... loading ...
زندان یا شہادت حریت پسند کا مقدر ہوا کرتا ہے ، ہم اسکے لیے تیار ہیں، کشمیری قوم ضرور آزادی کی منزل سے ضرورہمکنار ہوگی
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسے لوگ بھارت کے آلہ کار ہیں،جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک سے خصوصی انٹرویو
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئر مین 50سالہ محمد یٰسین ملک تحریک آزادی کے ان گنے چنے رہنما وں میں شا مل ہیں جنہوں نے بچپن سے ہی کشمیر کی آزادی کو اپنا مشن سمجھا اور” اپنا آج ،قوم کے کل “پر قربان کرنے میں کو ئی ہچکچا ہٹ محسوس نہیں کی ۔ان دنوں خاص طور پربدترین ریاستی تشدد کا مسلسل شکار بنے ہوئے ہیں،بھارتی تعذیب خانوں اور جیلوں کے ساتھ ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔لیکن پورے حوصلے اور ہمت کے ساتھ میدان عمل میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔ تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ والہانہ لگاو¿ ،ثابت قدمی اور سخت ترین حالات میں آپ کے قائدانہ کردار کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔حریت رہنماوںمیں موجودہ اتحاد قائم کرنے میں آپ کا کلیدی کردار ہے ۔اس اتحاد کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ خود ساختہ کثرت قائد ین سے قوم کو نجات ملنا ممکن ہوا ہے ۔حریت قیادت کے ایک طاقتور اتحاد کی بہت پہلے سے ضرورت محسوس ہورہی تھی،لگ رہا ہے کہ محمد یٰسین ملک کی مسلسل کا وشوں کے نتیجے میں وہ امید بر آئی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں اور ان کی ریاستی حا شیہ بردار قوتیں اس اتحاد کو توڑنے اور کمزور کرنے میں ہر ممکنہ کردار ادا کررہی ہیں ،تاہم انہیںیقین ہے کہ یہ کو ششیں ناکام ہو نگی اور تحریک آزادی منزل کی طرف رواں دواں رہے گی۔ وجود ڈاٹ کام کے لیے ان کا یہ انٹرویو سری نگر سے خصوصی طورپر لیا گیا۔
انٹرویو :شیخ امین/مقصود منتظر
س: زندانوں اور ٹارچر سیلوں میں رہنا اور بڑی بہادری سے تشدد سہنا آپ کے لیے کوئی نئی بات تو نہیں ؟لیکن اس دفعہ آپ کی صحت کچھ زیادہ ہی خراب ہو گئی۔کوئی خاص وجہ۔
ج: دیکھئے جیل ہمارا دوسرا گھر ہے۔ زندان یا شہادت حریت پسند کا مقدر ہوا کرتا ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔اس بار میری طبیعت خراب ہونے کی پہلی وجہ یہ تھی کہ 8جولائی کو مجھے بیماری کی حالت میں گرفتار کیا گیاتھا ، دوئم یہ کہ گردوں میں پتھریاں موجود ہونے کی وجہ سے مجھے ہفتہ وار ڈاکٹر کے پاس معائنہ کرانا پڑتا ہے جبکہ اس بار تقریباً پہلے تین ماہ مجھے مختلف تھانوں سے سنٹرل جےل یا تفتیشی مرکز منتقل کرتے رہے مگر علاج کےلیے ڈاکٹر کے پاس نہ لیا گیا اورسوئم یہ کہ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں سی ٹی سکین سے قبل دیاجانے والا انجےکشن فیل ہوجانے کی وجہ سے میری حالت غیر ہوگئی تھی۔
س:چار ماہ سے جموں کشمیر میں عوامی مزاحمت جاری ہے ۔ کیا کھویا کیا پایا؟
ج: چار ماہ سے جاری مزاحمت میں جہاں ہم نے ایک سو سے زیادہ نوجوانوں کی شہادتیں پائیں ،14ہزارسے زیادہ زخمی ہوئے ، ایک ہزار کے لگ بھگ نوجوانوں کی آنکھیں جزوی یا کلی طور متاثر ہوئیں جبکہ 10 ہزار کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا مگر وہیں پر مسئلہ کشمیر کی گونج بین الاقوامی سطح پرسنائی دی اور بھارت پر ایک بار بھر واضح ہو گیا کہ کشمیری عوام آزادی کے سواءکسی چیز پر رضامند نہیں۔
س: وادی کشمیر سردی کی لپیٹ میں آنے والی ہے، موجودہ تحریک کا کیا نتیجہ دیکھتے ہیں ؟ کیا سردی بڑھنے کے ساتھ کہیں عوامی جذبہ بھی ٹھنڈا تو نہیںہوگا؟
ج : دیکھئے حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کا جذبہ آزادی گزشتہ سات دہائیوں میں پڑنے والی سخت ترین سردیوں سے ٹھنڈا نہ پڑ سکا ۔ جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے سردی کے موسم میں صرف ہماری حکمت عملی تبدیل ہوتی ہے ۔
س: کیا حریت قیادت کی طرف سے ملاقات کے لیے ”ناں “ کے بعد ”ہاں “ کا فیصلہ درست تھا؟کہیں برف پگھلتی نظر آرہی ہے یا بھارتی قیادت ڈوول ڈاکٹرائن پر پی عمل کرنا چا ہتی ہے ۔
ج: جمہوریت کا یہی حسن ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود ہم مشترکہ جدوجہد ِ آزادی کے لیے متحد ہیں۔ بھارت کون سے ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہے، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہمارے سامنے ضروری یہ ہے کہ کیا ہم آزادی ڈاکٹرائن پر گامزن ہیں کہ نہیں۔ بھارت کو دیریا سویر انصاف اور حق پر مبنی اس جدوجہد کو تسلیم کرنا پڑیگا ، شرط یہ ہے کہ ہم اپنے راستے پر رواں دواں رہتے ہوئے تحریکی تقاضوں پر پورا اترتے رہیں۔
س: نظریاتی اختلافات کے باوجود قیادت کا موجودہ اتحاد قابل ستائش ہے۔ اس اتحاد کا مستقل کیسا دیکھتے ہیں آپ ؟
ج: دیکھئے یہ وقت کا تقا ضا ہے اور منزل تک جلد پہنچنے کےلیے قیادت کا متحد رہنا ضروری ہے۔ نظریاتی اختلاف موجود ہیں مگریہ اختلاف آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئے۔ اس بات پر قیادت متفق ہے کہ آخری حل تو عوام نے ہی جمہوری طریقے سے کرنا ہے اور وہ فیصلہ ہم سب کے لیے قابل قبول ہے۔
س: موجودہ تحریک کے دوران پوری دنیا میں کشمیری آزادی کے لیے یک زبان ہوگئے ۔ حکومت پاکستان کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں ؟
ج: حکومت پاکستان بالخصوص پاکستانی عوام اور میڈیا کے ہم شکر گزار ہیں کہ انہوںنے موجودہ تحریک کے آغاز سے ہی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی حمایت میں اظہار یکجہتی کا مظاہرہ بھی کیا۔ دیکھئے جہاں حکومتی سطح پر کچھ اہم بیانات، اعلانات اور تقاریر پڑھنے اور سننے کو ملی ہیں وہیں یہ تحریک بہت کچھ مزید کرنے کابھی تقاضا کرتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری تک مسئلہ کشمیر کو اس کی اصل روح میں پےش کرتے ہوئے بھارتی بربریت سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیر کی آزادی کےلیے سنجیدہ اقدامات لیں۔
س: بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق پاکستان اور بھارت کی افواج پر کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن وہ ذمہ داری پوری نہ کرسکے ۔ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل عام اور کنٹرول لائن پر موجودہ صورتحال اس کی ایک مثال ہے ۔ کون ذمہ دار ہے؟
ج: بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل میں طوالتی پالیسی اور بین الاقوامی برادری کی بے حسی فوری حل میں اصل رکاوٹ ہے۔حق کی آواز کو طاقت کے استعمال سے دبانے کی بھارت کی کوشش اب تک ناکام ہوئی ہے اور قتل و غارتگری کے گرم بازار سے بین الاقوامی برادری کی آنکھیں اوجھل ہیں۔
س: تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ،جو تحریک شروع ہوئی ہے ،اس کی زمام کم عمر نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔قیادت کا کہیں کوئی رول نظر نہیں آرہا ہے؟کیا یہ تاثر درست ہے؟
ج: دیکھئے نوجوان ہمیشہ اس تحریک کا روح رواں ر ہے ہیں۔ آج بھی یہ حقیقت موجود ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیادت کی بات سنی نہیں جاتی ،یہ تاثر بھی غلط ہے کہ یہ تحریک قیادت کے بغیر چل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیادت کی طرف سے جاری احتجاجی کےلنڈر پر پوری قوم عمل پےرا ہے۔
س: ریاست جموں و کشمیر کے تین خطے آزادکشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں۔ لیکن تینوں الگ الگ مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ کیاکوئی ایسا رہنما ہے جس کی آواز پر تینوں خطے لبیک کہیں گے ؟
ج: ریاست جموں کشمیر کی جن تین اکائیوں کی آپ نے نشاندہی کی ہے وہ در اصل اپنے اپنے معروضی حالات کے عین مطابق عوامی مسائل کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مگر تینوں اکائیوں میں بسنے والی عوام ریاست جموں وکشمیر کی مکمل آزادی پر متفق ہیں اور اس کے لیے کوشاں بھی ہیں۔
س: محبوبہ مفتی اور عمر عبد اللہ میں کوئی فرق۔۔۔کیاحریت قیادت نے کبھی ان کو اعتماد میں لینے کی کو شش کی؟
ج: دیکھئے ہماری دعوت ِ فکر، یعنی ریاست جموں کشمیر کی آزادی، ہر محب وطن ریاستی باشندے کے لیے یکساں ہے جو ہم متعدد بار مختلف موقعوں پر دہراتے بھی ر ہے ہیں۔ کوئی بھی کشمیری اس نصب العین کے ساتھ چلنا چاہے اور اپنی قوم کو غلامی کے بد ترین دلدل سے نکال کر آزادی کے حصول کے لیے ہماری صف میں شامل ہونا چاہے تو ایسے شخص کے لیے کسی بھی قسم کی قدغنیں یا رکاوٹیں نہیں ہیں بلکہ ہم کسی بھی مذہب یا کسی بھی طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایسے شخص کو دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہیں گے۔ مگر کچھ ایسے بھی کشمیر ی موجود ہیں جو بھارت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور چند مفادات کے عوض بھارت کی ایما ءپر اپنے ہی کشمیریوں کے قتل وغارت گری میں برابر کے شریک ہیں۔ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ ایسے ہی کشمیریوں کے صف اول میں موجود ہیں۔
س: امیر حزب المجاہدین با ر بار تکرار کے ساتھ اس بات کا برملا اظہار کررہے ہیں کہ تیر بہدف عسکری جدوجہد ہی بھارت کو با مقصد مذاکرات کے لیے تیار کرسکتی ہے۔۔۔ آپ کی رائے ؟
ج: دیکھئے میں اور میری جماعت پُر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہےں اور دنیا کے مسلمہ اصول کے عین مطابق عوامی سیاسی مزاحمت سے ہی بھارت کو کشمیریوں کے حق آزادی تسلیم کرانے پر مجبورکرنے پر گامزن ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ جس طرح 1987ءمیں ہم نے بھارت کے خلاف بندوق اٹھائی تھی بالکل اسی طرح امیر حزب اور سینکڑوںنوجوانان ِکشمیر عسکری جدوجہد کا حق رکھتے ہوئے اس راہ پر گامزن ہیں۔
س: ستر سال گزرگئے ۔ کیاآپ پُر امید ہیں کہ کشمیر آزاد ہوگا ؟؟؟
ج: جی ہاں، مجھے سو فیصد امیدہے کہ کشمیری قوم ایک دن ضرور آزادی سے ہمکنار ہوگی کیونکہ مجھے اپنی جدوجہد پر بھروسہ ہے۔
مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...
میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...
25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...
نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...
بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...
عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...
قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...
گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...
پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...
مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...
ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...
وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...