وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کِس میں کتنا ہے دَم ۔۔ بھارت امریکا قربتوں پرروس وچین کی کڑی نگاہیں

اتوار 13 نومبر 2016 کِس میں کتنا ہے دَم ۔۔ بھارت امریکا قربتوں پرروس وچین کی کڑی نگاہیں

امریکا بھارت کو خطے کا چوکیداربناناچاہتا ہے جس میں حالیہ امریکی انتخابات کے بعد اضافہ متوقع ہے ،لیکن کیا مودی سرکارمیں پاکستان و چین سے ٹکرانے کا دَم ہے ،تجزیہ کاروں کا جواب نہیں میں ہے
پاکستان کی ٹرمپ کو مبارکباداور کشمیر ثالثی کے وعدے یاد دلانے سے کام نہیں چلے گابلکہ امریکی کانگریسی ارکان کے درمیان بھرپور لابنگ کرکیپاکستان کی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے
usa-pakistanبھارت اور امریکا کے درمیان غیر معمولی طورپر بڑھتے ہوئے تعلقات کو پوری دنیا میں محسوس کیاگیاہے، خاص طورپر روس اور عوامی جمہوریہ چین نے اس کاسنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیاہے جس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ روس نے جو گزشتہ 70سال کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات میں قدرے دوری برقرار رکھے ہوئے تھا ،پہلی مرتبہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی مشقوں میں شرکت کی، یہی نہیں بلکہ پاکستان کو اس کی ضرورت کا دفاعی سازوسامان فراہم کرنے اور پاکستان میں سرمایہ کاری پر بھی رضامندی کااظہار کیا۔
بھارت اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے پس منظر کاجائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ ان تعلقات کا بنیادی سبب بھارت اور امریکا کے رہنماؤں میں بڑھتاہوا عدم تحفظ کااحساس ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکا اس خطے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے خائف ہے، جبکہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد اب اسے اپنے یورپی اتحادیوں پر بھی بھروسہ نہیں رہا ہے، اس لیے وہ بھارت کو اپنے مضبوط حلیف کی حیثیت سے اس خطے میں ابھارنا چاہتاہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے چین کے خلاف استعمال کرکے چین کی دفاعی طاقت کو نقصان پہنچایاجاسکے۔تاہم سفارتی حلقوں کاخیال ہے کہ امریکا کا یہ تصور خیال خام ہے کہ وہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرسکے گا، کیونکہ بھارت کی تمامتر جنگی تیاریوں کا مقصد اس خطے میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور وہ چین کے ساتھ جنگ کی نہ تو صلاحیت رکھتاہے اور نہ ہی بھارت کے جنگی منصوبہ ساز اس قدر بے وقوف ہیں کہ وہ چین کے ساتھ محاذ آرائی کرکے اپنی فوجی طاقت کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنے قائم کردہ بھرم کو پاش پاش کرنے پر تیار ہوجائیں۔
بھارت کو ایشیا میں چین کے مقابل کھڑاکرنے کی امریکا کی یہ خواہش ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس اور خارجہ امور سے متعلق رکن کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ایڈ رائس نے اس خواہش کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ امریکا بھارت سے ایشیا میں اہم کام لینا چاہتاہے۔امریکا ایک طرف بھارت کو چین کے خلاف متوازی قوت کے طورپر کھڑا کرنا چاہتاہے اور دوسری طرف بھارت سے ایشیا میں اپنے مفادات کی نگرانی کا کام بھی لینا چاہتاہے۔بھارتی رہنما امریکا کی اس خواہش سے لاعلم نہیں ہیں لیکن وہ امریکی رہنماؤں کی اس خواہش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا سے زیادہ سے زیادہ جدید اسلحہ کے ساتھ ہی اقتصادی امدا د بھی بٹورنے کی کوشش کررہے ہیں اوراس طرح امریکا سے طویل المیعاد بنیادوں پر فوائد حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کو اپنے ان مقاصد میں مزید بڑی کامیابیوں کی توقع ہے۔لیکن جیسا کہ اوپر لکھاہے کہ اس کے باوجود اس خطے میں امریکا کی نگرانی میں امریکی رہنماؤں خاص طورپر امریکا کے فوجی منصوبہ سازوں کے تیار کردہ منصوبوں کے مطابق کردار کی ادائیگی کی صلاحیت اور وقت پڑنے پر بھارتی رہنماؤں کی جانب سے مطلوبہ کردار کی ادائیگی پر ایک سوالیہ نشان لگا رہے گا۔
روس سے حاصل کردہ اسلحہ کے انبار اور اب امریکا سے حاصل ہونے والے جدید ہتھیاروں کے بل پر بھارت اپنے پڑوسی ممالک پر اپنی توسیع پسندانہ پالیسی مسلط کرنے کی کوششوں پر عمل پیرا نظر آتاہے ۔پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر مسلسل چھیڑ چھاڑ سے اس کے ان توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور نشاندہی ہوتی ہے اور اب پوری امن پسند دنیا بھی بھارت کی اس مذموم خواہش کو سمجھنے لگی ہے یہی وجہ ہے کہ سفارتی محاذ پر بھارت کی مسلسل چیخ وپکار کے باوجود خود امریکا بھی بھارت کی پاکستان مخالف پالیسیوں کی حمایت میں ایک لفظ بھی کہنے کو تیار نہیں ہوا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی انسانیت سوز کارروائیوں کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اسے یہ کارروائیاں بند کر کے افہام وتفہیم کی فضا قائم کرنے کی تلقین کی ہے۔
ماضی میں امریکا اس خطے میں مفادات کے تحفظ اور دفاع کیلیے پاکستان پر انحصار کرتاتھا کیونکہ پاکستان جس طرح امریکا کومدد پہنچاسکتاتھا اور اس نے افغانستان میں روسی مداخلت کے وقت جس کا عملی مظاہرہ بھی کیا وہ بھارت نہیں کرسکتاتھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ تمام ملکوں کی حکمت عملیاں تبدیل ہوتی ہیں اور اب پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی بنیاد پر امریکا زیادہ دنوں اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلیے پاکستان پر انحصار کرنے کوتیار نہیں ہے بلکہ وہ اسے عملی طورپر قابل عمل بھی تصور نہیں کرتا، دوسری طرف اب بھارت بھی ماضی کی طرح کسی بھی ملک کے ساتھ فوجی وابستگی کا معاہدہ نہ کرنے کی پالیسی کو نظر انداز کرچکا ہے اور اب وہ اس خطے میں اپنی بادشاہت قائم کرنے کیلیے سب کچھ کر گزرنے کیلیے تیار نظر آتاہے ،یہی وجہ ہے کہ اب امریکی رہنماؤں نے بھارت کی طرف خصوصی دوستی کا ہاتھ بڑھانا ضروری تصور کیاہے ، اس طرح امریکا کا خیال ہے کہ وہ ایک طرف پاکستان کو چین کے ساتھ گہری دوستی اور وابستگی کا مزہ چکھاسکتاہے اور دوسری طرف چین کے خلاف بھارت کو موثر طورپر استعمال کرسکتاہے کیونکہ چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے ہیں اوردونوں ملکوں کے درمیان سرحدی امور سمیت کئی اہم معاملات میں شدید اختلافات موجود ہیں۔
یہ ضرور ہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں کے دوران بھارت کو انتہائی خصوصی اہمیت دینا شروع کردی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے بھارت کے ساتھ مل کر فوری کارروائیوں کیلیے ایک خصوصی شعبہ تشکیل دیا ہے جس کانام ہی انڈین ریپڈ ری ایکشن سیل رکھاگیاہے۔بھارت اورامریکا کے درمیان گزشتہ 66 سال سے موجود خصوصی اور قریبی تعلقات کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت گزشتہ 66سال سے امریکا سے سب سے زیادہ اقتصادی پارٹنر ملک رہاہے۔حال ہی میں امریکی سینیٹ کی مسلح افواج سے متعلق کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے امریکی فوج کے بحرالکاہل کے علاقے کے سربراہ ایڈمرل ہیری نے برملا یہ اعتراف کیاتھا کہ امریکا کیلیے بھارت میں شاندار مواقع موجود ہیں۔
دوسری جانب 1950 سے پاکستان کے امریکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور پاکستان نے امریکا کو جب بھی ضرورت پڑی ہے ہر طرح کی مدد فراہم کی ہے یہاں تک کہ اس کو فوجی کارروائیوں کیلیے اپنی سرزمین کو پلیٹ فارم کے طورپر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی گریز نہیں کیاہے لیکن اس کے باوجود پاکستان اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں ، اب نریندرا مودی کی حکومت پاک امریکا تعلقات میں پیداہونے والے تناؤ کو مکمل طورپر اپنے مفادات کیلیے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی رہی ہے جس کا اندازہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں اور بھارت اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت سے لگایاجاسکتاہے۔
اب جبکہ ڈونلڈ امریکا کے صدر کاعہدہ سنبھالنے کیلیے تیار ہیں پاک امریکا تعلقات کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی ہونے اور امریکی پالیسیوں میں پاکستان کی جگہ بھارت کو زیادہ اہمیت دیے جانے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتاکیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ صدر بننے کے بعد بھارت کے ساتھ دوستی کو زیادہ اہمیت دیں گے اور امریکا بھارت کا زیادہ گہرا دوست بن جائے گا،ہمارے منصوبہ اور پالیسی سازوں کو اس صورت حال پر توجہ دینی چاہئے اور انھیں یہ جان لینا چاہئے کہ وزیر اعظم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد کے پیغام یا انھیں کشمیر کامنصفانہ حل نکالنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر یا وعدے یاد دلانے سے پاکستان امریکا کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا اس کے لیے امریکی حلقوں خاص طورپر ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریسی ارکان کے درمیان بھرپور لابنگ کرنے اور انھیں اس خطے میں پاکستان کی اہمیت کا احساس دلانے کے ساتھ ہی امریکا کیلیے پاکستان کی ماضی کی خدمات کا احساس دلانے کی بھی ضرورت ہے جب تک ایسا نہیں کیاجاتا اس وقت تک پاک امریکا تعلقات میں موجود تناؤ کی موجودہ کیفیت نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوگی بلکہ بھارتی سازشوں اور لابنگ کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہوتے جانے کے خدشات کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔بدقسمتی سے پاکستان اس وقت ایک ایساملک ہے جس کے پاس کوئی کل وقتی وزیر خارجہ بھی نہیں ہے اور امورخارجہ مشیروں اور وزیر اعظم کے معاونین کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم کواس بات کااحساس کرنا چاہئے کہ اس وقت دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں اور تبدیلی کی اس لہر میں اپنی اہمیت برقرار رکھنے کیلیے پوری دنیا کواپنی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے اور یہ کام ایک کل وقتی اور واقعی باصلاحیت اور امور خارجہ پر دسترس رکھنے والا وزیر خارجہ ہی کرسکتاہے اس لیے وزیر اعظم کو وقت ضائع کیے بغیر وزیر خارجہ کا تقرر کرنا چاہئے تاکہ ملکی معاملات عالمی سطح پر احسن طریقہ سے چلائے جاسکیں اور مختلف عالمی واقعات اورحالات اور تنازعات پر پاکستان کے موقف کو بھر پور طریقے سے پیش کیاجاسکے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں وجود - جمعرات 13 مئی 2021

پاکستان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اہل اسلام آج انتہائی عقیدت سے عید الفطر منارہے ہیں۔ قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین عبد الخبیر آزاد نے اعلان کیا ہے کہ یکم شوال کا چاند نظر آگیا ہاور عید الفطر جمعرات کو ہوگی ۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان میں اکیس سال کے بعد ایک ہی روز عید منانے کا موقع آیا ہے جب تمام صوبوں میں ایک ہی روز سب مل کر عید منارہے ہیں۔ بدھ کو عید الفطر کی رویت کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں چیئرمین مولاناعبدالخبیرآزاد ک...

پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش وجود - جمعرات 13 مئی 2021

وزیر اعظم عمران خان اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش کیا گیا ۔بدھ کو ہونے والے رابطے میں وزیر اعظم نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی بہیمانہ حملے کی مذمت کی ۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسرائیلی حملے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون سے انحراف ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کی خود مختاری سکیورٹی کیلئے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا بھی اظ...

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب وجود - جمعرات 13 مئی 2021

فلسطین کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس (آج) پھر طلب کرلیا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد بڑھنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔یورپی پارلیمنٹ نے بھی اسرائیل سے فلسطینیوں پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو بیدخل کرکے یہودی آباد کار بسانا چاہتی ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیل ہم منصب کوٹیلی فون کرکے کشیدگی ختم کرنیکا پیغام دیا ہے ۔عرب لیگ نے غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذم...

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق وجود - جمعرات 13 مئی 2021

ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت و بربریت پر گفتگو کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ترک صدررجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا جس میں اسرائیلی بربریت اور جارحیت پر دونوں رہنماں نے تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماوں نے اسرائیلی جارحیت و بربریت کی مذمت کی اور اتفاق کیا کہ مسلم ممالک کو مل کر اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔رہنماوں نے اس نکتے پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ فلس...

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج جمعرات کو منائی جائے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق قطر ، فلسطین ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی عید الفطر جمعرات کو ہو گی ۔اس کے علاوہ برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں بھی عیدالفطر 13مئی کو منائی جائے گی۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں بھی گزشتہ روز عید الفطر کا چاند نظر نہیں آیا تھا جس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ عید الفطر بروز جمعرات منائی جائے گی۔افغانستا ن میں بھی شوال کا چاند نظر آیاجس کے ...

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

بھارت اور بنگادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا جس کے بعدان ممالک میں عیدالفطر 14 مئی بروز جمعہ منائی جائے گی۔بھارت کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق بھارت میں عیدالفطرجمعہ 14مئی کو ہوگی۔ بھارت میں شاہی امام مسجد احمد بخاری نے اعلان کیا ہے کہ چاند نظر نہیں آیا ہے لہذا عیدالفطر جمعہ کے دن منائی جائے گی۔قواعد و ضوابط کے مطابق بھارت میں شاہی امام مسجد چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کرتے ہیں...

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین وجود - جمعرات 13 مئی 2021

چین نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے منظم اور ذمہ دار انداز میں انخلا پر زور دیا ہے تاکہ عجلت میں ایسی کوئی کارروائی نہ کی جائے جس سے امن اور سلامتی عمل متاثر اور اس میں مداخلت ہو۔وزارت خارجہ کی ترجمانHua Chunyingنے بیجنگ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں وسیع اور تمام فریقوں پر مشتمل سیاسی نظام کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ تمام نسلی گروپ اور دھڑے سیاسی نظام میں شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ چین افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ میں امداد دینے کیلئے تیار ہے ۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ وجود - جمعرات 13 مئی 2021

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن عمل کے نمانئدہ خصوصی ٹور وینیس لینڈ کا کہنا ہے کہ فلسطین میں لگی آگ کو فوری روکا جائے ، ہم جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کی قیمت تباہ کن ہوگی، غزہ میں کشیدگی کی قیمت عام لوگ چکا رہے ہیں، اقوام متحدہ صورتحال بہتر کرنے کے لیے تمام فریقین سے رابطے میں ہے ، تشدد کو اب روکا جائے ۔دوسری جانب اسرائیلی فوج...

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا وجود - جمعرات 13 مئی 2021

افغانستان کے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافات میں ایک ضلع پرقبضہ کرلیا۔افغان حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نرکھ ضلع کے پولیس ہیڈ کوارٹر سے پسپائی اختیار کی۔اْدھر طالبان ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان نے ضلع نرکھ پر گزشتہ روز قبضہ کیا۔ترجمان کے مطابق طالبان نے پولیس ہیڈکوارٹراور ایک فوجی بیس پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ دوسری جانب افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع پر قبضہ چھڑانے کیلئے آپریشن شروع کردیا گیا ۔

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ وجود - بدھ 12 مئی 2021

حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیاہے ۔ٹیلی فونک بات چیت میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ کے لیے مولانا فضل الرحمان عید کے بعد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کریں گے ۔گفتگو کے دوران حکومت کی جانب سے شہباز...

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر وجود - بدھ 12 مئی 2021

مسلم لیگ (ن )کے رہنما و سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق محمدزبیر نے کہا کہ سیزفائر یاصلح کے بارے میں نہیں پتہ لیکن ہمارے تعلقات اچھے ہیں ہم جب مطمئن ہوں گے تواس کاباقاعدہ بتائیں گے بھی۔محمدزبیر نے کہا کہ میری ملاقاتیں ہوتی تھیں توکبھی ڈیل یاکوئی ریلیف نہیں مانگا، کسی کوبھی حب الوطنی کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جذباتی شخص ہیں استعفے دینے پڑے تووہ اسمبلی توڑدیں گے ملک میں انارکی نہیں...

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت وجود - بدھ 12 مئی 2021

پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرائے ۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہاکہ اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد بے گناہ فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصی پر حملے قابل مذمت اقدام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینیوں پر طاقت کے استعمال سے کئی اموات اور افراد زخمی ہوئے ہیں ۔...

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت