... loading ...
عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) نے خبردارکیا ہے کہ 2030 تک انسانوں کی بلا تفریق ضروریات پوری کرنے کے لیے دنیا کے موجودہ خوراک کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ڈیوس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کی’عالمی خوراک کے مستقبل کی تشکیل‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ مستقبل میں عالمی خوراک کے تحفظ اور وسائل کی پیداوار کو درپیش خطرات کا منظرنامہ پیش کر رہی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبادی میں اضافے سے خوراک کی مانگ میں تبدیلی آئے گی، 2030 تک دنیا کی آبادی بڑھ کر8 ارب 50 کروڑ تک پہنچنے کی امید ہے، جب کہ اسی دورانیے میں متوسط طبقے کی تعداد ایک ارب 80 کروڑ سے 4 ارب 90 کروڑسے بڑھ جانے کی امید ہے۔رپورٹ میں تجزیہ کرتے ہوئے تجویز دی گئی ہے کہ خوراک کا نظام صحت مند اور پائیداراشیاء کی فراہمی کرنے کے قابل نہیں ہے اوریہ نظام مستقبل میں موجودہ صورتحال سے بھی کم خوراک کی تیاری کرے گا،اس لیے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز(ایس ڈی جی ایس) کے اہداف حاصل کرنے کے لیے خوراک کے نظام میں سسٹیمیٹکل تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی، زراعت، خوراک اور مشروب کی پیداوار کرنے والی کمپنیوں کو خوراک کی تیاری کے لیے جدید طرز کے تحت خوراک کی تیاری کرنی پڑے گی۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ تمام حکومتوں کو خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ’اسمارٹ پالیسی‘ اختیارکرنا ہوں گی۔حکومتوں کو خوراک کے حقیقی تخمینوں کو مد نظر رکھ کرخوراک، زراعت، صحت مند غذا کی ماحولیاتی پالیسیوں کو اپناتے ہوئے جامع ٹیکنالوجی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں دلیل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا کی امیر ترین ایک فی صد آبادی کے پاس باقی تمام آبادی سے بھی زائد دولت ہے، جب کہ اقتصادی عدم مساوات میں اضافہ سماجی ہم آہنگی کی کم رفتارکا سبب ہے۔رپورٹ کے مطابق 2 ارب سے زیادہ افراد ’مائیکرو نیوٹریشن‘ کی کمی کا شکار ہیں اور یہ کمی بیماریوں میں اضافے اور ترقی کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، دوسری جانب 2 ارب لوگ موٹاپے کا شکار تھے۔رپورٹ کیمطابق خوراک کا شعبہ دنیا کا 70 فیصد پانی کھینچ رہا ہے جب کہ زراعت، جنگلات اور زمینیں خارج ہونے والے گرین ہائوس کا چوتھا حصہ کھینچ لیتی ہیں، خوراک کے شعبے کی جانب سے گزشتہ 50 سال میں پانی کھینچنے میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ 2030 تک اس میں مزید 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ میں زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا کے دن بہ دن غیرمستحکم ہونے سے خوراک کے نظام میں لچک پیدا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ حکومتوں، کاروباری کمپنیوں اور دیگراداروں پر انحصار کرنا پڑے گا۔
جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے تو وزیراعظم نواز شریف نے انتخابات سے قبل بھی معاشی بہتری کو اپنی اولین ترجیح قراردینے کا عویٰ کیا تھا۔ انہوں نے ٹیکس نظام، معاشی استحکام ، دہشتگردی کی روک تھام اور امن وامان کو بھی ترجیحات میں شامل رکھا تھا۔ جبکہ اسی طرح کے دیگر اہم چیلنجز بھی ہیں جن میں غربت ایک اہم مسئلہ ہے جس کا ملکی معیشت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت نے شدید اور ہلاکت خیز بھوک کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ برس ورلڈ بینک نے پاکستان میں بچوں میں خوراک کی شدید کمی سے خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہاں بچوں اور خواتین میں اہم وٹامن کی کمی کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے۔ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے پاکستان میں غذائی کمی کو عوامی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔خوراک اور غذا کی کمی بچوں اور خواتین کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور انہیں مختلف انفیکشن لاحق ہونے کے خطرات کو بڑھاتی ہے۔ یہ خطرہ پوشیدہ ہے، خاموش اور میڈیا کی نظروں سے ماورا ہے۔کیونکہ ان کے متاثرہ افراد غریب اور مفلوک الحال انسان ہوتے ہیں۔ ان کی آواز آگے تک نہیں پہنچ سکتی اور وہ اوجھل ہی رہتے ہیں۔ دوسری جانب حالیہ آفات، سیلاب اور دیگر حادثات سے لاتعداد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ پھر دہشتگردی نے صورتحال مزید خراب کردی اور اس کا نتیجہ شدید غذائی عدم تحفظ کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔پورے پاکستان میں ساٹھ فیصد گھر یا خاندان ایسے ہیں جو غربت، وسائل یا کسی اور وجہ سے کھانے پینے کی معیاری اشیا تک رسائی نہیں رکھتے اور یوں مناسب خوراک سے محروم ہیں۔ ایسے گھرانوں یا افراد کو غذائی عدم تحفظ کا شکار یا food insecure کہا جاتا ہے۔ یعنی ساٹھ فیصد پاکستانیوں کو مناسب خوراک کی فراہمی نہیں ہوپاتی۔گزشتہ روز نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( نسٹ) میں ہونے والی پاپولیشن ایسوسی ایشن آف پاکستان ( پی اے پی) کی ایک ریسرچ کانفرنس میں یہ سروے اور اس کی تفصیلات پیش کی گئیں۔سروے میں بتایا گیا کہ پاکستان میں بچوں میں اسٹنٹنگ ( عمر کے لحاظ سے چھوٹا قد) اور ویسٹنگ ( قد کے لحاظ سے کم وزن) اور خوراک کے دیگر چھوٹے چھوٹے اجزا ( مائیکرونیوٹرینٹ) کی شرح بہت کم ہے۔سروے میں 2001 اور 2011 میں خوراک اور غذائیت کی شرح کا موازنہ بھی کیا گیا۔سروے کے مطابق پاکستان میں 2011 میں 43.7 فیصد بچے عمر کیساتھ چھوٹے قد کے شکار ہیں جبکہ 2001 میں یہ تعداد41.6 فیصد پر تھی۔اس کے علاوہ ملک میں (پانچ سال سے کم عمر) بچوں کی 35 فیصد تعداد کا تعلق غذائیت کی کمی سے ہے جبکہ اگر یہ شرح صرف 15 فیصد سے اوپر ہوجائے تو اسے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے تحت قومی ہنگامی حالت یا ایمرجنسی کہا جاتا ہے۔اس موقع پر پی اے پی کی صدر شہناز وزیر علی نے کہا پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی فوڈ سیکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ 1998 کے بعد سے ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ معلومات اور تحقیق تو موجود ہے لیکن پالیسی بنانے اور منصوبوں کے لیے ان سے مدد نہیں لی جاتی۔انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کی بجائے لوگوں پر توجہ ہونی چاہئے تاکہ سماجی اقدار، انسانی حقوق اور مرد وزن کی برابری جیسے اہم امور کو مدِ نظر رکھا جاسکے۔اس کے علاوہ ضروری ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں فیملی پلاننگ پر بھرپور اور منظم توجہ دیں۔وفاقی پذیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات، احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے غیر تسلی بخش ترقیاتی اشاریے ( انڈیکیٹرز) پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقی کی دھیمی رفتار کو درست کرنا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے مستقبل پر ایک آواز سے بات کرنا ہوگی۔
پی اے پی یقین رکھتی ہے کہ حکومت مجموعی قومی آمدنی ( جی ڈی پی) کا کم ازکم 6 فیصد حصہ صحت کے لیے مختص کرے۔ پاکستان میں 2011 میں کئے گئے نیشنل نیوٹریشن سروے نے ملک میں غربت کی صورتحال پر خطرے کی گھنٹیاں بجائی ہیں۔ اس بھرپور سروے میں ملک کے چاروں صوبوں میں 30,000 گھروں کا جائزہ لیا گیا تھا جن میں صرف پنجاب کی صورتحال تھوڑی بہتر تھی اور بلوچستان ، سندھ اور صوبہ خیبر پختونخوا شدید غذائی قلت کے حامل صوبوں میں شامل تھے۔مجموعی طور پر ملک کی 60 فیصد خواتین اور بچوں کو ناکافی خوراک کا سامنا ہے۔ امید سے ہونے کی حالت میں اور بچوں کودودھ پلانے والی خواتین کو خاص خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی خوراک میں فولاد، پروٹین، آئیوڈین، وٹامن اے، اور دیگراشیا ضروری ہوتی ہے۔ خصوصاً مدتِ حمل میں خوراک میں اہم اجزا کی کمی سے پیدا ہونے والے بچے میں نقائص ہوسکتے ہیں اس کی جسمانی اور ذہنی نشونما پر فرق پڑ سکتا ہے۔نومولود اوربچوں میں خوراک اور غذائیت کی اہمیت کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پمز) کے پروفیسر محمود جمال نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے بہت سے مسائل کا براہِ راست تعلق والدہ اور نومولود بچے کی خوراک سے ہوتا ہے۔ غربت کے مارے لوگوں میں خوراک کی کمی، صحت کی ناکافی سہولیات اور نامناست خاندانی منصوبہ بندی سے پاکستان اقوامِ متحدہ کے تحت وضع کردہ ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز ( ایم ڈی جی) کو حاصل نہیں کرپائے گا۔اگر خوراک کی کمی مسلسل رہے تو مسوڑھے سوج جاتے ہیں اور دانت گرنے لگتے ہیں، اعضا متاثر ہوتے ہیں اور دل کے امراض بھی جنم لیتے ہیں۔ خصوصاً ابتدائی عمر میں خوراک کی کمی سے دماغی بڑھوتری نہیں ہوپاتی اور بچے کا آئی کیو بھی کم ہوسکتا ہے۔ پھر اس کے اثرات پوری زندگی رہتے ہیں اور بلوغت تک کا عرصہ متاثر رہتا ہے۔کھانے کی کمی سے اور دماغی امراض کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔پاکستان کی آبادی میں خوراک کی کمی کے خاتمے کے لیے کچھ کم خرچ اور بہتر طریقے بھی موجود ہیں۔ پاکستان خیرات دینے میں بہت سخی ہیں۔ ملک بھر میں ایک بڑی آبادی کو روزانہ مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچن گارڈننگ، ماں کو دودھ پلانے کی ترغیب اور دیگر غذائیت سے بھرپور خوراک کے آپشن اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا اپنا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے ہی سہی لیکن اقدامات اْٹھائے جائیں تاکہ رفتہ رفتہ غذائیت کی کمی پر قابو پایا جاسکے۔
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...