وجود

... loading ...

وجود

بھارت کا خفیہ نیوکلیئر سٹی ۔۔جارحانہ عزائم کاخوف ناک کھیل بے نقاب

جمعه 10 فروری 2017 بھارت کا خفیہ نیوکلیئر سٹی ۔۔جارحانہ عزائم کاخوف ناک کھیل بے نقاب

 

ترجمان دفتر خارجہ نے دنیا کی توجہ پڑوسی ملک کی جوہری سرگرمیوں کی طرف دلاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے بھارت نے ایک ‘خفیہ نیوکلیئر سٹی تعمیر کر رکھا ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا، ‘بھارت بین البر اعظمی میزائل کے تجربات کر رہا ہے، جس سے خطے میں ہتھیاروں کا توازن متاثر ہو رہا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا، ‘بھارت کے پاس ایٹمی اسلحے کے ذخائر موجود ہیں اور اس نے ایک خفیہ نیوکلیئر سٹی بھی تعمیر کر رکھا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکریٹری برائے اقوام متحدہ و اکنامک کوآپریشن تسنیم اسلم نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اپنے ایٹمی ذخائر میں روز بروز اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ جوہری آبدوزوں کی تیاری میں بھی مصروف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لیے تیار رہنے کے علاوہ اور کوئی آپشن موجود نہیں‘۔تاہم تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان ضرورت سے زیادہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
بھارت کے خفیہ نیوکلیئر سٹی کاانکشاف اس کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم اور جنگجویانہ ذہنیت کا ایک اور ثبوت ہے اور عالمی برادری خاص طورپر ایٹمی اسلحہ کے پھیلائو کو روکنے کی کوششیں کرنے والی عالمی طاقتوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔انھیں اس انکشاف پر فوری توجہ دے کر بھارت کے بڑھتے ہوئے توسیع پسندانہ قدموں کوروکنے کیلئے موثر اقدام کرنے چاہئیں۔
وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکریٹری برائے (اقوام متحدہ و اکنامک کوآپریشن) تسنیم اسلم نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارت جوہری آبدوزوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایک سمینار سے خطاب کے دوران تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت اپنے ایٹمی ذخائر میں روز بروز اضافہ کررہا ہے۔ ’ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لیے تیار رہنے کے علاوہ اور کوئی آپشن موجود نہیں‘۔تاہم پاکستان ضرورت سے زیادہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہیاوربھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں‘۔ایڈیشنل سیکریٹری نے خبردار کیا کہ اگر بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دی گئی تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔تسنیم اسلم کا یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب گزشتہ روز بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر الزامات کی برسات کی تھی اور انھوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی ختم نہیں ہوتی تو جلد ہی پاکستان جلد 10 حصوں میں بٹ جائے گا‘۔
ایڈیشنل سیکریٹری تسنیم اسلم نے نشاندہی کی کہ بھارت پاکستان پر غیر ریاستی دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے لیکن پاکستان تو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے، جس کے پاکستان کے پاس ثبوت بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت ’را‘ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف ہے۔تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی حوصلہ شکنی اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت میں روڑے اٹکائے گئے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے باوجود پاکستان کی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں موجودگی سے افغانستان میں امن کے قیام کے عزم کی تجدید ہوئی جبکہ بھارت کی جانب سے ہارٹ آف ایشیا کو ہائی جیک کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔تسنیم اسلم نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور رابطے ہیں، جبکہ دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کرنے کو تیار ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر انھیں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔پاک بحریہ کا کہنا تھا کہ ‘پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس نے پاکستان کے سمندری علاقے کے جنوب میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا اور اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔مزید کہا گیا تھا کہ ‘پاکستان نیوی نے بھارتی آبدوز کی اپنی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا، نیوی فلیٹ یونٹس نے آبدوز کا مسلسل تعاقب کیا اور اْسے پاکستانی پانیوں سے دور دھکیل دیا۔پاکستان کی سمندری حدود میں بھارتی آبدوز پکڑے جانے کے بعد پاکستان نے اپنی سمندری حدود اور خاص طورپر گوادر کی بندرگاہ کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کئے تھے اور اس مقصد کیلئے پاک بحریہ کی جانب سے گوادر پورٹ اور اس ملحقہ سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے خصوصی دستہ ’ٹاسک فورس 88‘ تشکیل دے دیا گیا تھا۔یہ ٹاسک فورس قائم کرنے کافیصلہ گوادر میں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس کے دوران کیاگیاتھا اور اس فیصلے کے تحت خصوصی ٹاسک فورس کو باضابطہ طور پر حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی۔اس طرح پاک بحریہ نے گوادر پورٹ کی سمندری سیکورٹی اور اس سے منسلک سمندری راستوں کو لاحق روایتی اور غیر روایتی خطرات کا سامنا کرنے کے لیے ’ٹاسک فورس 88‘ (TF-88) بنانے کاجو منصوبہ بنایا تھا اسے اب عملی جامہ پہنا یا جا چکا ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق اس خصوصی میری ٹائم فورس کی تیاری پاک چین اقتصادی راہداری سے آپریشنز کے آغاز کے بعد ضروری تھی، جس سے گوادر میں سمندری سرگرمی اور بحری راستے مزید محفوظ ہونے کی توقع ہے اور میری ٹائم کی اثر پزیری میں اضافہ ہوگا۔اس حوالے سے پاک بحریہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس 88 بحری جہازوں، فاسٹ اٹیک کرافٹ، ایئرکرافٹ، ڈرونز اور نگرانی کے جدید آلات سے لیس ہوگی جبکہ میرینز کو سمندر اور گوادر کے اطراف میں سیکورٹی آپریشنز کے لیے تعینات کیا جائے گا۔یہ ’ٹاسک فورس منصوبے کی مجموعی سیکورٹی کے لیے انتہائی کارگر ہوگی، راہداری کے زمینی راستوں کو پہلے ہی خصوصی سیکورٹی ڈویڑن کے ذریعے محفوظ بنایا جاچکا ہے اور اب سی پیک میں مرکزی حیثیت رکھنے والے گوادر کو بھی محفوظ بنایا جاسکے گا‘۔
پاکستان کو بھارت کی جانب سے سمندری سیکورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم چین کے گوادر پورٹ سے وابستہ ہونے اور سی پیک کے آغاز نے سیکورٹی کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بھارت گوادر پورٹ کو چین کا بحیرہ عرب میں قدم جمانے کا ذریعہ سمجھتا ہے اور جوابی حکمت عملی کے طور پر مختلف دھمکیاں دے رہا ہے۔اسی وجہ سے عام طورپر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے پروجیکٹ کو نقصان پہنچانے کیلئے گوادر کے اطراف کے بڑے حصے میں اپنی سرگرمیاں بڑھادی ہیں۔اسی طرح اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ سی پیک کی میری ٹائم ٹریفک کو غیر روایتی خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں سمندری دہشت گردی، منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور بحری لوٹ مار شامل ہیں، جبکہ اس خطے کو پہلے ہی ان میں سے کئی مسائل کا سامنا ہے۔سیکورٹی کی پیچیدہ صورتحال کے باعث سمندری ٹریفک کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے کارگو کی انشورنس لاگت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جبکہ چینی حکام کی جانب سے بھی پاکستان پر سی پیک کی سیکورٹی بڑھانے کے لیے زور دیا جارہا تھا۔ پاک بحریہ نے گوادر کے ساحلی علاقے کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے’کوسٹل سیکورٹی‘ اور ’ہاربر ڈیفنس فورس‘ بھی تشکیل دی ہے جبکہ گوادر میں چینی ورکرز کی سیکورٹی کے لیے ’فورس پروٹیکشن بٹالین‘ بھی تعینات کی گئی ہے۔تاہم بھارتی حکومت کے جنگی عزائم کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ حکومت پاک فوج کو بھارت کے جارحانہ عزائم کامقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار اور چوکس رہنے اور پوری دنیاسے بھارت کے حاصل کردہ جدید اسلحہ کے متوقع استعمال کی صورت میں جوابی حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے تمام تر وسائل فراہم کرے تاکہ بھارت کو کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری طورپر بھرپور جواب دیاجاسکے اور پاکستان کی مسلح افواج بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف اٹھائی جانے والی آنکھ کو اٹھنے سے قبل پھوڑ دینے کی صلاحیت حاصل ہوجائے۔
واضح رہے کہ 8 جولائی کو بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتا رہا ہے۔گزشتہ تین ماہ کے دوران لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت کی جانب سے درجنوں مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس میں متعدد پاکستانی شہری اور فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ پاکستان نے کشمیر کی حالیہ صورتحال پربھارت کو مذاکرات کی کئی بار دعوت دی گئی ہے تاہم بھارت نے کشمیر پر مذاکرات سے صاف انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیاہوا ہے کہ وہ صرف دہشتگردی پر بات کرے گا۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر