وجود

... loading ...

وجود

جیل ہمارا دوسراگھر۔۔کشمیری آزادی کے سوا کسی چیز پر رضا مند نہیں‘یٰسین ملک کا خصوصی انٹرویو

هفته 19 نومبر 2016 جیل ہمارا دوسراگھر۔۔کشمیری آزادی کے سوا کسی چیز پر رضا مند نہیں‘یٰسین ملک کا خصوصی انٹرویو

زندان یا شہادت حریت پسند کا مقدر ہوا کرتا ہے ، ہم اسکے لیے تیار ہیں، کشمیری قوم ضرور آزادی کی منزل سے ضرورہمکنار ہوگی
محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسے لوگ بھارت کے آلہ کار ہیں،جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک سے خصوصی انٹرویو
yasin-malikجموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئر مین 50سالہ محمد یٰسین ملک تحریک آزادی کے ان گنے چنے رہنما وں میں شا مل ہیں جنہوں نے بچپن سے ہی کشمیر کی آزادی کو اپنا مشن سمجھا اور” اپنا آج ،قوم کے کل “پر قربان کرنے میں کو ئی ہچکچا ہٹ محسوس نہیں کی ۔ان دنوں خاص طور پربدترین ریاستی تشدد کا مسلسل شکار بنے ہوئے ہیں،بھارتی تعذیب خانوں اور جیلوں کے ساتھ ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔لیکن پورے حوصلے اور ہمت کے ساتھ میدان عمل میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔ تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ والہانہ لگاو¿ ،ثابت قدمی اور سخت ترین حالات میں آپ کے قائدانہ کردار کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔حریت رہنماوںمیں موجودہ اتحاد قائم کرنے میں آپ کا کلیدی کردار ہے ۔اس اتحاد کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ خود ساختہ کثرت قائد ین سے قوم کو نجات ملنا ممکن ہوا ہے ۔حریت قیادت کے ایک طاقتور اتحاد کی بہت پہلے سے ضرورت محسوس ہورہی تھی،لگ رہا ہے کہ محمد یٰسین ملک کی مسلسل کا وشوں کے نتیجے میں وہ امید بر آئی ہے۔ بھارتی ایجنسیاں اور ان کی ریاستی حا شیہ بردار قوتیں اس اتحاد کو توڑنے اور کمزور کرنے میں ہر ممکنہ کردار ادا کررہی ہیں ،تاہم انہیںیقین ہے کہ یہ کو ششیں ناکام ہو نگی اور تحریک آزادی منزل کی طرف رواں دواں رہے گی۔ وجود ڈاٹ کام کے لیے ان کا یہ انٹرویو سری نگر سے خصوصی طورپر لیا گیا۔
انٹرویو :شیخ امین/مقصود منتظر

س: زندانوں اور ٹارچر سیلوں میں رہنا اور بڑی بہادری سے تشدد سہنا آپ کے لیے کوئی نئی بات تو نہیں ؟لیکن اس دفعہ آپ کی صحت کچھ زیادہ ہی خراب ہو گئی۔کوئی خاص وجہ۔
ج: دیکھئے جیل ہمارا دوسرا گھر ہے۔ زندان یا شہادت حریت پسند کا مقدر ہوا کرتا ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔اس بار میری طبیعت خراب ہونے کی پہلی وجہ یہ تھی کہ 8جولائی کو مجھے بیماری کی حالت میں گرفتار کیا گیاتھا ، دوئم یہ کہ گردوں میں پتھریاں موجود ہونے کی وجہ سے مجھے ہفتہ وار ڈاکٹر کے پاس معائنہ کرانا پڑتا ہے جبکہ اس بار تقریباً پہلے تین ماہ مجھے مختلف تھانوں سے سنٹرل جےل یا تفتیشی مرکز منتقل کرتے رہے مگر علاج کےلیے ڈاکٹر کے پاس نہ لیا گیا اورسوئم یہ کہ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں سی ٹی سکین سے قبل دیاجانے والا انجےکشن فیل ہوجانے کی وجہ سے میری حالت غیر ہوگئی تھی۔
س:چار ماہ سے جموں کشمیر میں عوامی مزاحمت جاری ہے ۔ کیا کھویا کیا پایا؟
ج: چار ماہ سے جاری مزاحمت میں جہاں ہم نے ایک سو سے زیادہ نوجوانوں کی شہادتیں پائیں ،14ہزارسے زیادہ زخمی ہوئے ، ایک ہزار کے لگ بھگ نوجوانوں کی آنکھیں جزوی یا کلی طور متاثر ہوئیں جبکہ 10 ہزار کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا مگر وہیں پر مسئلہ کشمیر کی گونج بین الاقوامی سطح پرسنائی دی اور بھارت پر ایک بار بھر واضح ہو گیا کہ کشمیری عوام آزادی کے سواءکسی چیز پر رضامند نہیں۔
س: وادی کشمیر سردی کی لپیٹ میں آنے والی ہے، موجودہ تحریک کا کیا نتیجہ دیکھتے ہیں ؟ کیا سردی بڑھنے کے ساتھ کہیں عوامی جذبہ بھی ٹھنڈا تو نہیںہوگا؟
ج : دیکھئے حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کا جذبہ آزادی گزشتہ سات دہائیوں میں پڑنے والی سخت ترین سردیوں سے ٹھنڈا نہ پڑ سکا ۔ جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے سردی کے موسم میں صرف ہماری حکمت عملی تبدیل ہوتی ہے ۔
س: کیا حریت قیادت کی طرف سے ملاقات کے لیے ”ناں “ کے بعد ”ہاں “ کا فیصلہ درست تھا؟کہیں برف پگھلتی نظر آرہی ہے یا بھارتی قیادت ڈوول ڈاکٹرائن پر پی عمل کرنا چا ہتی ہے ۔
ج: جمہوریت کا یہی حسن ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود ہم مشترکہ جدوجہد ِ آزادی کے لیے متحد ہیں۔ بھارت کون سے ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہے، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہمارے سامنے ضروری یہ ہے کہ کیا ہم آزادی ڈاکٹرائن پر گامزن ہیں کہ نہیں۔ بھارت کو دیریا سویر انصاف اور حق پر مبنی اس جدوجہد کو تسلیم کرنا پڑیگا ، شرط یہ ہے کہ ہم اپنے راستے پر رواں دواں رہتے ہوئے تحریکی تقاضوں پر پورا اترتے رہیں۔
س: نظریاتی اختلافات کے باوجود قیادت کا موجودہ اتحاد قابل ستائش ہے۔ اس اتحاد کا مستقل کیسا دیکھتے ہیں آپ ؟
ج: دیکھئے یہ وقت کا تقا ضا ہے اور منزل تک جلد پہنچنے کےلیے قیادت کا متحد رہنا ضروری ہے۔ نظریاتی اختلاف موجود ہیں مگریہ اختلاف آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئے۔ اس بات پر قیادت متفق ہے کہ آخری حل تو عوام نے ہی جمہوری طریقے سے کرنا ہے اور وہ فیصلہ ہم سب کے لیے قابل قبول ہے۔
س: موجودہ تحریک کے دوران پوری دنیا میں کشمیری آزادی کے لیے یک زبان ہوگئے ۔ حکومت پاکستان کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں ؟
ج: حکومت پاکستان بالخصوص پاکستانی عوام اور میڈیا کے ہم شکر گزار ہیں کہ انہوںنے موجودہ تحریک کے آغاز سے ہی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی حمایت میں اظہار یکجہتی کا مظاہرہ بھی کیا۔ دیکھئے جہاں حکومتی سطح پر کچھ اہم بیانات، اعلانات اور تقاریر پڑھنے اور سننے کو ملی ہیں وہیں یہ تحریک بہت کچھ مزید کرنے کابھی تقاضا کرتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری تک مسئلہ کشمیر کو اس کی اصل روح میں پےش کرتے ہوئے بھارتی بربریت سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیر کی آزادی کےلیے سنجیدہ اقدامات لیں۔
س: بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق پاکستان اور بھارت کی افواج پر کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن وہ ذمہ داری پوری نہ کرسکے ۔ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل عام اور کنٹرول لائن پر موجودہ صورتحال اس کی ایک مثال ہے ۔ کون ذمہ دار ہے؟
ج: بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل میں طوالتی پالیسی اور بین الاقوامی برادری کی بے حسی فوری حل میں اصل رکاوٹ ہے۔حق کی آواز کو طاقت کے استعمال سے دبانے کی بھارت کی کوشش اب تک ناکام ہوئی ہے اور قتل و غارتگری کے گرم بازار سے بین الاقوامی برادری کی آنکھیں اوجھل ہیں۔
س: تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ،جو تحریک شروع ہوئی ہے ،اس کی زمام کم عمر نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔قیادت کا کہیں کوئی رول نظر نہیں آرہا ہے؟کیا یہ تاثر درست ہے؟
ج: دیکھئے نوجوان ہمیشہ اس تحریک کا روح رواں ر ہے ہیں۔ آج بھی یہ حقیقت موجود ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیادت کی بات سنی نہیں جاتی ،یہ تاثر بھی غلط ہے کہ یہ تحریک قیادت کے بغیر چل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیادت کی طرف سے جاری احتجاجی کےلنڈر پر پوری قوم عمل پےرا ہے۔
س: ریاست جموں و کشمیر کے تین خطے آزادکشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں۔ لیکن تینوں الگ الگ مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ کیاکوئی ایسا رہنما ہے جس کی آواز پر تینوں خطے لبیک کہیں گے ؟
ج: ریاست جموں کشمیر کی جن تین اکائیوں کی آپ نے نشاندہی کی ہے وہ در اصل اپنے اپنے معروضی حالات کے عین مطابق عوامی مسائل کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مگر تینوں اکائیوں میں بسنے والی عوام ریاست جموں وکشمیر کی مکمل آزادی پر متفق ہیں اور اس کے لیے کوشاں بھی ہیں۔
س: محبوبہ مفتی اور عمر عبد اللہ میں کوئی فرق۔۔۔کیاحریت قیادت نے کبھی ان کو اعتماد میں لینے کی کو شش کی؟
ج: دیکھئے ہماری دعوت ِ فکر، یعنی ریاست جموں کشمیر کی آزادی، ہر محب وطن ریاستی باشندے کے لیے یکساں ہے جو ہم متعدد بار مختلف موقعوں پر دہراتے بھی ر ہے ہیں۔ کوئی بھی کشمیری اس نصب العین کے ساتھ چلنا چاہے اور اپنی قوم کو غلامی کے بد ترین دلدل سے نکال کر آزادی کے حصول کے لیے ہماری صف میں شامل ہونا چاہے تو ایسے شخص کے لیے کسی بھی قسم کی قدغنیں یا رکاوٹیں نہیں ہیں بلکہ ہم کسی بھی مذہب یا کسی بھی طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایسے شخص کو دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہیں گے۔ مگر کچھ ایسے بھی کشمیر ی موجود ہیں جو بھارت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور چند مفادات کے عوض بھارت کی ایما ءپر اپنے ہی کشمیریوں کے قتل وغارت گری میں برابر کے شریک ہیں۔ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ ایسے ہی کشمیریوں کے صف اول میں موجود ہیں۔
س: امیر حزب المجاہدین با ر بار تکرار کے ساتھ اس بات کا برملا اظہار کررہے ہیں کہ تیر بہدف عسکری جدوجہد ہی بھارت کو با مقصد مذاکرات کے لیے تیار کرسکتی ہے۔۔۔ آپ کی رائے ؟
ج: دیکھئے میں اور میری جماعت پُر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہےں اور دنیا کے مسلمہ اصول کے عین مطابق عوامی سیاسی مزاحمت سے ہی بھارت کو کشمیریوں کے حق آزادی تسلیم کرانے پر مجبورکرنے پر گامزن ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ جس طرح 1987ءمیں ہم نے بھارت کے خلاف بندوق اٹھائی تھی بالکل اسی طرح امیر حزب اور سینکڑوںنوجوانان ِکشمیر عسکری جدوجہد کا حق رکھتے ہوئے اس راہ پر گامزن ہیں۔
س: ستر سال گزرگئے ۔ کیاآپ پُر امید ہیں کہ کشمیر آزاد ہوگا ؟؟؟
ج: جی ہاں، مجھے سو فیصد امیدہے کہ کشمیری قوم ایک دن ضرور آزادی سے ہمکنار ہوگی کیونکہ مجھے اپنی جدوجہد پر بھروسہ ہے۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن وجود - پیر 19 جنوری 2026

سندھ حکومت نے فوری طور پر آگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے،وزیر اطلاعات سندھ کتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ آگ بھجانے کے بعد ہی لگایا جائے گا،نجی ٹی وی سے گفتگو وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ میں کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروا...

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا وجود - پیر 19 جنوری 2026

نفاذ یکم فروری سے کیا جائیگا،جب تک گرین لینڈ نہیں مل جاتا ٹیرف بڑھتا ہی جائیگا معاہدہ نہ ہونے پر یکم جون سے ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا،امریکی صدر گرین لینڈ ملنے میں رکاوٹ اور ساتھ نہ دینے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا باقاعد...

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

مضامین
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود پیر 19 جنوری 2026
تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود پیر 19 جنوری 2026
معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر