وجود

... loading ...

وجود

اسدی فوج بے لگا م ،جنگ بندی کے باوجود بمباری

جمعرات 15 دسمبر 2016 اسدی فوج بے لگا م ،جنگ بندی کے باوجود بمباری

حلب : گھروں میں گھس کر خواتین وبچوں کا قتل عام
فتح کے جشن میں 200عام شہریوں کو تہہ تیغ کیا گیا، جس فوج نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچیوں کو قتل کیا وہ اگر ’محفوظ راستہ‘‘ دینے کی بات کرے تو اس پر کیسے یقین کیا جائے ؟حلب کے شہریوں کی سوشل میڈیا پر دہائی

شام کی ریاستی میڈیا اور شامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج اور اتحادی ملیشیا نے شیخ سعید اور صالحین کے اضلاع پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شامی باغیوں کا 90 فیصد حلب پر سے کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔ایک اندازے کے مطابق حلب کے محاصرے کے باعث ہزاروں افراد شہر میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے پاس نہ تو پانی ہے اور نہ خوراک۔فتح کی خوشی میں شامی فوجیوں اور اتحادیوں نے گھروں میں گھس کر شہریوں کا قتل عام کیا ۔
گزشتہ روز باغیوں اور شامی فورسز کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا تاکہ مختلف علاقوں میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا وقت مل سکے۔
محصورین کا انخلاء بدھ کی صبح شروع ہونا تھا تاہم شامی مبصر تنظیم برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمٰن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حکومتی فورسز نے باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں دوبارہ بمباری شروع کردی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتی افواج نے کم سے کم 14 شیل فائر کیے اور ان علاقوں میں بھی بمباری سنی گئی جو باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان فرنٹ لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔گزشتہ روز یہ طے ہوا تھا کہ انہیں محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا موقع دیا جائے گا اور اس دوران بمباری یا شیلنگ نہیں کی جائے گی۔
یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ حلب میں حکومتی کنٹرول مضبوط ہونے کے بعد شامی صدر بشارالاسد کی حامی فورسز کی جانب سے عام شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری شروع کردیا گیا ہے۔بعض ذرائع کے مطابق فتح کے جشن میں 200عام شہریوں کو تہہ تیغ کیا گیا جس کے بعد بعض شہریوں نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ جس فوج نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچیوں کو قتل کیا وہ اگر ’محفوظ راستہ‘‘ دینے کی بات کرے تو اس پر کیسے یقین کیا جائے ؟
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے گزشتہ روز اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ حکومت کی اتحادی فورسز لوگوں کے گھروں میں داخل ہو کر انہیں نشانہ بنا رہی ہیں اور 82 شہریوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔
15 نومبر کے بعد سے شامی فوج کی حلب کے اطراف میں موجود علاقوں میں پیش رفت کے بعد سے خوف زدہ شہریوں کی بڑی تعداد از خود علاقہ چھوڑ چکی ہے۔شام میں گزشتہ 5 سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ افراد ہلاک جبکہ ملک کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں فوج اور مسلح گروپوں کے درمیان جاری لڑائی کے باعث یہاں کے عوام شدید کرب میں مبتلا ہیں۔
شامی حکومت کے اتحادی روس کا کہنا ہے کہ حلب میں لڑائی کے باعث ایک لاکھ شہری بے گھر ہوئے ہیں جن میں 13 ہزار تین سو شہری گزشتہ 24 گھنٹوں میں بے گھر ہوئے ہیں۔روس کا مزید کہنا ہے کہ دو ہزار دو سو باغیوں نے ہتھیار ڈالے ہیں۔شامی صدر بشار الاسد کے خلاف 2011 میں بغاوت کے آغاز سے قبل حلب شام کا ایک بڑا شہر تھا جس کو تجارتی اور صنعتی اہمیت حاصل تھی۔گزشتہ چار سال میں حلب شہر دو حصوں میں بٹا ہوا تھا جس میں شہر کا مغربی حصہ شامی حکومت کے کنٹرول میں تھا اور مشرقی حصہ باغیوں کے کنٹرول میں۔ شامی فوج نے ایرانی ملیشیا اور روسی فضائی بمباری کی مدد سے ستمبر میں بڑا حملہ کیا۔ روس کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ بندی باغیوں کے لیے شہر کے مشرقی علاقوں کو محفوظ طریقے سے چھوڑنے کا آخری موقع ہوگا ، باغیوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ۔ہزاروں افراد محصور علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں خوراک اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے جبکہ اس دوران بمباری بھی جاری رہی۔
قبل ازیں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹ حملوں، فائرنگ اور کار بم دھماکوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔خیال رہے کہ حکومتی فوجوں کی جانب سے باغیوں کے زیرانتظام شہر کے مشرقی علاقوں کو جولائی سے محاصرہ کر رکھا ہے۔ گزشتہ روز سرکاری خبر رساں ایجنسی نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شامی فوج نے شیخ سعید، شہادن، کرم العفندی، کرمالدادا اور صالحین کے اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔
بی بی سی کے ایک پروگرام سے بات کرتے ہوئے شام میں انگریزی زبان کے استاد عبدالکافی الحمادو نے بتایا کہ باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں صورتحال بہت خراب ہے۔ ‘مشرقی حلب میں قیامت کا سماں ہے۔ ہر جگہ بم گر رہے ہیں اور لوگ بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ سڑکوں پر لوگ زخمی پڑے ہیں اور کسی میں ہمت نہیں کہ وہ زخمیوں کی مدد کے لیے جائیں۔ اور کچھ لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے مبصرین نے بتایاہے کہ شام میں حکومت کی حمایتی فورسز مشرقی حلب میں مکانوں میں داخل ہو کر مکینوں کو مار رہی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ باوثوق شواہد کے مطابق4 علاقوں میں 82 شہریوں کو دیکھتے ہی گولیاں ماری گئیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر ے ترجمان روپرٹ کولوِل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شامی حکومت کی حمایتی فورسز نے 82 شہریوں کو ہلاک کیا جن میں 11 خواتین اور 13 بچے شامل تھے۔انھوں نے کہا ‘کہ ہمیں اطلاعات ملیں کہ سڑکوں پر کئی لاشیں پڑی ہیں۔ شدید بمباری اور گولی کا نشانہ بننے کے خوف سے رہائشی ان لاشوں کو اٹھا نہیں سکتے تھے۔شامی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل سمیر سلیمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ‘یہ غلط دعوے ہیں۔ شامی فوج ایسا کبھی نہیں کر سکتی اور نہ ہی ہماری فوج نے تاریخ میں ایسا کبھی کیا ہے۔
دوسری جانب یونیسف نے مشرقی حلب میں موجود ایک ڈاکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک عمارت پر شدید حملے کیے جا رہے ہیں جس میں تقریباً 100 ایسے بچے موجود ہیں جس کے ساتھ کوئی وارث نہیں ہے۔یونیسف نے ڈاکٹر کے حوالے سے کہا ‘تقریباً 100 بچے جن کے ساتھ کوئی بڑا نہیں ہے عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں جس پر شدید حملے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سرکاری ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں باغیوں کے زیر انتظام علاقوں پر حکومتی افواج کی پیش قدمی کے بعد لوگوں کو خوشی مناتے ہوئے دکھایا گیا۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر