وجود

... loading ...

وجود

اسلام آباد احتجاج:عمران خان کے ساتھی پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے

هفته 05 نومبر 2016 اسلام آباد احتجاج:عمران خان کے ساتھی پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے

دھرنے میں پنجاب کے تینوں زونز کی قیادت اور پارلیمانی ارکان کا پول کھل گیا ،ورکراور رہنماؤں میں خلیج ،عمران خان کو اب اپنی پارٹی کے اندر بھی احتساب کا کوڑا برسانا ہو گا
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی کارکردگی سے بھی کارکن اور قیادت مطمئن نہیں، مرکزی قیادت پیپلز پارٹی کی طرف سے عمران خان پر حالیہ تنقید کاؤنٹر نہیں کر پارہی 2_52095
دونومبر کا دھرنا ملتوی ہونے کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت نے اظہار تشکر کے لیے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں کامیاب جلسہ کر کے مخالفین کی توپوں کی گھن گھرج کو کافی حد تک خاموش کر دیا ہے ۔ پاکستانی میڈیا کی مخصوص سرشت کے باعث تحریک انصاف اور اس کی قیادت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔ دو نومبر سے ٹھیک ایک روز پہلے سپریم کورٹ میں ابتدائی سماعت کو بنیاد بنا کر عمران خان نے جو سیاسی فیصلہ کیا تھا اُس نے ان کی پارٹی کی صفِ اول کی قیادت کا بڑی حد تک بھرم رکھ لیا ہے ۔ مخالفین کے تیروں کا رُخ عمران خان کی طرف ہے ۔ پارٹی کی وہ قیادت جس سے عمران خان اور کارکنوں کو بہت اُمیدیں اور توقعات وابستہ تھیں وہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اپنے چیئر مین کی قیادت کے پیچھے پناہ ڈھونٖڈ تے نظر آر ہے ہیں ۔
عمران خان نے پانامالیکس کی سماعت کے موقع پر عدالت میں حاضرہونے کا اعلان کر کے سیاسی منظر نامے پر اپنے اور اپنی پارٹی پر ہونے والی تنقید کے اثر کو بڑی حد تک زائل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ دو نومبر کے حوالے سے عمران خان کے جس فیصلے کو یوٹرن کہا جا رہا ہے آگے چل کر وہ شاید ان کی سیاسی زندگی کا کا میاب فیصلہ ثابت ہو بحر حال اس حوالے سے ابھی سے کو ئی یقینی یا حتمی رائے دینا مناسب نہیں ہے ۔
28 اکتوبر کی شام اسلام آباد کی ’’تاج مارکی‘‘ میں پی ٹی آئی کے یوتھ کنونشن پر پولیس اور ایف سی کا دھاوا پارٹی کے کارکنوں اور قیادت کے لیے بالکل غیر متوقع تھا ۔ اس موقع پر پارٹی کے وائس چیئر میں شاہ محمود قریشی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایم این اے اسد عمر کی موجودگی میں کارکنوں کی پٹائی اور گرفتاری نے پہلے ہی معرکہ میں پاکستان تحریک انصاف کی صفِ اول کی قیادت کو سوالات کی بوچھاڑ کے سامنے لا کھڑا کیا تھا ۔ اس حوالے سے ایک رائے یہ ہے کہ اگر شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کچھ دیر وہاں موجود رہتے تو کارکن پولیس کی جانب سے تشدد کے اُس دوسرے مرحلے سے بچ سکتے تھے جو دونوں رہنماؤں اور میڈیا کی ٹیموں کی وہاں سے روانگی کے بعد پولیس نے مکمل کیا ۔
عمران خان اور ان کے قریبی ذرائع نے یقیناً اس امر کا نوٹس لیا ہوگا کہ پنجاب کی قیادت اور ارکانِ اسمبلی کی بڑی تعداد ’’ بنی گالا ‘‘ پہنچ کر سیلفیاں بنوانے اور عمران خان کے سامنے حاضری لگوانے کی کوششوں میں مصروف رہی ۔ جبکہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان سب کو اپنے اپنے علاقوں سے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچانے کا ٹاسک دیا گیا تھا ۔ جسے پورا کرنے میں وہ بُری طرح ناکام رہے ۔
پی ٹی آئی کی قیادت کو سب سے زیادہ مایوسی پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی طرف سے ہوئی ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے نارتھ زون ، ساؤتھ زون اور سینٹرل زون کی قیادت حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے سامنے سرنڈر دکھائی دی ۔ پنجاب کے ان تینوں زون کی قیادت اگرچہ بنی گالا پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی اوراس کی کامیابی کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ یہ لوگ کارکنوں کے بغیر آئے تھے ۔ پارٹی کے ٹکٹ پر جن ارکانِ اسمبلی نے ہزاروں او ر لاکھوں ووٹ حاصل کیے تھے وہ اپنے ساتھ درجن بھر سے زائد کارکن بھی اسلام آباد نہ لے جا سکے ۔
اسلام آباد سے متصل اضلاع چکوال ، راولپنڈی ، جہلم ، اٹک ، میانوالی ، خوشاب اور لاہور سے کارکنوں کی بڑی کمک کے پہنچنے کی اُمید تھی لیکن حکومت کی طرف سے راستے بند کرنے کی حکمت عملی نے اسے ممکن بننے سے روک دیا ۔ تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی مدینتہ الاولیاء ملتان کی دو بڑی درگاہوں ’’ حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ؒ ملتانی اور حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے سجادہ نشین ہیں۔ ملتان اور اندورنِ سندھ ان کے لاکھوں مریدین اور عقیدت مند ہیں اندورنِ سندھ ’’ غوثیہ جماعت ‘‘ ان کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے لیکن ملتان اور اندرونِ سندھ سے کوئی بڑا قافلہ دو نومبر کے مجوزہ احتجاج کا حصہ نہیں بن سکا ۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو سب سے زیادہ دقت کا سامنا اسلام آباد آنے کے لیے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہوا ۔ پنجاب کے مختلف اضلاع کے کارکنوں کی یہ شکایات عام ہیں کہ اس مقصد کے لیے پارٹی کے مقامی عہدیداروں اور ارکانِ اسمبلی نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی پہلے دن کی کارروائی کے بعد بنی گالا میں عمران خان کی صدارت میں پارٹی کی پالیسی اور فیصلہ ساز عہدیداروں کے اجلاس میں عمران خان نے اس صورتحال کا سرسری جائزہ بھی لیا تھا ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پنجاب کی قیادت شروع دن سے صوبہ خیبر پختونخوا کے کارکنوں سے اسلام آباد احتجاجی دھرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی اُمید لگائے بیٹھی تھی ۔ پنجاب بھر کے ارکانِ پارلیمنٹ اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ خیبر پختونخواسے آنے والے کارکنوں کا جمِ غفیر ان کا بھرم بھی رکھ لے گا ۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کے غیر موثر کردار پر پہلے ہی پارٹی کے اندر اور باہر انگلیاں اُٹھ رہی تھیں ،اب دو نومبر کے احتجاج نے پنجاب قیادت کی کارکردگی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ جو عمران خان کے ایچی سن کالج کے ساتھی ہیں ،اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی پارٹی کے اندر اور باہر سے شدید قسم کی تنقید کا سامنا کرتے چلے آئے ہیں ۔ اسلام آباد کے دو نو مبر کے احتجاج میں انہوں نے جس انداز میں حصہ لیا اُس سے نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کا بھرم رہ گیا بلکہ ان کے مخالفین کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ صوبہ خیبر پختونخوامیں ارکانِ قومی اسمبلی کا پانچ رُکنی گروپ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے داور کنڈی کی قیادت میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف کافی عرصہ سے سرگرمِ عمل ہیں ۔ اس احتجاج کے لیے اس گروپ کی سرگرمی بھی دیکھنے کو نہیں ملی ،صوبے کے وزیر مالیات علی امین گنڈاپور اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سیاسی منظر نامے پر چھائے رہے۔
معلوم ہوا ہے کہ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں نے دو نومبر کے احتجاج کے حوالے سے اپنے ارکانِ پارلمنٹ اور پارٹی لیڈروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے عمران خان کو اپنی پارٹی میں بھی احتساب کے کوڑے سے کام لینا ہوگا ورنہ مستقبل میں انہیں موجودہ حالات سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
عمران خان پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید علی شاہ اور بلاول زرداری کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے لیکن تحریک انصاف کے قائدین کی جانب سے اس تنقید کا بھی مؤثر جواب سامنے نہیں آیا ۔ان دونوں کے اکثر الزامات کا جواب عمران خان کو خود دینا پڑتا ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری ان دنوں جنوبی پنجاب کے ان علاقوں کے دورے پر ہیں جو صوبہ سندھ کی سرحد سے ملحقہ ہیں ۔ تاہم انہوں نے جلسہ کے لیے جنوبی پنجاب کے کسی علاقے کی بجائے صوبہ سندھ کے علاقے ڈہرکی کا انتخاب کیا ۔ جہاں انہیں اپنے جلسے کے لیے سندھ کی صوبائی حکومت کی اعانت حاصل ہے ۔
اسلام آباد کا سیاسی منظر نامہ اس وقت پاناما لیکس ، ڈان لیکس اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے تجزیوں کی گہما گہمی سے بھرا پڑا ہے ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج سے نمٹنے کے بعد وزیر داخلہ لاہور چلے گئے تھے اور گزشتہ روزبارہ گھنٹوں کے دوران ان کی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے دو ملاقاتیں ہوئی ہیں ۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان دونوں ملاقاتوں کا موضوع ’’ ڈان لیکس ‘‘ رہا ۔ حکمران جماعت کے ان دو بڑوں کی ملاقاتوں کو سیاسی حلقوں میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے ۔
عمران خان کے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں کامیاب جلسے کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جمعہ کی شام مری سے ملحقہ علاقے کہوٹہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا ۔ اس جلسے کی میزبانی شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفرالحق نے کی ۔ اس جلسے کو پی ٹی آئی کے جلسے کے برابر تو قرار نہیں دیا جا سکتا البتہ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کے اس موقف کی نفی قرار دیا جا سکتا ہے جس کا اظہار وہ پی ٹی آئی کے جلسوں پر تنقید کر تے ہوئے حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے کہا کرتے تھے کہ ’’حکومتیں جلسوں سے نہیں بلکہ اپنی کارکردگی سے جانی جاتی ہیں ‘‘۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے عمران خان پرخاصی تنقید کی اور ان کو پاکستان کی ترقی کا دشمن قرار دیا ۔
اسلام آباد کے سیاسی موسم پر بے یقینی کے بادل منڈ لا رہے ہیں ۔ تبدیلیوں کے حوالے سے بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں تاہم یقین سے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ حالات کیا کروٹ لیتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر