وجود

... loading ...

وجود

’’انقلاب آنہیں رہا،آگیاہے ‘‘جوامریکا کو تباہ کردے گا!!

هفته 04 فروری 2017 ’’انقلاب آنہیں رہا،آگیاہے ‘‘جوامریکا کو تباہ کردے گا!!

امریکا کے معروف فلم ساز اور صحافی مائیکل مور ، جنھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران جب کسی کو بھی ان کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتاتھا ،ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی پیش گوئی کی تھی لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا تھا کہ امریکا ایک خطرناک انقلاب کے دوراہے پر کھڑا ہے اور امریکی عوام کو ابھی اس کااحساس تک نہیں ۔مائیکل مور کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی مقرر کردہ ٹیم امریکا کو تباہ کردے گی اور امریکی عوام انھیںاور ان کی ٹیم کے ارکان کو اقتدار کی مسند سے اٹھا پھینکیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر ایڈوائزر اسٹیو بینن کے کردار کے حوالے سے نیویارک ٹائم کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے مائیکل مور نے ٹوئٹ کیاہے کہ ’’ اگر آپ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ 21ویں صدی کا انقلاب دروازے پر نہیںبلکہ پہنچ چکاہے تو برائے مہربانی سے خواب غفلت سے جاگ جائیں۔‘‘
نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا ہے کہ اسٹیو بینن نے جو اب تک انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی نیوز سائٹ ’’بریٹ بارٹ‘‘ نیوزچلارہے تھے ،وہ کس طرح امریکا کی سیکورٹی پالیسی میں ایک ایسا اہم عہدہ سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے جس پر عام طورپر فوج کے کسی سینئر جنرل کو ہی تعینات کیا جاتا ہے۔ بینن کا سیکورٹی پالیسی کے سربراہ کی حیثیت سے تقرر امریکی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ اور روایات سے بڑا انحراف ہے، یہ بھی کہاجارہاہے کہ وائٹ ہائوس سے حال ہی میں انتہاپسندانہ پالیسی پر مبنی جو بیانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں ،ان کے پس پشت بھی اسٹیو بینن ہی کارفرما رہے ہیں۔
مائیکل مور نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کی سابق قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یٹس کو برطرف کیے جانے کے فوری بعد ہی ایک اور لنک پوسٹ کی جس میں کہاگیاہے کہ سیلی یٹس کو اس لئے برطرف کیاگیا تھاکہ انھوں نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے حکم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا اور محکمہ انصاف سے وابستہ وکلا کو ہدایت کی تھی کہ اس حکم کے حوالے سے حکومت کا دفاع نہ کریں۔سیلی یٹس کی برطرفی کے حوالے سے جاری بیان میں کہاگیا تھا کہ انھیں اس لئے برطرف کیاگیا کہ انھیں امریکا کی سرحدوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں اور غیر قانونی امیگریشن کے بارے میں تو معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سیلی یٹس کو برطرف کرنے کے بعد ڈانا بوئنٹ کو ان کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیاہے جن کے بارے میں خیال کیاجاتاہے کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کی زیادہ حامی ہیں۔خیال کیاجاتا ہے کہ انھیں بھی سینیٹر جیف کے جو سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیشی کاانتظار کررہے ہیں ،کمیٹی کے سامنے پیشی کے فوری بعد تبدیل کردیاجائے گا۔
گوگل کے ایک بلاگر نے اس سے چند گھنٹے قبل ایک وائرل ہونے والے بلاگ میں یہی استدلال پیش کیاہے کہ مسلمانوں پر پابندی کے حکم کاغبارہ پھٹ کر امریکا میں انقلاب کانقیب اور سبب بن جائے گا۔ انھوں نے اس حوالے سے مختلف واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے وکلا کی جانب سے مسلمانوں پر پابندی کی مخالفت شامل ہے جس کونئے اٹارنی جنرل نے مسترد کردیاہے، جبکہ گارجین کی ایک رپورٹ میں تو یہاں تک دعویٰ کیاگیاہے کہ وائٹ ہائوس نے محکمہ خارجہ کے تقریباً تمام سینئر ارکان کو برطرف کردیاہے۔
زوناٹن زنگر کی جانب سے کی گئی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیاگیاہے کہ امریکی انتظامیہ تمام ایگزیکٹو اختیارات ایک سخت اندرونی حلقے کو منتقل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔جس کے بعد وفاق،بیورو کریسی ،کانگریس یہاں تک کہ عدالتوں کی جانب سے اس پر نظر رکھنا یا اس میں تبدیلی کرنا ممکن نہیں ہوگا، انھوںنے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ امریکا کے مختلف محکموں کی تنظیم نو کی جارہی ہے یا اس میں اس حوالے سے برطرفیاں اورچھانٹیاں کی جارہی ہیں۔انھوں نے لکھاہے کہ مسلمانوں پر پابندی اور اس طرح کے حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات یا سامنے آنے والے غیر متوقع احکامات دراصل اس بات کا اندازہ لگانے کی کوششوں کاحصہ ہیں کہ کس طرح ایسے آمرانہ اختیارات حاصل کئے جاسکتے ہیں جس کو کوئی کہیں بھی چیلنج نہ کرسکے۔اس پوسٹ کو ہائوس آف کارڈز کے موجد سمیت بہت سی اہم شخصیات نے شیئر کیاہے۔بریٹینیکا نے اس طرح کے انقلاب کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ اس طرح کاانقلاب ایک چھوٹے سے گروپ کی طرف اچانک لایاجاتاہے جس میں متعلقہ گروپ موجود حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیتاہے،یہ اس انقلاب سے قطعی مختلف ہوتاہے اور یہ اچانک رونما ہوتاہے اور اس کیلئے بڑی تعداد میں لوگوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔عام انقلاب کے برعکس اس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کو اقتدار سے بیدخل کرکے حکومت کے اہم کارپردازوں کو ہٹا کر نئے لوگوں کوان کی جگہ تعینات کردیاجاتاہے۔
اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی انتظامیہ میں تیزی سے کی جانے والی تبدیلیوں اور مختلف اہم محکموں کے سینئر ترین ارکان کو سبکدوش کرکے نئے اور ناتجربہ کا ر لیکن جی حضوری کرنے والے لوگوں کے تقرر سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اوپربیان کئے گئے انقلاب کے بانی بننے کی راہ پر گامزن ہیں اوران کے مٹھی بھر حواریوں کاایک گروپ پورے امریکا کا نقشہ تبدیل کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔
امریکا کے صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات اور احکامات اسی طرح کے انقلاب کا پیش خیمہ نظر آتے ہیں جس کا ذکر بریٹینیکا میں کیاگیاہے جس کے لئے لوگوں کے بڑے ہجوم کی یعنی لوگوں کی اکثریت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کاایک چھوٹا سا گروپ اقتدار پر قبضہ کرکے اہم عہدوں پر اپنے مہرے بٹھادیتاہے اور اہم محکموں سے سینئر اور قابل لوگوں کو نکال کر اپنی پسند کے لوگوں کو تعینات کردیتاہے جن کا کام صرف حکم کی بجاآوری اور جی حضوری کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
اس صورت حال کے پیش نظر یہ کہا جاسکتاہے کہ امریکا ایک انقلاب کے دوراہے پر نہیں ہے بلکہ یہ انقلاب امریکا میں آچکاہے اور اب بتدریج اپنی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے پیش بندیوں میں مصروف ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی عوام اس انقلاب اور اس کے ذریعے اقتدار کی مسند پر قبضہ کرنے والوں کو اکھاڑ پھینکنے میں کتنا وقت لگائیں گے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر