... loading ...
امریکا میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں مبینہ طور پر روس کی جانب سے سائبر حملوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے بعد امریکا نے روس کے 35 سفارت کار ملک بدر کردیے ہیںجس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک میں تنازع اپنی انتہا کی جانب بڑھ رہا ہے جس کا لازمی اختتام براہ راست ٹکرائو کی صورت میں منتج ہو سکتا ہے ۔روس سابق سپر پاور ریاست ہے جبکہ امریکا اس وقت سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ،متحدہ سویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد روس نے کافی عرصہ خاموشی سے گزارا تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے روس نے بھی دنیا بھر میں اپنا اثرونفوذ بڑھا دیا ہے اور اس وقت شامی جنگ میں حکومت کا اتحادی ہے جہاں امریکا کا بھی کافی کچھ اسٹیک پر لگا ہوا ہے جبکہ اس سے قبل یوکرین کے معاملے میں بھی روس نے طاقت کا مظاہرہ کیا ،تاہم روس امریکا تنازع اس وقت شدید ہوگیا جب رواں سال امریکی انتخابات میںامریکی اسٹبلشمنٹ کی فیورٹ امیدوارہلیری کی جگہ غیر متوقع طور پر ٹرمپ برسراقتدار آگئے جس کے کچھ دنوں بعد امریکی حساس اداروں نے یہ دعویٰ کیا کہ روس نے سائبر حملہ کیا اور الیکشن کو ہائی جیک کیا ،اس دعوے کو روس اور خود ٹرمپ نے مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔بعد ازاں یہ بھی انکشاف ہوا کہ روس کے بجائے امریکا سے ہی ’’اندر کی خبریں ‘‘ لیک کی گئیں اور وکی لیکس نے دعویٰ کیا کہ خبر لیک کرنے والے کو نامعلوم قاتلوں نے نشانہ بنایا ہے ۔اب یہ نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق امریکا نے سفارتی میدان میں سخت قدم اٹھاتے ہوئے روس کے 35سفارتکاروں کو 72گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے ۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اوباما انتظامیہ نے تمام روسی سفارتکاروں کو امریکا میں نا پسندیدہ قرار دیا۔ اور روسی سفارت کاروں کو سائبر حملے کی اطلاعات کے بعد ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک بدر کرنے کا اعلان کیاہے۔باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکی انتخابات میں سائبر آپریشن اور امریکی حکام کو حراساں کرنے پر روسی حکومت کے خلاف متعدد کارروائیوں کے احکامات دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں متعدد مرتبہ روسی حکومت کو دیے جانے والے نجی اور عوامی پیغامات کے بعد عمل میں لائی جارہی ہیں اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزیوں کی صورت میں امریکی مفادات کو متاثر کرنے کے جواب میں یہ ضروری اور مناسب ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کارروائیوں میں روس کے خفیہ اداروں ایف ایس بی اور جی آر یو پر پابندیاں اور امریکا میں کام کرنے والے 35 روسی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دینا شامل ہے۔اس کے علاوہ امریکا کی جانب سے نیویارک اور میری لینڈ میں موجود دو روسی کمپاؤنڈز کو بھی بند کردیا گیا ہے، امریکا کے مطابق یہ دونوں کمپاؤنڈز انٹیلی جنس سے متعلق مقاصد کے لیے استعمال کیے جارہے تھے۔
خیال رہے کہ 12 دسمبر 2016 کو امریکا کے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے مکمل اعتماد کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ روسی انٹیلی جنس ادارے نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں تھے بلکہ انہوں نے صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کو کمزور بھی کیا۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے اراکین ری پبلکن سینیٹر جان مکین اور لنڈسے گراہم اور 2 ڈیموکریٹک سینیٹرز نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق رپورٹس پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک پارٹی کا معاملہ نہیں ہے۔
جس کے بعد 16 دسمبر 2016 کو یہ خبریں منظر عام پر آئیں کہ امریکا کے انٹیلی جنس عہدیداروں کو یقین ہے کہ صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے والی مبینہ مہم میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن براہ راست ملوث ہیں۔
ایک سینئر عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو بتایا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ذاتی طور پر اس بات کی ہدایات جاری کی تھیں کہ کس طرح ڈیموکریٹس کا مواد ہیک کرکے اسے لیک کرنا ہے اور پھر کیسے اسے استعمال کرنا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا کہ امریکی خفیہ اداروں کے 2 عہدیداروں کو روسی صدر کی ذاتی مداخلت سے متعلق معلومات تک براہ راست رسائی تھی۔امریکی انٹیلی جنس عہدیداروں کے مطابق روسی صدر کی ذاتی مداخلت سے متعلق ٹھوس معلومات امریکی اتحادیوں کے لیے جاسوسی کا کام کرنے والے سفارتی ذرائع سے حاصل کی گئی۔
انٹیلی جنس ذرائع نے نشریاتی ادارے این بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ روسی صدر پیوٹن کا مقصد مستقبل میں کئی اہم پہلوؤں پر کامیابی حاصل کرنا ہے، روس کا مقصد امریکا کو اتحادیوں کی نظر میں نیچا دکھانا اور امریکی سیاست کو کرپٹ ثابت کرنا ہے۔ادھر امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات سامنے آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مضحکہ خیزقراردیتے ہوئے اپنی ایک ٹوئیٹ میں سوالیہ انداز میں کہا تھا کہ اگر انتخابات میں روس یا کسی اور کی جانب سے ہیکنگ کی جانے کی اطلاعات تھیں تو وائٹ ہاؤس کو کارروائی کرنے میں اتنی دیر کیوں لگی؟
امریکی میڈیا میں صدارتی انتخابات کے دوران روس کی جانب سے ہیکنگ سے متعلق کافی بیان بازی کیے جانے کے باوجود یہ خبریں لوگوں کی خاص توجہ حاصل نہیں کر پائیں اور امریکی عوام کی توجہ انتخابات پر ہی مرکوز رہی۔دوسری جانب روس نے امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا تھا۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے امریکی میڈیا کی رپورٹس کو بے وقوفی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے جب امریکی میڈیا کی رپورٹس دیکھیں تو وہ حیران رہ گئے۔
واضح رہے کہ رواں برس 8 نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر یقینی کامیابی کے بعد امریکی انتخابات میں دھاندلی کی شکایات موصول ہونے کے بعد گزشتہ ماہ امریکی ریاست وسکانسن کے الیکشن بورڈ نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی منظوری دی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو بھی مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے مقبول اور محفوظ ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ڈونلڈ ٹرمپ 8 نومبر 2016 کو ہونے والے انتخابات میں امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوئے تھے، وہ آئندہ ماہ 20 جنوری 2017 کو اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...