... loading ...
امریکا بھارت کو خطے کا چوکیداربناناچاہتا ہے جس میں حالیہ امریکی انتخابات کے بعد اضافہ متوقع ہے ،لیکن کیا مودی سرکارمیں پاکستان و چین سے ٹکرانے کا دَم ہے ،تجزیہ کاروں کا جواب نہیں میں ہے
پاکستان کی ٹرمپ کو مبارکباداور کشمیر ثالثی کے وعدے یاد دلانے سے کام نہیں چلے گابلکہ امریکی کانگریسی ارکان کے درمیان بھرپور لابنگ کرکیپاکستان کی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے
بھارت اور امریکا کے درمیان غیر معمولی طورپر بڑھتے ہوئے تعلقات کو پوری دنیا میں محسوس کیاگیاہے، خاص طورپر روس اور عوامی جمہوریہ چین نے اس کاسنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیاہے جس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ روس نے جو گزشتہ 70سال کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات میں قدرے دوری برقرار رکھے ہوئے تھا ،پہلی مرتبہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی مشقوں میں شرکت کی، یہی نہیں بلکہ پاکستان کو اس کی ضرورت کا دفاعی سازوسامان فراہم کرنے اور پاکستان میں سرمایہ کاری پر بھی رضامندی کااظہار کیا۔
بھارت اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے پس منظر کاجائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ ان تعلقات کا بنیادی سبب بھارت اور امریکا کے رہنماؤں میں بڑھتاہوا عدم تحفظ کااحساس ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکا اس خطے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے خائف ہے، جبکہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد اب اسے اپنے یورپی اتحادیوں پر بھی بھروسہ نہیں رہا ہے، اس لیے وہ بھارت کو اپنے مضبوط حلیف کی حیثیت سے اس خطے میں ابھارنا چاہتاہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے چین کے خلاف استعمال کرکے چین کی دفاعی طاقت کو نقصان پہنچایاجاسکے۔تاہم سفارتی حلقوں کاخیال ہے کہ امریکا کا یہ تصور خیال خام ہے کہ وہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرسکے گا، کیونکہ بھارت کی تمامتر جنگی تیاریوں کا مقصد اس خطے میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور وہ چین کے ساتھ جنگ کی نہ تو صلاحیت رکھتاہے اور نہ ہی بھارت کے جنگی منصوبہ ساز اس قدر بے وقوف ہیں کہ وہ چین کے ساتھ محاذ آرائی کرکے اپنی فوجی طاقت کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنے قائم کردہ بھرم کو پاش پاش کرنے پر تیار ہوجائیں۔
بھارت کو ایشیا میں چین کے مقابل کھڑاکرنے کی امریکا کی یہ خواہش ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس اور خارجہ امور سے متعلق رکن کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ایڈ رائس نے اس خواہش کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ امریکا بھارت سے ایشیا میں اہم کام لینا چاہتاہے۔امریکا ایک طرف بھارت کو چین کے خلاف متوازی قوت کے طورپر کھڑا کرنا چاہتاہے اور دوسری طرف بھارت سے ایشیا میں اپنے مفادات کی نگرانی کا کام بھی لینا چاہتاہے۔بھارتی رہنما امریکا کی اس خواہش سے لاعلم نہیں ہیں لیکن وہ امریکی رہنماؤں کی اس خواہش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا سے زیادہ سے زیادہ جدید اسلحہ کے ساتھ ہی اقتصادی امدا د بھی بٹورنے کی کوشش کررہے ہیں اوراس طرح امریکا سے طویل المیعاد بنیادوں پر فوائد حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کو اپنے ان مقاصد میں مزید بڑی کامیابیوں کی توقع ہے۔لیکن جیسا کہ اوپر لکھاہے کہ اس کے باوجود اس خطے میں امریکا کی نگرانی میں امریکی رہنماؤں خاص طورپر امریکا کے فوجی منصوبہ سازوں کے تیار کردہ منصوبوں کے مطابق کردار کی ادائیگی کی صلاحیت اور وقت پڑنے پر بھارتی رہنماؤں کی جانب سے مطلوبہ کردار کی ادائیگی پر ایک سوالیہ نشان لگا رہے گا۔
روس سے حاصل کردہ اسلحہ کے انبار اور اب امریکا سے حاصل ہونے والے جدید ہتھیاروں کے بل پر بھارت اپنے پڑوسی ممالک پر اپنی توسیع پسندانہ پالیسی مسلط کرنے کی کوششوں پر عمل پیرا نظر آتاہے ۔پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر مسلسل چھیڑ چھاڑ سے اس کے ان توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور نشاندہی ہوتی ہے اور اب پوری امن پسند دنیا بھی بھارت کی اس مذموم خواہش کو سمجھنے لگی ہے یہی وجہ ہے کہ سفارتی محاذ پر بھارت کی مسلسل چیخ وپکار کے باوجود خود امریکا بھی بھارت کی پاکستان مخالف پالیسیوں کی حمایت میں ایک لفظ بھی کہنے کو تیار نہیں ہوا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی انسانیت سوز کارروائیوں کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اسے یہ کارروائیاں بند کر کے افہام وتفہیم کی فضا قائم کرنے کی تلقین کی ہے۔
ماضی میں امریکا اس خطے میں مفادات کے تحفظ اور دفاع کیلیے پاکستان پر انحصار کرتاتھا کیونکہ پاکستان جس طرح امریکا کومدد پہنچاسکتاتھا اور اس نے افغانستان میں روسی مداخلت کے وقت جس کا عملی مظاہرہ بھی کیا وہ بھارت نہیں کرسکتاتھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ تمام ملکوں کی حکمت عملیاں تبدیل ہوتی ہیں اور اب پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی بنیاد پر امریکا زیادہ دنوں اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلیے پاکستان پر انحصار کرنے کوتیار نہیں ہے بلکہ وہ اسے عملی طورپر قابل عمل بھی تصور نہیں کرتا، دوسری طرف اب بھارت بھی ماضی کی طرح کسی بھی ملک کے ساتھ فوجی وابستگی کا معاہدہ نہ کرنے کی پالیسی کو نظر انداز کرچکا ہے اور اب وہ اس خطے میں اپنی بادشاہت قائم کرنے کیلیے سب کچھ کر گزرنے کیلیے تیار نظر آتاہے ،یہی وجہ ہے کہ اب امریکی رہنماؤں نے بھارت کی طرف خصوصی دوستی کا ہاتھ بڑھانا ضروری تصور کیاہے ، اس طرح امریکا کا خیال ہے کہ وہ ایک طرف پاکستان کو چین کے ساتھ گہری دوستی اور وابستگی کا مزہ چکھاسکتاہے اور دوسری طرف چین کے خلاف بھارت کو موثر طورپر استعمال کرسکتاہے کیونکہ چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے ہیں اوردونوں ملکوں کے درمیان سرحدی امور سمیت کئی اہم معاملات میں شدید اختلافات موجود ہیں۔
یہ ضرور ہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں کے دوران بھارت کو انتہائی خصوصی اہمیت دینا شروع کردی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے بھارت کے ساتھ مل کر فوری کارروائیوں کیلیے ایک خصوصی شعبہ تشکیل دیا ہے جس کانام ہی انڈین ریپڈ ری ایکشن سیل رکھاگیاہے۔بھارت اورامریکا کے درمیان گزشتہ 66 سال سے موجود خصوصی اور قریبی تعلقات کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت گزشتہ 66سال سے امریکا سے سب سے زیادہ اقتصادی پارٹنر ملک رہاہے۔حال ہی میں امریکی سینیٹ کی مسلح افواج سے متعلق کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے امریکی فوج کے بحرالکاہل کے علاقے کے سربراہ ایڈمرل ہیری نے برملا یہ اعتراف کیاتھا کہ امریکا کیلیے بھارت میں شاندار مواقع موجود ہیں۔
دوسری جانب 1950 سے پاکستان کے امریکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور پاکستان نے امریکا کو جب بھی ضرورت پڑی ہے ہر طرح کی مدد فراہم کی ہے یہاں تک کہ اس کو فوجی کارروائیوں کیلیے اپنی سرزمین کو پلیٹ فارم کے طورپر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی گریز نہیں کیاہے لیکن اس کے باوجود پاکستان اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں ، اب نریندرا مودی کی حکومت پاک امریکا تعلقات میں پیداہونے والے تناؤ کو مکمل طورپر اپنے مفادات کیلیے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی رہی ہے جس کا اندازہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں اور بھارت اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت سے لگایاجاسکتاہے۔
اب جبکہ ڈونلڈ امریکا کے صدر کاعہدہ سنبھالنے کیلیے تیار ہیں پاک امریکا تعلقات کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی ہونے اور امریکی پالیسیوں میں پاکستان کی جگہ بھارت کو زیادہ اہمیت دیے جانے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتاکیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ صدر بننے کے بعد بھارت کے ساتھ دوستی کو زیادہ اہمیت دیں گے اور امریکا بھارت کا زیادہ گہرا دوست بن جائے گا،ہمارے منصوبہ اور پالیسی سازوں کو اس صورت حال پر توجہ دینی چاہئے اور انھیں یہ جان لینا چاہئے کہ وزیر اعظم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد کے پیغام یا انھیں کشمیر کامنصفانہ حل نکالنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر یا وعدے یاد دلانے سے پاکستان امریکا کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا اس کے لیے امریکی حلقوں خاص طورپر ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریسی ارکان کے درمیان بھرپور لابنگ کرنے اور انھیں اس خطے میں پاکستان کی اہمیت کا احساس دلانے کے ساتھ ہی امریکا کیلیے پاکستان کی ماضی کی خدمات کا احساس دلانے کی بھی ضرورت ہے جب تک ایسا نہیں کیاجاتا اس وقت تک پاک امریکا تعلقات میں موجود تناؤ کی موجودہ کیفیت نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوگی بلکہ بھارتی سازشوں اور لابنگ کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہوتے جانے کے خدشات کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔بدقسمتی سے پاکستان اس وقت ایک ایساملک ہے جس کے پاس کوئی کل وقتی وزیر خارجہ بھی نہیں ہے اور امورخارجہ مشیروں اور وزیر اعظم کے معاونین کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم کواس بات کااحساس کرنا چاہئے کہ اس وقت دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں اور تبدیلی کی اس لہر میں اپنی اہمیت برقرار رکھنے کیلیے پوری دنیا کواپنی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے اور یہ کام ایک کل وقتی اور واقعی باصلاحیت اور امور خارجہ پر دسترس رکھنے والا وزیر خارجہ ہی کرسکتاہے اس لیے وزیر اعظم کو وقت ضائع کیے بغیر وزیر خارجہ کا تقرر کرنا چاہئے تاکہ ملکی معاملات عالمی سطح پر احسن طریقہ سے چلائے جاسکیں اور مختلف عالمی واقعات اورحالات اور تنازعات پر پاکستان کے موقف کو بھر پور طریقے سے پیش کیاجاسکے۔
وزیر اعلیٰ کی گزشتہ ایک ہفتے میںگورنر خیبر پختونخوا کیساتھ مسلسل تین اہم ملاقاتیں،مولانا فضل الرحمان سے تبادلہ خیال،اپوزیشن کا ممکنہ اتحاد آئینی ترمیم کی راہ میںبڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان یکساں موقف اختیار کرنے کی کوشش ، دونوں جماعتیںکافی حد تک قریب آچکی ہ...
3 جوان زخمی ،سیکیورٹی فورسز کا میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پولیس اور دہشتگردوںمیں فائرنگ کا تبادلہ،متعدد خوارج کے زخمی ہونے کی اطلاعات بنوں کے علاقے میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں 15 دہشت گرد مارے گئے، 2 پولی...
دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی کا مختلف شہروں میں آپریشن لاہور سے فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد مختار گرفتار،دھماکہ خیز موادبرآمد دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 58 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13 دہشت گرد گرفتار کر لئے ۔سی ...
جنگ دوبارہ کرنی یا نہیں، اتوار تک فیصلہ کرینگے،دو چیزیں ہوسکتی ہیں اچھی ڈیل یا شدید بمباری صرف ایسا معاہدہ قبول کروں گا جس میں یورینیم افزودگی اور ذخیرے کا معاملہ حل ہو، صدر کی گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا ففٹی ففٹی چانس ہے، جنگ دوبارہ کرنی یا...
سابق وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا، عدالت میں پٹیشن دائر کی جا رہی ہے، بانی کو سائفر کیس میں بیرونی سازش کا نشانہ بنایا گیا ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان کی رہائی ،موجودہ حکمرانوں نے ملک کو مہنگائی، بدامنی،بے یقینی کی ...
ایران امریکا تنازع پرپاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران امریکا معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آگیا،جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں میں نرمی اور یورینیم تنازع پر تجاویز شامل دونوں فریقین فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، ابتدائی م...
سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مختلف عدالتوں میں پیش عدالت نے تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ سنایا،وکیل ملزمہ پنکی منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو قتل اور منشیات کے مجموعی طور پر 18 مقدمات میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مخ...
امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہفتہ وار بریفنگ پاکستان نے ایران پر ممکنہ حملے کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔اسلام ا...
ایران کا افزودہ یورینیم امریکا کیساتھ کسی بھی امن معاہدے میں سب سے اہم مسئلہ ہے ایران کے پاس موجود 441 کلوگرام یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے،جوئی ہڈ امریکا کے محکمہ خارجہ میں ایرانی امور کے سابق قائم مقام سربراہ جوئی ہڈ نے کہا ہے کہ ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم ا...
کسی شرپسند کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشتگردوں کیخلاف جنگ پوری قومی قوت اور بھرپور عزم کیساتھ جاری رہے گی شہداء اور غازی اس قوم کا دائمی فخر ہیں،سید عاصم منیرکاجی ایچ کیو میں فوجی اعزازات کی تقریب سے خطاب،50 اف...
اسپن وام میں سکیورٹی فورسزکا آپریشن،زیر زمین بنکر، سرنگیں، بارودی جال بچھا رکھا تھا خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت پ...
چینی بھائیوں کیلئے اعلیٰ ترین پیمانے کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے شہبازشریف کا پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام ، مبارکباد پیش وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون ...