادارے ’ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین پر افغانوں کو زبردستی واپس بھیجنے کا الزام لگایا تھا۔تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ اور پاکستان نے اس الزام کو رد کیا تھا۔پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ہیومین رائٹس واچ‘ کی رپورٹ میں جو الزامات لگائے گئے وہ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان گزشتہ 37 سال سے لاکھوں افغانوں کی میزبانی کر رہا ہے اور رپورٹ میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان افغانوں کی رضاکارانہ اور باعزت واپسی چاہتا ہے اور حکومت کی اس بارے میں کسی طرح کی زبردستی کی پالیسی نہیں ہے۔پاکستان کی طرف سے اس توقع کا اظہار بھی کیا گیا کہ افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی میں بین الاقوامی برداری بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔
کینیڈا اور فرانس کے لیے افغانستان کے سابق سفیر عمر صمد نے اسکائپ کے ذریعے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ اس وقت 3 مزید ملکوں کو اس کانفرنس میں شامل کیا گیا ہے، یہ اس بات کی غماز ہے کہ صورت حال ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جہاں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کے بیانیے پر غور کیا جاتا ہے اور پھر اس سے موثر نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس کانفرنس سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور اعتماد کے فقدان کی وجہ سے متعدد کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ عمل کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار روس اور چین کی صلاحیت پر ہے کہ وہ دونوں ملکوں کو اپنے اختلافات دور کرنے کے لیے کس حد تک قائل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
کانفرنس میں شریک افغانستان کی وزارت خارجہ پالیسی اورا سٹریٹجی کے ڈائریکٹر جنرل اشرف حیدری نے اپنی تقریر میں افغانستان کو درپیش مسائل اور ترجیحات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی قومی حکومت، اس ملک کی قانونی اور منتخب حکومت ہے جو تمام افغانوں کی آئین کے تحت مساوی حقوق کی نمائندگی کرتی ہے۔ہماری حکومت کو افغان عوام کی حمایت حاصل ہے جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں بدستور ہمارا اثاثہ ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ طالبان افغان عوام کی قومی اور قانونی نمائندگی سے محروم ہیں کیونکہ وہ اسلام کے نام پر طالبان اور ان کے غیر ملکی دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کی لائی گئی دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت امن پر پختہ یقین رکھتی ہے اور اس سے ان مسلح گروپس کے ساتھ کسی مفاہمت پر پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جنہوں نے تشدد کی مذمت میں اپنی حقیقی رضامندی کا اظہار کیا، دہشت گرد نیٹ ورکس سے اپنے رابطے توڑ اور مذاکرات کے ذریعے امن کے حصول کا راستہ اختیار کیا۔ اس سلسلے میں حالیہ عرصے میں ہم کابل میں ہونے والے ایک مذاکراتی عمل میں حزب اسلامی کے ساتھ ایک کامیاب سیاسی معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔افغان نمائندے کا کہنا تھا کہ امن کے لیے ہماری حکومت کی کوششوں اور اس سلسلے میں ہونے والی کامیابیوں کے نتیجے میں پچھلے ایک سال کے دوران پاکستان سے ساڑھے چھ لاکھ افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس آئے۔بلاشبہ یہ افغان قیادت کے تحت افغان کا اپنے عمل کی جانب پیش رفت ہے۔ ہم گلبدین حکمت یار کا نام پابندیوں کی فہرست سے نکالنے اور اس سلسلے میں روسی فیڈریشن کی حمایت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان اور پابندیوں سے متعلق کمیٹی کے انتہائی شکرگزار ہیں۔ افغانستان کی اندرونی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جاری لڑائیاں خانہ جنگی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ 20 دہشت گرد گروپ، اور ہمارے خطے کے بہت سے ملکوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہمارے ملک میں سرگرم ہیں۔ بدقسمتی سے ہم بدستور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا علاقائی اور عالمی میدان جنگ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ دہشت گرد گروپ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یا الگ الگ کارروائیاں کرتے ہیں اور وہ افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں سے وہ خطے میں یا دنیا میں دہشت گرد حملے کر سکیں۔ہم اس توقع کے ساتھ چار فریقی تعاون کے گروپ کے اجلاسوں میں فعال حصہ لے رہے ہیں کہ اس سے مختلف ملکوں کی جانب سے کئے گئے وعدے پورے ہوں گے۔ لیکن اس سلسلے میں طے شدہ اہم امور پر عمل نہیں کیا گیا۔ اچھے طالبان اور برے طالبان میں تفریق کی پالیسی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس سے وہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے جس کی ہم سب کو ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ جب تک ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے ایشیا کو درپیش خطرے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں وجود - جمعرات 13 مئی 2021

پاکستان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اہل اسلام آج انتہائی عقیدت سے عید الفطر منارہے ہیں۔ قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین عبد الخبیر آزاد نے اعلان کیا ہے کہ یکم شوال کا چاند نظر آگیا ہاور عید الفطر جمعرات کو ہوگی ۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان میں اکیس سال کے بعد ایک ہی روز عید منانے کا موقع آیا ہے جب تمام صوبوں میں ایک ہی روز سب مل کر عید منارہے ہیں۔ بدھ کو عید الفطر کی رویت کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں چیئرمین مولاناعبدالخبیرآزاد ک...

پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش وجود - جمعرات 13 مئی 2021

وزیر اعظم عمران خان اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش کیا گیا ۔بدھ کو ہونے والے رابطے میں وزیر اعظم نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی بہیمانہ حملے کی مذمت کی ۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسرائیلی حملے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون سے انحراف ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کی خود مختاری سکیورٹی کیلئے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا بھی اظ...

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب وجود - جمعرات 13 مئی 2021

فلسطین کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس (آج) پھر طلب کرلیا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد بڑھنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔یورپی پارلیمنٹ نے بھی اسرائیل سے فلسطینیوں پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو بیدخل کرکے یہودی آباد کار بسانا چاہتی ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیل ہم منصب کوٹیلی فون کرکے کشیدگی ختم کرنیکا پیغام دیا ہے ۔عرب لیگ نے غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذم...

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق وجود - جمعرات 13 مئی 2021

ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت و بربریت پر گفتگو کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ترک صدررجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا جس میں اسرائیلی بربریت اور جارحیت پر دونوں رہنماں نے تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماوں نے اسرائیلی جارحیت و بربریت کی مذمت کی اور اتفاق کیا کہ مسلم ممالک کو مل کر اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔رہنماوں نے اس نکتے پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ فلس...

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج جمعرات کو منائی جائے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق قطر ، فلسطین ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی عید الفطر جمعرات کو ہو گی ۔اس کے علاوہ برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں بھی عیدالفطر 13مئی کو منائی جائے گی۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں بھی گزشتہ روز عید الفطر کا چاند نظر نہیں آیا تھا جس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ عید الفطر بروز جمعرات منائی جائے گی۔افغانستا ن میں بھی شوال کا چاند نظر آیاجس کے ...

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

بھارت اور بنگادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا جس کے بعدان ممالک میں عیدالفطر 14 مئی بروز جمعہ منائی جائے گی۔بھارت کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق بھارت میں عیدالفطرجمعہ 14مئی کو ہوگی۔ بھارت میں شاہی امام مسجد احمد بخاری نے اعلان کیا ہے کہ چاند نظر نہیں آیا ہے لہذا عیدالفطر جمعہ کے دن منائی جائے گی۔قواعد و ضوابط کے مطابق بھارت میں شاہی امام مسجد چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کرتے ہیں...

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین وجود - جمعرات 13 مئی 2021

چین نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے منظم اور ذمہ دار انداز میں انخلا پر زور دیا ہے تاکہ عجلت میں ایسی کوئی کارروائی نہ کی جائے جس سے امن اور سلامتی عمل متاثر اور اس میں مداخلت ہو۔وزارت خارجہ کی ترجمانHua Chunyingنے بیجنگ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں وسیع اور تمام فریقوں پر مشتمل سیاسی نظام کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ تمام نسلی گروپ اور دھڑے سیاسی نظام میں شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ چین افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ میں امداد دینے کیلئے تیار ہے ۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ وجود - جمعرات 13 مئی 2021

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن عمل کے نمانئدہ خصوصی ٹور وینیس لینڈ کا کہنا ہے کہ فلسطین میں لگی آگ کو فوری روکا جائے ، ہم جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کی قیمت تباہ کن ہوگی، غزہ میں کشیدگی کی قیمت عام لوگ چکا رہے ہیں، اقوام متحدہ صورتحال بہتر کرنے کے لیے تمام فریقین سے رابطے میں ہے ، تشدد کو اب روکا جائے ۔دوسری جانب اسرائیلی فوج...

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا وجود - جمعرات 13 مئی 2021

افغانستان کے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافات میں ایک ضلع پرقبضہ کرلیا۔افغان حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نرکھ ضلع کے پولیس ہیڈ کوارٹر سے پسپائی اختیار کی۔اْدھر طالبان ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان نے ضلع نرکھ پر گزشتہ روز قبضہ کیا۔ترجمان کے مطابق طالبان نے پولیس ہیڈکوارٹراور ایک فوجی بیس پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ دوسری جانب افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع پر قبضہ چھڑانے کیلئے آپریشن شروع کردیا گیا ۔

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ وجود - بدھ 12 مئی 2021

حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیاہے ۔ٹیلی فونک بات چیت میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ کے لیے مولانا فضل الرحمان عید کے بعد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کریں گے ۔گفتگو کے دوران حکومت کی جانب سے شہباز...

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر وجود - بدھ 12 مئی 2021

مسلم لیگ (ن )کے رہنما و سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق محمدزبیر نے کہا کہ سیزفائر یاصلح کے بارے میں نہیں پتہ لیکن ہمارے تعلقات اچھے ہیں ہم جب مطمئن ہوں گے تواس کاباقاعدہ بتائیں گے بھی۔محمدزبیر نے کہا کہ میری ملاقاتیں ہوتی تھیں توکبھی ڈیل یاکوئی ریلیف نہیں مانگا، کسی کوبھی حب الوطنی کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جذباتی شخص ہیں استعفے دینے پڑے تووہ اسمبلی توڑدیں گے ملک میں انارکی نہیں...

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت وجود - بدھ 12 مئی 2021

پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرائے ۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہاکہ اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد بے گناہ فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصی پر حملے قابل مذمت اقدام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینیوں پر طاقت کے استعمال سے کئی اموات اور افراد زخمی ہوئے ہیں ۔...

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت