وجود

... loading ...

وجود

زرداری کے حیران کن فیصلے،پارٹی ارکان جی حضوری میں مصروف

جمعه 27 جنوری 2017 زرداری کے حیران کن فیصلے،پارٹی ارکان جی حضوری میں مصروف

پاکستان پیپلزپارٹی نے حالیہ دنوں میں سب سے مشکل اور قابل تنقید فیصلے کیے ہیں جس پرپارٹی کے رہنما جواب بھی نہیں دے پارہے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے اکثررہنما دل سے بلاول بھٹو زرداری کوبااختیار دیکھنا چاہتے ہیں لیکن طاقتور ہونے کے باعث وہ آصف علی زرداری کے سامنے لب کشائی سے بھی ڈرتے ہیں۔ بینظیربھٹو کی برسی کے موقع پر آصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ وہ اور بلاول دونوں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے ، پارٹی کے رہنما آصف زرداری کے الیکشن لڑنے پردلی طورپر ناخوش تھے لیکن میڈیا پرواہ واہ کرتے نہیں تھکتے تھے۔ یہی رہنما اویس مظفرٹپی کے 2013ء کے الیکشن لڑنے پرمایوس تھے مگرجیسے ہی آصف زرداری نے اویس مظفر ٹپی کوپارٹی سے الگ کیا تو وہ خوشی سے بغلیں بجانے لگے۔
سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ پی پی اب ایک جمہوری پارٹی کے بجائے درباریوں کی پارٹی بن چکی ہے جومسلم لیگ (ن) سے بھی خوشامد میں آگے بڑھ گئی ہے ،نواز شریف توپارٹی رہنمائوں پرچھوٹی موٹی ناراضی ظاہر کرتے ہیں لیکن آصف زرداری توپارٹی رہنمائوں کے ساتھ بازاری زبان استعمال کرتے ہیں۔اس لیے اب پی پی میں ضمیر والے لوگ کونا پکڑکربیٹھ گئے ہیں اورجن کوسیاست کرنی ہے وہ اب خوشامد میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں ۔پیپلز پارٹی کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کارسوال اٹھاتے نظر آتے ہیںکہ وزیراعلیٰ سندھ کو جب تبدیل کیا جارہا تھا تواس وقت کوئی توکہتا کہ مراد علی شاہ کواسمبلی میں آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں ان کی عمر جتنا تجربہ رکھنے والے آخر کیوں نظرانداز کیے جارہے ہیں ؟ لیکن مجال ہے کہ کسی نے ایک لفظ بولا ہو۔ کیونکہ ان کوپتہ تھا کہ جو بھی منہ سے آواز نکالے گا تو اُسے جواب میںگالیاں سننے کوملیں گی۔ ا ب مراد علی شاہ پرآصف زرداری اس لیے راضی ہوئے کیونکہ بطور وزیر خزانہ سندھ انہوں نے خزانہ خالی کرکے آصف زرداری کی جھولی میںڈال دیاتھا ۔
’’جرأت‘‘ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے سرپرامتیاز شیخ کی شکل میں نئی تلوار لٹکادی گئی ہے اورمراد علی شاہ کوپیغام دے دیاگیاہے کہ وہ حد میں رہیں اورجی حضوری کرتے رہیں ورنہ اب پارٹی کے پاس تُرپ کا پتا امتیاز شیخ کی شکل میں موجود ہے جوشاید مراد علی شاہ سے بھی زیادہ فرمانبردار ثابت ہوں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی قیادت نے اب تومستقبل کے بھی فیصلے کر لیے ہیںجس کے مطابق آصف زرداری نے اب ضمنی الیکشن نہ لڑنے کافیصلہ کیاہے توپارٹی میں ایک مرتبہ پھرواہ واہ ہوگئی ہے۔جس کے بعد خورشید شاہ جیسے لوگوں کے جان میں جان آگئی ہے تاہم ابھی تک بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ وہ بھی ضمنی الیکشن لڑیں گے یانہیں؟ ذرائع کے مطابق پارٹی میں دوسرا اہم فیصلہ یہ ہوا ہے کہ اویس مظفر ٹپی کی نشست پرحاجی علی حسن زرداری صوبائی نشست پرحصہ لیں گے اورحاجی علی حسن زرداری کی پوزیشن بھی آئندہ حکومت میں وہی ہوگی جوموجودہ حکومت کے شروع میں اویس مظفر ٹپی کی تھی پھرنئے وزیر اعلیٰ کے لیے ابھی سے ہی ہوم ورک شروع کردیاگیا ہے۔ سب سے انفرادی بات چیت شروع کردی گئی ہے کہ کون زیادہ وفادار، فرمان بردار اورتابعدارہوگا؟ جب آصف زرداری حتمی فیصلہ کرلیں گے تو پھراس کا اعلان عام الیکشن کے بعدکردیںگے اوریہ بھی فیصلہ کرلیاگیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری صرف رسمی چیئرمین ہوں گے ان کو توایک کونسلر کا بھی امیدوار کھڑا کرنے کا اختیار نہیں ہوگا ،ان کوبے اختیار بنانے کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہوگا کہ بلاو ل کوالیکشن کے لیے ٹکٹ بھی آصف زرداری سے لینا پڑے گا اورکیا پتہ کل آصف زرداری یہ بہانہ بنادیں کہ’’ بلاول کوابھی پارٹی مضبوط کرنے دو‘‘پھر الیکشن لڑواکر وزیراعظم بننے کا دلاسہ دیں؟ پارٹی میں ایک اور اہم فیصلہ ذوالفقارمرزا کے خاندان کے بارے میں کیاگیا ہے کہ ذوالفقار مرزا اگر خود الیکشن نہ لڑیں توفہمیدہ مرزا اورحسنین مرزا کو ٹکٹ دے دیے جائیں گے اوراگر انہوںنے ٹکٹ نہ لیا توپھرپارٹی ان کے خلاف یا توامیدوار نہیں لائے گی یا پھران کے خلاف انتخابی مہم بھی نہیں چلائی جائے گی ۔پارٹی میں اب تمام مخالفین کوشامل کرنے کے لیے آصف زرداری خود رابطے کررہے ہیں ،جام صادق جیسے بدترین مخالف کے بھتیجے جام مدد علی کوپارٹی میں شامل کرکے پارٹی کے اندرپیغام دیاگیا ہے کہ وہ اگرزیادہ نخرے دکھائیں گے توان کے مقابلے میں دوسری پارٹی کے رہنمائوں کولا کرالیکشن لڑوایا جائے گا ۔عام انتخابات سے قبل پارٹی میں وزارتوں پربھی حتمی فیصلہ آصف زرداری ہی کررہے ہیں ، امداد پتافی کووزارت سے ہٹانے کے لیے بلاول اوربختاور نے کوشش کی مگر شرجیل میمن کے علاوہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی سفارش پرآصف زرداری نے ان کو برقراررکھنے کا فیصلہ کیا ۔اب پارٹی میں ایک کے اوپر ایک کوجاسوسی پرلگادیا گیا ہے اورعام الیکشن میں دس امیدواروں کووزیراعلیٰ شپ دینے کا آسرادیاگیا ہے جس کے بعدپارٹی رہنما آصف زرداری کے اردگرد منڈلارہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

مضامین
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر