... loading ...
نومبر کے آخر میں شیئر ہولڈرز اجلاس میں حتمی منظوری دی جائے گی ،کراچی کے باسیوں کو لوٹ کر کے۔ الیکٹرک کے سابقہ مالکان اُڑن چھو ہونے کے لیے تیار
ابراج گروپ36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں خریدا گیا یہ ادارہ شنگھائی الیکٹرک کو ایک ارب 77 کروڑ ڈالر میں فروخت کررہا ہے
اخباری اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے اپنے زیر ملکیت 73 فیصد شیئرز اور اس کاانتظامی کنٹرول عوامی جمہوریہ چین کی ایک کمپنی شنگھائی الیکٹرک کو ایک ارب 77کروڑڈالر میں فروخت کرنے کا سودا طے کرلیاہے اور اب نومبر کے آخر میں شیئر ہولڈرز کے اجلاس میں اس سودے کی حتمی منظوری دیے جانے کے بعد کے ۔الیکٹرک کا انتظام شنگھائی الیکٹرک کے سپرد کردیاجائے گا۔
تجارتی کمپنیوں کی خریدوفروخت اور ان کے مالکان میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے، دنیا بھر میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اپنا خسارہ یا اخراجات کم کرنے اور منافع میں اضافے کیلیے ایک دوسرے میں ضم اور فروخت کی جاتی ہیں،اس اعتبار سے کے الیکٹرک کی فروخت کے حوالے سے اس خبر پر کسی کوتعجب نہیں ہونا چاہیے ،لیکن کے الیکٹرک اور عام کاروباری کمپنیوں میں ایک فرق یہ ہے کہ کے الیکٹرک اس شہر کے کم وبیش 2 کروڑ عوام کو بجلی فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے یعنی اس ادارے کو شہر کی بجلی کی تیاری اور فراہمی پر اجارہ داری حاصل ہے ، اس لیے اس کی فروخت سے قبل یہ دیکھاجانا ضروری ہے کہ یہ کمپنی جس کے حوالے کی جارہی ہے اس کے ماضی کاریکارڈ کیا ہے، اور آیا وہ اس شہر کے عوام کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کی اہلیت رکھتی بھی ہے یانہیں، یہ کا م یقیناًارباب حکومت اور خاص طورپر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کا ہے ، لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ ارباب اختیار اور نیپرا کے حکام نے ابھی تک اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلیے کچھ نہیں کیاہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے ، کے الیکٹرک کی خریداری کا معاہدہ کرنے والی شنگھائی الیکٹرک اگرچہ عوامی جمہوریہ چین کی زیر نگرانی کام کرنے والے متعدد اداروں میں سے ایک ہے لیکن اس کا سابقہ ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ کمپنی ان اداروں میں شامل ہے جن کا نام پاناما پیپرز میں کرپٹ طریقہ کار اختیار کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے اور اس پر مالٹا میں 360 ملین ڈالر کی کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ظاہر ہے کہ مالٹا جیسے چھوٹے اور کم وسیلہ ملک میں اتنی بڑی کرپشن میں ملوث کسی کمپنی کو کراچی جیسے شہر کیلیے بجلی کی تیار ی اور فراہمی کی ذمہ داری سونپ دیاجانانہ صرف یہ کہ کسی طوربھی اس شہر کے لوگوں کیلیے مناسب نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کامعاہدہ اس شہر کے لوگوں کیلیے جو پہلے ہی بنیادی سہولتوں کی کمیابی اور عدم فراہمی پر شدید ذہنی کرب کاشکار ہیں ایک مذاق کے مترادف ہے۔
اس حوالے سے جہاں تک اس استدلال کا تعلق ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کراچی کے شہریوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی اور اس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں شہر کے لوگوں کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی ،تو یہ ایسے تصوراتی وعدے ہیں جنھیں سبز باغ سے زیادہ کوئی اور نام نہیں دیاجاسکتا۔کیونکہ آج سے 11سال قبل29نومبر 2005 میں جب حکومت نے کے ای ایس کے73 فی صد شیئرز اور اس کا انتظامی کنٹرول سعودی عرب کی الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کردئے تھے تو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری سے متعلق امور کے اس وقت کے وفاقی وزیر نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری سے اس ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی اور صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کی صورت حال میں بہتری آئے گی۔ کے ای ایس سی کی نجکاری اور اس کا انتظام غیر ملکی کمپنی کے حوالے کئے جانے کے موقع پر ارباب اختیار نے کے ای ایس سی کی نجکاری کے اس فیصلے کو بجلی کے شعبے میں ترقی کی جانب ایک اہم قدم اورایک سنگ میل قرار دیا تھا۔کے ای ایس سی کاانتظام سنبھاتے ہوئے اس ادارے کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو انجینئر فرینک شمٹ نے کہاتھا کہ وہ اس شہر کو حقیقی معنوں میں روشنیوں کاشہر بنادیں گے اور کے ای ایس سی کومزید سرمایہ کاری، بہتر ٹیکنالوجی کے حصول اوراستعمال اورملازمین کے حالات کار بہتر بناکر صارفین دوست ادارہ بنادیں گے۔