... loading ...
ترجمان دفتر خارجہ نے دنیا کی توجہ پڑوسی ملک کی جوہری سرگرمیوں کی طرف دلاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے بھارت نے ایک ‘خفیہ نیوکلیئر سٹی تعمیر کر رکھا ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا، ‘بھارت بین البر اعظمی میزائل کے تجربات کر رہا ہے، جس سے خطے میں ہتھیاروں کا توازن متاثر ہو رہا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا، ‘بھارت کے پاس ایٹمی اسلحے کے ذخائر موجود ہیں اور اس نے ایک خفیہ نیوکلیئر سٹی بھی تعمیر کر رکھا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکریٹری برائے اقوام متحدہ و اکنامک کوآپریشن تسنیم اسلم نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اپنے ایٹمی ذخائر میں روز بروز اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ جوہری آبدوزوں کی تیاری میں بھی مصروف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لیے تیار رہنے کے علاوہ اور کوئی آپشن موجود نہیں‘۔تاہم تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان ضرورت سے زیادہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
بھارت کے خفیہ نیوکلیئر سٹی کاانکشاف اس کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم اور جنگجویانہ ذہنیت کا ایک اور ثبوت ہے اور عالمی برادری خاص طورپر ایٹمی اسلحہ کے پھیلائو کو روکنے کی کوششیں کرنے والی عالمی طاقتوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔انھیں اس انکشاف پر فوری توجہ دے کر بھارت کے بڑھتے ہوئے توسیع پسندانہ قدموں کوروکنے کیلئے موثر اقدام کرنے چاہئیں۔
وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکریٹری برائے (اقوام متحدہ و اکنامک کوآپریشن) تسنیم اسلم نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارت جوہری آبدوزوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایک سمینار سے خطاب کے دوران تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت اپنے ایٹمی ذخائر میں روز بروز اضافہ کررہا ہے۔ ’ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لیے تیار رہنے کے علاوہ اور کوئی آپشن موجود نہیں‘۔تاہم پاکستان ضرورت سے زیادہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہیاوربھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں‘۔ایڈیشنل سیکریٹری نے خبردار کیا کہ اگر بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دی گئی تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔تسنیم اسلم کا یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب گزشتہ روز بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر الزامات کی برسات کی تھی اور انھوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی ختم نہیں ہوتی تو جلد ہی پاکستان جلد 10 حصوں میں بٹ جائے گا‘۔
ایڈیشنل سیکریٹری تسنیم اسلم نے نشاندہی کی کہ بھارت پاکستان پر غیر ریاستی دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے لیکن پاکستان تو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے، جس کے پاکستان کے پاس ثبوت بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت ’را‘ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف ہے۔تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی حوصلہ شکنی اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت میں روڑے اٹکائے گئے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے باوجود پاکستان کی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں موجودگی سے افغانستان میں امن کے قیام کے عزم کی تجدید ہوئی جبکہ بھارت کی جانب سے ہارٹ آف ایشیا کو ہائی جیک کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔تسنیم اسلم نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور رابطے ہیں، جبکہ دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کرنے کو تیار ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر انھیں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔پاک بحریہ کا کہنا تھا کہ ‘پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس نے پاکستان کے سمندری علاقے کے جنوب میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا اور اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔مزید کہا گیا تھا کہ ‘پاکستان نیوی نے بھارتی آبدوز کی اپنی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا، نیوی فلیٹ یونٹس نے آبدوز کا مسلسل تعاقب کیا اور اْسے پاکستانی پانیوں سے دور دھکیل دیا۔پاکستان کی سمندری حدود میں بھارتی آبدوز پکڑے جانے کے بعد پاکستان نے اپنی سمندری حدود اور خاص طورپر گوادر کی بندرگاہ کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کئے تھے اور اس مقصد کیلئے پاک بحریہ کی جانب سے گوادر پورٹ اور اس ملحقہ سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے خصوصی دستہ ’ٹاسک فورس 88‘ تشکیل دے دیا گیا تھا۔یہ ٹاسک فورس قائم کرنے کافیصلہ گوادر میں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس کے دوران کیاگیاتھا اور اس فیصلے کے تحت خصوصی ٹاسک فورس کو باضابطہ طور پر حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی۔اس طرح پاک بحریہ نے گوادر پورٹ کی سمندری سیکورٹی اور اس سے منسلک سمندری راستوں کو لاحق روایتی اور غیر روایتی خطرات کا سامنا کرنے کے لیے ’ٹاسک فورس 88‘ (TF-88) بنانے کاجو منصوبہ بنایا تھا اسے اب عملی جامہ پہنا یا جا چکا ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق اس خصوصی میری ٹائم فورس کی تیاری پاک چین اقتصادی راہداری سے آپریشنز کے آغاز کے بعد ضروری تھی، جس سے گوادر میں سمندری سرگرمی اور بحری راستے مزید محفوظ ہونے کی توقع ہے اور میری ٹائم کی اثر پزیری میں اضافہ ہوگا۔اس حوالے سے پاک بحریہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس 88 بحری جہازوں، فاسٹ اٹیک کرافٹ، ایئرکرافٹ، ڈرونز اور نگرانی کے جدید آلات سے لیس ہوگی جبکہ میرینز کو سمندر اور گوادر کے اطراف میں سیکورٹی آپریشنز کے لیے تعینات کیا جائے گا۔یہ ’ٹاسک فورس منصوبے کی مجموعی سیکورٹی کے لیے انتہائی کارگر ہوگی، راہداری کے زمینی راستوں کو پہلے ہی خصوصی سیکورٹی ڈویڑن کے ذریعے محفوظ بنایا جاچکا ہے اور اب سی پیک میں مرکزی حیثیت رکھنے والے گوادر کو بھی محفوظ بنایا جاسکے گا‘۔
پاکستان کو بھارت کی جانب سے سمندری سیکورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم چین کے گوادر پورٹ سے وابستہ ہونے اور سی پیک کے آغاز نے سیکورٹی کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بھارت گوادر پورٹ کو چین کا بحیرہ عرب میں قدم جمانے کا ذریعہ سمجھتا ہے اور جوابی حکمت عملی کے طور پر مختلف دھمکیاں دے رہا ہے۔اسی وجہ سے عام طورپر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے پروجیکٹ کو نقصان پہنچانے کیلئے گوادر کے اطراف کے بڑے حصے میں اپنی سرگرمیاں بڑھادی ہیں۔اسی طرح اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ سی پیک کی میری ٹائم ٹریفک کو غیر روایتی خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں سمندری دہشت گردی، منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور بحری لوٹ مار شامل ہیں، جبکہ اس خطے کو پہلے ہی ان میں سے کئی مسائل کا سامنا ہے۔سیکورٹی کی پیچیدہ صورتحال کے باعث سمندری ٹریفک کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے کارگو کی انشورنس لاگت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جبکہ چینی حکام کی جانب سے بھی پاکستان پر سی پیک کی سیکورٹی بڑھانے کے لیے زور دیا جارہا تھا۔ پاک بحریہ نے گوادر کے ساحلی علاقے کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے’کوسٹل سیکورٹی‘ اور ’ہاربر ڈیفنس فورس‘ بھی تشکیل دی ہے جبکہ گوادر میں چینی ورکرز کی سیکورٹی کے لیے ’فورس پروٹیکشن بٹالین‘ بھی تعینات کی گئی ہے۔تاہم بھارتی حکومت کے جنگی عزائم کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ حکومت پاک فوج کو بھارت کے جارحانہ عزائم کامقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار اور چوکس رہنے اور پوری دنیاسے بھارت کے حاصل کردہ جدید اسلحہ کے متوقع استعمال کی صورت میں جوابی حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے تمام تر وسائل فراہم کرے تاکہ بھارت کو کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری طورپر بھرپور جواب دیاجاسکے اور پاکستان کی مسلح افواج بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف اٹھائی جانے والی آنکھ کو اٹھنے سے قبل پھوڑ دینے کی صلاحیت حاصل ہوجائے۔
واضح رہے کہ 8 جولائی کو بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتا رہا ہے۔گزشتہ تین ماہ کے دوران لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت کی جانب سے درجنوں مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس میں متعدد پاکستانی شہری اور فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ پاکستان نے کشمیر کی حالیہ صورتحال پربھارت کو مذاکرات کی کئی بار دعوت دی گئی ہے تاہم بھارت نے کشمیر پر مذاکرات سے صاف انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیاہوا ہے کہ وہ صرف دہشتگردی پر بات کرے گا۔
ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...
کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...
شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...
قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...
مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...
ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...