وجود

... loading ...

وجود

خوف کی علامت سمجھا جانے والا ایک اور گینگ وار کا سرغنہ بابا لاڈلہ رینجرز کے ہاتھوں ہلاک

جمعه 03 فروری 2017 خوف کی علامت سمجھا جانے والا ایک اور گینگ وار کا سرغنہ بابا لاڈلہ رینجرز کے ہاتھوں ہلاک

کراچی کے علاقے لیاری پھول پتی لین میں رینجرزنے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں گینگ وار کمانڈر بابا لاڈلا سمیت3 ملزمان ہلاک کردیے۔ترجمان رینجرز کے مطابق ملزمان کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوا ہے جبکہ 3ملزمان تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے تھے، ملزمان کے قبضے سے آٹومیٹیک اسلحہ اوردستی بم برآمد ہوئے ہیں۔ترجمان رینجرز کے مطابق علاقے میں ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پرسرچ آپریشن کیا گیا تھا، کارروائی کے دوران عمارتوں کی چھتوں سے رینجرزپرفائرنگ کی گئی ، کارروائی کے دوران نور محمد عرف بابا لاڈلامارا گیا جبکہ بابا لاڈلاکے2قریبی ساتھی بھی مقابلے میں مارے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بابا لاڈلالیاری آپریشن کے آغاز سے غائب تھا، بابالاڈلا لیاری گینگ وار کا مطلوب ترین کردار تھا اور خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
بابا لاڈلا کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوگیا ہے۔ایم ایل او سول اسپتال کے مطابق ملزم بابا لاڈلا کو 6گولیاں لگیں،گولیاں گردن ، سینے ، پیٹ اور ٹانگوں پر لگیں۔ ٹانگوں پر گولیاں دائیں جانب سے جبکہ گردن، سینے اور پیٹ پر بائیں جانب سے لگیں۔ ہلاکت کے بعدمقتول دہشت گردوں کی رشتے دار خواتین سول اسپتال پہنچ گئیں۔لیاری گینگ وار کا اہم کمانڈر بابا لاڈلا قتل کی متعدد وارداتوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
10اکتوبر 1977کو لیاری کے علاقے چاکیواڑہ میں پیدا ہونے والے نور محمد کے بارے میں کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ وہ ایسا گینگسٹر بنے گا جس سے لیاری پناہ مانگے گا۔1980کی دہائی کے آخر میں بدنام ڈاکو اور منشیات فروش حاجی لالو نے اپنے بیٹے ارشد پپو کے ساتھ ساتھ عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ کو بھی جرائم کی تربیت دی۔ابتدا میں تینوں ایک ساتھ کام کرتے رہے لیکن1997 میں ہی اغوا کی ایک واردات کے دوران حاجی لالو اور رحمان میں اختلافات ہوگئے جس کے بعد حاجی لالو نے اپنے بیٹے ارشد پپو کی سربراہی میں اپنا الگ گروہ بنا لیا۔عبدالرحمان اپنے گروہ کو لے کر الگ کام کرنے لگا،بابالاڈلہ رحمان ڈکیت کا سب سے اہم رکن تھا ۔بابا لاڈلہ9اگست2009کو رحمان ڈکیت کے مارے جانے کے بعد لیاری کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔ عزیر بلوچ کے ساتھی بابا لاڈلا کا اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بھتا خوری، منشیات فروشی اور دیگر جرائم میں کوئی ثانی نہیں تھا ۔اس دوران ارشد پپو کو بھی بھائی اور ساتھی سمیت سفاک انداز میں قتل کردیا گیا۔2013 رمضان المبارک کے آخری ایام میں چاکیواڑہ میں فٹ بال میچ کے دوران دھماکے کے بعد عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ میں اختلافات ہوگئے اور پھر بابا لاڈلہ نے غفا رزکری اور ارشد پپو کے بچ جانے والے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنا گروہ علیحدہ منظم کر لیا۔کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے بعد بابا لاڈلا کے کراچی سے فرار ہوجانے کی بھی اطلاعات سامنے آئیںجبکہ 2014 میں پاک ایران سرحدکے قریب مبینہ مقابلے میں بابا لاڈلا کے مارے جانے کی خبر بھی آئی تھی۔
4روزقبل پکڑے جانے کی متضاد اطلاع
سندھ رینجرز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مصدقہ اطلاعات پر لیاری گینگ وار کمانڈر کی موجودگی پر کارروائی کی گئی ۔دہشت گردوں نے رینجرز کو دیکھتے ہی شدید مزاحمت کی جو35منٹ تک جاری رہی ۔ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں لیاری گینگ وار کا انتہائی مطلوب اور بدنام زمانہ دہشت گرد نور محمد عرف بابا لاڈلا مارا گیا۔ کارروائی میں بابا لاڈلا کے دو ساتھی سکندر عرف سکو اور یاسین عرف ماما بھی مارے گئے ۔یہ دہشت گرد متعدد وارداتوں اور سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ تمام وارداتوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔سندھ رینجرز کے مطابق بابا لاڈلا نے لیاری میں متعدد ٹارچر سیل بنا رکھے تھے ، ملزم 74 سے زائد وارداتوں میں پولیس کومطلوب تھااور سندھ حکومت نے25لاکھ روپے اس کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔بابالاڈلہ نے یکم ستمبر 2010میں ملا لطیف نامی شخص کا تشدد کے ذریعے قتل کیا تھا، اپریل2012میں پولیس پارٹی پر حملہ کیا، حملے میں ہیڈ کانسٹیبل فیاض اور پولیس کانسٹیبل طفیل جاں بحق ہوئے، ڈالیما کے رہائشی حاجی اسلم اور اس کے بیٹوں کو قتل کیا، بابا لاڈلا نے عزیر بلوچ کے ساتھ مل کرارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کا قتل کیا۔باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ بابا لاڈلہ اور اس کے دو ساتھیوں کو چار روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
ارشد پپو گروپ اور رحمن ڈکیت میں اختلافات لیاری گینگ وار کی وجہ بنے
لیاری گینگ وارکے اہم کردار ارشد پپوکو مخالفین نے لیاری غریب شاہ روڈ پر قتل کرکے اس کی لاش کوجلا دیا جبکہ مخالفین کی فائرنگ سے اس کابھائی بھی ماراگیا، ارشدپپوکیخلاف مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دوسرے سنگین جرائم کے الزام میں سیکڑوں مقدمات درج تھے۔لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغازسال2002میں اس وقت ہوا جب رحمان ڈکیت، اور ارشد پپو کے باپ حاجی لالو کے درمیان اختلافات شروع ہوئے جس کے بعد رحمان گروپ اور ارشد پپو گروپ نے ایک دوسرے کے کارندوں کو چن چن کرقتل کرنا شروع کردیا، جنوری 2003میں گینگ وار اس وقت شدت اختیار کرگئی جب ارشد پپو گروپ نے معروف ٹرانسپورٹر ماما فیضو کو اغوا کے بعد قتل کردیا ، اس واقعے کے بعد سے دونوں گروپوں نے لیاری اور اس سے جڑے علاقوں میں اپنی اپنی حدود متعین کرلیں، یوں بیشتر علاقے عام شہریوں اور مخالفین کے لیے نو گو ایریاز بنتے گئے ۔ارشد پپونے اپنے والد یعنی حاجی لالو جیسے شاطر شخص کی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے جرائم کی دنیا میں کئی بااثر اور اہم افراد سے تعلقات مضبوط کیے، ارشدپپو کے قریبی ساتھیوں میں سے غفار زکری زندہ ہے جبکہ دوسرے جرائم پیشہ افراد کو مخالف گروپ نے ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جس کے بعد سے ارشد پپو گروپ کیلئے مشکل وقت شروع ہوگیا تھا۔
ظفر بلوچ کے قتل کے پیچھے بھی بابا لاڈلہ
کالعدم لیاری امن کمیٹی اورپیپلز پارٹی کے رہنما ظفر بلوچ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ظفر بلوچ جب سول اسپتال سے واپس گھر جا رہے تھے تو بزنجو چوک پر 4موٹر سائیکلوں پر سوار 8نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، ظفر بلوچ کو سینے میں گولیاں لگیں اور انہیں زخمی حالت میں نجی اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ ظفر بلوچ پر حملے کے نتیجے میں ان کے ہمراہ موجود ان کا گارڈ علی محمد جاں بحق جب کہ دوسرا شخص زخمی ہو گیاتھا۔ ذرائع کے مطابق ظفربلوچ پر 4موٹرسائیکلوں پر سوار 8افراد نے اپنی فائرنگ کا نشانہ بنایاتھا اور شبہ یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس قتل کے پیچھے بھی بابا لاڈلہ تھا جس کی تصدیق بعد میں گرفتار ہونے والے بابا لاڈلہ کے قریبی ساتھیوں نے کردی تھی۔
لالہ اورنگی بھی گرفتاری دینے کے باوجود
مبینہ مقابلے میں مارا گیا
قبل ازیں ذرائع کے مطابق لیاری گینگ وار بابا لاڈلہ کے منحرف کمانڈر لالہ اورنگی نے بھی رینجرز حکام کو اورنگی ٹاؤن سے گرفتاری دے دی تھی تاہم مارا گیا، فیض محمد بلوچ عرف لالہ اورنگی نے مومن آباد تھانے کی حدود فقیر کالونی پریشان چوک سے گرفتاری دی تھی۔ملزم نے گرفتاری دینے سے قبل رینجرز کے اہم افسران سے رابطہ کر کے اپنی جان کی ضمانت چاہی تھی اور یقین دہانی کے بعد اس نے گرفتاری دیدی تاہم رینجرز ترجمان نے لالہ اورنگی کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔واضح رہے کہ لالہ اورنگی، بابا لاڈلا گروپ کا اہم کمانڈر تھا اور لیاری پھول پتی لائن میں بابا لاڈلا کے بھائی زاہد لاڈلا کے ساتھ رہائش اختیار کی ہوئی تھی، لالہ اورنگی نے 2شادیاں کیں تھیں اوراس کے4 بچے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ لالہ اورنگی نے مبینہ طور پر لیاری کی کم عمر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کی شکایت بابا لاڈلا سے کی گئی تھی، بابا لاڈلا نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے واقعے کی تصدیق کے بعد لالہ اورنگی کی موت کے احکامات جاری کیے تھے تاہم موت کا پروانہ جاری ہونے کا قبل ازوقت علم ہونے پر وہ گروپ سے منحرف ہوکر عزیر گروپ کے کمانڈر سرور بلوچ کی پناہ میں چلا گیا تھا تاہم دوسرے ہی روز سرور بلوچ بھی رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔سرور کی ہلاکت کا شبہ اس کے گروپ کے لوگوں نے لالہ اورنگی پر کیا، ان کو شبہ تھا کہ لالہ اورنگی نے رینجرز کو سرور کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، سرور کی ہلاکت کے بعد لالہ اورنگی اپنے پرانے گھر اورنگی ٹائون فقیر کالونی میں چلا گیا اور اپنے طور پر رینجرز حکام سے اپنی گرفتاری کے لیے رابطے شروع کر دیے تھے۔بعد ازاں وہ بھی مبینہ مقابلے میں مارا گیاتھا۔
غفار ذکری کاجرگے میں عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کوقتل کرنے کا ناکام منصوبہ
چند سال قبل غفار ذکری گروپ نے عذیربلوچ اوربابا لاڈلہ کوقتل کرنے کے منصوبے کے تحت امن جرگہ بلوایا تھا، بابالاڈلہ اورعذیربلوچ کے کارندوں نے سیزفائرکے اعلان کومسترد کرتے ہوئے آخری دم تک جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیاتھا، لیاری میں جاری قبضے کی جنگ کااختتام دونوں گروپوں میں سے کسی ایک گروہ کے سربراہ کی ہلاکت کے بعدہوناتھا۔ ایک روز اچانک لیاری میں عذیربلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ گروپ کے درمیان مذاکرات کیلیے امن پارک میں جرگہ بلایاگیا اور یہ خبر بھی پھیلائی گئی کہ مذکورہ گروپ میں مذاکرات باہمی تعلقات سے لیاری بزرگ کمیٹی وسینٹرل کمیٹی کے معززافراد کے درمیان طے پائے گی اورکچھ دیر بعد لیاری میں یہ بات گشت کرنے لگی کہ دونوں گروپوں میں صلح ہوگئی ۔مذکورہ جرگہ، کمیٹی کے امیدعلی ساجدی کی سربراہی میں رکھا گیاتھا،امید علی ساجدی لیاری گینگ وار کے اہم ملزم غفار ذکری کاماموں بتایا جاتا ہے، نور محمد عرف بابا لاڈلہ کوکسی نے بتایا کہ تمھیں مارنے کی منصوبہ کی گئی ہے ،جرگے میں شرکت کرنے یاواپسی پر قتل کردیے جاؤ گے۔ذرائع نے بتایاکہ بابالاڈلہ نے علاقے کی مسجدوں سے اعلان کیاہے کہ میری طر ف سے جنگ بندنہیں کی گئی، یہ جنگ جاری رہے گی اور یہ بھی کہا کہ عذیربلوچ لیاری کے معصوم عوام کو بے وقوف بنارہا ہے اور معصوم لوگوں کے خون سے پیسوں کے پہاڑکھڑے کر کے مسقط میں کاروبار کر رہاہے۔جرگے کے حوالے سے شہر کے دیگر علاقوں سے تربیت یافتہ لڑکوں کے گروپس کولیاری طلب کرلیاگیا تھا، دبئی چوک،پھول پتی لائن ، بہار کالونی ، گل محمد لائن اور سلاٹر ہاؤس پر بابا لاڈلانے قبضہ کرلیا تھا۔رینجرز اور پولیس لیاری کے متاثرہ گلیوں میں گھسنے میں ناکام ہو گئے تھے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر