وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جیل ہمارا دوسراگھر۔۔کشمیری آزادی کے سوا کسی چیز پر رضا مند نہیں‘یٰسین ملک کا خصوصی انٹرویو

هفته 19 نومبر 2016 جیل ہمارا دوسراگھر۔۔کشمیری آزادی کے سوا کسی چیز پر رضا مند نہیں‘یٰسین ملک کا خصوصی انٹرویو

زندان یا شہادت حریت پسند کا مقدر ہوا کرتا ہے ، ہم اسکے لیے تیار ہیں، کشمیری قوم ضرور آزادی کی منزل سے ضرورہمکنار ہوگی
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسے لوگ بھارت کے آلہ کار ہیں،جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک سے خصوصی انٹرویو
yasin-malikجموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئر مین 50سالہ محمد یٰسین ملک تحریک آزادی کے ان گنے چنے رہنما وں میں شا مل ہیں جنہوں نے بچپن سے ہی کشمیر کی آزادی کو اپنا مشن سمجھا اور” اپنا آج ،قوم کے کل “پر قربان کرنے میں کو ئی ہچکچا ہٹ محسوس نہیں کی ۔ان دنوں خاص طور پربدترین ریاستی تشدد کا مسلسل شکار بنے ہوئے ہیں،بھارتی تعذیب خانوں اور جیلوں کے ساتھ ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔لیکن پورے حوصلے اور ہمت کے ساتھ میدان عمل میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔ تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ والہانہ لگاو¿ ،ثابت قدمی اور سخت ترین حالات میں آپ کے قائدانہ کردار کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔حریت رہنماوںمیں موجودہ اتحاد قائم کرنے میں آپ کا کلیدی کردار ہے ۔اس اتحاد کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ خود ساختہ کثرت قائد ین سے قوم کو نجات ملنا ممکن ہوا ہے ۔حریت قیادت کے ایک طاقتور اتحاد کی بہت پہلے سے ضرورت محسوس ہورہی تھی،لگ رہا ہے کہ محمد یٰسین ملک کی مسلسل کا وشوں کے نتیجے میں وہ امید بر آئی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں اور ان کی ریاستی حا شیہ بردار قوتیں اس اتحاد کو توڑنے اور کمزور کرنے میں ہر ممکنہ کردار ادا کررہی ہیں ،تاہم انہیںیقین ہے کہ یہ کو ششیں ناکام ہو نگی اور تحریک آزادی منزل کی طرف رواں دواں رہے گی۔ وجود ڈاٹ کام کے لیے ان کا یہ انٹرویو سری نگر سے خصوصی طورپر لیا گیا۔
انٹرویو :شیخ امین/مقصود منتظر

س: زندانوں اور ٹارچر سیلوں میں رہنا اور بڑی بہادری سے تشدد سہنا آپ کے لیے کوئی نئی بات تو نہیں ؟لیکن اس دفعہ آپ کی صحت کچھ زیادہ ہی خراب ہو گئی۔کوئی خاص وجہ۔
ج: دیکھئے جیل ہمارا دوسرا گھر ہے۔ زندان یا شہادت حریت پسند کا مقدر ہوا کرتا ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔اس بار میری طبیعت خراب ہونے کی پہلی وجہ یہ تھی کہ 8جولائی کو مجھے بیماری کی حالت میں گرفتار کیا گیاتھا ، دوئم یہ کہ گردوں میں پتھریاں موجود ہونے کی وجہ سے مجھے ہفتہ وار ڈاکٹر کے پاس معائنہ کرانا پڑتا ہے جبکہ اس بار تقریباً پہلے تین ماہ مجھے مختلف تھانوں سے سنٹرل جےل یا تفتیشی مرکز منتقل کرتے رہے مگر علاج کےلیے ڈاکٹر کے پاس نہ لیا گیا اورسوئم یہ کہ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں سی ٹی سکین سے قبل دیاجانے والا انجےکشن فیل ہوجانے کی وجہ سے میری حالت غیر ہوگئی تھی۔
س:چار ماہ سے جموں کشمیر میں عوامی مزاحمت جاری ہے ۔ کیا کھویا کیا پایا؟
ج: چار ماہ سے جاری مزاحمت میں جہاں ہم نے ایک سو سے زیادہ نوجوانوں کی شہادتیں پائیں ،14ہزارسے زیادہ زخمی ہوئے ، ایک ہزار کے لگ بھگ نوجوانوں کی آنکھیں جزوی یا کلی طور متاثر ہوئیں جبکہ 10 ہزار کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا مگر وہیں پر مسئلہ کشمیر کی گونج بین الاقوامی سطح پرسنائی دی اور بھارت پر ایک بار بھر واضح ہو گیا کہ کشمیری عوام آزادی کے سواءکسی چیز پر رضامند نہیں۔
س: وادی کشمیر سردی کی لپیٹ میں آنے والی ہے، موجودہ تحریک کا کیا نتیجہ دیکھتے ہیں ؟ کیا سردی بڑھنے کے ساتھ کہیں عوامی جذبہ بھی ٹھنڈا تو نہیںہوگا؟
ج : دیکھئے حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کا جذبہ آزادی گزشتہ سات دہائیوں میں پڑنے والی سخت ترین سردیوں سے ٹھنڈا نہ پڑ سکا ۔ جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے سردی کے موسم میں صرف ہماری حکمت عملی تبدیل ہوتی ہے ۔
س: کیا حریت قیادت کی طرف سے ملاقات کے لیے ”ناں “ کے بعد ”ہاں “ کا فیصلہ درست تھا؟کہیں برف پگھلتی نظر آرہی ہے یا بھارتی قیادت ڈوول ڈاکٹرائن پر پی عمل کرنا چا ہتی ہے ۔
ج: جمہوریت کا یہی حسن ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود ہم مشترکہ جدوجہد ِ آزادی کے لیے متحد ہیں۔ بھارت کون سے ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہے، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہمارے سامنے ضروری یہ ہے کہ کیا ہم آزادی ڈاکٹرائن پر گامزن ہیں کہ نہیں۔ بھارت کو دیریا سویر انصاف اور حق پر مبنی اس جدوجہد کو تسلیم کرنا پڑیگا ، شرط یہ ہے کہ ہم اپنے راستے پر رواں دواں رہتے ہوئے تحریکی تقاضوں پر پورا اترتے رہیں۔
س: نظریاتی اختلافات کے باوجود قیادت کا موجودہ اتحاد قابل ستائش ہے۔ اس اتحاد کا مستقل کیسا دیکھتے ہیں آپ ؟
ج: دیکھئے یہ وقت کا تقا ضا ہے اور منزل تک جلد پہنچنے کےلیے قیادت کا متحد رہنا ضروری ہے۔ نظریاتی اختلاف موجود ہیں مگریہ اختلاف آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئے۔ اس بات پر قیادت متفق ہے کہ آخری حل تو عوام نے ہی جمہوری طریقے سے کرنا ہے اور وہ فیصلہ ہم سب کے لیے قابل قبول ہے۔
س: موجودہ تحریک کے دوران پوری دنیا میں کشمیری آزادی کے لیے یک زبان ہوگئے ۔ حکومت پاکستان کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں ؟
ج: حکومت پاکستان بالخصوص پاکستانی عوام اور میڈیا کے ہم شکر گزار ہیں کہ انہوںنے موجودہ تحریک کے آغاز سے ہی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی حمایت میں اظہار یکجہتی کا مظاہرہ بھی کیا۔ دیکھئے جہاں حکومتی سطح پر کچھ اہم بیانات، اعلانات اور تقاریر پڑھنے اور سننے کو ملی ہیں وہیں یہ تحریک بہت کچھ مزید کرنے کابھی تقاضا کرتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری تک مسئلہ کشمیر کو اس کی اصل روح میں پےش کرتے ہوئے بھارتی بربریت سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیر کی آزادی کےلیے سنجیدہ اقدامات لیں۔
س: بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق پاکستان اور بھارت کی افواج پر کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن وہ ذمہ داری پوری نہ کرسکے ۔ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل عام اور کنٹرول لائن پر موجودہ صورتحال اس کی ایک مثال ہے ۔ کون ذمہ دار ہے؟
ج: بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل میں طوالتی پالیسی اور بین الاقوامی برادری کی بے حسی فوری حل میں اصل رکاوٹ ہے۔حق کی آواز کو طاقت کے استعمال سے دبانے کی بھارت کی کوشش اب تک ناکام ہوئی ہے اور قتل و غارتگری کے گرم بازار سے بین الاقوامی برادری کی آنکھیں اوجھل ہیں۔
س: تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ،جو تحریک شروع ہوئی ہے ،اس کی زمام کم عمر نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔قیادت کا کہیں کوئی رول نظر نہیں آرہا ہے؟کیا یہ تاثر درست ہے؟
ج: دیکھئے نوجوان ہمیشہ اس تحریک کا روح رواں ر ہے ہیں۔ آج بھی یہ حقیقت موجود ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیادت کی بات سنی نہیں جاتی ،یہ تاثر بھی غلط ہے کہ یہ تحریک قیادت کے بغیر چل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیادت کی طرف سے جاری احتجاجی کےلنڈر پر پوری قوم عمل پےرا ہے۔
س: ریاست جموں و کشمیر کے تین خطے آزادکشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں۔ لیکن تینوں الگ الگ مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ کیاکوئی ایسا رہنما ہے جس کی آواز پر تینوں خطے لبیک کہیں گے ؟
ج: ریاست جموں کشمیر کی جن تین اکائیوں کی آپ نے نشاندہی کی ہے وہ در اصل اپنے اپنے معروضی حالات کے عین مطابق عوامی مسائل کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مگر تینوں اکائیوں میں بسنے والی عوام ریاست جموں وکشمیر کی مکمل آزادی پر متفق ہیں اور اس کے لیے کوشاں بھی ہیں۔
س: محبوبہ مفتی اور عمر عبد اللہ میں کوئی فرق۔۔۔کیاحریت قیادت نے کبھی ان کو اعتماد میں لینے کی کو شش کی؟
ج: دیکھئے ہماری دعوت ِ فکر، یعنی ریاست جموں کشمیر کی آزادی، ہر محب وطن ریاستی باشندے کے لیے یکساں ہے جو ہم متعدد بار مختلف موقعوں پر دہراتے بھی ر ہے ہیں۔ کوئی بھی کشمیری اس نصب العین کے ساتھ چلنا چاہے اور اپنی قوم کو غلامی کے بد ترین دلدل سے نکال کر آزادی کے حصول کے لیے ہماری صف میں شامل ہونا چاہے تو ایسے شخص کے لیے کسی بھی قسم کی قدغنیں یا رکاوٹیں نہیں ہیں بلکہ ہم کسی بھی مذہب یا کسی بھی طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایسے شخص کو دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہیں گے۔ مگر کچھ ایسے بھی کشمیر ی موجود ہیں جو بھارت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور چند مفادات کے عوض بھارت کی ایما ءپر اپنے ہی کشمیریوں کے قتل وغارت گری میں برابر کے شریک ہیں۔ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ ایسے ہی کشمیریوں کے صف اول میں موجود ہیں۔
س: امیر حزب المجاہدین با ر بار تکرار کے ساتھ اس بات کا برملا اظہار کررہے ہیں کہ تیر بہدف عسکری جدوجہد ہی بھارت کو با مقصد مذاکرات کے لیے تیار کرسکتی ہے۔۔۔ آپ کی رائے ؟
ج: دیکھئے میں اور میری جماعت پُر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہےں اور دنیا کے مسلمہ اصول کے عین مطابق عوامی سیاسی مزاحمت سے ہی بھارت کو کشمیریوں کے حق آزادی تسلیم کرانے پر مجبورکرنے پر گامزن ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ جس طرح 1987ءمیں ہم نے بھارت کے خلاف بندوق اٹھائی تھی بالکل اسی طرح امیر حزب اور سینکڑوںنوجوانان ِکشمیر عسکری جدوجہد کا حق رکھتے ہوئے اس راہ پر گامزن ہیں۔
س: ستر سال گزرگئے ۔ کیاآپ پُر امید ہیں کہ کشمیر آزاد ہوگا ؟؟؟
ج: جی ہاں، مجھے سو فیصد امیدہے کہ کشمیری قوم ایک دن ضرور آزادی سے ہمکنار ہوگی کیونکہ مجھے اپنی جدوجہد پر بھروسہ ہے۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون وجود - هفته 25 جنوری 2020

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی بیس پر ایرانی حملے کے بعد 34 امریکی فوجیوں کو شدید دماغی چوٹ(ٹی بی آئی)کی تشخیص کی گئی ہے ۔ ایک ترجمان کے مطابق فی الحال 17 فوجیوں کی اب بھی طبی نگہداشت کی جا رہی ہے ۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آٹھ جنوری کو ایران کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بدلے میں کیے جانے والے حملے میں کوئی بھی امریکی زخمی نہیں ہوا۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کسی بھی فرد کے زخمی نہ ہونے کے پیشِ نظر کیا گیا۔لیک...

عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی وجود - هفته 25 جنوری 2020

ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں جس کے نتیجے میں 19افراد ہلاک، 750 سے زائد زخمی جبکہ 30افراد لاپتہ ہوگئے ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8 شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں عمارتوں کے ملبے تلے افراد کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ترکی کے صوبائی گورنر نے کہا کہ مشرقی صوبے الازگ میں زلزلے سے 19افراد ہلاک اور 750سے زائد زخمی ہوگئے ،مزید ...

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران وجود - جمعه 24 جنوری 2020

ایران نے مشرق وسطی کو درپیش مسائل کے حل اور خطہ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تہران میں ایرانی صدر کے چیف آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ، سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں ۔

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر وجود - جمعه 24 جنوری 2020

چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر26 ہوگئی جبکہ830 افراد متاثر بھی ہوئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کوروناوائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کے قریب 7شہروں میں ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی جب کہ شہریوں کو جھیلوں، دریائوں اور نہروں پر جانے سے روک دیا گیا ۔عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے اسے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے ۔ حکام نے کہا کہ کرونا وائرس کو عالمی وبا ئوقرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس وائرس کے پھیلا پر کڑی نظر رکھی جارہی ...

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

ایران کی پیراملٹری فوج بسیج کے کمانڈرعبدالحسین مجدمی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کمانڈرعبدالحسین مجدمی کوصوبہ خوزستان کے شہردرخوین میں گھرکے سامنے نقاب پوش افراد نے نشانہ بنایا۔ پیراملٹری فوج کے سربراہ عبدالحسین مجدمی امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھی تھے ۔ موٹرسائیکل پر سوار دو بندوق برداروں نے حملہ کیا، حملہ آوروں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے اور چار گولیاں چلائی گئی ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے تاہم اس ...

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا پراسرار کورونا وائرس اب ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی پھیلنے لگا ، چین کے صوبے ہوبائی کے دارلحکومت ووہان میں کورونا وائرس سے 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 547 تک پہنچ گئی ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صحت حکام نے وائرس کے پھیلا سے بچنے کے لئے 1 کروڑ افراد پر مشتمل شہر ووہان کو مکمل طور سیل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چین میں ٹرینوں اور بس سروسز کا نظام معطل ہونے کے باعث قمری سال کی تعطیلات گزارن...

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون چرچ کے دورے کے دوران فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو دیکھ کربرہم ہو گئے ۔ ایمانویل میکرون نے انگریزی میں ڈانٹتے ہوئے اسرائیلی سکیورٹی اہلکار سے کہا کہ باہر جائوجو تم نے میرے سامنے کیا وہ بالکل پسند نہیں آیا، سب کو رولز معلوم ہیں ناں؟ یہ قواعد صدیوں سے ہیں، میرے ساتھ فرانسیسی اہلکار ہی رہیں گے ، قانون کا احترام کریں ۔واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کا چرچ آف سینٹ این فرانس کی ملکیت ہے ، 1967 ء میں یہاں اسرائیلی قبضے کو بھی فران...

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے وجود - بدھ 22 جنوری 2020

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے پورٹ لینڈ شہر میں مظاہرے کیے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی پولیس کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف اس مظاہروں کی کال بلیک لائف میٹر اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی دوسری تنظیموں نے دی تھی۔ مظاہرے کے شرکا نے زمین پر لیٹ کر پولیس کے نسل پرستانہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے لازمی اقدامات کی اپیل کی۔امریکہ میں کرائے جانے والے رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق 56 فی صد امریکی شہ...

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار وجود - بدھ 22 جنوری 2020

بھارتی بزنس مین مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ، 2019 میں ان کی دولت 58.4 ارب ڈالر رہی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت کے 15 ارب پتی شخصیات کی مجموعی دولت 197.8 ارب ڈالر کے برابر ہے ۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 میں متعدد بھارتی ارب پتی شخصیات کی دولت میں کمی ہوئی لیکن مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ۔15عشاریہ 3ارب ڈالر کے ساتھ بھارتی صنعت کار شیونادر دوسرے نمبر پر رہے ، جبکہ بھارت کے تیسرے امیر ترین شخص بی...

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران وجود - بدھ 22 جنوری 2020

ایران کی قدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قانی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو بزدلانہ حملے میں شہید کرنے والے امریکا پر مردانہ وار کارروائی کرکے جواب دیں گے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے کہا کہ امریکا نے بزدلوں کی طرح حملہ کرکے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کیا ہے جس کا ہم مردوں کی طرح بہادری سے جواب دیں گے ۔قدس فورس کے سربراہ نے کہا کہ ایران امریکا کی طرح پیچھے سے بزدلانہ وار نہیں کرتا بلکہ مردوں کی طرح سا...

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق وجود - بدھ 22 جنوری 2020

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا ، امریکی حکام کی جانب سے پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق کی گئی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ چائنا وائرس، یعنی کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی تصدیق ہوئی ہے جو حال ہی میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی)کی جانب سے کہا گیا کہ چین میں دریافت ہونے والا وائرس امریکی شہر سیاٹل میں ایک ایسے شخص میں پایا گیا جو چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکہ میں پائے جانے والا مریض 30 کی دہ...

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار وجود - منگل 21 جنوری 2020

  وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ دن میں مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے صدی کی ڈیل کے بارے میں حتمی اعلان کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ا نہوں نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ صدی کی ڈیل کے حوالے سے صدرٹرمپ خود ہی کوئی فیصلہ کریں گے ۔اس فیصلے کے حوالے سے وقت ایک اہم عنصرہوگا کیونکہ اس معاملے میں تاخیرامریکی صدارتی انتخابات کی وجہ سے اس منصوبے کے مفاد میں نہیں ہوگی۔وائٹ ہائوس نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امن سے خوشحالی کے نام...

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار