... loading ...
نام بڑے اور درشن چھوٹے کا محاورہ وزیرا علیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ وہ بظاہر کافی سرگرم نظر آتے ہیں اور خود کو صاف ستھرا ثابت کرنے پر بھی تُلے رہتے ہیں۔ مگر اُن کا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ بھی سابق وزرائے اعلیٰ کی طرح ہی اپنی سیاست اور ’’دیگر امور‘‘ انجا م دیتے ہیں جس کے لیے اُنہوں نے بھی ایک نجی ٹیم بنارکھی ہے جو’’ منفعت بخش کاموں‘‘ کی تلاش میں سرگرم رہتی ہے۔
انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق صوبائی وزارتوں کے لیے اس ٹیم نے جینا حرام کررکھا ہے ۔وزانہ کی بنیاد پر یہ ٹیم ان سے مختلف بہانوں سے مختلف معاملات طے یا تہہ کرتی نظر آتی ہیں۔ ’’جرأت‘‘ کی خصوصی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ مراد علی شاہ نے چار افراد پر مشتمل نجی ٹیم بنارکھی ہے جس میں سلیم باجاری‘ حاجن شاہ‘ سکندر راھپوٹو اور سابق الیکٹرک انسپکٹر اعجاز قاضی شامل ہیں۔ ان چاروں نے روزانہ کی بنیاد پر غیراعلانیہ طور پر شیڈول بنارکھا ہے کہ کس محکمہ کو کیا حکم دینا ہے؟ اور ان سے کیا معاملات طے کرنے ہیں؟کس کا تبادلہ کرانا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ بغیر حاصل وصول کے نہیں ہوتا۔ مگر ایسا پہلی مرتبہ سنا جارہا ہے کہ بعض لوگ پیٹرول کی پرچیاں اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ کی بھی بڑے پیمانے پر’’ مفت تلاش‘‘ میں رہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کی اس انتہائی’’ مستعد اور کارآمد ‘‘ ٹیم کے ان چار افراد میں سے تین کا تعلق وزیراعلیٰ کے اپنے آبائی علاقہ سے ہے جبکہ اعجاز قاضی ان کے اپنے علاقے سے تونہیں لیکن وہ ان کے پرانے بااعتماد ساتھی ہیں۔ محکمہ توانائی اور محکمہ خزانہ کے علاوہ محکمہ آبپاشی میںاربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں میں بھی یہی چار کا ٹولہ ملوث بتایا جاتا ہے۔ نہ صرف صوبائی محکموں میں ان کے احکامات مانے جاتے ہیں جبکہ حیدرآباد ڈویژن خصوصاً ضلع جامشورو میں ان کی طوطی بولتی ہے۔ ایس ایس پی جامشورو اور ڈی سی جامشورو تو ان کے ذاتی ملازم کی طرح کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ ہائوس سے روزانہ سرکاری افسران کوان چاروں افراد کی جانب سے فون کیا جاتا ہے ان کو طلب کرکے مختلف کام بتائے جاتے ہیں ۔ سلیم باجاری محکمہ خوراک کاملازم ہے مگر وہ وزیراعلیٰ ہائوس میں سیاہ وسفید کا مالک بنا ہوا ہے ۔ اُن کا تعلق وزیراعلیٰ کے علاقے سے ہیں ۔ وہ وہاں اُن کے نجی ملازم کی طرح کام کرتے ہیں۔ سکندر راھیوٹو کاخاندان بھی عبداللہ شاہ سے لے کر اب تک ان کا وفادار رہا ہے۔ وہ ہر مشکل وقت میں عبداللہ شاہ اور مراد علی شاہ کا ساتھ دیتا رہاہے۔ پرویزمشرف کے دور میں اس خاندان نے صعوبتیں برداشت کیں اور عبداللہ کے بدلے وہ وزیراعلیٰ ہائوس میں ڈیرا جماکر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا ایک کزن محکمہ خوراک میں ڈائریکٹر ہے جس کے دور میں چار ارب روپے کی گندم حیدرآباد اور سکھر سے غائب کی گئی ہے جس کی انکوائری بھی دبالی گئی تھی۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اب کہیں جاکر نیب نے اس میگا اسکینڈل کی چھان بین مکمل کی ہے۔
دوسرے کزن ایک الیکٹرک انسپکٹر ہیں جو آٹھ سال سے اس عہدے پر بیٹھے ہوئے ہیں جن کو تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ سید حاجن شاہ بھی وزیراعلیٰ کے قریبی رشتہ دار ہیں اور اس نے مراد علی شاہ کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد وزیراعلیٰ ہائوس پر ایک طرح سے قبضہ جما لیا ہے۔ اُنہوں نے پولیس اور ریونیو افسران کے تبادلوں کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔اور ان کے احکامات ، وزیراعلیٰ کے احکامات سمجھے جاتے ہیں۔ چوتھا کردار اعجاز قاضی کا ہے جو ماضی میں انسپکٹر رہ چکے ہیں اب وہ ملازمت چھوڑچکے ہیں اُنہوں نے ہی محکمہ توانائی میں سولر پاور پلانٹ اور ونڈ انرجی پلانٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا راستہ دکھایا۔ ان کا تعلق سکھر سے ہے لیکن وہ شاید تینوں افراد سلیم باجاری‘ سکندر راھیوٹو اور اور حاجن شاہ سے بھی طاقتور ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بے قاعدگیوں کے اس پورے کھیل میں تقریباً125ارب روپے سے زیادہ کی رقم کی ہیر پھیر ہوئی ہے۔شاید اسی لیے ان کو وزیراعلیٰ ہائوس میں سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ ان سے ملنے کے لیے سیکریٹریز اور ڈی آئی جیز رابطے کرتے ہیں تو وہ ان سے کئی ماہ بعد ملتے ہیں ۔ وہ جب چاہیں کسی کا تبادلہ کرادیں اور جب چاہیں کسی کو ٹھیکے دلائیں یا کسی کو بڑی ادائیگی کرادیں۔
کوئی افسر اگر ان چاروں کے کام میں کوئی رکاوٹ پیدا کرے یا پھر سست روی اختیار کرے تو اس افسر کو صرف ایک ہی فون چلاجاتا ہے کہ کیا تم کو نوکری کرنی ہے یا نہیں؟ اور پھر افسران کانپنے لگتے ہیں۔ اس طرح سرکاری افسران اپنی کارکردگی کے بارے میں وزیراعلیٰ کے بجائے ان چاروں افسران کو ہی بتاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں۔
کہ اگر چاروں افراد ان سے راضی ہیں تو سب کچھ ٹھیک ہے اور اگر وہ چاروں ناراض ہوجائیں تو ان کی پھر خیر نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ اگر خود اچھے اور صاف ستھرے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ اس کھیل سے خود کو الگ کریں ۔ کیا اُنہوں نے کبھی سوچا ہے کہ جب پرنسپل سیکرٹری‘ ڈی ایس اسٹاف‘ پرنسپل اسٹاف افسر (پی ایس او) پریس سیکریٹری اور دیگرمعاون افسران ہیں، تمام صوبائی محکمے فعال ہیں تو پھر ان چاروں کی کیا ضرورت ہے؟ مگر وہ خاموش ہیں تو اس کا مطلب واضح ہے کہ وزیراعلیٰ نے آنکھیں بند کرلی ہیں کہ پہلے وہ کرپشن کرلیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کرپشن تو سمندر ہے اس میں اگر ان چاروں نے غوطہ لگالیا تو کیا نقصان ہوگا؟کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ ان کو اس لئے بھی چھوٹ دے رہے ہیں کیونکہ آگے انتخابات سر پر کھڑے ہیں۔اور اب انتخابات معمولی اخراجات کا کھیل تو رہا نہیں۔ وہی الیکشن مہم میں گاڑیاں‘ تیل اور کھانے پینے کے اخراجات برداشت کریں گے۔ وزیراعلیٰ ہائوس کا عملہ بھی ان چاروں کے سامنے بے بس ہے اور وہ بھی ان چاروں کے احکامات پر من وعن عمل کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ خود کو کتنا ہی اچھا اور صاف ستھرا کہلائیں لیکن ان کے عمل سے ثابت ہوگیا ہے کہ وہ براہ راست کرپشن کرنے کے بجائے بالواسطہ کرپشن کے راستے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
عقیل احمد
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...