... loading ...
چین کی حکومت نے امریکی مالیاتی ادارے جے پی مارگن پر کرپشن میں ملوث ہونے کاالزام ثابت ہونے پر 264 ملین ڈالر جرمانہ عاید کردیاہے اور اس کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا ہے کہ چین میں کام کرنے والے امریکی اور برطانوی اداروں سمیت تمام غیر ملکی اداروں پر وہی قانون نافذ ہوں گے جو ملکی اداروں کے لیے قابل عمل ہیں، اور اس حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ چین میںامریکی بینک پر جرمانے کی یہ کارروائی امریکا اور برطانیہ میں بینکوں اوردیگر مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی میں صرف معمولی جرمانہ عاید کیاجاتاہے اور ان اداروں کے ڈائریکٹران اور چیف ایگزیکٹو ز سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
اینن ایچ کیو کی رپورٹ میں اس حوالے سے اطلاع دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ 2008 کے مالی بحران کا بنیادی سبب بڑے بینکوں خاص طورپر امریکا اوربرطانیہ کے بینکوں کی لاپروائی کانتیجہ تھا۔ آئس لینڈ کی حکومت نے اس مسئلہ کو سمجھ لیا اوربعض بینکرز کوجیل بھیج دیا ان میں سے کچھ اب بھی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیںجس کے نتیجے میں آج آئس لینڈ کی معیشت ترقی کررہی ہے اورآئس لینڈ چند یورپی ممالک میں سے ایک ہے جہاں معیشت کی ترقی کی رفتار تیز اورمستحکم ہے۔لیکن امریکا میں بنکرز کو کوئی سزانہیں دی گئی بلکہ اس کے برعکس حکومت نے آگے بڑھ کر ان کو بچایا اور تحفظ دیا، اس لیے بینکوں نے اس کانوٹس بھی نہیں لیا،ان میں سے زیادہ تر بینک ملٹی نیشنل ہیں جو امریکا اور ان تمام ممالک میں جہاں قاعد وضوابط کمزور ہیں اسی لاپروائی اور من مانی کا مظاہرہ کررہے ہیں،امریکا میں تو اگر یہ بینک کسی غیر قانونی حرکت ،لین دین یا کارروائی پر رنگے ہاتھوں پکڑے بھی جاتے ہیں تواس کے ذمہ داروں کوسزائیں دینے کے بجائے حکومت بینکوں پر معمولی جرمانے کرکے معاملے کو رفع دفع کردیتی ہے اور سزا نہ ملنے کی وجہ سے بینکار خود کو من مانی کاچمپئن تصور کرنے لگتے ہیں،اور اس طرح انھیں غیرقانوی کام جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ ملی رہتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں جے پی مورگن پر جرمانے اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے۔چین میں جے پی مارگن پر اپنے کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لیے رشوت اور کرپشن کے ارتکاب کے الزام میں جرمانہ عاید کیاگیا ہے ۔
امریکا کے سیکورٹی اور ایکسچینج کمیشن کے مطابق جے پی مورگن اور اس کے ذیلی اداروں پر ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی رشوت کی اسکیمیں چلانے کا الزام تھا جو وال اسٹریٹ کے دیگر بہت سے بینکوں میں بھی پھیل رہی تھیں۔سیکورٹی اور ایکسچینج کمپنی کی تحقیقات کے مطابق چین میں بینک کی جانب سے لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کے طریقہ کار کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس میں بہت سی بے قاعدگیاں موجود تھیں۔رپورٹ کے مطابق بینک نے ملک میں بزنس حاصل کرنے کے لیے ہانگ کانگ کے بااثر اور بااختیار لوگوںکے بچوں کوملازمتیں فراہم کررکھی تھیں۔جس کے بدلے میں متعلقہ فرد بینک کی بیجا حمایت کرتے اور غیر قانونی طورپر بزنس کے حصول کے لیے ان کی کوششوں سے چشم پوشی کرتے تھے۔بینک کی اس حکمت عملی کے تحت مناسب تعلیمی صلاحیت نہ ہونے کے باوجود صرف بااثر اوربااختیار افرادسے رشتہ داری اور تعلقات کو ہی صلاحیت کاپیمانہ بنالیاگیاتھا۔اس کے واضح معنی یہ تھے کہ جے پی مارگن خود امریکا کے قوانین کی بھی خلاف ورزی کامرتکب ہورہاتھا۔ اب اس غیر قانونی بھرتی کی اجازت دینے والے بینک کے ایگزیکٹوز کو جیل کی ہوا کھانا چاہئے تھی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب بھی نہ صرف آزاد ہیں بلکہ بھاری تنخواہیں اور مراعات بھی وصول کررہے ہیں۔
جے پی مارگن کے خلاف تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں کاکہناہے کہ بینک نے بڑی تعداد میں چینی رہنمائوں اور اعلیٰ شخصیات یہاں تک کہ بینک کے اعلیٰ عہدیداروں کی سفارش میں بڑی تعداد میں نااہل اور کم تعلیم یافتہ افراد کوبھرتی کرلیاتھا، ان لوگوں کو ابتدامیں انٹرن شپ پر رکھاجاتاتھا تاکہ یہ اندازہ لگایاجاسکے کہ یہ بینک کو سرکاری اداروں کابزنس دلانے میں کس حد تک کارآمد ہوسکتے ہیں۔
بینک کی زبان میں ان بھرتی کئے جانے والے لوگوں کو بزنس کے مواقع سے براہ راست رابطہ قرار دیاجاتاتھا ،اور بعد میں ان میں سے زیادہ تر ملازمین کو امریکا ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے علاوہ ایشیا کے بعض ممالک میں بھیج دیاجاتاتھا ۔یہ اسکیم بینک کی جانب سے 100 ملین ڈالر سے زیادہ کا بزنس حاصل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ تھی۔امریکی شہر بروک لین کے اٹارنی رابرٹ ایل کیپرز کاکہناہے کہ اس طرح کے حربوں سے حاصل کی جانے والی رقم یا پروجیکٹ کوبزنس نہیں بلکہ کرپشن ہی کہاجاسکتاہے۔
سیکورٹی اور ایکسچینج کمیشن کاکہناہے کہ چونکہ جے پی مارگن نے تفتیش کے دوران مکمل تعاون کیاتھا اس لیے اس پر نسبتا کم جرمانہ کیاگیاہے۔یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس بینک نے یہ غیر قانوی طریقہ کب سے اختیار کررکھا تھا لیکن اگست 2013 میں نیویارک ٹائمز میں ایک خبر چھپی تھی کہ ریگولیٹرز چین میں جے پی مارگن کی جانب سے لوگوںکی بھرتی کے طریقہ کار کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں۔ جبکہ ٹائمز نے امریکی حکومت کی ایک خفیہ دستاویز کے حوالے سے لکھاتھا کہ یہ بینک پرکشش بزنس حاصل کرنے کے لیے کس طرح چین کے بااثر حکام کے بچوں کوملازمت دے رہاہے۔جے پی مارگن نے 2013 میں غلط کاریوں کااعتراف کرلیاتھا ۔جس کے بعد وفاقی حکومت نے اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیاتھا ۔بعد میں جے پی مارگن کے ایک ترجمان بریان مارچیونف نے ایک بیان میں کہاتھا کہ ہم نے لوگوں کی بھرتی کا یہ طریقہ کار2013 میں ہی تبدیل کردیاتھا اور اب بھرتی کے اعلیٰ ترین اصولوں پر عمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ بینک کی غلط کاریوں کی تفصیلات ملنے اور خود بینک کی جانب سے اس کے اعتراف کے بعد اس بینک کے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کے خلاف ان غلط کاریوں کے الزام میں کوئی مقدمہ تک قائم نہیں کیاگیا۔یہی نہیں بلکہ بینک کی جانب سے تفتیش میں تعاون کے نام سے بینک پر جرمانے کی رقم میں بھی کمی کردی گئی۔
امریکی بینکوں کی ان غلط کاریوں کا بنیادی سبب یہ ہے کہ امریکی قانون کے تحت بینکاروں کو ہر طرح کے کاموں کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے اور جب وہ کسی غلط کاری پر پکڑ میں آجاتے ہیں تو ان پر عاید کئے والے جرمانے میں بھی تفتیش میں تعاون کے نام پر نمایاں کمی کردی جاتی ہے جبکہ بینکوں کے اعلیٰ عہدیداروں اور چیف ایگزیکٹو ز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکا اور یورپ کے دیگر بہت سے بڑے بینک بھی اسی طرح کی بے قاعدگیوں میں ملوث ہیں جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ چین میں کام کرنے والے دیگر بینکوں جن میں ایچ ایس بی سی ،گولڈ مین ساچ وار ڈیوچے بینک شامل ہیں، نے اعتراف کیاہے کہ ان کے خلاف بھی چین میں عملے کی بھرتیوں اور دیگر غلط کاریوں کے الزام میں 2013 سے تفتیش ہورہی ہے۔
سیکورٹی اور ایکسچینج کمیشن کے قوانین پر عملدرآمد کے ذمہ دار شعبے کے سربراہ اینڈریو جے کیریس نے کا کہنا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ اس حوالے سے کمیشن کی جانب سے کی جانے والی اپنی نوعیت کی آخری کارروائی ہوگی تاہم جرمانے کی تازہ ترین سزا اپنی نوعیت کی سب سے بڑی سزا ہے ،اس کے علاوہ لندن وہیل ٹریڈنگ اسکینڈل میں بھی بینک کو 6 بلین ڈالر جرمانے کی سزا دی جاچکی ہے جبکہ بینک کو اپنی مارگیج سیکورٹیز میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے جو 2008 کے مالیاتی بحران کا سبب ثابت ہواتھا وزارت انصاف کے ساتھ تصفیے کے نتیجے میں 13 بلین ڈالر ادا کرنا پڑے تھے۔ان کا کہناہے کہ ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بینکوں کی ان غلط کاریوں کے انکشافات اور بھاری جرمانوں کے باوجود بینک کے کسی اعلیٰ عہدیدار کو جیل نہیں بھیجا گیا۔جس کی وجہ سے ان بینکاروں کو اپنی غلط کاریاں جاری رکھنے اور لوگوں کوگمراہ کرنے کا عمل جاری رکھنے اورانھیں لوٹنے کی کھلی چھوٹ ملی رہی،جس کے نتیجے میں انھیں جیل بھیجے جانے سے کم کوئی سزا نہیں ہونی چاہئے۔
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...
موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...
عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...