ادارے کی نجکاری کے وقت طے پانے والے سمجھوتے کے تحت بھی کے ای ایس سی کے نئے منتظمین کو ادارے میں 3 سال کے عرصے میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا تھی،جس میں سے ساڑھے 7کروڑ ڈالر 2005-2006 کے دوران ایک نئے بجلی گھر کے قیام پر خرچ کرنا تھے اور اس مجوزہ نئے بجلی گھر کوایک سال کے اندر ہی موسم گرما کے دوران بجلی کی پیداوار شروع کردینا چاہیے تھی،لیکن حقیقت میں کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد کراچی میں بجلی کا بحران کم ہونے کے بجائے برابر بڑھتا چلاجارہا ہے ،جس کی وجہ سے روشنیوں کایہ شہر تاریکی کے عمیق غار میں گرتا چلاجارہا ہے،کراچی میں بجلی کے بحران نے جہاں اس شہر کے مکینوں کا دن کاچین اور رات کا آرام چھین لیا ہے وہیں بجلی کی اس طویل بندش نے اس شہر کی صنعتی اورکاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ، جس سے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ ہی متوسط اور خاص طور پر غریب مزدور طبقے کے مسائل ومشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے اوران کے لیے اپنی روزی پیدا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔بعد ازاں الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی نے اس کمپنی کے اثاثوں یہاں تک کہ اس کے بلک صارفین تک کو بینکوں میں گروی رکھ کر 2009 میں خاموشی سے361 ملین ڈالر میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ابراج گروپ کو فروخت کردیا۔ اس فروخت کے معاہدے کے وقت بھی شہریوں کو بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کاخواب دکھایاگیاتھا ۔ابراج گروپ کے چیف ایگزیکٹو نے یقین کے ساتھ کہاتھا کہ وہ اس ادارے کو بہت جلد منافع دینے والے ادارے میں تبدیل کردیں ، ادارے کو منافع بخش ادارہ بنا دینے کے حوالے سے انھوں نے اپنا وعدہ پورا کیا جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ اب کے الیکٹرک سالانہ کم وبیش 22 ارب روپے سالانہ منافع کمارہاہے اس طرح کے الیکٹرک اس ادارے کی خریداری پر خرچ کی جانے والی رقم سے کہیں زیادہ منافع کمانے کے بعد اب شنگھائی الیکٹرک سے 1.77 بلین ڈالر بھی وصول کررہاہے ،لیکن اس ادارے کو منافع بخش بنانے کیلیے اس شہر کے عوام کو کس طرح نچوڑا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔
اس صورتحال میں کے الیکٹرک کا انتظام کسی ایسی کمپنی کے سپرد کیاجانا جس کاماضی مبینہ طورپر داغدار بتایاجاتاہے اس شہر ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے مفاد کے منافی ہے، کیونکہ اگر آج کرپشن کے الزام میں ملوث کسی غیر ملکی ادارے کو ملک کے ایک انتہائی اہم اورحسا س ادارے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے تو اس سے مستقبل میں مزید کرپٹ کمپنیوں اور اداروں کو اس ملک کے دیگر اہم اداروں کو خریدنے کا موقع ملے گا اور اس طرح کرپشن کے خاتمے کے بجائے سرکاری طورپر کرپشن کی حوصلہ افزائی کاسامان پیداہوجائے گا ۔
اس حوالے سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی جانب سے نیپرا کے چیئرمین ریٹائرڈ بریگیڈیئر طارق محمود سدوزئی کے نام لکھاگیا وہ خط بہت ہی بروقت اور مناسب ہے جس میں انھوں نے شنگھائی الیکٹرک کے ماضی کاحوالہ دیتے ہوئے یہ معاہدہ رکوانے کی استدعا کی ہے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ پانی وبجلی کے وفاقی وزیر کو خود اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے اس طرح کے معاہدے رکوانے کیلیے مناسب کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ملک میں کرپشن کے نئے باب نہ کھل سکیں۔
اس طرح کے کسی معاہدے کی منظوری دینے سے قبل حکومت کو اس ادارے کے ہزاروں ملازمین کے تحفظ کے علاوہ ان کوپنشن اور دیگر مراعات کی بلاتعطل ادائیگی کو یقینی بنانے اور شہریوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی ضمانت لینی چاہیے اور اس معاملے میں عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو ان وعدوں کی تکمیل کا ضامن بنایاجانا چاہیے تاکہ یہ معاہدہ صرف دو کمپنیوں کے درمیان نہ ہو بلکہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اس میں برابر کی فریق ہوں اور شنگھائی الیکٹرک کے ارباب اختیار کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی صورت خلاف ورزی پر حکومت چین سے اس کے تدارک اور ازالے کی درخواست کی جاسکے ۔
صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...
زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...
ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...
سلمان اکرم راجاکا بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان، واٹس ایپ گروپس میں شدید تنقید،ذرائع سیکریٹری جنرل نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، اراکین پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پ...
منتخب نمائندوں سے ہی مذاکرات ہوں گے،غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہیں کریں گے،حکومتی ذرائع حکومتی وفد تیار ،ابھی تک مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابط رابطہ نہیں کیا، ذرائع اسپیکر آفس وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے گرین سگ...
خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارس...
اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...
مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا 9 سے 11 جنوری تک سندھ کا تاریخی دورہ کریں گے،پی ٹی آئی آٹھ فروری یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ...
ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے ...
روشنیوں کا شہر مختلف مسائل کا شکار، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی،ماہرین نے صحت کیلئے ہولناک قرار دیدیا ان فوڈ اسٹریٹس اور غذائی اسٹالز میں پہلے ہی حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان ہے رہی سہی کسر اڑتی دھول مٹی نے پوری کردی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسا...
15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن...