وجود

... loading ...

وجود

کراچی میں ٹریفک جام معمول بن گیا

پیر 09 جنوری 2017 کراچی میں ٹریفک جام معمول بن گیا

ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں آئے روز ٹریفک جام معمول بن گیا، ٹریفک جام نے عذاب کی شکل اختیار کر کے شہریوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔شہر قائد کی معروف ترین ایم اے جناح روڈ ہو، کاروباری مرکز صدر ہو یا شارع فیصل ہو، دن ہو یا رات بدترین ٹریفک جام معمول بن گیا ہے اور گاڑیوں، بسوں، ویگنوں کی میلوں لمبی قطاروں میں پھنسے شہری بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں۔شہر کی اس صورتحال میں ٹریفک پولیس کا کردار بے معنی ہو کر رہ گیا ہے، اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام کے دوران ٹریفک پولیس اہلکاروں کا دور دور تک نشان نظر نہیں آتا اور شہری کسی نہ کسی طرح گاڑیاں آڑی ترچھی کر کے راستے بنا کر گھروں کو پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ٹریفک جام کے باعث مریض بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ایمبولینس کے سائرن شور مچاتے ہیں لیکن دور تک پھیلے ہوئے گاڑیوں کے ہجوم میں ایمبولینس کو گزرنے کا راستہ نہیں ملتا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے ان مسائل کے حل کیلئے حکومتی سطح پر کوئی منصوبہ سازی نظر نہیں آتی۔ ٹریفک جام میں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل ہو جاتا ہے مگر شہری خون کے گھونٹ پینے کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتے،ٹریفک جام میں لوٹ مار کی وارداتوں کی شکایات بھی عام طور پر سامنے آتی ہیں۔کراچی میں صبح وشام کے اوقات میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام نے شہریوں کو شدیدذہنی اذیت سے دوچار کررکھا ہے جبکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے بعض بڑے منصوبے تعمیر کے بعد بھی عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچارہے، کراچی کے علاقے سائٹ میں قدیم منگھوپیر روڈ پر حبیب بینک چورنگی کے مقام پر پل تعمیر کیاگیا متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے اس فلائی اوور کے نیچے غنی چورنگی اور ناظم آباد سے آنے والی ٹریفک کو کو ڈائیورژن(متبادل روٹ)دیا تھا تاہم ذرائع کے مطابق اس چورنگی پر بعض بااثرصنعتی اداروں کے مالکان، ڈی سی آفس اور دیگر وجوہ کی بنا پر یہاں موجود رکاوٹیں غیرقانونی طور پر ہٹادی گئیں جس کی وجہ سے فلائی اوور کی افادیت ختم ہوگئی اور علاقے میں اکثر ٹریفک جام رہتا ہے۔ دوسری جانب گرین لائن بس منصوبے کی وجہ سے ناظم آباد چورنگی اور گلبہار کے علاقے میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤمنگھوپیر روڈ پر دگناہوگیاہے، ہرروز صبح اور شام کے معروف اوقات میں حبیب بینک چورنگی، نورس چورنگی، بڑا بورڈ ، پراناگولیمار اور ریکسر کے مقامات پر مسافروں کو گھنٹوں صبرآزما ٹریفک جام کا سامنا کرناپڑتا ہے او ر اس دوران لڑائی جھگڑے بھی روز کا معمول بن گئے ہیں
ٹریفک جام سے بچنے کے لیئے سینسر ایجاد ہوگیا
آج کل کے مصروف ایام میں ہر شخص کو منزل پر بروقت پہنچنے کی فکر لاحق رہتی ہے۔ ان حالات میں شہروں کی مصروف شاہراہوں پر عموما گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوں تو انسان نہ صرف اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور ٹریفک جام میں پھنسنے کے سبب بروقت گھر، دفتر یا کسی میٹنگ میں پہنچنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کے تدارک کے لئے حال ہی میں یورپ میں گاڑیوں کے لئے خاص طور پر ایک ایسا سینسر تیار کیا گیا ہے جو لوگوں کو بروقت شاہراہوں پر ٹریفک کی صورتحال سے آگاہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آپکو فوری طور پر متبادل راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیگا۔ پاکستان میں بھی اس سینسر کی آمد جلد متوقع ہے ،اس سینسر کی موجودگی کارسوار حضرات ٹریفک جام کی کوفت سے محفوظ رہ سکیں گے۔یورپ میں اس سینسر کو تیار کرنے والی کمپنی تین بڑے کارساز اداروں جن میں اوڈی، بی ایم ڈبلیو اور Daimler شامل ہیں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اس کمپنی نے حال ہی میں ان تینوں کمپنیوں کی شاہراہوں پر موجود ہزاروں گاڑیوں کا ڈیٹا حاصل کیا ہے جلد ہی دیگر کارساز اداروں سے بھی انکی شاہراہوں پر موجود گاڑیوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیا جائیگا۔ اس طرح شاہراہوں پر چلنے والی گاڑیوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے سڑکوں کی صورتحال کا اندازہ لگایا جائیگا اور اس ڈیٹا کو دیگر گاڑیوں کے ساتھ شئیر کیا جائیگا تاکہ وہ شاہراہوں پر ٹریفک کی صورتحال سے آگاہ ہو سکیں اور منزل تک پہنچنے کیلئے مصروف شاہراہوں پر ٹریفک جام سے محفوظ رہ سکیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال سے آگاہ کرنے کے لئے پہلے بھی چند ادارے کام کر رہے ہیں جن میں گوگل بھی شامل ہے۔ گوگل کی ایک کمپنی Waze سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال کا ڈیٹا جمع کرتی ہے اور اسے ایک ایپ کے ذریعے صارفین تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ وہ صورتحال سے آگاہ ہو سکیں۔ اسی طرح ایک اور کمپنی Urban Engines یہ بھی گوگل کی ملکیت ہے شہر کی مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کی صورتحال سے صارفین کو آگاہ رکھتی ہے۔ تاہم متذکرہ سینسر وہ پہلی ڈیوائس ہے جسے گاڑیوں میں براہ راست نصب کیا جا سکے گا اور یہ شاہراہوں کی صورتحال سے آگاہ کرے گا۔ گاڑی کی ونڈ سکرین پر موجود وائپر جیسے ہی چلنا شروع ہونگے تو اس کا مطلب یہ تصور کیا جائیگا کہ سڑک پر آگے چل کر ٹریفک کی رفتار ہلکی ہو چکی ہے جبکہ کار میں نصب کیمرے سڑکوں پر موجود ٹریفک سائنز سے سڑک پر جاری تعمیراتی کام سے کار سوار کو آگاہ کرینگے۔ اس طرح حاصل ہونے والی معلومات فوری طور پر کلاؤڈ پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی جو فوری طور پر ان تمام گاڑیوں کو میسر ہونگی جو اس نیٹ ورک سے منسلک ہوں گے۔ اگرچہ یہ اس حوالے سے پہلا قدم نہیں تاہم بہت اہم ضرور ہے۔
ٹریفک جام سے کینسر کا خطرہ بڑھ گیا
سڑکوں پر گاڑیوں کی زیادتی کے سبب ٹریفک جام ہونا اب تقریبا ہرجگہ ہی عام ہو گیا ہے۔ حالیہ ہونے والی طبی ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق طویل ٹریفک جام میں پھنسنے سے صحت کومتعدد خطرات، بالخصوص کینسر کے خطرات لاحق ہو سکتے۔ٹریفک جام میں پھنسنے سے صرف وقت کا زیاں نہیں بلکہ صحت کیلئے سنجیدہ نوعیت کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق بیرونی فضائی آلودگی انسانی صحت کو لاحق دس بڑے خطرات میں سے ہے، خصوصا شہری علاقوں میں۔ اکتوبر 2013میں ڈبلیو ایچ اونے بیرونی فضائی آلودگی کو انسانوں کیلئے کینسر کا سبب قرار دیا تھا۔تحقیق میں معلوم ہوا کہ جب گاڑیا ں سرخ بتی پر رکتی ہیں تو مختلف عمل سے گزرتی ہیں جیسے کہ آئیڈلنگ، ایکسلریشن اور ڈیسلریشن اور تیزابی بخارات کا نکلنا۔یہ بخارات ہوا میں منتشر ہونے میں وقت لگاتے ہیں۔اس لیے محققین کے مطابق وہ لوگ جو گاڑی کے اندر کھڑکیاں بند کر کے بیٹھتے ہیں لیکن گاڑی کے پنکھے چلائے رکھتے ہیں ، وہ باہر کی متعفن فضا کے خطرے کی زد میں آجاتے ہیں۔چلتا ہوا گاڑی کا پنکھا باہر سے گاڑی کے اندر فضائی گند پھینک کر گاڑی کو آلودہ کر دیتاہے۔تاہم ، تحقیق کے مطابق گاڑی کاپنکھا ری سرکولیٹ موڈ پر لگانا محفوظ ہے کیوں کہ اس طرح وہ باہر کی الودہ ہوا اندر نہیں کھینچتا
اینٹی انکروچمنٹ کی کاروائی پر ٹریفک جام رہا
3جنوری کوکراچی سہراب گوٹھ کے قریب اینٹی انکروچمنٹ کی کارروائی کے خلاف اندرون ملک چلنے والی بسوں کے مالکان نے احتجاج کیا۔سپر ہائی وے کے قریب سہراب گوٹھ پر محکمہ اینٹی انکروچمنٹ نے تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جس میں سہراب گوٹھ پر قائم اندرون ملک چلنے والی بسوں کے اڈے کے تجاوازات کو مسمار کیا گیا جس کے بعد بس مالکان اور ٹرانسپورٹرز نے سہراب گوٹھ پر احتجاج کیا اور سہراب گوٹھ کی دونوں سڑکوں کو بند کردیا۔احتجاج کے باعث سہراب گوٹھ، سپرہائی وے، شاہراہ پاکستان اور اطراف کے علاقوں میں ٹریفک جام ہوگیا،جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم پولیس اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد احتجاج ختم کرکے سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، احتجاج ختم ہونے کے باجود بھی ان سڑکوں پر شدید ٹریفک جام رہا اور لوگ دیر تک پریشان رہے


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر