... loading ...
ملک سے منی لانڈرنگ،کرپشن اور رشوت کی لین دین کی روک تھام کے لیے 19 دسمبر کوسینیٹ میں 5ہزار روپے کے کرنسی نوٹ بند کرنے کے حوالے سے منظور کی جانے والی قرارداد کے بعد پاکستان کے بازاروں میں افراتفری اور غیر یقینی کی کیفیت پیداہوگئی ہے۔اگرچہ حکومت کی جانب سے 5ہزار کے نوٹ بند کیے جانے کی افواہوں کی واضح الفاظ میں تردید کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور5 ہزار کا کرنسی نوٹ بند نہیں کیاجائے گا لیکن مارکیٹ میں موجود بے یقینی کا ماحول ختم ہونے کانام نہیں لے رہا،حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے5ہزار روپے کانوٹ بند نہ کرنے کی یقین دہانی اور اس حوالے سے وضاحتیں ان رپورٹوں کے بعد سامنے آئی ہیں جن میں کہاگیاتھا کہ حکومت کی جانب سے 5 ہزار کانوٹ بند کرنے کے اعلان کے بعد اب لوگ سونے کی خریداری کے لیے دوڑ پڑیں گے اور اس طرح مارکیٹ میں دولت کی گردش میں کمی آنے سے تجارتی سرگرمیاں جو پہلے ہی جمود جیسی صورت حال کا شکار ہیں مزید رک جائیں گی۔
وزارتِ خزانہ نے 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کی بندش کے حوالے سے میڈیا اور کاروباری حلقوں میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔وزارت خزانہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی 5 ہزار کا نوٹ بند کرنے کا کوئی جواز موجود ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ مالیت کے کرنسی نوٹ یعنی 5 ہزار روپے کے نوٹ کی قدر کئی اہم غیر ملکی کرنسیوں کے سب سے زائد مالیت کے نوٹوں جیسے 100 ڈالر، 200یورو اور 50 پاؤنڈ سے کم ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سال 2015-2016 کے دوران چھپنے والے نوٹوں میں سے 5000 کے نوٹوں کی شرح صرف 17 فیصد تھی۔
ترجمان نے کہا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ 5 ہزار کا نوٹ بند ہوجانے سے کاروباری لین دین شدید متاثر ہوگی اور لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، لہذا لین دین کی آسانی کو متاثر کرنا بعید از قیاس اور واضح طور پر مسترد ہے۔وزارتِ خزانہ کی جانب سے مزید وضاحت کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کے تعاون سے قومی مالیاتی حکمت عملی کا آغاز کیا جارہا ہے جس کے تحت ڈیجیٹل لین دین اور آسان بینکنگ کو لوگوں کے دروازوں تک پہنچایا جائے گا اور یوں لوگوں کا نوٹوں پر انحصار واضح حد تک کم ہوسکے گا۔ان کے مطابق موجودہ نوٹوں کو بند کرنے کے بجائے یہ طریقہ ہی معیشت کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ 19 دسمبر کو سینیٹ میں ناجائز پیسے کے بہائو کو روکنے کے لیے 5 ہزار کے نوٹوں کی بندش سے متعلق قرارداد منظور کی گئی تھی۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر عثمان سیف اللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی سینیٹرز کی اکثریت نے حمایت کی تھی۔قرارداد میں کہا گیا تھا کہ 5000 کے نوٹ واپس لیے جانے سے بینک اکائونٹس استعمال کی حوصلہ افزائی اور غیر تحریری معیشت کے سائز میں کمی واقع ہوگی۔قرارداد میں مزید کہا گیا تھاکہ مارکیٹ سے 5 ہزار کے نوٹوں کی واپسی تین سے پانچ سال میں ہونی چاہیے۔
وزیر قانون زاہد حامد نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھاکہ نوٹ واپس لینے سے معاشی بحران پیدا ہوگا اور 5 ہزار کے نوٹ کی غیر موجودگی سے لوگ غیر ملکی کرنسی کی طرف مائل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں 3 اعشاریہ 4 ٹریلین کے نوٹ زیر گردش ہیں، جن میں سے ایک اعشاریہ 02 فیصد نوٹ 5000 کے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے رکن سینیٹر عثمان سیف اللہ کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بڑے نوٹوں کے منی لانڈرنگ اور کرپشن میں استعمال ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔بھارت کی مثال دیتے ہوئے سینیٹر عثمان سیف اللہ نے کہا کہ پوری دنیا میں بڑے کرنسی نوٹوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے اور بھارت نے حال ہی میںایک ہزار اور 500 روپے کے کرنسی نوٹوں کو بند کردیا ہے جبکہ یورپ میں 500 یوروز کا نوٹ مارکیٹ میں لے کر جانے پر پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔عثمان سیف اللہ کی جانب سے یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں پیش کی گئی تھی، جب حال ہی میں بھارتی حکومت نے ملک میں کالے دھن کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے 500 اور ایک ہزار کے نوٹوں کا استعمال ختم کرنے کا اعلان کیا اوریہی وجہ ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مسلسل واضح الفاظمیں 5ہزار کاکرنسی نوٹ بند نہ کرنے کی یقین دہانیوں کے باوجود عام آدمی تو کجا کاروباری حلقے بھی بے یقینی کی کیفیت میں ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ حکومت کسی دن اچانک ہی 5ہزار کانوٹ بند کردینے کااعلان کردے گی ۔اس طرح لوگوں کے کروڑوں روپے پھنس کررہ جائیں گے اور اس کوتبدیل کرانے کے لیے لوگوں کو ایف بی آر کے چکر لگانے اور طرح طرح کے گوشوارے اور حلف نامے جمع کرانے پر مجبور ہونا پڑسکتاہے۔
پاکستان کے کرنسی ڈیلرز کا بھی یہی خیال ہے کہ حکومت کو بہرطور سینیٹ میں منظور کردہ قرار داد پر عملدرآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور کسی بھی دن 5 ہزار روپے کے نوٹ بند کرنے کااعلان کیاجاسکتاہے ۔جہاں تک سینیٹ کاتعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ملک کا سب سے بڑا قانون ساز ادارہ ہے اور اس کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کویوں ہی ردی کی ٹوکری کی نظر نہیں کیاجاسکتا اور اگرچہ حکومت فی الوقت اس کی مخالفت کررہی ہے اور اس ضمن میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ 5ہزار کا نوٹ بند کرنے کے حوالے سے سینیٹ کی منظور کردہ قرار داد پر عمل سے پاکستان میں بھی بھارت کی طرح مالیاتی بحران پیداہوجائے گا اور پاکستان کی معیشت اس طرح کے بحران کامقابلہ کرنے اور اس کے نتائج برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن اگر ارکان سینیٹ حکومت کے اس استدلال کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو حکومت کو یہ معاملہ قومی اسمبلی میں لے جانا پڑے گا اور قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر اس کورد کرائے جانے کے باوجود دوبارہ اسے سینیٹ میں لانا ہوگا،اس سے یہ واضح ہے کہ جب تک حکومت سینیٹ کے ارکان کی اکثریت کواس فیصلے کے منفی نتائج کے حوالے سے قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی یہ معاملہ ختم نہیں ہوتا اور جب تک یہ پورا عمل مکمل ہوکر اپنے انجام تک نہیں پہنچتا اس بے وقت کی قرارداد کی وجہ سے پیداہونے والا ابہام اور غیر یقینی کا ماحول کسی نہ کسی صورت برقرار رہے گا۔اس کے نتیجے میں ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑیں گی اور سونے کے علاوہ ڈالر کی خریداری کے رجحان میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں عالمی مالیاتی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر جو پہلے ہی بہت کمزور ہے مزید کمزور ہوگی اور ڈالر کی قیمت ایک دفعہ پھر آسمان سے باتیں کرنے لگے گی۔
جہاں تک منی لانڈرنگ کے لیے بڑے کرنسی نوٹوں کے استعمال کاتعلق ہے تو اگرچہ ایک حد تک یہ درست ہے کہ کرنسی کے اسمگلر عام طورپر بڑے نوٹ ہی اسمگل کرتے ہیں لیکن اب منی لانڈرنگ کے لیے بڑے کرنسی نوٹ استعمال کرنے کے بجائے ڈالر استعمال کئے جانے لگے ہیں جس کااندازہ این علی سے لے کر اب تک کرنسی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کئے جانے والے تمام ملزمان کے پاس سے برآمد ہونے والی کرنسی سے لگایاجاسکتاہے۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حال ہی میں بعض ایسے کرنسی اسمگلر بھی پکڑے جاچکے ہیں جن کے پاس بھاری مالیت کی پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی جو وہ بیرون ملک ڈالر کی خریداری کے لیے لے جانا چاہتے تھے اور ڈالر خرید کر دوبارہ انھیں پاکستان ہی اسمگل کیاجانا تھا۔اس لئے کرنسی اسمگلنگ یا منی لانڈرنگ کے لیے پاکستانی کرنسی کے استعمال کے امکانات کو قطعی رد نہیں کیاجاسکتا۔جب حکومت نے5ہزار کا نوٹ جاری کرنے کا اعلان کیاتھا مالیاتی ماہرین نے اسی وقت یہ خدشہ ظاہر کردیاتھا کہ اس کے نتیجے میں رشوت کے لین دین اور کرنسی اسمگلنگ میں آسانیا ں پیداہوں گی اور مقامی سطح پر لوگوں کی قوت خریدمیں کمی آئے گی کیونکہ اس سے پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کے گمان کو تقویت ملے گی، لیکن ارباب حکومت نے ان خدشات کوبے بنیاد قرار دیتے ہوئے 5ہزار کانوٹ جاری کرنے کافیصلہ کیاتھا اور یہ دلیل دی تھی کہ بڑی مالیت کے نوٹوں کے اجرا سے پاکستانی کرنسی پر عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر بلیک منی یعنی کالادھن موجود ہے،جس کااندازہ حال ہی میں بعض سرکاری ملازموں کے گھروں سے برآمد ہونے والے کروڑوں روپے مالیت کے پاکستانی کرنسی نوٹوں اور ڈالر اور سونے کی بھاری مقدار کی برآمدگی کی خبروں اوراس میں ملوث سرکاری افسران کی جانب سے گلو خلاصی کے لیے اربوں روپے واپس سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے وعدوں سے لگایاجاسکتاہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ ہماری حکومت کو جو امور مملکت چلانے کے لیے بھاری شرح سود پرجو قرض لینا پڑرہے ہیں اس کی بھی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں کروڑوں روپے تجوریوں میں چھپاکر رکھنے والے لوگ اپنی آمدنی پر مناسب شرح سے ٹیکس ادا کرنے کوتیار نہیں ہوتے اور20کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد 10لاکھ سے بھی کم ہے اور ان میں سے بھی بیشتر لوگ پوری آمدنی پر ٹیکس ادانہیں کرتے بلکہ صرف اپنا کھاتا صاف رکھنے اور سرکاری ٹھیکے یالائسنسوں کے حصول کی شرط پوری کرنے کے لیے معمولی ساٹیکس ادا کرکے ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں۔ایسی صورت میں بڑی مالیت کے نوٹوں کی بندش ضروری معلوم ہوتی ہے اور اس حوالے سے سینیٹ کی قرارداد کو قطعی غلط قرار نہیں دیاجاسکتا۔اس حوالے سے حکومت کایہ خیال کہ 5ہزار کانوٹ بند کرنے سے ملک میں بھارت کی طرح ہلچل مچ جائے گی درست نہیں ہے کیونکہ اس ضمن میں یہ بات مد نظر رکھی جانی چاہئے کہ بھارت میں 500اور 1000کے نوٹ ایک ساتھ بند کئے گئے جو کہ مارکیٹ میں روزمرہ لین دین میں استعمال ہوتے تھے اس لئے اس کی ضرب براہ راست عام آدمی اور چھوٹے تاجروں اور دکانداروں پر بھی پڑی جبکہ پاکستان میں5000کا نوٹ عام لین دین میں کم ہی استعمال ہوتاہے اس لئے اس سے چھوٹے تاجروں ،دکانداروں اور گاہکوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گااور ان کی بندش سے ملک کی مالیاتی مارکیٹ میں کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیںہوگی ہاں یہ ضرور ہوگا کہ جیسا کہ کرنسی ڈیلرز نے خیال ظاہر کیاہے کہ 5ہزار کے نوٹوں کی بندش کی صورت میں کالادھن بڑے نوٹوں کی شکل میں گھروںمیں چھپاکر رکھنے والے سماج دشمن عناصر اپنی یہ رقم سونے یاڈالر کی خریداری میں لگانے کو ترجیح دیں گے کیونکہ سونے کی تھوڑی سی مقدار کو نوٹوں کی لاتعداد گڈیوں کے مقابلے میں چھپاکر رکھنا زیادہ آسان ہوتاہے ،اسی طرح ڈالر بھی پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں کم تعداد میں ہوں گے اور ان کوکسی وقت بھی تبدیل کرایاجاسکتاہے۔
تہمینہ حیات
کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...
پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...
ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...
مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...
محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...
میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...
اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...
اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...
شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بر...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ رک کر عوام سے خطابات کیے، نعرے لگوائے، عوام کی جانب سے گل پاشی ، لاہور ہائیکورٹ بار میںتقریب سے خطاب سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں عمران خان زندہ بادکے نعرے گونج رہے ہیں،خان صاحب کا آخری پیغام سڑکوں پر آئیں ت...
جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل ان...