... loading ...
حکومت کلبھوشن یادیو گرفتاری کے باوجوداس سے حاصل ہونے والی معلومات سے پوری طرح فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے،دہشت کارروائیاں جاری
بھارت بلوچستان کے عوام میں عدم تحفظ اور احساس محرومی کو بڑھاوا دے کر اپنے مقاصد کیلیے استعمال کرنے میں مصروف،پاکستانی حکمراں خواب غفلت میں مدہوش
بلوچستان کے غریب اور کم وسیلہ عوام ان دنوں شدید عدم تحفظ کی کیفیت کاشکار ہیں جس کی وجہ سے ان میں عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ ہی احسا س محرومی اور مجبوری بھی بڑھتا جارہاہے ، اس کی بنیادی وجہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے پے درپے واقعات میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت کے باوجود ان کے تحفظ کیلیے موثر اور مربوط اقدامات میں حکومت کی ناکامی ہے ۔صورتحال کی سنگینی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ کم وبیش 5سال سے کوئٹہ شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ،ابتدا میں دہشت گرد کوئٹہ کی ہزارہ برادری کو جن کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے ، نشانہ بناتے رہے اور ارباب اختیار اسے فرقہ وارانہ قتل کا نام دے کر معاملے کی مبینہ طورپرپردہ پوشی کرتے رہے لیکن شیعہ برادری کے ارکان کے قتل کے پے درپے واقعات کے بعد حکومت کی جانب سے ان کے تحفظ کیلیے کچھ اقدامات کیے گئے جنھیں اگرچہ کافی نہیں کہاجاسکتا لیکن حکومت کی جانب سے کیے گئے ان اقدامات کے بعد ہزارہ شیعہ برادری کے قتل کے واقعات تقریباً رک گئے لیکن اس کے بعد اب دہشت گردوں کانشانہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کے قیام کے بنیادی علمبردار وکلا برادری کے لوگ بن چکے ہیں ، اس کے علاوہ کوئٹہ میں درس وتدریس کے فرائض انجام دینے کیلیے دوسرے صوبوں سے کوئٹہ اوربلوچستان کے دوسرے علاقوں میں جانے والے ماہرین تعلیم اور روزگار کی تلاش میں دیگر صوبوں سے بلوچستان جانے والے محنت کش اب بھی ان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور ان کی جان ومال کے تحفظ کیلیے ابھی تک وفاقی اور خود بلوچستان حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں جنھیں قابل اطمینا ن قرار دیا جاسکے۔تاہم گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ دہشت گردوں کااصل نشانہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ، اور اہم سرکاری تنصیبات ہیں جن میں گیس کی پائپ لائنیں اور بجلی کے ترسیلی نظام کیلیے استعمال کی جانے والی تنصیبات ہیں۔
موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات سے متعلق سرکاری اور اخباری ریکارڈ کے مطابق 2جون 2012 کو کوئٹہ کے ہزار گنجی کے علاقے میں زیارت سے واپس آنے والے شیعہ ہزارہ برادری کی ایک بس کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا اور بس میں سوار 14 افراد کو قتل کردیا ۔2013 میں کوئٹہ دہشت گردوں کا خصوصی نشانہ بنا رہا جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 10 جنوری کو دہشت گردوں نے علمدار روڈ پر ایک اسنوکر کلب کو نشانہ بنایا، اسنوکر کلب میں 2خود کش دھماکے ہوئے اور کم وبیش 92 افراد لقمہ اجل بن گئے ، ابھی ان کا سوگ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ 16 فروری کو ہزارہ ٹاؤن میں واٹر ٹینکر کے ذریعے دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں 89 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔15 جون 2013 کو دہشت گردوں نے سردار بہادر ویمنز یونیورسٹی کی ایک بس کو خود کش دھماکے کانشانہ بنایا جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے عملے کے ارکان سمیت 24 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت طالبات کی تھی ۔8 اگست 2013 کو نواں کلی کے علاقے میں ایک ایس ایچ او کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا اورجب مقتول ایس ایچ او کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی اس وقت پولیس لائن میں ایک خود کش دھماکہ کیاگیا جس کے نتیجے میں نماز جنازہ میں شریک ڈی آئی جی فیاض سنبل سمیت 30 افراد ہلاک ہوگئے ۔
دہشت گردی کی ان وارداتوں کاسلسلہ اگرچہ 2014 میں بھی جاری رہا لیکن اس میں کسی حد تک کمی اور ٹہراؤ محسوس کیا گیا لیکن دہشت گرد خاموش نہیں بیٹھے اور 14 مارچ 2014 کو انھوں نے ایک بس میں بم نصب کرکے دھماکا کردیا اور اس طرح حکام کو یہ احساس دلادیا کہ دہشت گرد ختم نہیں ہوئے ہیں اور ان کی تخریبی سرگرمیاں جاری ہیں ، سائنس کالج کے قریب بس میں اس دھماکے کے نتیجے میں 10افراد ہلاک ہوئے ۔2015 کوئٹہ کے شہریوں کیلیے اس اعتبار سے پرسکون کہاجاسکتا ہے کہ 2015 کے دوران صرف 19 اکتوبر کو دہشت گردی کا صرف ایک بڑا واقعہ ہوا جب 19 اکتوبر 2015 کو دہشت گردوں نے ایک بس ٹرمینل کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے ۔
2016 یعنی رواں سال کے دوران کوئٹہ میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں ایک دفعہ پھر تیزی نظر آرہی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ14 جنوری 2016 کو سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مأمور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایاگیا جس کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے،7 فروری کو ملتان چوک کے نزدیک سیکورٹی فورس کے ایک قافلے کو نشانہ بنایاگیا جس کے نتیجے میں9افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے، 8اگست 2016 کو دہشت گردوں نے ڈسٹرکٹ بار کوئٹہ کے صدر کو نشانہ بنایا اور جب ان کے ساتھی وکلا ان کی لاش لینے سول ہسپتال پہنچے تو سول ہسپتال کوئٹہ کو خود کش حملے کانشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں70سے زائد لوگ لقمہ اجل بن گئے۔5اکتوبر کو مسلح دہشت گردوں نے کیرانی روڈ پر ایک بس میں گھس کر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی 4خواتین کی زندگیوں کاچراغ گل کردیا اور پھر 25 اکتوبر کو مبینہ طور پر صرف 3سے 6 دہشت گردوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوکر زیر تربیت پولیس اہلکاروں کاقتل عام کیا جس کے نتیجے میں 62 پولیس کیڈٹس جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔
دہشت گردی کے واقعات کے تسلسل سے متعلق مذکورہ بالا اعدادوشمار صرف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ہیں اور اس میں بلوچستان کے دور دراز علاقوں جن میں ڈیرہ بگٹی ، آوران ،تربت اور مری اور مینگل قبائل کے علاقوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے متعلق اعدادوشمار شامل نہیں کیے گئے ہیں کیونکہ دوردراز واقع ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کی خبریں کم ہی اخبارات اور ٹی وی چینلز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوپاتی ہیں۔ اس لیے ان علاقوں میں ہونے والے تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات اور اس سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کے درست اعدادوشمار کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً ناممکن ہے ،تاہم ان اعدادوشمار سے بھی یہ ظاہرہوتا ہے کہ ہمارا پوشیدہ دشمن جو کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بڑی حد تک بے نقاب ہوچکاہے ،بلوچستان کے عوام میں عدم تحفظ کا احسا س پیدا کرکے ان میں موجود محرومی اور مجبوری کے احساس کو بڑھاوا دینے اور اس کے بعد نوجوان اور کچے ذہنوں کو اپنے مقاصد کیلیے استعمال کرنے کی منظم منصوبہ بندی کے تحت کارروائیوں میں
مصروف ہے بلکہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ایک چوٹ کھائے ہوئے سانپ کی طرح وہ پاکستان کو جلد از جلد سبق سکھانے کے درپے ہے جبکہ ہمارے ارباب اختیار کلبھوشن سے حاصل ہونے والی معلومات سے بھی پوری طرح استفادہ کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔
ارباب اختیار کو بلوچستان کی جانب سے تجاہل مجرمانہ کا یہ رویہ ترک کرکے بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ہی ان کو تخریب کاروں اور دہشت گردوں کی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کابھی مربوط اور موثر انتظام کرناچاہئے اور جس طرح تخریب کار اور دہشت گرد اپنی کارروائیوں کیلیے سرکاری اداروں اور سیکورٹی فورسز کے نرم اور نسبتا نظرانداز کیے گئے اہداف تلاش کرکے کاری وار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو بھی ایسے مقامات کی ترجیحی بنیاد پر نشاندہی کرنی چاہئے جنھیں بآسانی تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردی کے واقعات کیلیے نرم چارے کے طورپر استعمال کیے جانے کاخدشہ ہو اور حکومت کو انٹیلی جنس اداروں کی اس حوالے سے تیار کی گئی رپورٹوں کو مزید کارروائی کیلیے صوبائی حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے کو فراہم کرکے خود کو بری الذمہ تصور کرنے کے بجائے وفاق کی سطح ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے تاکہ ملک دشمن عناصر کسی بھی احتیاطی تدابیر میں تاخیر کافائدہ اٹھا کر لوگوں کو خون میں نہلانے کی بزدلانہ کوششوں میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...