وجود

... loading ...

وجود

پٹھان کوٹ حملے میں مسعود اظہر پر فرد جرم عاید

منگل 20 دسمبر 2016 پٹھان کوٹ حملے میں مسعود اظہر پر فرد جرم عاید

بھارت نے جیشِ محمد اور اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پر رواں برس جنوری میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے کی فرد جرم عائد کردی جسکے ثبوت کے طور پر حملہ آوروں کے کھانے کے پیکٹ اور انکے ڈی این اے رپورٹس کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔تجزیہ کار اس چارج شیٹ اور حملہ آوروں کی ’’معصومیت پر حیران ہیں کہ انہیںپاکستانی ’برانڈڈ‘ کھانے لانے کی ضرورت پیش کیوں آئی جبکہ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ڈی این اے رپورٹ کے ذریعے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ شخص کس ملک سے آیاتھا جب تک اسکے رشتے داروں کا بھی ڈی این اے نہ لیا جائے ؟کیا حملہ آوروں کے رشتہ داراگر پاکستانی ہیں تو وہ بھارت کی رسائی میں ہیں؟
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے الزام عائد کیا ہے کہ 2 جنوری کو ایئر بیس میں داخل ہونے والے چاروں مسلح افراد ’پاکستانی ‘ تھے جبکہ جیشِ محمد کے رہنما مسعود اظہر اس حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
بھارتی ٹرائل کورٹ میں پیش کی جانے والی چارج شیٹ میں 18 گھنٹے طویل اس حملے اور ایئربیس پر دہشت گردوں کے قبضے سے متعلق تمام تفتیش شامل ہے۔
چار حملہ آور پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر دھاوا بولنے کے بعد اٹھارہ گھنٹے تک بھارتی سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔اس حملے میں سات بھارتی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور مارے گئے تھے۔
اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس سال جنوری میں انڈین ایئر فورس کے پٹھان کوٹ میں واقع اڈے پر عسکریت پسندوں کا حملہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں شدید کشیدگی کی وجہ بنا تھا اور اسی حملے کے نتیجے میں دونوں ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں کے باہمی تعلقات میں تعطل اور کشیدگی پیدا ہو گئے تھے، جو ابھی تک جاری ہیں۔
یہ حملہ گزشتہ سال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر ’اچانک‘ لاہور آمد کے ایک ہفتے بعد کیا گیا تھا ۔اس حملے سے متعلق دونوں ممالک کی مشترکہ تحقیقات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں اور رواں سال کے دوران سرحدی جھڑپوں اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے احتجاج نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کردیا۔
نئی دہلی کے تفتیش کاروں کے مطابق ٹرائل کورٹ میں پیش کی جانے والی یہ چارج شیٹ اور شواہد پاکستانی حکام کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں۔بھارتی وزارتِ داخلہ کے سینئر افسر کا کہنا تھا’ ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کرے اور انھیں انڈیا کے حوالے کردیا جائے‘‘۔
چارج شیٹ میں حملہ آوروں کے ڈی این اے نمونے، ایئربیس کے نزدیک جنگلات سے ملنے والے پاکستانی کھانوں کے پیکٹس، واکی ٹاکی سیٹ اور دہشت گردوں کی گاڑی میں موجود ایک پیغام کا حوالہ پیش کیا گیا ہے۔
بھارت کے مطابق ’’وہ جیشِ محمد کے اس حملے میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت پاکستان کو فراہم کرچکا ہے جس میں خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے محدود کی جانے والی ٹیلی فون کالز کے شواہد بھی شامل ہیں۔پاکستان نے پٹھان کوٹ حملے کے بعد جیش محمد کے سربراہ مسعوداظہر کو تحویل میں لے لیا تھا۔
یاد رہے کہ مسعود اظہر کو 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملوں کا ملزم بھی قرار دیا جاتا تھا، تاہم تفتیش کار مسعود اظہر یا ان کی جماعت کے خلاف کوئی شواہد تلاش نہیں کرپائے۔اس سے قبل مسعود اظہر کو 1999ء میں ہائی جیک کیے جانے والے انڈین ایئر لائنز کے ایک طیارے کے مسافروں کے بدلے ایک بھارتی جیل سے رہا کروایا گیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق پاکستانی حکام نے ممبئی میں 2008 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد مسعود اظہر کو گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی طرف سے گزشتہ روز مولانا مسعود اظہر پر باقاعدہ طور پر پٹھان کوٹ حملے کا مرکزی ملزم ہونے کا الزام عائد کر دیا گیا۔ این آئی اے نے مسعود اظہر کے علاوہ ان کے بھائی رؤف اصغر اور جیش محمد کے دو دیگر ارکان کو بھی ملزم نامزد کرتے ہوئے ان پر باقاعدہ الزامات عائد کر دیے ہیں۔
این آئی اے کے تفتیشی ماہرین کادعوی ہے کہ مسعود اظہر کے بھائی رؤف اصغر نے پٹھان کوٹ حملے کے بعد پوسٹ کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی تھی۔ این آئی اے نے اپنے نئے بیان میں کہا ہے کہ دو جنوری کو کیے گئے اس حملے میں شریک چاروں ’پاکستانی عسکریت پسند‘ مارے گئے تھے۔ جبکہ حملے کے بعد بھارتی حکام نے حملہ آوروں کی مجموعی تعداد چھ بتائی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکام نے بھی الزامات کے بعد مسعوداظہر کے خلاف اس واقعے کی تحقیقات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں مسعود اظہر یا جیش محمد کے اس حملے میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور نہ انھیں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت بھارت کی جانب فراہم کیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر