وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کے- الیکٹرک پاناما پیپرز میں کرپٹ قرار دی گئی کمپنی کے سپر د کرنے کافیصلہ۔۔فائدہ کسے ہوگا؟؟

جمعرات 03 نومبر 2016 کے- الیکٹرک پاناما پیپرز میں کرپٹ قرار دی گئی کمپنی کے سپر د کرنے کافیصلہ۔۔فائدہ کسے ہوگا؟؟

نومبر کے آخر میں شیئر ہولڈرز اجلاس میں حتمی منظوری دی جائے گی ،کراچی کے باسیوں کو لوٹ کر کے۔ الیکٹرک کے سابقہ مالکان اُڑن چھو ہونے کے لیے تیار
ابراج گروپ36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں خریدا گیا یہ ادارہ شنگھائی الیکٹرک کو ایک ارب 77 کروڑ ڈالر میں فروخت کررہا ہے
k-eاخباری اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے اپنے زیر ملکیت 73 فیصد شیئرز اور اس کاانتظامی کنٹرول عوامی جمہوریہ چین کی ایک کمپنی شنگھائی الیکٹرک کو ایک ارب 77کروڑڈالر میں فروخت کرنے کا سودا طے کرلیاہے اور اب نومبر کے آخر میں شیئر ہولڈرز کے اجلاس میں اس سودے کی حتمی منظوری دیے جانے کے بعد کے ۔الیکٹرک کا انتظام شنگھائی الیکٹرک کے سپرد کردیاجائے گا۔
تجارتی کمپنیوں کی خریدوفروخت اور ان کے مالکان میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے، دنیا بھر میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اپنا خسارہ یا اخراجات کم کرنے اور منافع میں اضافے کیلیے ایک دوسرے میں ضم اور فروخت کی جاتی ہیں،اس اعتبار سے کے الیکٹرک کی فروخت کے حوالے سے اس خبر پر کسی کوتعجب نہیں ہونا چاہیے ،لیکن کے الیکٹرک اور عام کاروباری کمپنیوں میں ایک فرق یہ ہے کہ کے الیکٹرک اس شہر کے کم وبیش 2 کروڑ عوام کو بجلی فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے یعنی اس ادارے کو شہر کی بجلی کی تیاری اور فراہمی پر اجارہ داری حاصل ہے ، اس لیے اس کی فروخت سے قبل یہ دیکھاجانا ضروری ہے کہ یہ کمپنی جس کے حوالے کی جارہی ہے اس کے ماضی کاریکارڈ کیا ہے، اور آیا وہ اس شہر کے عوام کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کی اہلیت رکھتی بھی ہے یانہیں، یہ کا م یقیناًارباب حکومت اور خاص طورپر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کا ہے ، لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ ارباب اختیار اور نیپرا کے حکام نے ابھی تک اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلیے کچھ نہیں کیاہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے ، کے الیکٹرک کی خریداری کا معاہدہ کرنے والی شنگھائی الیکٹرک اگرچہ عوامی جمہوریہ چین کی زیر نگرانی کام کرنے والے متعدد اداروں میں سے ایک ہے لیکن اس کا سابقہ ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ کمپنی ان اداروں میں شامل ہے جن کا نام پاناما پیپرز میں کرپٹ طریقہ کار اختیار کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے اور اس پر مالٹا میں 360 ملین ڈالر کی کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ظاہر ہے کہ مالٹا جیسے چھوٹے اور کم وسیلہ ملک میں اتنی بڑی کرپشن میں ملوث کسی کمپنی کو کراچی جیسے شہر کیلیے بجلی کی تیار ی اور فراہمی کی ذمہ داری سونپ دیاجانانہ صرف یہ کہ کسی طوربھی اس شہر کے لوگوں کیلیے مناسب نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کامعاہدہ اس شہر کے لوگوں کیلیے جو پہلے ہی بنیادی سہولتوں کی کمیابی اور عدم فراہمی پر شدید ذہنی کرب کاشکار ہیں ایک مذاق کے مترادف ہے۔
اس حوالے سے جہاں تک اس استدلال کا تعلق ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کراچی کے شہریوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی اور اس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں شہر کے لوگوں کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی ،تو یہ ایسے تصوراتی وعدے ہیں جنھیں سبز باغ سے زیادہ کوئی اور نام نہیں دیاجاسکتا۔کیونکہ آج سے 11سال قبل29نومبر 2005 میں جب حکومت نے کے ای ایس کے73 فی صد شیئرز اور اس کا انتظامی کنٹرول سعودی عرب کی الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کردئے تھے تو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری سے متعلق امور کے اس وقت کے وفاقی وزیر نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری سے اس ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی اور صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کی صورت حال میں بہتری آئے گی۔ کے ای ایس سی کی نجکاری اور اس کا انتظام غیر ملکی کمپنی کے حوالے کئے جانے کے موقع پر ارباب اختیار نے کے ای ایس سی کی نجکاری کے اس فیصلے کو بجلی کے شعبے میں ترقی کی جانب ایک اہم قدم اورایک سنگ میل قرار دیا تھا۔کے ای ایس سی کاانتظام سنبھاتے ہوئے اس ادارے کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو انجینئر فرینک شمٹ نے کہاتھا کہ وہ اس شہر کو حقیقی معنوں میں روشنیوں کاشہر بنادیں گے اور کے ای ایس سی کومزید سرمایہ کاری، بہتر ٹیکنالوجی کے حصول اوراستعمال اورملازمین کے حالات کار بہتر بناکر صارفین دوست ادارہ بنادیں گے۔ادارے کی نجکاری کے وقت طے پانے والے سمجھوتے کے تحت بھی کے ای ایس سی کے نئے منتظمین کو ادارے میں 3 سال کے عرصے میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا تھی،جس میں سے ساڑھے 7کروڑ ڈالر 2005-2006 کے دوران ایک نئے بجلی گھر کے قیام پر خرچ کرنا تھے اور اس مجوزہ نئے بجلی گھر کوایک سال کے اندر ہی موسم گرما کے دوران بجلی کی پیداوار شروع کردینا چاہیے تھی،لیکن حقیقت میں کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد کراچی میں بجلی کا بحران کم ہونے کے بجائے برابر بڑھتا چلاجارہا ہے ،جس کی وجہ سے روشنیوں کایہ شہر تاریکی کے عمیق غار میں گرتا چلاجارہا ہے،کراچی میں بجلی کے بحران نے جہاں اس شہر کے مکینوں کا دن کاچین اور رات کا آرام چھین لیا ہے وہیں بجلی کی اس طویل بندش نے اس شہر کی صنعتی اورکاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ، جس سے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ ہی متوسط اور خاص طور پر غریب مزدور طبقے کے مسائل ومشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے اوران کے لیے اپنی روزی پیدا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔بعد ازاں الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی نے اس کمپنی کے اثاثوں یہاں تک کہ اس کے بلک صارفین تک کو بینکوں میں گروی رکھ کر 2009 میں خاموشی سے361 ملین ڈالر میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ابراج گروپ کو فروخت کردیا۔ اس فروخت کے معاہدے کے وقت بھی شہریوں کو بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کاخواب دکھایاگیاتھا ۔ابراج گروپ کے چیف ایگزیکٹو نے یقین کے ساتھ کہاتھا کہ وہ اس ادارے کو بہت جلد منافع دینے والے ادارے میں تبدیل کردیں ، ادارے کو منافع بخش ادارہ بنا دینے کے حوالے سے انھوں نے اپنا وعدہ پورا کیا جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ اب کے الیکٹرک سالانہ کم وبیش 22 ارب روپے سالانہ منافع کمارہاہے اس طرح کے الیکٹرک اس ادارے کی خریداری پر خرچ کی جانے والی رقم سے کہیں زیادہ منافع کمانے کے بعد اب شنگھائی الیکٹرک سے 1.77 بلین ڈالر بھی وصول کررہاہے ،لیکن اس ادارے کو منافع بخش بنانے کیلیے اس شہر کے عوام کو کس طرح نچوڑا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔
اس صورتحال میں کے الیکٹرک کا انتظام کسی ایسی کمپنی کے سپرد کیاجانا جس کاماضی مبینہ طورپر داغدار بتایاجاتاہے اس شہر ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے مفاد کے منافی ہے، کیونکہ اگر آج کرپشن کے الزام میں ملوث کسی غیر ملکی ادارے کو ملک کے ایک انتہائی اہم اورحسا س ادارے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے تو اس سے مستقبل میں مزید کرپٹ کمپنیوں اور اداروں کو اس ملک کے دیگر اہم اداروں کو خریدنے کا موقع ملے گا اور اس طرح کرپشن کے خاتمے کے بجائے سرکاری طورپر کرپشن کی حوصلہ افزائی کاسامان پیداہوجائے گا ۔
اس حوالے سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی جانب سے نیپرا کے چیئرمین ریٹائرڈ بریگیڈیئر طارق محمود سدوزئی کے نام لکھاگیا وہ خط بہت ہی بروقت اور مناسب ہے جس میں انھوں نے شنگھائی الیکٹرک کے ماضی کاحوالہ دیتے ہوئے یہ معاہدہ رکوانے کی استدعا کی ہے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ پانی وبجلی کے وفاقی وزیر کو خود اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے اس طرح کے معاہدے رکوانے کیلیے مناسب کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ملک میں کرپشن کے نئے باب نہ کھل سکیں۔
اس طرح کے کسی معاہدے کی منظوری دینے سے قبل حکومت کو اس ادارے کے ہزاروں ملازمین کے تحفظ کے علاوہ ان کوپنشن اور دیگر مراعات کی بلاتعطل ادائیگی کو یقینی بنانے اور شہریوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی ضمانت لینی چاہیے اور اس معاملے میں عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو ان وعدوں کی تکمیل کا ضامن بنایاجانا چاہیے تاکہ یہ معاہدہ صرف دو کمپنیوں کے درمیان نہ ہو بلکہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اس میں برابر کی فریق ہوں اور شنگھائی الیکٹرک کے ارباب اختیار کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی صورت خلاف ورزی پر حکومت چین سے اس کے تدارک اور ازالے کی درخواست کی جاسکے ۔


متعلقہ خبریں


بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر جاری وجود - جمعه 07 اگست 2020

بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ سے لی گئیں تصاویر جاری کر دی گئیں۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس نے زمین کو پھاڑ ڈالا تھا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لبنان کے دارالخلافہ بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی سیٹلائٹ سی لی گئیں تصاویر جاری کر دی گئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زور دار دھماکے نے کس قدر تباہی مچا دی تھی۔تصویر میں دکھایا گیاکہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بندرگاہ کا ایک حصہ جہاں دھماکہ خیز مواد موجود تھا وہ مکمل طور پر پھٹ گیا۔ غیر ملکی ...

بیروت دھماکوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر جاری

آٹھ سال سے پہلے کہیں نہیں جارہے، زلفی بخاری وجود - جمعه 07 اگست 2020

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے برطانوی شہریت ترک کرنے کا کہا تو 2 سیکنڈز سے زیادہ وقت نہیں لگائوں گا۔ غیرملکی ویب سائیٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اگلے 8 سال پاکستان کے لیے بڑے بہترین ہوں گے ، اس سے پہلے ہم کہیں نہیں جا رہے ، 8سال کے لیے اپوزیشن کوئی نوکری ڈھونڈ لے اور کام کرے ، بہت ہو گیا ملک کو لوٹنا، کچھ اب محنت بھی کرلے ۔دہری شہریت رکھنے والے مشیروں اور معاونین خصوصی پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے ک...

آٹھ سال سے پہلے کہیں نہیں جارہے، زلفی بخاری

جاپان کا پاکستانی سرکاری ملازمین کے لیے اسکالر شپ کا اعلان وجود - جمعه 07 اگست 2020

جاپان پاکستانی سرکاری ملازمین کے لئے 50 کروڑ80 لاکھ روپے کے اسکالر شپ مہیا کرے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جاپان رواں مالی سال 2020ـ21 میں سرکاری ملازمین کے لئے 50 کروڑ80 لاکھ روپے کے سکالر شپ فراہم کرے جس کیلئے پاکستان اور جاپانا کے درمیان پاکستان میں ہیومن ریسورس ڈویلپمینٹ کے لیے جاپانی حکومت کی جانب سے گرانٹ کی فراہمی کا معاہدہ طے پاگیا، اس حوالے سے تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی، جس میں پراجیکٹ کی دستاویزات پر دستخط کئے گئے ۔پروگرام کے تحت جاپان رواں مالی سال پاکستان...

جاپان کا پاکستانی سرکاری ملازمین کے لیے اسکالر شپ کا اعلان

بیروت دھماکا 3 لاکھ افراد بے گھر، 5 ارب ڈالر کی املاک تباہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کی شام ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے چار ہزار سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔3لاکھ افراد کے بے گھر ہونے اور3 سے 5 ارب ڈالر کے املاک کی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ایک گودام میں مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد ہوا اور یہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔اس کی شدت اتنی تھی کہ اس کے اثرات 240 کلومیٹر دور مشرقی بحیر رو...

بیروت دھماکا 3 لاکھ افراد بے گھر، 5 ارب ڈالر کی املاک تباہ

بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب، بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا وجود - جمعرات 06 اگست 2020

وزیراعظم نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ کر اپنی جماعت بی جے پی کی مسلم دشمنی اور نفرت آمیز منشور کی تکمیل کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ راکھی رام مندر کی تعمیر کے لیے تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی نے سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے ہنومان گڑھی مندر میں بھومی پوجن کی رسومات بھی ادا کی تھی۔ 161 فٹ بلند رام مندر کی تعمیر میں دو سال اور 8 ماہ لگیں گے ۔خوف زدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتظامیہ نے ایودھیا میں سخت سیکیور...

بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب، بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

کرونا کیسے پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو وجود - جمعرات 06 اگست 2020

چین میں تین ہفتوں سے موجود عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے تفصیلی انٹرویوکرلیے ۔ عالمی ادارے کی ٹیم کرونا وائرس کی ابتدا اور اس کے انسانوں میں منتقلی سمیت دیگر حقائق جاننے کے لیے چین پہنچی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ترجمان نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ ماہرین کی ٹیم نے ووہان میں جانوروں پر تحقیق کے ادارے ، صحت، حیاتیاتی اور وبائی امراض کے ماہرین سمیت دیگر حکام سے طویل ملاقاتیں کیں۔عالمی ادارہ صحت...

کرونا کیسے پھیلا؟ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو

کروڑوں بچوں کا اسکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے ، اقوامِ متحدہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے تعلیمی اداروں کی بندش نے ایک پوری نسل کو بحران سے دو چار کر دیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ کی ایک نئی مہم ہمارا مستقبل بچائیں کے آغاز کے موقع پر ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کہی۔اس مہم کا مقصد کرونا وائرس کے بعد کی دنیا میں رسمی تعلیم کی بحالی کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے ۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کے 160 کے لگ بھگ ممالک میں ایک ارب سے زا...

کروڑوں بچوں کا اسکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے ، اقوامِ متحدہ

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن وجود - جمعرات 06 اگست 2020

ٓ امریکی صدر ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اگر کوئی امریکی کمپنی خریدتی ہے ، تو اس کی آمدنی کا اچھا خاصا حصہ امریکی حکومت کو ملنا چاہیے ۔ امریکی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ پہلے ہی ٹک ٹاک خریدنے کے لیے اس کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہی ہے ۔ لیکن صدر ٹرمپ کے ٹک ٹاک سے متعلق سخت موقف نے بظاہر ان مذاکرات کو پیچیدہ کر دیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے چند دن پہلے مائیکروسافٹ کے سرابراہان سے فون پر بات چیت میں واضح ک...

امریکا میں پابندی کی دھمکی، ٹک ٹاک کو چھ ہفتے کی ڈیڈ لائن

بھارت، لاک ڈاون کے سبب دیہی علاقوں میں بچوں کے استحصال میں اضافہ وجود - جمعرات 06 اگست 2020

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے جار ی لاک ڈاون کے سبب بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے جنسی اور جسمانی استحصال کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بے روزگاری اور اقتصادی بحران کی وجہ سے پریشان حال افراد خود بھی اپنے بچوں سے مزدوری کرانے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کے چلڈرنس فاونڈیشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں یہ باتیں کہی گئیں۔فاونڈیشن نے لاک ڈاون کے بالخصوص دیہی علاقوں کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ ل...

بھارت، لاک ڈاون کے سبب دیہی علاقوں میں بچوں کے استحصال میں اضافہ

کورونا وائرس کے ایک پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت وجود - جمعرات 06 اگست 2020

سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے ایک پیچیدہ ترین معمے سے پردہ اٹھانا شروع کردیا ہے کہ آخر کچھ لوگ کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار کیوں ہوجاتے ہیں جبکہ بیشتر بہت جلد صحتیاب ہوجاتے ہیں۔امریکی میڈیا نے بتایاکہ حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق مخصوص افراد میں یہ وائرس مدافعتی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کردیتا ہے ۔حملہ آور وائرس کے خلاف جنگ میںدرست خلیات اور مالیکیولز کو متحرک کرنے میں ناکامی پر بیمار افراد کے جسم تمام ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیتا ہے ۔اور یہ حملہ صحت م...

کورونا وائرس کے ایک پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں وجود - بدھ 05 اگست 2020

الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار جنرل پریذیڈنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خطبہ حج کا مختلف زبانوں میں براہ راست اور فوری ترجمہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ تین سال پیشتر شروع کیے گئے اس پروگرام میں رواں سال 10 زبانوں میں میدان عرفات سے خطبہ حج براہ راست پیش کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رواںسال کرونا وبا کی وجہ سے حج متاثر ہوا مگر اس کے باوجود میدان عرفات سے خطبہ حج کے ترجمہ پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ترجمہ پروگرام کو پوری ...

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی وجود - بدھ 05 اگست 2020

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے ۔روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی...

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی