وجود

... loading ...

وجود

نئی امریکی انتظامیہ کے رنگ ڈھنگ نئے یا پرانے ؟

جمعرات 19 جنوری 2017 نئی امریکی انتظامیہ کے رنگ ڈھنگ نئے یا پرانے ؟

امریکا کے نامزد وزیردفاع جیمز میٹس نے گزشتہ دنوں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو سیکورٹی شرائط پر دی جانے والی امداد کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔نامزد وزیر دفاع نے اپنی توثیق سے متعلق ہونے والے اجلاس کے دوران کہا کہ سیکورٹی شرائط پردی جانے والی امداد دونوں ممالک کی تاریخ کا حصہ رہی ہے، مگر وہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ ان معاملات کا از سر نوجائزہ لیں گے۔نامزد وزیر دفاع کے مطابق خاص طور پر ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ پاکستان کسی بھی رویے سے مقامی عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔دیکھا جائے تو جیمز میٹس کی جانب سے دیے جانیو الے دلائل امریکی دارالحکومت میں پاکستان کے خلاف پردے میں دیے جانے والے دلائل کا سلسلہ تھے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے پاکستان پر ہمیشہ برے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جیسے 90کی دہائی میں پاکستان کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے تجربے کے بعد امریکا نے پابندیاں عائد کیں۔پاکستان کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کی مخالفت کرنے والے لوگوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے جوہری تجربات ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کے لیے نہیں بلکہ بھارت کے جواب اور امریکا کے ساتھ روابط کی وجہ سے بڑھنے والی دہشت گردی کو کم کرنے کے لیے کیے ہیں۔نامزد وزیر دفاع جیمز میٹس نے سینیٹ پینل کے سامنے پیش ہونے کے بعد اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ وہ وزیر دفاع کی حیثیت سے پالیسی پر عمل کریں گے۔جیمز میٹس نے کہا کہ وہ پاکستان اورامریکا کے درمیان سیکورٹی امداد کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی سے رجوع کریں گے۔نامزد وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور حالیہ برسوں میں خراب ہونے والے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کام کریں گے، مگر ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد سے درخواست کی کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گرد گروپوں کوبے اثر کرے۔سفارتی مبصرین نامزد سیکریٹری دفاع کے اس بیان کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے لیے فوجی پالیسی کی جھلک کے طور پر بیان کر رہے ہیں، جس میں اوباما انتظامیہ کی ’گاجر اور چھڑی‘ کی پالیسی کا تسلسل ہے۔نامزد وزیر دفاع کے ایسے بیان کو نئی دہلی اور کابل میں حساس طور پر دیکھا گیا، جہاں کی میڈیا نے سرکاری عہدیداروں کے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسلام آباد کو اپنے دونوں پڑوسی ممالک کے حوالے پالیسی تبدیل کرنے کے لیے زور ڈالے گی۔
دوسری جانب واشنگٹن میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے امریکا کے ساتھ تعلقات کی دوبارہ تعمیر کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ مجوزہ ایف 16 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے کر اسلام آباد کے حق میں کوئی فیصلہ کرے گی۔جلیل عباس جیلانی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو عوام کے منتخب رہنما ہیں جو ایف 16 سمیت دیگر معاملات کو ہمدردی کے طور پر دیکھتے ہیں۔پاکستانی سفیر کے مطابق امریکی عوام القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کے اقدام نہیں چاہتے اور وہ پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہیں کہ ایف 16 جہاز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مفید آلہ ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ برس امریکی کانگریس نے پاکستان کو ایف سولہ جہازوں کی مد میں فنڈز جاری کرنے سے اوباما انتظامیہ کو روک دیا تھا، مگر پاکستانی سفیر کو امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آنے کے بعد دنوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے، کیوں کہ نئی انتظامیہ میں کئی ایسے ریٹائرڈ جنرل شامل ہیں جنہوں نے پاک، افغان خطے میں کام کیا ہے۔گزشتہ دنوں جلیل عباس جیلانی نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ظہرانے سے خطاب کیا، پاکستانی سفیر آئندہ ماہ اپنی مدت پوری کر رہے ہیں، جس کے بعدخارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چوہدری امریکا میں سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بھی کردار ادا کرے گی۔انہوں نے یاد دلاتے ہوئے بتایا کہ منتخب نائب امریکی صدر مائیک پینس نے حال ہی میں کشمیر تنازع کو حل کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے سمیت کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ جنوبی ایشیائی خطے میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ادھر نامزد امریکی وزیر دفاع نے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے افغانستان کی سلامتی اور تحفظ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ پاکستان سے فاٹا میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان مشترکہ اسٹریٹجک مفادات والے علاقوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ’دہشت گردی اور بغاوت کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کے اسٹریٹجک سامان کی افغانستان ترسیل کے لیے پاکستان کی فضائی اور سمندری حدود امریکا کی معاون ہوتی ہیں‘جب کہ بحیرہ عرب میں لوٹ مار کے تحفظ میں بھی پاکستانی مدد درکار ہوتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا کے ساتھ بھرپور معاونت بلکہ ضرورت اور طلب سے زیادہ معاونت ،جس کو امریکی حکام بھی تسلیم کرتے ہیں،کے باوجود گزشتہ 5سال کے دوران پاکستان کو فراہم کی جانے والی امریکی سیکورٹی معاونت میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ امریکا کی جانب سے پاکستان کی سیکورٹی معاونت کے حوالے سے دستیاب اعدادوشمار سے پتا چلتاہے کہ 2011 سے اب تک پاکستان کیلیے امریکی سیکورٹی معاونت میں 73 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی مرتب کردہ رپورٹ کے اعداد و شمار سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ 2011 سے اب تک پاکستان کو فراہم کی جانے والی عسکری اور اقتصادی معاونت میں کمی آئی ہے۔کانگریس کے سامنے پیش کرنے کے لیے مرتب کی جانے والی اس رپورٹ میں نہ صرف 2002 سے 2015 کے دوران پاکستان کو فراہم کی جانے والی عسکری و اقتصادی معاونت کا احاطہ کیا گیا ہے بلکہ مالی سال 2016 اور 2017 کے لیے مختص کردہ امداد کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2011 سے اب تک پاکستان کو دی جانے والی معاشی امداد میں 53 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کے انکشاف اور پاکستانی چیک پوسٹ سلالہ پر امریکی فضائی حملے میں24 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بگاڑ آنا شروع ہوا۔اگست کے اوائل میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے پاکستان کو فوجی امداد کی مد میں 30 کروڑ ڈالر جاری نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور موقف اپنایا تھا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کررہا تاہم پاکستان اس الزام کو یکسر مسترد کرتا ہے۔پاکستان کو سیکورٹی کی مد میں امریکا سے ملنے والی امداد کا حجم 2011 میں 1.3 ارب ڈالر تھا جو 2015 میں 73 فیصد کمی کے بعد 34 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گیا۔اسی طرح پاکستان کو دی جانے والی معاشی امداد 2011 میں 1.2 ارب ڈالر تھی جو 2015 میں کم ہوکر 56 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہوگئی۔سی آر ایس کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی جریدے ’’دی ایٹلانٹکس نیوز سروس، دی وائر‘‘ نے لکھا کہ امریکا سے رنجش پاکستان کو اس کے دوست ملک چین سے مزید قریب کرسکتی ہے۔
دی وائر کے تجزیہ کار کاکہنا ہے کہ 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کی معطلی کبھی قریبی اتحادی سمجھے جانے والے ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کا اشارہ ہے اور یہ معاملہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔معطل ہونے والی 30 کروڑ ڈالر کی امداد پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں ملنی تھی جس کے تحت 2002 سے اب تک امریکا 14 ارب ڈالر فراہم کرچکا ہے۔سی آر ایس کی رپورٹ کے مطابق 2002 سے 2014 کے دوران پاکستان کی مجموعی فوجی اخراجات میں سے کولیشن سپورٹ فنڈ کا حصہ 20 فیصد تھا۔ پاکستان نے افغانستان میں مداخلت کے وقت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اپنے فضائی اور بحری اڈوں کے استعمال کی اجازت دے کر کولیشن سپورٹ فنڈ کی صورت میں اس کا بدلہ حاصل کیا اور اس دوران افغان سرحد کے اطراف تقریباً ایک لاکھ فوجی تعینات تھے۔
پینٹاگون کی رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان کو دی جانے والی امداد کا تقریباً نصف حصہ خوراک اور جنگی ساز و سامان پر خرچ کیا گیا۔سی آر ایس کے اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے 2015 کے دوران امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی مجموعی امداد 32.2 ارب ڈالر میں سے کولیشن سپورٹ فنڈ کا حصہ 43 فیصد ہے۔اسی طرح معاشی امداد کا حصہ 33 فیصد (10.6 ارب ڈالر) اور سیکورٹی امداد کا حصہ 24 فیصد (7.6ارب ڈالر) رہا ہے۔امریکی میڈیا نے پاکستان کے لیے امریکی امداد میں کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے اور وہاں 20 ہزار 877 عام شہری اور 6 ہزار 370 سیکورٹی اہلکار 2003 سے 2015 کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔امریکی میڈیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشتگردی کی وجہ سے 2004 سے 2015 کے دوران پاکستانی معیشت کو 115 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی ایک مثال ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے معاہدے کی منسوخی بھی ہے۔
امریکا نے فارن ملٹری فنانسنگ پروگرام کے تحت پاکستان کو 27 کروڑ ڈالر کی رعایتی قیمت میں 8 ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم کانگریس کی شدید مخالفت کی وجہ سے مئی میں یہ منصوبہ منسوخ کردیا گیا جسکے بعد پاکستان طیاروں کی اصل قیمت یعنی 70 کروڑ ڈالر ادا کرکے انہیں خرید سکتا ہے۔دی وائر لکھتا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو طیاروں کی فروخت سے انکار کو بھارت میں سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا کیوں کہ انڈین حکومت اور بھارتی نژاد امریکی اسکے خلاف کانگریس میں کافی سرگرم تھے۔جریدے کا مزید کہنا ہے کہ ان اقدمات سے امریکا کی پاکستان کے حوالے سے موقف میں آنے والی تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے جو کئی دہائیوں سے امریکی سبسڈیز سے فائدہ اٹھارہا ہے اور امریکی امداد کی وجہ سے اس کی عسکری صلاحیتوں اور ساز و سامان میں اضافہ ہوا ہے۔
سی آر ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 2001 سے امریکا سے 1.2 ارب ڈالر کے ویپن سسٹمز وصول کررہا ہے جن میں 47 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کے 8 پی تھری سی اورین میری ٹائم پیٹرول ایئرکرافٹ اور 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے 20 اے ایف 1 ایف کوبرا اٹیک ہیلی کاپٹرز شامل ہیں۔گزشتہ برس اپریل میں امریکی محکمہ خارجہ نے 95 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے فوجی ساز و سامان کی پاکستان کو فروخت کی منظوری دی تھی جس میں 15 اے ایچ 1 زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹرز اور ایک ہزار ہیلفائر 2 میزائلز شامل تھے۔اس کے علاوہ 5 اپریل 2016 کو امریکا نے پاکستان کو مذکورہ ہیلی کاپٹرز کی خریداری کے لیے 17 کروڑ ڈالر فراہم کرنے اور اضافی فیول کٹس دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔پاکستان امریکا سے 60 ایف سولہ اے/ بی طیاروں کے لیے 89 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کے اپ ڈیٹڈ کٹس بھی حاصل کررہا ہے جن میں سے 47 کروڑ 70 لاکھ ڈالر امریکا ادا کررہا ہے۔2001 سے پاکستان امریکی ہتھیاروں کی مد میں 2.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کرچکا ہے یا اب بھی کررہا ہے۔
امریکا کے ایکسس ڈیفنس آرٹیکلز (ای ڈی اے) پروگرام کے تحت پاکستان نے 14 ایف سولہ اے / بی فائٹنگ فیلکن ایئرکرافٹ اور 374 ایم 113بکتر بند گاڑیاں رعایتی قیمتوں میں حاصل کیں۔ای ڈی اے ویپنز وہ استعمال شدہ ہتھیار ہیں جو امریکا نے افغانستان سے انخلاکے دوران پاکستان کو دیے ہیں۔کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت امریکا پاکستان کو 26 بیل 412 ای پی یوٹیلٹی ہیلی کاپٹر فراہم کرچکا ہے جن کی مالیت 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔پاکستان کائونٹر انسرجنسی فنڈ سے امریکا نے فرنٹیئر کور کے لیے 450 گاڑیاں، چار ایم آئی 17 ملٹی رول ہیلی کاپٹرز اور دیگر ساز و سامان فراہم کیے ہیں، یہ پروگرام 2013 میں ختم ہوگیا تھا۔امریکا نے پاکستان کے تقریباً 2 ہزار فوجی افسران کی تربیت کے لیے بھی فنڈنگ کی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ عسکری و معاشی معاونت میں کیا رنگ ڈھنگ دکھاتی ہے ۔


متعلقہ خبریں


خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

مضامین
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر