وجود

... loading ...

وجود

’’کلبھوشن ‘‘ نیٹ ورک کا شاخسانہ 5برسوں میں کوئٹہ کو 4سو سے زائد لاشوں کا تحفہ

منگل 08 نومبر 2016 ’’کلبھوشن ‘‘ نیٹ ورک کا شاخسانہ 5برسوں میں کوئٹہ کو 4سو سے زائد لاشوں کا تحفہ

حکومت کلبھوشن یادیو گرفتاری کے باوجوداس سے حاصل ہونے والی معلومات سے پوری طرح فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے،دہشت کارروائیاں جاری
بھارت بلوچستان کے عوام میں عدم تحفظ اور احساس محرومی کو بڑھاوا دے کر اپنے مقاصد کیلیے استعمال کرنے میں مصروف،پاکستانی حکمراں خواب غفلت میں مدہوش
baloch-sarmacharبلوچستان کے غریب اور کم وسیلہ عوام ان دنوں شدید عدم تحفظ کی کیفیت کاشکار ہیں جس کی وجہ سے ان میں عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ ہی احسا س محرومی اور مجبوری بھی بڑھتا جارہاہے ، اس کی بنیادی وجہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے پے درپے واقعات میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت کے باوجود ان کے تحفظ کیلیے موثر اور مربوط اقدامات میں حکومت کی ناکامی ہے ۔صورتحال کی سنگینی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ کم وبیش 5سال سے کوئٹہ شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ،ابتدا میں دہشت گرد کوئٹہ کی ہزارہ برادری کو جن کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے ، نشانہ بناتے رہے اور ارباب اختیار اسے فرقہ وارانہ قتل کا نام دے کر معاملے کی مبینہ طورپرپردہ پوشی کرتے رہے لیکن شیعہ برادری کے ارکان کے قتل کے پے درپے واقعات کے بعد حکومت کی جانب سے ان کے تحفظ کیلیے کچھ اقدامات کیے گئے جنھیں اگرچہ کافی نہیں کہاجاسکتا لیکن حکومت کی جانب سے کیے گئے ان اقدامات کے بعد ہزارہ شیعہ برادری کے قتل کے واقعات تقریباً رک گئے لیکن اس کے بعد اب دہشت گردوں کانشانہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کے قیام کے بنیادی علمبردار وکلا برادری کے لوگ بن چکے ہیں ، اس کے علاوہ کوئٹہ میں درس وتدریس کے فرائض انجام دینے کیلیے دوسرے صوبوں سے کوئٹہ اوربلوچستان کے دوسرے علاقوں میں جانے والے ماہرین تعلیم اور روزگار کی تلاش میں دیگر صوبوں سے بلوچستان جانے والے محنت کش اب بھی ان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور ان کی جان ومال کے تحفظ کیلیے ابھی تک وفاقی اور خود بلوچستان حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں جنھیں قابل اطمینا ن قرار دیا جاسکے۔تاہم گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ دہشت گردوں کااصل نشانہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ، اور اہم سرکاری تنصیبات ہیں جن میں گیس کی پائپ لائنیں اور بجلی کے ترسیلی نظام کیلیے استعمال کی جانے والی تنصیبات ہیں۔
موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات سے متعلق سرکاری اور اخباری ریکارڈ کے مطابق 2جون 2012 کو کوئٹہ کے ہزار گنجی کے علاقے میں زیارت سے واپس آنے والے شیعہ ہزارہ برادری کی ایک بس کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا اور بس میں سوار 14 افراد کو قتل کردیا ۔2013 میں کوئٹہ دہشت گردوں کا خصوصی نشانہ بنا رہا جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 10 جنوری کو دہشت گردوں نے علمدار روڈ پر ایک اسنوکر کلب کو نشانہ بنایا، اسنوکر کلب میں 2خود کش دھماکے ہوئے اور کم وبیش 92 افراد لقمہ اجل بن گئے ، ابھی ان کا سوگ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ 16 فروری کو ہزارہ ٹاؤن میں واٹر ٹینکر کے ذریعے دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں 89 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔15 جون 2013 کو دہشت گردوں نے سردار بہادر ویمنز یونیورسٹی کی ایک بس کو خود کش دھماکے کانشانہ بنایا جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے عملے کے ارکان سمیت 24 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت طالبات کی تھی ۔8 اگست 2013 کو نواں کلی کے علاقے میں ایک ایس ایچ او کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا اورجب مقتول ایس ایچ او کی نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی اس وقت پولیس لائن میں ایک خود کش دھماکہ کیاگیا جس کے نتیجے میں نماز جنازہ میں شریک ڈی آئی جی فیاض سنبل سمیت 30 افراد ہلاک ہوگئے ۔
دہشت گردی کی ان وارداتوں کاسلسلہ اگرچہ 2014 میں بھی جاری رہا لیکن اس میں کسی حد تک کمی اور ٹہراؤ محسوس کیا گیا لیکن دہشت گرد خاموش نہیں بیٹھے اور 14 مارچ 2014 کو انھوں نے ایک بس میں بم نصب کرکے دھماکا کردیا اور اس طرح حکام کو یہ احساس دلادیا کہ دہشت گرد ختم نہیں ہوئے ہیں اور ان کی تخریبی سرگرمیاں جاری ہیں ، سائنس کالج کے قریب بس میں اس دھماکے کے نتیجے میں 10افراد ہلاک ہوئے ۔2015 کوئٹہ کے شہریوں کیلیے اس اعتبار سے پرسکون کہاجاسکتا ہے کہ 2015 کے دوران صرف 19 اکتوبر کو دہشت گردی کا صرف ایک بڑا واقعہ ہوا جب 19 اکتوبر 2015 کو دہشت گردوں نے ایک بس ٹرمینل کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے ۔
2016 یعنی رواں سال کے دوران کوئٹہ میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں ایک دفعہ پھر تیزی نظر آرہی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ14 جنوری 2016 کو سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مأمور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایاگیا جس کے نتیجے میں 13 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے،7 فروری کو ملتان چوک کے نزدیک سیکورٹی فورس کے ایک قافلے کو نشانہ بنایاگیا جس کے نتیجے میں9افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے، 8اگست 2016 کو دہشت گردوں نے ڈسٹرکٹ بار کوئٹہ کے صدر کو نشانہ بنایا اور جب ان کے ساتھی وکلا ان کی لاش لینے سول ہسپتال پہنچے تو سول ہسپتال کوئٹہ کو خود کش حملے کانشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں70سے زائد لوگ لقمہ اجل بن گئے۔5اکتوبر کو مسلح دہشت گردوں نے کیرانی روڈ پر ایک بس میں گھس کر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی 4خواتین کی زندگیوں کاچراغ گل کردیا اور پھر 25 اکتوبر کو مبینہ طور پر صرف 3سے 6 دہشت گردوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوکر زیر تربیت پولیس اہلکاروں کاقتل عام کیا جس کے نتیجے میں 62 پولیس کیڈٹس جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔
دہشت گردی کے واقعات کے تسلسل سے متعلق مذکورہ بالا اعدادوشمار صرف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ہیں اور اس میں بلوچستان کے دور دراز علاقوں جن میں ڈیرہ بگٹی ، آوران ،تربت اور مری اور مینگل قبائل کے علاقوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے متعلق اعدادوشمار شامل نہیں کیے گئے ہیں کیونکہ دوردراز واقع ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کی خبریں کم ہی اخبارات اور ٹی وی چینلز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوپاتی ہیں۔ اس لیے ان علاقوں میں ہونے والے تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات اور اس سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کے درست اعدادوشمار کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً ناممکن ہے ،تاہم ان اعدادوشمار سے بھی یہ ظاہرہوتا ہے کہ ہمارا پوشیدہ دشمن جو کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بڑی حد تک بے نقاب ہوچکاہے ،بلوچستان کے عوام میں عدم تحفظ کا احسا س پیدا کرکے ان میں موجود محرومی اور مجبوری کے احساس کو بڑھاوا دینے اور اس کے بعد نوجوان اور کچے ذہنوں کو اپنے مقاصد کیلیے استعمال کرنے کی منظم منصوبہ بندی کے تحت کارروائیوں میں
مصروف ہے بلکہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ایک چوٹ کھائے ہوئے سانپ کی طرح وہ پاکستان کو جلد از جلد سبق سکھانے کے درپے ہے جبکہ ہمارے ارباب اختیار کلبھوشن سے حاصل ہونے والی معلومات سے بھی پوری طرح استفادہ کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔
ارباب اختیار کو بلوچستان کی جانب سے تجاہل مجرمانہ کا یہ رویہ ترک کرکے بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ہی ان کو تخریب کاروں اور دہشت گردوں کی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کابھی مربوط اور موثر انتظام کرناچاہئے اور جس طرح تخریب کار اور دہشت گرد اپنی کارروائیوں کیلیے سرکاری اداروں اور سیکورٹی فورسز کے نرم اور نسبتا نظرانداز کیے گئے اہداف تلاش کرکے کاری وار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو بھی ایسے مقامات کی ترجیحی بنیاد پر نشاندہی کرنی چاہئے جنھیں بآسانی تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردی کے واقعات کیلیے نرم چارے کے طورپر استعمال کیے جانے کاخدشہ ہو اور حکومت کو انٹیلی جنس اداروں کی اس حوالے سے تیار کی گئی رپورٹوں کو مزید کارروائی کیلیے صوبائی حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے کو فراہم کرکے خود کو بری الذمہ تصور کرنے کے بجائے وفاق کی سطح ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے تاکہ ملک دشمن عناصر کسی بھی احتیاطی تدابیر میں تاخیر کافائدہ اٹھا کر لوگوں کو خون میں نہلانے کی بزدلانہ کوششوں میں کامیاب نہ ہوسکیں۔


متعلقہ خبریں


آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر