وجود

... loading ...

وجود

سندھ کی نئی حکومت بھی نادیدہ ہاتھوں سے چلائی جارہی ہے؟

اتوار 08 جنوری 2017 سندھ کی نئی حکومت بھی نادیدہ ہاتھوں سے چلائی جارہی ہے؟

جب محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیراعظم بنیں اور دو مرتبہ حکومت سندھ بنائی اور تین وزرائے اعلیٰ کا تقرر کیا جن میں قائم علی شاہ‘ آفتاب شعبان میرانی اور عبداللہ شاہ شامل ہیں‘ ان کی حکومت میں کوئی فرنٹ مین یا پس پردہ کھلاڑی نہیں ہوتا تھا۔ تھوڑی بہت لفٹ ناہید خان کو ہوتی تھی اور وہ بھی کسی کے بارے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو سفارش کردیتی تھیں‘ واقفان حال بتاتے ہیں کہ 2008 ء میں جب محترمہ کی شہادت کے بعد پی پی نے حکومت بنائی تو ایک عجیب تماشہ شروع ہوا۔ پی پی نے وزیراعلیٰ سندھ کے لیے قائم علی شاہ کا تقرر کیا جو صرف ربر اسٹیمپ تھے ،اصل حکمراں دو طرح کے تھے ایک آصف علی زرداری اور فریال تالپور تو دوسرے حکمراں شعیب قریشی‘ اویس مظفر ٹپی اور ان کی ٹیم تھی۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سی ایم ہائوس میں آکراجلاس کرتے تو دو کرسیاں رکھی جاتیں ،ایک کرسی قائم علی شاہ کی اور دوسری کرسی فریال تالپور کی ہوتی تھی۔ حالانکہ یہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے کیونکہ ایک ایم این اے جب صوبائی کابینہ کی رکن ہی نہیں ہیں تو پھر وہ اجلاس میں کس طرح شریک ہوسکتی ہیں ۔اور اعلامیہ یہ جاری ہوتا تھا کہ فلاں اجلاس وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور رکن قومی اسمبلی فریال تالپور کی مشترکہ صدارت میں ہوا ۔اسکے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ ایوان صدر کے ہر حکم کی بھی بجا آوری کرتے ،پھر دوسری جانب اویس مظفر ٹپی اور شعیب قریشی اپنا مال پانی بنانے میں سرگرم ہوتے ،اویس مظفر ٹپی کو محکموں کے کام کرانے‘ افسران کی پوسٹنگ کرانے‘ زمینوں کی الاٹمنٹ کرانے اور ٹھیکیداروں کو ادائیگی کرانے کی ذمہ داری دی گئی‘ جبکہ میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کے ملزم شعیب قریشی کو محکمہ پولیس دے دیا گیا اور انہوں نے اپنے گھر کو منی پولیس ہیڈ آفس بنالیا اور پھر ایک دن شاہد ندیم بلوچ کو آئی جی سندھ پولیس بنوادیا تو بیورو کریسی حیران رہ گئی‘ مگر پھر شعیب قریشی کچھ پولیس افسران سے الجھ پڑے اور اوپر مال پانی بھی کم دینا شروع کیا تو ان کو سائڈ لائن لگادیا گیا۔پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ناراض حلقوں کا کہنا ہے کہ 2013ء کے عام الیکشن کے بعد تو ایسا لگ رہا تھا کہ اویس مظفر ٹپی ہی وزیراعلیٰ بن جائیں گے اور اویس مظفر ٹپی نے دل کھول کر کراچی کی زمینوں کی تباہی کی ،انہوں نے کھربوں روپے کمائے مگر اچانک ایک دن اویس مظفر ٹپی دبئی چلے گئے اور پھر ان سے سب کچھ ’’بڑے صاحب‘‘ نے چھین لیا‘ صرف کراچی میں ایک فلیٹ اور دبئی میں ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور اور ایک فلیٹ دے دیا گیا اور پھر ٹیم تبدیل کردی گئی۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ آگے چل کر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو تبدیل کرکے سید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ بنایا گیا اور ساتھ ایک نئی ٹیم اتاری گئی وہ انور مجید اور کرنل (ر) بابر پر مشتمل تھی‘ذرائع کا کہنا ہے کہ انور مجید پہلے آصف علی زرداری کی شوگر ملز کے منیجر تھے پھر انہوں نے آصف زرداری کو تجویز دی کہ ٹھٹھہ سے لے کر حیدرآباد تک جتنی بھی شوگر ملز ہیں ان کو اونے پونے داموں میں خرید لیا جائے اور اس مقصد کے لیے پولیس کو استعمال کیا جائے ۔آصف زرداری کو اور کیا چاہئے تھا؟ انہوں نے دھڑا دھڑ یہ شوگر ملز خریدنا شروع کردیں۔ حتیٰ کہ ذوالفقار مرزا سے بھی شوگر مل چھین لی گئی‘ اب انور مجید کو پولیس کا محکمہ دے دیا گیا ہے اور وہ جسے چاہے تبدیل کرالے جسے چاہے اچھی پوسٹنگ دلائے‘ انور مجید نے بھی اپنے من پسند پولیس افسران رائو انوار ‘ ڈاکٹر فاروق‘ پیر فرید جان سرہندی پر مشتمل ایک ٹیم بنالی جو ہر طرح کے جائز وناجائز کام کرتے رہے ۔جو کام اویس مظفر ٹپی کرتا تھا اب وہی کام انور مجید کرنے لگے ہیں‘ زمینوں پر قبضے کرنے اور قبضے چھڑانے کا بھی کام کرنے لگے ہیں۔
انہوں نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے پہلے کہا کہ 12ہزار پولیس اہلکار بھرتی کرنے کے لیے وہ خود فہرست دیں گے لیکن آئی جی سندھ پولیس نے انکار کردیا‘ یوں ایک اہلکار کی بھرتی پر 5لاکھ روپے کے حساب سے 6ارب روپے انور مجید کے ہاتھ سے نکل گئے پھر انہوں نے آئی جی سندھ پولیس سے کہا کہ رائو انوار‘ ڈاکٹر فاروق اور پیر فرید جان سرہندی کو اچھی پوسٹنگ دیں مگر آئی جی سندھ پولیس نے انکار کیا اور ان کو کہا کہ وہ وزیراعلیٰ سے بات کریں‘ پھر ان سے کہا کہ گنے کے کاشتکاروں کو گرفتار کرکے گنا ان کی شوگر ملز کو دلائیں ،اس پر بھی آئی جی سندھ پولیس نے انکار کیا ،اس پر انور مجید نے آصف زرداری کو کہہ کر آئی جی سندھ پولیس کو جبری چھٹی پر بھیج دیا اور پھر آئی جی کے تبادلے کی کوشش کی ۔مگر وفاقی حکومت اور سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی کو نہ ہٹانے کی ہدایت کی۔ اب آئی جی سے انور مجید نے کہہ کر رائو انوار کو ملیر کا تیسری بار ایس ایس پی لگوادیا ہے۔
اس ٹیم کے دوسرے رکن کرنل (ر) بابر ہیں ، ماضی میں جب آصف زرداری صدر تھے تو وہ ان کے اے ڈی سی تھے ۔پھر آصف زرداری کے وہ مستقل اسٹاف افسر بن کر فوج سے ریٹائر منٹ لی‘ ان کا کام اعلیٰ سرکاری افسران کے تبادلے کرانا اور ارکان اسمبلی اور وزراء کو آصف زرداری کے احکامات دینا ہیں۔پچھلے سال ایک ایم این اے نے جب آصف زرداری سے الجھنے کی کوشش کی تو کرنل (ر) بابر نے ان کے گھٹنوں پر راڈ سے وار کیے اور آج تک وہ ایم این اے گھومنے پھرنے سے لاچار ہے۔ ہفتہ کی شام ان کی بیٹی کی اسلام آباد میں شادی تھی ۔آصف زرداری‘ بلاول‘ وزیراعلیٰ سندھ سمیت وزراء شریک ہوئے جبکہ پورا سندھ ہائوس ان کے پاس تھا جہاں ایم پی ایز اور وزراء ان کی خدمت کرتے رہے۔

عقیل احمد


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر