وجود

... loading ...

وجود

ایرانی دانشور کا اظہارِجرأت مندی .. شامی حکومت نے اسرائیل سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا

منگل 22 نومبر 2016 ایرانی دانشور کا اظہارِجرأت مندی .. شامی حکومت نے اسرائیل سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا

شامی فوج نے یرموک پناہ گزین کیمپ کے ایک لاکھ فلسطینی پناہ گزینوںکا ناطقہ بند کیا،ڈاکٹر صادق زیبا۔حلب پرتازہ فضائی بمباری سے ماں بیٹے سمیت اکیس افراد شہید
روس اور ایران کی وحشیانہ فضائی مہم میں دشوار نظر آرہا ہے کہ اعتدال پسند اپوزیشن زیادہ عرصے تک اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے،امریکی صدر نے بھی ناامیدی ظاہر کردی

شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے پرتازہ فضائی بمباری اور گولہ باری سے ماں بیٹے سمیت اکیس افراد شہید ہو گئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی حلب کے ایک علاقے مساکن حانانو میں ایک مکان پر بم گرا ہے جس سے ایک خاتون اور اس کا بچہ مارا گیا ہے۔قبل ازیں اسی علاقے میں رات سے شدید گولہ باری اور فضائی حملوں میں انیس افراد مارے گئے ہیں۔شامی کارکنان کے مطابق شامی فوج یا روس کے لڑاکا طیارے حلب کے علاقوں فردوس اور دیر حفیر پر فضائی بمباری کررہے ہیں۔
درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے اعتراف کیا ہے کہ” میں شام میں مختصر مدت کے امکانات کے حوالے سے کوئی زیادہ پْر امید نہیں ہوں”۔
ادھر ایران کے ایک دانشور اور جامعہ تہران سے وابستہ سیاسیات کے استاد نے وہ سچ کہہ دیا جسے ایران میں رہتے ہوئے کہنے کی جرأت کم ہی کم کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں جتنے فلسطینی پناہ گزین اسدی فوج نے بمباری میں شہید کیے ہیں اتنے اسرائیلی فوج نے ساٹھ سال میں نہیں کیے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کے مقرب اصلاح پسند رہ نما ڈاکٹر صادق زیبا کلام اکثرو بیشتر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک فوٹیج سامنے آئی تھی جس میں انہیں امریکا اور اسرائیل کے قومی جھنڈوں کا احترام کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ایران کے شدت پسند حلقوں کی طرف سے انہیں اکثر تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صادق زیبا کلام نے اپنے ملک کے حکمرانوں کو بھی جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔ ایران کی مالی اور عسکری مراعات حاصل کرنے والے بشارالاسد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسدی فوج نے جتنے فلسطینی پچھلے چند برسوں میں قتل کیے ہیں اسرائیل نے اتنے ساٹھ سال میں نہیں کیے۔
اس موقع پرانہوں نے امریکا اور اسرائیل کے پرچموں کی توہین نہ کرنے کی وجہ بھی بیان کی۔ ایرانی پروفیسر نے کہا کہ ’ٹھیک ہے کہ اگر فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے اور فلسطینیوں کے قتل کی بناء پر ہم صہیونی ریاست کے پرچم کا احترام نہ کریں مگر کیا ہمیں معلوم ہے کہ شامی حکومت نے حالیہ چند برسوں کے دوران کتنے فلسطینی شہید کیے ہیں؟
انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جب شام میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو شامی فوج نے یرموک پناہ گزین کیمپ کے ایک لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کا دانہ پانی بند کردیا۔ بشارالاسد اور ان کی فوج کے ہاتھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو کتنی مصیبتیں اٹھانا پڑی ہیں۔ کوئی ہمیں یہ بتا دے کہ شامی فوج نے کتنے فلسطینی مہاجرین کو شہید کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ساٹھ سال کے دوران اسرائیلی فوج نے اتنے فلسطینی شہید نہیں کیے جتنے چند برسوں کے دوران شامی فوج نے قتل کردیے ہیں۔ شامی فوج فلسطینیوں کو بے دردی سے اس لیے قتل کرتی رہی کیونکہ انہوں نے بشارالاسد کی حمایت سے انکار کردیا تھا۔
امریکا اور اسرائیل کے پرچموں کی توہین نہ کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے دو دشمن ملکوں کے پرچموں کا احترام کیا تو پورے ملک میں اس اقدام کی تعریف کی گئی۔ لوگوں نے میری توقع سے بڑھ کر میری تعریف کی ہے۔
دوسری جانب امریکا میں ری پبلیکن پارٹی کے حمایت یافتہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کے خلاف باتیں کی ہوں مگر میرا خیال ہے کہ وہ اس معاہدے کو ختم نہیں کریں گے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ چین اور روس اس معاہدے کے حامی ہیں اور وہ ختم نہیں کرنے دیں گے۔ اسی طرح امریکا کے تین بڑے حلیف برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی تہران سے طے پائے معاہدے کو کالعدم قرار دلوانے کی مخالفت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ جانتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کو ختم نہیں کرسکتے کیونکہ ان کے پاس ایران کے خلاف وہ عالمی حمایت نہیں جو احمدی نژاد کے دور میں امریکیوں کے پاس تھی۔ ڈاکٹر کلام کا کہنا تھا کہ نو منتخب امریکی صدر کے وزراء اور مشیر ایران کے خلاف زہر اگلتے رہیں گے مگر وہ عملا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔
ادھرامریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ شامی حکومت اور اس کے حلیف روس کی جانب سے حلب میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں پر شدید بم باری جاری رہے ، وہ مستقبل قریب میں شام کے حوالے سے ” پْر امید نہیں” ہیں۔
پیرو کے دارالحکومت لیما میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اوباما نے مزید کہا کہ اب جب کہ روس اور ایران نے وحشیانہ فضائی مہم میں بشار الاسد کی حکومت کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ، ہمیں یہ دشوار نظر آرہا ہے کہ اعتدال پسند اپوزیشن زیادہ عرصے تک اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے۔اوباما نے لیما میں اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ غیر سرکاری ملاقات میں ولادیمر پوٹن پر زور دیا کہ وہ شام میں پرتشدد کارروائیوں اور مقامی آبادی کی مشکلات ختم کرنے کے لیے مزید کوششیں کریں۔ اوباما نے پوٹن کو آگاہ کیا کہ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ فوری مشاورت سر انجام دیں۔ پیرو میں “ایپک” تنظیم کے سربراہ اجلاس کے ضمن میں ہونے والی یہ غیرسرکاری ملاقات چند منٹوں تک ہی جاری رہی۔
واضح رہے کہ شام کے علاقے مشرقی حلب میں روس کے فضائی حملوں کے بعد صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے،اسپتالوں کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوچکا ہے اور اس وقت کوئی بھی اسپتال مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی حلب میں مقیم قریباً ڈھائی لاکھ افراد کو علاج معالجے کی خدمات مہیا کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت سمیت اقوام متحدہ کے تحت امدادی اداروں کو جولائی کے بعد سے مشرقی حلب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اْسی مہینے میں مشرقی حلب کی جانب جانے والی اہم شاہراہ کاستیلو روڈ پر قبضہ کرلیا تھا اور شہر کے اس حصے کی مکمل ناکا بندی کردی تھی۔اس وجہ سے گزشتہ چار ماہ سے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حلب میں محصور شامیوں کو ادویہ ،خوراک اور دوسرا امدادی سامان نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر