وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عوام بھارت میں کرنسی بندش جیسی صورتحال سے خوفزدہ

بدھ 28 دسمبر 2016 عوام بھارت میں کرنسی بندش جیسی صورتحال سے خوفزدہ

ملک سے منی لانڈرنگ،کرپشن اور رشوت کی لین دین کی روک تھام کے لیے 19 دسمبر کوسینیٹ میں 5ہزار روپے کے کرنسی نوٹ بند کرنے کے حوالے سے منظور کی جانے والی قرارداد کے بعد پاکستان کے بازاروں میں افراتفری اور غیر یقینی کی کیفیت پیداہوگئی ہے۔اگرچہ حکومت کی جانب سے 5ہزار کے نوٹ بند کیے جانے کی افواہوں کی واضح الفاظ میں تردید کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور5 ہزار کا کرنسی نوٹ بند نہیں کیاجائے گا لیکن مارکیٹ میں موجود بے یقینی کا ماحول ختم ہونے کانام نہیں لے رہا،حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے5ہزار روپے کانوٹ بند نہ کرنے کی یقین دہانی اور اس حوالے سے وضاحتیں ان رپورٹوں کے بعد سامنے آئی ہیں جن میں کہاگیاتھا کہ حکومت کی جانب سے 5 ہزار کانوٹ بند کرنے کے اعلان کے بعد اب لوگ سونے کی خریداری کے لیے دوڑ پڑیں گے اور اس طرح مارکیٹ میں دولت کی گردش میں کمی آنے سے تجارتی سرگرمیاں جو پہلے ہی جمود جیسی صورت حال کا شکار ہیں مزید رک جائیں گی۔
وزارتِ خزانہ نے 5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کی بندش کے حوالے سے میڈیا اور کاروباری حلقوں میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔وزارت خزانہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی 5 ہزار کا نوٹ بند کرنے کا کوئی جواز موجود ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ مالیت کے کرنسی نوٹ یعنی 5 ہزار روپے کے نوٹ کی قدر کئی اہم غیر ملکی کرنسیوں کے سب سے زائد مالیت کے نوٹوں جیسے 100 ڈالر، 200یورو اور 50 پاؤنڈ سے کم ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سال 2015-2016 کے دوران چھپنے والے نوٹوں میں سے 5000 کے نوٹوں کی شرح صرف 17 فیصد تھی۔
ترجمان نے کہا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ 5 ہزار کا نوٹ بند ہوجانے سے کاروباری لین دین شدید متاثر ہوگی اور لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، لہذا لین دین کی آسانی کو متاثر کرنا بعید از قیاس اور واضح طور پر مسترد ہے۔وزارتِ خزانہ کی جانب سے مزید وضاحت کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کے تعاون سے قومی مالیاتی حکمت عملی کا آغاز کیا جارہا ہے جس کے تحت ڈیجیٹل لین دین اور آسان بینکنگ کو لوگوں کے دروازوں تک پہنچایا جائے گا اور یوں لوگوں کا نوٹوں پر انحصار واضح حد تک کم ہوسکے گا۔ان کے مطابق موجودہ نوٹوں کو بند کرنے کے بجائے یہ طریقہ ہی معیشت کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ 19 دسمبر کو سینیٹ میں ناجائز پیسے کے بہائو کو روکنے کے لیے 5 ہزار کے نوٹوں کی بندش سے متعلق قرارداد منظور کی گئی تھی۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر عثمان سیف اللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی سینیٹرز کی اکثریت نے حمایت کی تھی۔قرارداد میں کہا گیا تھا کہ 5000 کے نوٹ واپس لیے جانے سے بینک اکائونٹس استعمال کی حوصلہ افزائی اور غیر تحریری معیشت کے سائز میں کمی واقع ہوگی۔قرارداد میں مزید کہا گیا تھاکہ مارکیٹ سے 5 ہزار کے نوٹوں کی واپسی تین سے پانچ سال میں ہونی چاہیے۔
وزیر قانون زاہد حامد نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھاکہ نوٹ واپس لینے سے معاشی بحران پیدا ہوگا اور 5 ہزار کے نوٹ کی غیر موجودگی سے لوگ غیر ملکی کرنسی کی طرف مائل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں 3 اعشاریہ 4 ٹریلین کے نوٹ زیر گردش ہیں، جن میں سے ایک اعشاریہ 02 فیصد نوٹ 5000 کے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے رکن سینیٹر عثمان سیف اللہ کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بڑے نوٹوں کے منی لانڈرنگ اور کرپشن میں استعمال ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔بھارت کی مثال دیتے ہوئے سینیٹر عثمان سیف اللہ نے کہا کہ پوری دنیا میں بڑے کرنسی نوٹوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے اور بھارت نے حال ہی میںایک ہزار اور 500 روپے کے کرنسی نوٹوں کو بند کردیا ہے جبکہ یورپ میں 500 یوروز کا نوٹ مارکیٹ میں لے کر جانے پر پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔عثمان سیف اللہ کی جانب سے یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں پیش کی گئی تھی، جب حال ہی میں بھارتی حکومت نے ملک میں کالے دھن کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے 500 اور ایک ہزار کے نوٹوں کا استعمال ختم کرنے کا اعلان کیا اوریہی وجہ ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مسلسل واضح الفاظمیں 5ہزار کاکرنسی نوٹ بند نہ کرنے کی یقین دہانیوں کے باوجود عام آدمی تو کجا کاروباری حلقے بھی بے یقینی کی کیفیت میں ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ حکومت کسی دن اچانک ہی 5ہزار کانوٹ بند کردینے کااعلان کردے گی ۔اس طرح لوگوں کے کروڑوں روپے پھنس کررہ جائیں گے اور اس کوتبدیل کرانے کے لیے لوگوں کو ایف بی آر کے چکر لگانے اور طرح طرح کے گوشوارے اور حلف نامے جمع کرانے پر مجبور ہونا پڑسکتاہے۔
پاکستان کے کرنسی ڈیلرز کا بھی یہی خیال ہے کہ حکومت کو بہرطور سینیٹ میں منظور کردہ قرار داد پر عملدرآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور کسی بھی دن 5 ہزار روپے کے نوٹ بند کرنے کااعلان کیاجاسکتاہے ۔جہاں تک سینیٹ کاتعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ملک کا سب سے بڑا قانون ساز ادارہ ہے اور اس کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کویوں ہی ردی کی ٹوکری کی نظر نہیں کیاجاسکتا اور اگرچہ حکومت فی الوقت اس کی مخالفت کررہی ہے اور اس ضمن میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ 5ہزار کا نوٹ بند کرنے کے حوالے سے سینیٹ کی منظور کردہ قرار داد پر عمل سے پاکستان میں بھی بھارت کی طرح مالیاتی بحران پیداہوجائے گا اور پاکستان کی معیشت اس طرح کے بحران کامقابلہ کرنے اور اس کے نتائج برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن اگر ارکان سینیٹ حکومت کے اس استدلال کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو حکومت کو یہ معاملہ قومی اسمبلی میں لے جانا پڑے گا اور قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر اس کورد کرائے جانے کے باوجود دوبارہ اسے سینیٹ میں لانا ہوگا،اس سے یہ واضح ہے کہ جب تک حکومت سینیٹ کے ارکان کی اکثریت کواس فیصلے کے منفی نتائج کے حوالے سے قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی یہ معاملہ ختم نہیں ہوتا اور جب تک یہ پورا عمل مکمل ہوکر اپنے انجام تک نہیں پہنچتا اس بے وقت کی قرارداد کی وجہ سے پیداہونے والا ابہام اور غیر یقینی کا ماحول کسی نہ کسی صورت برقرار رہے گا۔اس کے نتیجے میں ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑیں گی اور سونے کے علاوہ ڈالر کی خریداری کے رجحان میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں عالمی مالیاتی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر جو پہلے ہی بہت کمزور ہے مزید کمزور ہوگی اور ڈالر کی قیمت ایک دفعہ پھر آسمان سے باتیں کرنے لگے گی۔
جہاں تک منی لانڈرنگ کے لیے بڑے کرنسی نوٹوں کے استعمال کاتعلق ہے تو اگرچہ ایک حد تک یہ درست ہے کہ کرنسی کے اسمگلر عام طورپر بڑے نوٹ ہی اسمگل کرتے ہیں لیکن اب منی لانڈرنگ کے لیے بڑے کرنسی نوٹ استعمال کرنے کے بجائے ڈالر استعمال کئے جانے لگے ہیں جس کااندازہ این علی سے لے کر اب تک کرنسی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کئے جانے والے تمام ملزمان کے پاس سے برآمد ہونے والی کرنسی سے لگایاجاسکتاہے۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حال ہی میں بعض ایسے کرنسی اسمگلر بھی پکڑے جاچکے ہیں جن کے پاس بھاری مالیت کی پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی جو وہ بیرون ملک ڈالر کی خریداری کے لیے لے جانا چاہتے تھے اور ڈالر خرید کر دوبارہ انھیں پاکستان ہی اسمگل کیاجانا تھا۔اس لئے کرنسی اسمگلنگ یا منی لانڈرنگ کے لیے پاکستانی کرنسی کے استعمال کے امکانات کو قطعی رد نہیں کیاجاسکتا۔جب حکومت نے5ہزار کا نوٹ جاری کرنے کا اعلان کیاتھا مالیاتی ماہرین نے اسی وقت یہ خدشہ ظاہر کردیاتھا کہ اس کے نتیجے میں رشوت کے لین دین اور کرنسی اسمگلنگ میں آسانیا ں پیداہوں گی اور مقامی سطح پر لوگوں کی قوت خریدمیں کمی آئے گی کیونکہ اس سے پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کے گمان کو تقویت ملے گی، لیکن ارباب حکومت نے ان خدشات کوبے بنیاد قرار دیتے ہوئے 5ہزار کانوٹ جاری کرنے کافیصلہ کیاتھا اور یہ دلیل دی تھی کہ بڑی مالیت کے نوٹوں کے اجرا سے پاکستانی کرنسی پر عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر بلیک منی یعنی کالادھن موجود ہے،جس کااندازہ حال ہی میں بعض سرکاری ملازموں کے گھروں سے برآمد ہونے والے کروڑوں روپے مالیت کے پاکستانی کرنسی نوٹوں اور ڈالر اور سونے کی بھاری مقدار کی برآمدگی کی خبروں اوراس میں ملوث سرکاری افسران کی جانب سے گلو خلاصی کے لیے اربوں روپے واپس سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے وعدوں سے لگایاجاسکتاہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ ہماری حکومت کو جو امور مملکت چلانے کے لیے بھاری شرح سود پرجو قرض لینا پڑرہے ہیں اس کی بھی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں کروڑوں روپے تجوریوں میں چھپاکر رکھنے والے لوگ اپنی آمدنی پر مناسب شرح سے ٹیکس ادا کرنے کوتیار نہیں ہوتے اور20کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد 10لاکھ سے بھی کم ہے اور ان میں سے بھی بیشتر لوگ پوری آمدنی پر ٹیکس ادانہیں کرتے بلکہ صرف اپنا کھاتا صاف رکھنے اور سرکاری ٹھیکے یالائسنسوں کے حصول کی شرط پوری کرنے کے لیے معمولی ساٹیکس ادا کرکے ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں۔ایسی صورت میں بڑی مالیت کے نوٹوں کی بندش ضروری معلوم ہوتی ہے اور اس حوالے سے سینیٹ کی قرارداد کو قطعی غلط قرار نہیں دیاجاسکتا۔اس حوالے سے حکومت کایہ خیال کہ 5ہزار کانوٹ بند کرنے سے ملک میں بھارت کی طرح ہلچل مچ جائے گی درست نہیں ہے کیونکہ اس ضمن میں یہ بات مد نظر رکھی جانی چاہئے کہ بھارت میں 500اور 1000کے نوٹ ایک ساتھ بند کئے گئے جو کہ مارکیٹ میں روزمرہ لین دین میں استعمال ہوتے تھے اس لئے اس کی ضرب براہ راست عام آدمی اور چھوٹے تاجروں اور دکانداروں پر بھی پڑی جبکہ پاکستان میں5000کا نوٹ عام لین دین میں کم ہی استعمال ہوتاہے اس لئے اس سے چھوٹے تاجروں ،دکانداروں اور گاہکوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گااور ان کی بندش سے ملک کی مالیاتی مارکیٹ میں کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیںہوگی ہاں یہ ضرور ہوگا کہ جیسا کہ کرنسی ڈیلرز نے خیال ظاہر کیاہے کہ 5ہزار کے نوٹوں کی بندش کی صورت میں کالادھن بڑے نوٹوں کی شکل میں گھروںمیں چھپاکر رکھنے والے سماج دشمن عناصر اپنی یہ رقم سونے یاڈالر کی خریداری میں لگانے کو ترجیح دیں گے کیونکہ سونے کی تھوڑی سی مقدار کو نوٹوں کی لاتعداد گڈیوں کے مقابلے میں چھپاکر رکھنا زیادہ آسان ہوتاہے ،اسی طرح ڈالر بھی پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں کم تعداد میں ہوں گے اور ان کوکسی وقت بھی تبدیل کرایاجاسکتاہے۔

تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا وجود - هفته 08 جون 2019

لندن میں ہم جنس پرست خواتین کو مردوں کے ایک گروہ نے مار مار کر لہو لہان کردیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق واقعہ کیمڈن ٹاؤن میں پیش آیا جہاں ایک چلتی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو بوسہ نہ دینے پر تشدد کا نشانا بنایا گیا، 28 سالہ متاثرہ خاتون گیمونیٹ کا کہنا تھاکہ وہ رات گئے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بس میں سوار تھیں کہ اس دوران مردوں کے ایک جتھے نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور بوسہ لینے کی کوشش کی۔گیمونیٹ نے بتایا کہ بوسہ دینے سے انکار پر اسے اور اس کی دوست کو سرِعام مارا پیٹا گیا ...

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش وجود - هفته 08 جون 2019

جرمنی میں دو ایسے مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو ئی جو انتہائی مہلک زہر رائسین سے حملے کے لیے ایک بم تیار کرنا چاہتے تھے۔ ملزمان میں سے ایک تیونس کا شہری ہے اور دوسری اس کی جرمن بیوی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقدمے کی سماعت ڈسلڈورف شہر کی انتہائی سخت سکیورٹی والی ایک اعلیٰ صوبائی عدالت میں شروع ہوئی۔ان دونوں ملزمان کو پندرہ پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔مقدمے کی سماعت کے آغاز پر استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی کہ 30سالہ تیونسی نژاد ملزم س...

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت وجود - هفته 08 جون 2019

عالمی ادارہ صحت نے جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں مناسب پیش رفت نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اورکہاہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دس لاکھ افراد دنیا بھر میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کی لپیٹ میں آتے ہیں،دنیا کی مجموعی آبادی میں اوسطاً پچیس فیصد افراد کو کوئی نہ کوئی ایسی بیماری لاحق ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاق صحت کے عالمی ادارے نے ہفتے کو جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہاکہ ایسی بیماریوں میں افزائش کی وجہ ڈیٹنگ ایپس کا زیادہ استعمال ہے۔ یہ...

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ وجود - جمعه 07 جون 2019

جرمنی میں جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے کہاہے کہ جرمنی میں 2018ء کے دوران پندرہ ہزار بچوں کو جنسی استحصال کا نشانابنایا گیا۔ اس سلسلے میں بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں بہتر طور پر آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ 2017ء کے مقابلے میں یہ تعداد چھ فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پندرہ ہزار کا مطلب ہے کہ اوسطاً چالیس وا...

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات وجود - جمعرات 06 جون 2019

بھارت کے شہروں اور قصبوں میں زہرآلود فضا سے ہر سال پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ میں کیا گیا۔یہ رپورٹ مرکز برائے سائنس اور ماحول (سی ایس ای) نے تیار کی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے پانی مہیا کرنے کے 86 فی صد ادارے خطرناک حد تک آلودہ ہیں۔اس نے ملک کی قابل تجدید توانائی کے لیے پیش رفت کو بھی مایوس کن قرار دیا ہے۔بھارت اپنے شہروں میں آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے میں ...

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد وجود - جمعه 24 مئی 2019

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی، الزامات ثابت ہونے کی صورت میں جولین اسانج کو 175برس قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جولین اسانج نے خفیہ ذرائع کے نام غیر قانونی طور پر شائع کیے اور خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسی میننگ کے ساتھ مل کر سازش کی۔حاصل کی گئی معلومات افغانستان اور عراق میں جنگوں سے متعلق تھیں۔

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم وجود - جمعه 24 مئی 2019

افغان طالبان کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے کیلی فورنیا کے شہری جان واکر لنڈھ کو ریاست انڈیانا کی جیل سے رہا کیا کردیا گیا۔ لنڈھ افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دیکھا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جان واکر لنڈھ کو نومبر 2001 میں افغانستان کے ایک محاذ جنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لنڈھ کی رہائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ اْن...

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے  رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ وجود - جمعرات 23 مئی 2019

پوری دنیا میں سمندروں کی اوسط سطح میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ کرہ ارض کے مستقل برفانی ذخائرکا پگھلاؤ ہے اوراس صدی کے اختتام تک کروڑوں افراد نقل مکانی پرمجبورہوسکتے ہیں۔ امریکا میں ماہرین نے نیشنل اکیڈمی آف سائنسس کی پروسیڈنگزمیں شائع ہونے والی رپورٹ میں خدشہ ظاہرکیا ہے کہ گزشتہ 40 سال کے مقابلے میں اب گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی رفتار6 گنا بڑھ چکی ہے۔ 1980 کے عشرے میں گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی شرح بھی کئی گنا بڑھی ہے یعنی اس وقت سالانہ 40 ارب ٹن برف پانی میں گھل رہی تھی اور ...

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

اسرائیلی پولیس نے ایک کارروائی کے دوران مسجد اقصی کے محافظ کو مسجد سے باہر نکلتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کے ترجمان فراس الدبس نے بتایا کہ صہیونی پولیس نے قبلہ اول کے محافظ علی احمد کو باب الاسباط سے باہر آتے ہوئے ...

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ نے کہا ہے کہ اگر امریکا عارضی پابندیاں ختم کردے تو شمالی کوریا اپنا ایک جوہری پلانٹ مکمل طور پر بند کرنے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہماری شہری معیشت اور ہمارے لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونے والی پابندیاں ختم کرے تو ہم...

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا