وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کے- الیکٹرک پاناما پیپرز میں کرپٹ قرار دی گئی کمپنی کے سپر د کرنے کافیصلہ۔۔فائدہ کسے ہوگا؟؟

جمعرات 03 نومبر 2016 کے- الیکٹرک پاناما پیپرز میں کرپٹ قرار دی گئی کمپنی کے سپر د کرنے کافیصلہ۔۔فائدہ کسے ہوگا؟؟

نومبر کے آخر میں شیئر ہولڈرز اجلاس میں حتمی منظوری دی جائے گی ،کراچی کے باسیوں کو لوٹ کر کے۔ الیکٹرک کے سابقہ مالکان اُڑن چھو ہونے کے لیے تیار
ابراج گروپ36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں خریدا گیا یہ ادارہ شنگھائی الیکٹرک کو ایک ارب 77 کروڑ ڈالر میں فروخت کررہا ہے
k-eاخباری اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے اپنے زیر ملکیت 73 فیصد شیئرز اور اس کاانتظامی کنٹرول عوامی جمہوریہ چین کی ایک کمپنی شنگھائی الیکٹرک کو ایک ارب 77کروڑڈالر میں فروخت کرنے کا سودا طے کرلیاہے اور اب نومبر کے آخر میں شیئر ہولڈرز کے اجلاس میں اس سودے کی حتمی منظوری دیے جانے کے بعد کے ۔الیکٹرک کا انتظام شنگھائی الیکٹرک کے سپرد کردیاجائے گا۔
تجارتی کمپنیوں کی خریدوفروخت اور ان کے مالکان میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے، دنیا بھر میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اپنا خسارہ یا اخراجات کم کرنے اور منافع میں اضافے کیلیے ایک دوسرے میں ضم اور فروخت کی جاتی ہیں،اس اعتبار سے کے الیکٹرک کی فروخت کے حوالے سے اس خبر پر کسی کوتعجب نہیں ہونا چاہیے ،لیکن کے الیکٹرک اور عام کاروباری کمپنیوں میں ایک فرق یہ ہے کہ کے الیکٹرک اس شہر کے کم وبیش 2 کروڑ عوام کو بجلی فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے یعنی اس ادارے کو شہر کی بجلی کی تیاری اور فراہمی پر اجارہ داری حاصل ہے ، اس لیے اس کی فروخت سے قبل یہ دیکھاجانا ضروری ہے کہ یہ کمپنی جس کے حوالے کی جارہی ہے اس کے ماضی کاریکارڈ کیا ہے، اور آیا وہ اس شہر کے عوام کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کی اہلیت رکھتی بھی ہے یانہیں، یہ کا م یقیناًارباب حکومت اور خاص طورپر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کا ہے ، لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ ارباب اختیار اور نیپرا کے حکام نے ابھی تک اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلیے کچھ نہیں کیاہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے ، کے الیکٹرک کی خریداری کا معاہدہ کرنے والی شنگھائی الیکٹرک اگرچہ عوامی جمہوریہ چین کی زیر نگرانی کام کرنے والے متعدد اداروں میں سے ایک ہے لیکن اس کا سابقہ ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ کمپنی ان اداروں میں شامل ہے جن کا نام پاناما پیپرز میں کرپٹ طریقہ کار اختیار کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے اور اس پر مالٹا میں 360 ملین ڈالر کی کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ظاہر ہے کہ مالٹا جیسے چھوٹے اور کم وسیلہ ملک میں اتنی بڑی کرپشن میں ملوث کسی کمپنی کو کراچی جیسے شہر کیلیے بجلی کی تیار ی اور فراہمی کی ذمہ داری سونپ دیاجانانہ صرف یہ کہ کسی طوربھی اس شہر کے لوگوں کیلیے مناسب نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کامعاہدہ اس شہر کے لوگوں کیلیے جو پہلے ہی بنیادی سہولتوں کی کمیابی اور عدم فراہمی پر شدید ذہنی کرب کاشکار ہیں ایک مذاق کے مترادف ہے۔
اس حوالے سے جہاں تک اس استدلال کا تعلق ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کراچی کے شہریوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی اور اس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں شہر کے لوگوں کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی ،تو یہ ایسے تصوراتی وعدے ہیں جنھیں سبز باغ سے زیادہ کوئی اور نام نہیں دیاجاسکتا۔کیونکہ آج سے 11سال قبل29نومبر 2005 میں جب حکومت نے کے ای ایس کے73 فی صد شیئرز اور اس کا انتظامی کنٹرول سعودی عرب کی الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کردئے تھے تو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری سے متعلق امور کے اس وقت کے وفاقی وزیر نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری سے اس ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی اور صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کی صورت حال میں بہتری آئے گی۔ کے ای ایس سی کی نجکاری اور اس کا انتظام غیر ملکی کمپنی کے حوالے کئے جانے کے موقع پر ارباب اختیار نے کے ای ایس سی کی نجکاری کے اس فیصلے کو بجلی کے شعبے میں ترقی کی جانب ایک اہم قدم اورایک سنگ میل قرار دیا تھا۔کے ای ایس سی کاانتظام سنبھاتے ہوئے اس ادارے کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو انجینئر فرینک شمٹ نے کہاتھا کہ وہ اس شہر کو حقیقی معنوں میں روشنیوں کاشہر بنادیں گے اور کے ای ایس سی کومزید سرمایہ کاری، بہتر ٹیکنالوجی کے حصول اوراستعمال اورملازمین کے حالات کار بہتر بناکر صارفین دوست ادارہ بنادیں گے۔ادارے کی نجکاری کے وقت طے پانے والے سمجھوتے کے تحت بھی کے ای ایس سی کے نئے منتظمین کو ادارے میں 3 سال کے عرصے میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا تھی،جس میں سے ساڑھے 7کروڑ ڈالر 2005-2006 کے دوران ایک نئے بجلی گھر کے قیام پر خرچ کرنا تھے اور اس مجوزہ نئے بجلی گھر کوایک سال کے اندر ہی موسم گرما کے دوران بجلی کی پیداوار شروع کردینا چاہیے تھی،لیکن حقیقت میں کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد کراچی میں بجلی کا بحران کم ہونے کے بجائے برابر بڑھتا چلاجارہا ہے ،جس کی وجہ سے روشنیوں کایہ شہر تاریکی کے عمیق غار میں گرتا چلاجارہا ہے،کراچی میں بجلی کے بحران نے جہاں اس شہر کے مکینوں کا دن کاچین اور رات کا آرام چھین لیا ہے وہیں بجلی کی اس طویل بندش نے اس شہر کی صنعتی اورکاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ، جس سے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ ہی متوسط اور خاص طور پر غریب مزدور طبقے کے مسائل ومشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے اوران کے لیے اپنی روزی پیدا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔بعد ازاں الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی نے اس کمپنی کے اثاثوں یہاں تک کہ اس کے بلک صارفین تک کو بینکوں میں گروی رکھ کر 2009 میں خاموشی سے361 ملین ڈالر میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ابراج گروپ کو فروخت کردیا۔ اس فروخت کے معاہدے کے وقت بھی شہریوں کو بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کاخواب دکھایاگیاتھا ۔ابراج گروپ کے چیف ایگزیکٹو نے یقین کے ساتھ کہاتھا کہ وہ اس ادارے کو بہت جلد منافع دینے والے ادارے میں تبدیل کردیں ، ادارے کو منافع بخش ادارہ بنا دینے کے حوالے سے انھوں نے اپنا وعدہ پورا کیا جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ اب کے الیکٹرک سالانہ کم وبیش 22 ارب روپے سالانہ منافع کمارہاہے اس طرح کے الیکٹرک اس ادارے کی خریداری پر خرچ کی جانے والی رقم سے کہیں زیادہ منافع کمانے کے بعد اب شنگھائی الیکٹرک سے 1.77 بلین ڈالر بھی وصول کررہاہے ،لیکن اس ادارے کو منافع بخش بنانے کیلیے اس شہر کے عوام کو کس طرح نچوڑا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔
اس صورتحال میں کے الیکٹرک کا انتظام کسی ایسی کمپنی کے سپرد کیاجانا جس کاماضی مبینہ طورپر داغدار بتایاجاتاہے اس شہر ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے مفاد کے منافی ہے، کیونکہ اگر آج کرپشن کے الزام میں ملوث کسی غیر ملکی ادارے کو ملک کے ایک انتہائی اہم اورحسا س ادارے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے تو اس سے مستقبل میں مزید کرپٹ کمپنیوں اور اداروں کو اس ملک کے دیگر اہم اداروں کو خریدنے کا موقع ملے گا اور اس طرح کرپشن کے خاتمے کے بجائے سرکاری طورپر کرپشن کی حوصلہ افزائی کاسامان پیداہوجائے گا ۔
اس حوالے سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی جانب سے نیپرا کے چیئرمین ریٹائرڈ بریگیڈیئر طارق محمود سدوزئی کے نام لکھاگیا وہ خط بہت ہی بروقت اور مناسب ہے جس میں انھوں نے شنگھائی الیکٹرک کے ماضی کاحوالہ دیتے ہوئے یہ معاہدہ رکوانے کی استدعا کی ہے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ پانی وبجلی کے وفاقی وزیر کو خود اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے اس طرح کے معاہدے رکوانے کیلیے مناسب کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ملک میں کرپشن کے نئے باب نہ کھل سکیں۔
اس طرح کے کسی معاہدے کی منظوری دینے سے قبل حکومت کو اس ادارے کے ہزاروں ملازمین کے تحفظ کے علاوہ ان کوپنشن اور دیگر مراعات کی بلاتعطل ادائیگی کو یقینی بنانے اور شہریوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی ضمانت لینی چاہیے اور اس معاملے میں عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو ان وعدوں کی تکمیل کا ضامن بنایاجانا چاہیے تاکہ یہ معاہدہ صرف دو کمپنیوں کے درمیان نہ ہو بلکہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اس میں برابر کی فریق ہوں اور شنگھائی الیکٹرک کے ارباب اختیار کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی صورت خلاف ورزی پر حکومت چین سے اس کے تدارک اور ازالے کی درخواست کی جاسکے ۔


متعلقہ خبریں


آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی معیشت کساد بازاری میں داخل وجود - هفته 28 نومبر 2020

بھارتی معیشت جولائی اور ستمبر کے دوران 7.5 فیصد سکڑنے سے بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالی بڑی ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں شامل ہوگئی کیونکہ یہ آزادی کے بعد پہلہ مرتبہ تکنیکی کساد بازاری میں داخل ہوئی ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کساد بازاری میں داخل ہوگئی ہے ۔اگرچہ اعداد و شمار میں گزشتہ سہ ماہی میں ریکارڈ 23.9 فیصد سکڑنے کے مقابلے میں اعداد و شمار میں بہتری تھی تاہم یہ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایشیا کی تیسری بڑ...

آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی معیشت کساد بازاری میں داخل

نامور ایرانی سائنسدان محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ، اسرائیل کے ملوث ہونے کا شبہ وجود - هفته 28 نومبر 2020

ایرانی وزارت دفاع کے شعبہ تحقیق کے سربراہ محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق محسن فخری زادے تہران کے قریب دہشتگرد حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ محسن فخری کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے محسن فخری زادہ کی ہلاکت پر فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران دہشت گرد حملے کی سختی سے مذمت کرت...

نامور ایرانی سائنسدان محسن فخری زادے قاتلانہ حملے میں ہلاک ، اسرائیل کے ملوث ہونے کا شبہ

وزیراعظم سے امریکی گلوکارہ چیر کی ملاقات، تعاون کی پیشکش وجود - هفته 28 نومبر 2020

امریکی گلوکارہ چیر نے وزیر اعظم عمران خان کو تعاون کی پیشکش کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے کاون ہاتھی سے متعلق امریکی گلوکارہ کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ کاون ہاتھی نے 35 سال تک عوام میں خوشیاں بانٹیں۔ امریکی گلوکارہ نے سرسبز پاکستان کیلئے وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کو سراہا اور ان کے بلین ٹری منصوبے کی تعریف کی۔گلوکارہ چیر نے گرین پاکستان اقدامات سے متعلق پی ٹی آئی حکومت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔

وزیراعظم سے امریکی گلوکارہ چیر کی ملاقات، تعاون کی پیشکش

کورونا ،جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی وجود - هفته 28 نومبر 2020

موسم بہار میں کورونا وائرس کی وباء پر بہترانداز میں قابو پانے والے ملکوں جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔جنوبی کوریا میں مسلسل دوسرے روز 500 سے زائد نئے کیس رپورٹ ہونے سے مختلف ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے بستر کم پڑ گئے ۔ دوسری جانب جرمنی میں 22 ہزار سے زائد نئے کیسز کے بعد مجموعی تعداد 10لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور ملک بھر میں پابندیاں مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔یونان میں لاک ڈائون میں7 دسمبر تک توسیع کردی گئی تاہم برطانیہ اور فرانس نے پابندیوں میں نرم...

کورونا ،جرمنی اور جنوبی کوریا میں مشکل صورتحال پیدا ہوگئی

یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ، رپورٹ وجود - هفته 28 نومبر 2020

یورپین پارلیمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار یورپ میں 'بنیادی حقوق کی صورتحال 19ـ2018' کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ رپورٹ کی منظوری کیلئے ووٹنگ کے موقع پر کیا گیا۔ جس کے حق میں 330 ووٹ آئے ،298 نے مخالفت کی اور 65 ارکان غیر حاضر رہے ۔رپورٹ میں یورپ کے کئی ممالک کی حکومتوں کی جانب سے عدالتوں کی خودمختاری اور اداروں میں اختیارات کی تقسیم کے نظام کو کمزور کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ کے کئی ممبر م...

یورپ میں بنیادی حقوق کا معیار گر رہا ہے ، رپورٹ

کورونا وائرس ،مزید54افراد جاں بحق 3113نئے کیسز رپورٹ وجود - جمعه 27 نومبر 2020

گزشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں عالمی وباء کوروناوائرس کے مزید 54مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی تعداد7897تک پہنچ گئی جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک میں کوروناوائرس کے 3113 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد پاکستان میں کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تین لاکھ 89ہزار311تک پہنچ گئی جبکہ ملک میں تین لاکھ 35ہزار881مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی اوسی)کی جانب سے جمعہ کے روز کوروناوائرس کے...

کورونا وائرس ،مزید54افراد جاں بحق 3113نئے کیسز رپورٹ

امریکی صدر ٹرمپ کا وائٹ ہائوس چھوڑنے کا عندیہ وجود - جمعه 27 نومبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ وائٹ ہائوس چھوڑنے کا عندیہ دیدیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس چھوڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے اس کو جو بائیڈن کی انتخابات میں فتح کی تصدیق کے ساتھ مشروط کردیا ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انتخابات میں جوبائیڈن کی فتح کی تصدیق ہو جائے تو وائٹ ہائوس چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے الیکشن کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانونی کارروائی جاری رکھوں گا، امریکہ کا ووٹنگ سٹرکچر تیسری دنیا کے ملک جیسا ہے ۔ انہوں نے ٹویٹ بھی کیا تھا کہ یہ سو فیصد ...

امریکی صدر ٹرمپ کا وائٹ ہائوس چھوڑنے کا عندیہ

صحت مند رہنے کیلیے صرف 12 منٹ کی سخت جسمانی مشقت بھی کافی ہے ، تحقیق وجود - جمعه 27 نومبر 2020

جسمانی مشقت بشمول ورزش کے نت نئے فائدے سامنے آتے جارہے ہیں؛ اور اب امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر روزانہ صرف 12 منٹ کی سخت جسمانی مشقت یا ورزش کی جاتی رہے تو بیک وقت کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہوئے صحت مند رہا جاسکتا ہے ۔ریسرچ جرنل سرکولیشن کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی میں 411 ادھیڑ عمر رضاکار شامل کیے گئے تھے جن میں سے ہر ایک سے 12 منٹ تک تیزی سے سائیکل چلوائی گئی اور اس کے فورا بعد ان کے جسموں میں میٹابولائٹس کہلانے والے مادوں کی 588 اقسام کا جائ...

صحت مند رہنے کیلیے صرف 12 منٹ کی سخت جسمانی مشقت بھی کافی ہے ، تحقیق

پاکستان کو واپس بھیجنے کی وارننگ، شعیب اختر نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو کھری کھری سنا دیں وجود - جمعه 27 نومبر 2020

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نیوزی لینڈ کرکٹ پر کو کھری کھری سنا دیں ۔ تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں موجود قومی ٹیم کے 6 کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد نیوزی لینڈ کی وزارت صحت کی جانب سے پاکستانی اسکواڈ کو آخری وارننگ دی گئی تھی کہ کووڈـ19 کی ایس او پیز کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پاکستان ٹیم کو وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا چا...

پاکستان کو واپس بھیجنے کی وارننگ، شعیب اختر نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو کھری کھری سنا دیں

ارجنٹینا کے لیجنڈ فٹبالر میراڈونا سپردخاک، قریبی افراد کا خراج عقیدت وجود - جمعه 27 نومبر 2020

دنیائے فٹبال کے عظیم ہیرو اور ارجنٹینا کے فٹ بال لیجنڈ میراڈونا کو بیونس آئرس کے بیلا وسٹا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ارجنٹینا کے فٹ بال لیجنڈ میراڈونا کی تدفین میں خاندان کے افراد اور قریبی احباب نے شرکت کی جب کہ تدفین سے قبل ہیرو کی میت کو بیونس آئرس کی سڑکوں سے گزار کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔میراڈونا کے آخری دیدار کے لیے صدارتی محل میں مداحوں کا رش لگ گیا، ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنینڈز جب صدارتی محل پہنچے تو وہاں فٹبال لیجنڈ کے مداحوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔فٹبال لیج...

ارجنٹینا کے لیجنڈ فٹبالر میراڈونا سپردخاک، قریبی افراد کا خراج عقیدت

منی لانڈرنگ کیس ،شہباز شریف کے بیٹے، بیٹی، داماد اشتہاری قرار وجود - جمعرات 26 نومبر 2020

احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز، بیٹی رابعہ عمران ، داماد ہارون یوسف ،طاہر نقوی اور علی احمد خان کو اشتہاری قرار دیدیا ، عدالت نے نیب کے تین گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد سماعت 3دسمبر تک ملتوی کر کے وکلاء کو جرح کیلئے پابند کردیا ۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی ۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا گیا ۔ فاضل عدالت نے حاضری مکمل کرانے کے بعد سماعت شروع کی ۔ شہباز شریف کے ...

منی لانڈرنگ کیس ،شہباز شریف کے بیٹے، بیٹی، داماد اشتہاری قرار

احتساب عدالت کے جج اور نیب وکیل کی شہباز سے والدہ کے انتقال پر تعزیت وجود - جمعرات 26 نومبر 2020

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن اور نیب کے وکیل عثمان جی راشد چیمہ نے منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ۔ فاضل جج نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے ، دنیا میں ماں سے بڑھ کر کوئی اور رشتہ نہیں ہوتا ۔ اظہار یکجہتی کیلئے آنے والے پارٹی رہنمائوں نے بھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے محترمہ بیگم شمیم اختر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ۔اس موقع پر رہنمائوں نے شہباز شریف کو نماز جنا...

احتساب عدالت کے جج اور نیب وکیل کی شہباز سے والدہ کے انتقال پر تعزیت