وجود

... loading ...

وجود

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے……ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے … عالمی مالیاتی اداروں کو سامراجی شکنجے سے آزاد کرانے کی کوششیں

هفته 26 نومبر 2016 گراں خواب چینی سنبھلنے لگے……ہمالہ کے  چشمے ابلنے لگے … عالمی مالیاتی اداروں کو سامراجی شکنجے سے آزاد کرانے کی کوششیں

ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پر امریکی و یورپی قابضین کے خلاف چین اور اسکے ہم نوا متحد،برکس اور شنگھائی بلاک مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں
امریکا و یورپ کے زیر کنٹرول مالیاتی ادارے قرض تلے دبے ممالک کو چین اور روس سے تجارتی حجم کم کرنے اورمرضی کے مطابق ووٹ دینے پر مجبورکرنے لگے
miami_skyline-chinaflagچین کی زیر قیادت ترقیاتی بینک کی رکنیت کے سوال پر اینگلو امریکن تنازع امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی مقابلہ آرائی کا پہلا مرحلہ ہے،اب امریکا اور چین کے درمیان اصل مقابلہ اس بات کاہے کہ 21 ویں صدی کی عالمی معیشت کے اصول کون وضع کرے گا یا یہ کہ 21ویں صدی کی عالمی معیشت کس کے وضع کردہ اصولوں پر استوار ہوگی۔جیوف ڈائر نے گزشتہ سال مارچ میں فنانشیل ٹائمز میں ’’مستقبل میں ایشیا پر کنٹرول کیلئے بڑی طاقتوں نے ایک دوسرے کا محاصرہ کرلیا ہے‘‘ کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھاتھا ’’دنیا سامراجیت کی جانب سے جو فی الوقت بڑے سرکاری بینکوں اور دیگر اداروں کی شکل میں دنیا پر چھائے ہوئے ہیں جن میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف شامل ہیں مسلسل بڑھتے ہوئے دبائو اور دھمکیوں سے تنگ آچکی ہے ،بھاری سرمائے اور وسائل کے مالک یہ بینک رقم کے ضرورت مند ممالک کو اپنی شرائط تسلیم کرنے اور ان شرائط کے مطابق کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
بنیادی طورپر یہ مالیاتی ادارے اور بینک ان سامراجی ممالک کا اثر ورسوخ بڑھانے کاکام انجام دیتے ہیں جن کے زیر انتظام یہ قائم ہیں ،ان بینکوں اور مالیاتی اداروں سے قرض لینے والے ملکوں کو ان ملکوں کی عاید کردہ شرائط کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔اس طریقہ کار سے ان معاملات پر جس کیلئے یہ قرض حاصل کیاجاتاہے مثلا ً شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی، ہنگامی امداد، پالیسی سازی یا جنگ اور تنازعات سے دوچار عوام کی امداد وغیرہ شامل ہیں،جو بھی ملک یہ سامراجی شکنجہ توڑنے کی کوشش کرتاہے اسے مالیاتی اعتبار سے اس قدر تنگ کیاجاتاہے کہ اس ملک کے عوام مصائب کاشکارہوجاتے ہیں،اور پھر اس ملک کے پریشان حال عوام کو اپنی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلندکرنے کیلئے ہر ممکن امداد بہم پہنچائی جاتی ہے۔اگر اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوپاتے تو پھر فوجی بغاوت کے ذریعے ان حکومتوں کاتختہ الٹ دیاجاتا ہے ۔اس حوالے سے افغانستان، عراق ،مصراور لیبیا کا حشر ہمارے سامنے ہے اور اب شام میں بھی یہی کہانی دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حالیہ برسوںکے دوران عالمی معیشت پر سامراجی شکنجہ ذرا کمزور پڑنا شروع ہواہے جس کا ایک بڑا سبب چین اور اس کے زیر اہتمام کام کرنے والی تنظیم برکس میں شامل برازیل، بھارت ،روس، چین اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کا ایک بڑی اقتصادی قوت کے طورپر ابھرنا ہے۔علاوہ ازیں شنگھائی بلاک بھی مستقبل قریب میں مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔اقتصادی ترقی کے سبب اب چین ان ممالک سے مناسب قیمت پران کی اشیا خریدنے کے قابل ہوگیا جو اس سے پہلے اپنی اشیا انتہائی کم قیمت پر سامراجی ممالک کو فروخت کرنے پر مجبور تھے۔چین کی جانب سے مناسب قیمت پر ان ممالک کی اشیا کی خریداری کی وجہ سے جن میں افریقہ، لاطینی امریکا کے ممالک خاص طورپر شامل ہیں ان ممالک کی اقتصادی حالت پائیدار بنیادوں پر استوار ہونا شروع ہوگئی ہے۔لیکن اس کے باوجود سامراجی ممالک عالمی مالیاتی اداروں پر اپنی اجارہ داری کی وجہ سے غریب اور کم وسیلہ ممالک پر غیر منصفانہ دبائو برقرار رکھتے ہوئے ان ممالک کو اپنے اشارے پر ناچتے رہنے پر مجبور کررہے ہیں۔
آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے قرض تلے دبے ممالک کو چین اور روس کے ساتھ اپنی تجارت کاحجم کم کرنے اور اقوام متحدہ میں مختلف معاملات پر مالیاتی اداروں میں بیٹھے ہوئے سامراجی ایجنٹوںکے اشارے پر ان کی مرضی کے مطابق ووٹ دینے پر مجبور کیاجارہاہے۔ان ممالک کو ان کی مرضی کے خلاف جانے کے خلاف دھمکایاجاتاہے اور بعض اوقات ان کو سامراجی ممالک کی فوجی مہم جوئی میں بھی شریک ہونے پر مجبور کردیاجاتاہے۔
اجارہ دارانہ کنٹرول کا سامراجی طریقہ کار برکس میں شامل ترقی کرتے اور ابھرتی ہوئی معیشت والے ممالک اور بالعموم تمام چھوٹے اور کمزور ممالک کے مفادات کے منافی ہے ۔برکس میں شامل ممالک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک یعنی عالمی بینک کے فیصلوں میں اپنی رائے کو زیادہ اہمیت دیئے جانے کامطالبہ کرتے رہے ہیں۔نئی اقتصادی قوت کے طورپر برکس میں شامل ممالک کی مجموعی اقتصادی قوت عالمی معیشت کے 20 فیصد کے مساوی ہے جبکہ آئی ایم ایف میں ان کے ووٹ یارائے کی حیثیت صرف 11فیصد ہے ۔برکس میں شامل ممالک جن کی پیداوار مجموعی عالمی پیداوار کے 20 فیصد کے مساوی ہے ان کو صرف 10.3 فیصد کوٹہ حاصل ہے جبکہ اس کے برعکس یورپی ممالک کو جن کی مجموعی پیداوار صرف 18 فیصد ہے 27.5 فیصد کوٹہ دیاگیا ہے۔صرف یہیں پر بس نہیں کیاگیاہے بلکہ کم وسیلہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو مزید ذلیل اس طرح کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہی مستقل طورپر یورپ کو حاصل ہے جبکہ ورلڈ بینک کی صدارت مسلسل امریکا کے پاس ہے۔اس صورتحال کی اصلاح کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جاتی ،مثال کے طورپر 2008 اور 2010 میں اس غیر منصفانہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور آئی ایم ایف نے یہ تسلیم کیا کہ ووٹنگ کا یہ تناسب غیر منصفانہ ہے اور اس صورتحال میں اصلاح کرتے ہوئے نئے شامل ہونے والے ممالک کے ووٹنگ کے حقوق میں 6 فیصد اضافہ کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی لیکن امریکا نے اس قرارداد کو ویٹو کردیا اور کسی دوسرے ممبر کو ووٹ کا حق دینے سے انکار کردیاگیااس طرح امریکا کے اس ویٹو کی وجہ سے آئی ایم ایف کی منظورکر دہ قرارداد ناکام ہوگئی۔
اس صورتحال کوتبدیل کرنے کیلئے تیزی سے کوششیں شروع کردی گئی ہیں برکس ممالک نے اس کے مقابلے کیلئے ایک نیا ترقیاتی بینک قائم کردیا ہے اور تمام ضرورت مند ممالک اس میں شامل ہوسکتے ہیں اور برکس کے ذریعے انھیں مستقل کنٹرول کے اختیارات دئے گئے ہیں۔اس بینک کے ساتھ ہی عالمی معیشت میں آنے والے اتار چڑھائو کے دھچکوں سے اسے بچانے کیلئے ایک مستقل ریزرو انتظام بھی کیاگیا ہے اور اس ریزرو انتظام میں شامل ممالک سامراجی شرائط تسلیم کرنے کے پابند نہیں ہیں۔چین اور اس کے اتحادی ممالک شنگھائی تعاون تنظیم کے زیر انتظام ایک ترقیاتی بینک بھی قائم کرچکے ہیں ۔ شنگھائی تعاون تنظیم یورپی اور ایشیائی ممالک کی ایک اقتصادی ، سیاسی اور فوجی تعاون کی تنظیم ہے جس میں چین اور روس کا کردار کلیدی ہے۔بھارت ، پاکستان اور ایران سمیت تمام ممالک اس کے رکن بن سکتے ہیں یعنی اس کے دروازے تمام ممالک کیلئے کھلے رکھے گئے ہیں۔مالیاتی اداروں کو سامراجی شکنجے سے آزاد کرانے کی کوششیں جاری ہیں اور یقین کے ساتھ کہاجاسکتاہے کہ جلد ہی اس کے انتہائی مثبت اور حیران کن نتائج سامنے آئیں گے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر