وجود

... loading ...

وجود

شام پر بدترین جارحیت مسلط ...اسپتال ،ایمبولینس ،بچے فضائی بمباری کا نشانہ،عالمی برادری مذمتوں تک محدود

هفته 19 نومبر 2016 شام پر بدترین جارحیت مسلط ...اسپتال ،ایمبولینس ،بچے فضائی بمباری کا نشانہ،عالمی برادری مذمتوں تک محدود

حلب میں بشارالاسد کی فوج کی مشرقی علاقوں پر بڑے حملے کی تیاری ،لڑاکا طیاروں کے حملوں میں 84 افراد جاں بحق، روسی لڑاکا طیارے کی رات بھربمباری
امریکا و اقوام متحدہ کی مذمت،شامی حکومت اور اتحادی روس جان بوجھ کر اسپتالوں پر فضائی حملے کرتے ہیں،انسانی حقوق تنظیم،70لاکھ شہری بھوک و افلاس کا شکار

gettyimages-577608720شام کے شہر حلب میں بشارالاسد کی فوج شہر کے مشرقی علاقوں پر جلد حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ کارروائی میں اسے بحیرہ روم میں موجود روسی طیارہ بردار بحری جہاز کی فضائی معاونت بھی حاصل ہو گی۔
قبل ازیں ان علاقوں پر شامی حکومت کے لڑاکا طیاروں کے حملوں میں 84 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔حلب میں شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول مشرقی حصے پر بم باری کی ذمے داری بشار حکومت کے طیاروں نے سنبھالی ہوئی ہے جب کہ روسی لڑاکا طیارے ادلب اور حمص میں دیگر علاقوں کو نشانہ بنانے رہے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے حلب کے مشرقی حصے پر بمباری کی ہے اور شمالی مغربے صوبے ادلب کے مختلف علاقوں کی فضائی حدود میں روسی لڑاکا طیارے رات بھر سے صبح تک دیکھے گئے ہیں۔رصد گاہ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز مشرقی حلب پر فضائی حملوں میں پانچ بچوں اور ایک امدادی کارکن سمیت اکیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رصدگاہ اور مشرقی حلب کے مکینوں کا کہنا ہے کہ لڑاکا جیٹ سے شہری علاقوں پر راکٹ فائر کیے گئے ہیں،ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم برسائے گئے ہیں اور سرکاری فوج نے توپ خانے سے بھی گولہ باری کی ہے۔شہری دفاع کے ایک کارکن بیبرس مشعل نے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹروں نے ایک لمحے کے لیے بھی شہر پر بمباری نہیں روکی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ حلب میں تین اسپتالوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔اس بمباری میں طبی عملہ اور متعدد مریض زخمی ہوگئے ہیں۔ایک اور قصبے عطرب پر سوموار کو علی الصباح ایک اسپتال پر پانچ مرتبہ بمباری کی گئی تھی۔ان حملوں میں اسپتال کے کمرے ، فارمیسی اور ایمبولینس گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں اور طبی عملہ زخمی ہوگیا ہے۔عطرب اور کفر نہا میں واقع اسپتالوں کو اس سے پہلے بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس پر جان بوجھ کر اسپتالوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کے الزامات عاید کرچکی ہیں لیکن دمشق حکومت اور ماسکو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔واضح رہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حلب پر حالیہ مہینوں کے دوران متعدد مرتبہ فضائی حملے اور توپ خانے سے تباہ کن بمباری کی جاچکی ہے جس سے شہر کے بڑے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ ”اس ”بڑی کارروائی” کے دوران مشن انجام دینے والے لڑاکا جیٹ نے طیارہ بردار بحری بیڑے ایڈمرل کوزنتسوف سے اڑان بھری تھی۔یہ طیارہ بردار بحری جہاز گذشتہ ہفتے شام کے ساحل پر لنگر انداز ہوا تھا۔
اس دوران روسی افواج نے اپنے یا بشار حکومت کی جانب سے حلب شہر کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ یہ موقف خود بشار حکومت کے اپنے اعلان کے متضاد ہے جس نے حلب میں اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر کاری ضربیں لگانے کا اعتراف کیا ہے۔شام کے سرکاری نیوز چینل نے حلب میں مرکزی محاذوں پر بشار کی افواج اور ان کے حلیفوں کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کا ذکر کیا ہے جس کا مقصد بڑے زمینی حملے کی تیاری ہے۔اس سے قبل روسی ذمے داران نے روسی روزنامے “ایزوستیا” کو بتایا تھا کہ حلب کا معرکہ آئندہ چند روز یا ہوسکتا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شروع ہوسکتا ہے۔ منگل کے روز شام کے دیگر علاقوں میں اپوزیشن گروپوں کے جنگجوو¿ں کے خلاف راکٹ حملے کیے تھے۔ اس دوران پہلی مرتبہ لڑائی میں روس کے واحد طیارہ بردار جہاز کا استعمال کیا گیا۔
امریکا اورا قوام متحدہ نے حلب پر تازہ فضائی حملوں کی مذمت کی ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ اس کو ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ حلب میں اسپتالوں اور کلینکوں کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی حلب پر ان نئے فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف تشدد کو جاری رکھا ہوا ہے۔انسانی حقوق کمیٹی میں اس قرارداد کے حق میں 116 رکن ممالک نے ووٹ دیا ہے،15 نے اس کی مخالفت کی ہے اور 49 رکن ممالک رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے ہیں۔
شام میں جاری لڑائی کے نتیجے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔عالمی خوراک پروگرام کی ترجمان بیٹینا لوسچر نے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ”شام میں خوراک کی پیداوار لڑائی ،امن و امان کی خراب صورت حال اور خراب موسمی حالات کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وہ ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے”۔
مشرقی حلب کے مکینوں کو خاص طور پر خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔شہر کے اس حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے اور شامی فورسز نے اس کا چاروں طرف سے محاصرہ کررکھا ہے۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت بھی مشرقی حلب میں ڈھائی سے پونے تین لاکھ شہری موجود ہیں۔ترجمان لوسچر کا کہنا تھا کہ ”آخری مرتبہ اقوام متحدہ نے جو راشن مہیا کیا تھا،وہ ختم ہوچکا ہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ اب لوگ وہاں کیسے صورت حال کا مقابلہ کررہے ہیں”۔ان کا کہنا تھا کہ شام کی ستر لاکھ سے زیادہ آبادی خوراک کے معاملے میں عدم تحفظ کا شکار ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ انھیں ہمیشہ سے یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ انھیں اگلا کھانا ملے گا بھی یا نہیں۔نیز وہ کہاں سے آئے گا۔ان کے بہ قول عالمی خوراک پروگرام شام میں ہرماہ چالیس لاکھ سے زیادہ لوگوں میں راشن تقسیم کرتا ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر