وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کے- الیکٹرک پاناما پیپرز میں کرپٹ قرار دی گئی کمپنی کے سپر د کرنے کافیصلہ۔۔فائدہ کسے ہوگا؟؟

جمعرات 03 نومبر 2016 کے- الیکٹرک پاناما پیپرز میں کرپٹ قرار دی گئی کمپنی کے سپر د کرنے کافیصلہ۔۔فائدہ کسے ہوگا؟؟

نومبر کے آخر میں شیئر ہولڈرز اجلاس میں حتمی منظوری دی جائے گی ،کراچی کے باسیوں کو لوٹ کر کے۔ الیکٹرک کے سابقہ مالکان اُڑن چھو ہونے کے لیے تیار
ابراج گروپ36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں خریدا گیا یہ ادارہ شنگھائی الیکٹرک کو ایک ارب 77 کروڑ ڈالر میں فروخت کررہا ہے
k-eاخباری اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے اپنے زیر ملکیت 73 فیصد شیئرز اور اس کاانتظامی کنٹرول عوامی جمہوریہ چین کی ایک کمپنی شنگھائی الیکٹرک کو ایک ارب 77کروڑڈالر میں فروخت کرنے کا سودا طے کرلیاہے اور اب نومبر کے آخر میں شیئر ہولڈرز کے اجلاس میں اس سودے کی حتمی منظوری دیے جانے کے بعد کے ۔الیکٹرک کا انتظام شنگھائی الیکٹرک کے سپرد کردیاجائے گا۔
تجارتی کمپنیوں کی خریدوفروخت اور ان کے مالکان میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے، دنیا بھر میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اپنا خسارہ یا اخراجات کم کرنے اور منافع میں اضافے کیلیے ایک دوسرے میں ضم اور فروخت کی جاتی ہیں،اس اعتبار سے کے الیکٹرک کی فروخت کے حوالے سے اس خبر پر کسی کوتعجب نہیں ہونا چاہیے ،لیکن کے الیکٹرک اور عام کاروباری کمپنیوں میں ایک فرق یہ ہے کہ کے الیکٹرک اس شہر کے کم وبیش 2 کروڑ عوام کو بجلی فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے یعنی اس ادارے کو شہر کی بجلی کی تیاری اور فراہمی پر اجارہ داری حاصل ہے ، اس لیے اس کی فروخت سے قبل یہ دیکھاجانا ضروری ہے کہ یہ کمپنی جس کے حوالے کی جارہی ہے اس کے ماضی کاریکارڈ کیا ہے، اور آیا وہ اس شہر کے عوام کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کی اہلیت رکھتی بھی ہے یانہیں، یہ کا م یقیناًارباب حکومت اور خاص طورپر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کا ہے ، لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ ارباب اختیار اور نیپرا کے حکام نے ابھی تک اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلیے کچھ نہیں کیاہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے ، کے الیکٹرک کی خریداری کا معاہدہ کرنے والی شنگھائی الیکٹرک اگرچہ عوامی جمہوریہ چین کی زیر نگرانی کام کرنے والے متعدد اداروں میں سے ایک ہے لیکن اس کا سابقہ ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ کمپنی ان اداروں میں شامل ہے جن کا نام پاناما پیپرز میں کرپٹ طریقہ کار اختیار کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے اور اس پر مالٹا میں 360 ملین ڈالر کی کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ظاہر ہے کہ مالٹا جیسے چھوٹے اور کم وسیلہ ملک میں اتنی بڑی کرپشن میں ملوث کسی کمپنی کو کراچی جیسے شہر کیلیے بجلی کی تیار ی اور فراہمی کی ذمہ داری سونپ دیاجانانہ صرف یہ کہ کسی طوربھی اس شہر کے لوگوں کیلیے مناسب نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کامعاہدہ اس شہر کے لوگوں کیلیے جو پہلے ہی بنیادی سہولتوں کی کمیابی اور عدم فراہمی پر شدید ذہنی کرب کاشکار ہیں ایک مذاق کے مترادف ہے۔
اس حوالے سے جہاں تک اس استدلال کا تعلق ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کراچی کے شہریوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی اور اس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں شہر کے لوگوں کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی ،تو یہ ایسے تصوراتی وعدے ہیں جنھیں سبز باغ سے زیادہ کوئی اور نام نہیں دیاجاسکتا۔کیونکہ آج سے 11سال قبل29نومبر 2005 میں جب حکومت نے کے ای ایس کے73 فی صد شیئرز اور اس کا انتظامی کنٹرول سعودی عرب کی الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کردئے تھے تو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری سے متعلق امور کے اس وقت کے وفاقی وزیر نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری سے اس ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی اور صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کی صورت حال میں بہتری آئے گی۔ کے ای ایس سی کی نجکاری اور اس کا انتظام غیر ملکی کمپنی کے حوالے کئے جانے کے موقع پر ارباب اختیار نے کے ای ایس سی کی نجکاری کے اس فیصلے کو بجلی کے شعبے میں ترقی کی جانب ایک اہم قدم اورایک سنگ میل قرار دیا تھا۔کے ای ایس سی کاانتظام سنبھاتے ہوئے اس ادارے کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو انجینئر فرینک شمٹ نے کہاتھا کہ وہ اس شہر کو حقیقی معنوں میں روشنیوں کاشہر بنادیں گے اور کے ای ایس سی کومزید سرمایہ کاری، بہتر ٹیکنالوجی کے حصول اوراستعمال اورملازمین کے حالات کار بہتر بناکر صارفین دوست ادارہ بنادیں گے۔ادارے کی نجکاری کے وقت طے پانے والے سمجھوتے کے تحت بھی کے ای ایس سی کے نئے منتظمین کو ادارے میں 3 سال کے عرصے میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا تھی،جس میں سے ساڑھے 7کروڑ ڈالر 2005-2006 کے دوران ایک نئے بجلی گھر کے قیام پر خرچ کرنا تھے اور اس مجوزہ نئے بجلی گھر کوایک سال کے اندر ہی موسم گرما کے دوران بجلی کی پیداوار شروع کردینا چاہیے تھی،لیکن حقیقت میں کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد کراچی میں بجلی کا بحران کم ہونے کے بجائے برابر بڑھتا چلاجارہا ہے ،جس کی وجہ سے روشنیوں کایہ شہر تاریکی کے عمیق غار میں گرتا چلاجارہا ہے،کراچی میں بجلی کے بحران نے جہاں اس شہر کے مکینوں کا دن کاچین اور رات کا آرام چھین لیا ہے وہیں بجلی کی اس طویل بندش نے اس شہر کی صنعتی اورکاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ، جس سے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ ہی متوسط اور خاص طور پر غریب مزدور طبقے کے مسائل ومشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے اوران کے لیے اپنی روزی پیدا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔بعد ازاں الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی نے اس کمپنی کے اثاثوں یہاں تک کہ اس کے بلک صارفین تک کو بینکوں میں گروی رکھ کر 2009 میں خاموشی سے361 ملین ڈالر میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ابراج گروپ کو فروخت کردیا۔ اس فروخت کے معاہدے کے وقت بھی شہریوں کو بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کاخواب دکھایاگیاتھا ۔ابراج گروپ کے چیف ایگزیکٹو نے یقین کے ساتھ کہاتھا کہ وہ اس ادارے کو بہت جلد منافع دینے والے ادارے میں تبدیل کردیں ، ادارے کو منافع بخش ادارہ بنا دینے کے حوالے سے انھوں نے اپنا وعدہ پورا کیا جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ اب کے الیکٹرک سالانہ کم وبیش 22 ارب روپے سالانہ منافع کمارہاہے اس طرح کے الیکٹرک اس ادارے کی خریداری پر خرچ کی جانے والی رقم سے کہیں زیادہ منافع کمانے کے بعد اب شنگھائی الیکٹرک سے 1.77 بلین ڈالر بھی وصول کررہاہے ،لیکن اس ادارے کو منافع بخش بنانے کیلیے اس شہر کے عوام کو کس طرح نچوڑا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔
اس صورتحال میں کے الیکٹرک کا انتظام کسی ایسی کمپنی کے سپرد کیاجانا جس کاماضی مبینہ طورپر داغدار بتایاجاتاہے اس شہر ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے مفاد کے منافی ہے، کیونکہ اگر آج کرپشن کے الزام میں ملوث کسی غیر ملکی ادارے کو ملک کے ایک انتہائی اہم اورحسا س ادارے کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے تو اس سے مستقبل میں مزید کرپٹ کمپنیوں اور اداروں کو اس ملک کے دیگر اہم اداروں کو خریدنے کا موقع ملے گا اور اس طرح کرپشن کے خاتمے کے بجائے سرکاری طورپر کرپشن کی حوصلہ افزائی کاسامان پیداہوجائے گا ۔
اس حوالے سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی جانب سے نیپرا کے چیئرمین ریٹائرڈ بریگیڈیئر طارق محمود سدوزئی کے نام لکھاگیا وہ خط بہت ہی بروقت اور مناسب ہے جس میں انھوں نے شنگھائی الیکٹرک کے ماضی کاحوالہ دیتے ہوئے یہ معاہدہ رکوانے کی استدعا کی ہے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ پانی وبجلی کے وفاقی وزیر کو خود اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے اس طرح کے معاہدے رکوانے کیلیے مناسب کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ملک میں کرپشن کے نئے باب نہ کھل سکیں۔
اس طرح کے کسی معاہدے کی منظوری دینے سے قبل حکومت کو اس ادارے کے ہزاروں ملازمین کے تحفظ کے علاوہ ان کوپنشن اور دیگر مراعات کی بلاتعطل ادائیگی کو یقینی بنانے اور شہریوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی ضمانت لینی چاہیے اور اس معاملے میں عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو ان وعدوں کی تکمیل کا ضامن بنایاجانا چاہیے تاکہ یہ معاہدہ صرف دو کمپنیوں کے درمیان نہ ہو بلکہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اس میں برابر کی فریق ہوں اور شنگھائی الیکٹرک کے ارباب اختیار کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی صورت خلاف ورزی پر حکومت چین سے اس کے تدارک اور ازالے کی درخواست کی جاسکے ۔


متعلقہ خبریں


کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کوروناوباء امریکہ میںاندازے سے پہلے پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسے شواہد کو دریافت کیا گیا جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس امریکا میں دسمبر کے آخر میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 22 دسمبر سے امریکا کے مختلف طبی مراکز اور ہسپتالوں میں نظام تنفس کی بیماری کے شکار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس یکم ستمبر کو سامنے آیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ...

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

گوگل میٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس میں صارفین ویڈیو کال کے دوران پیچھے کے منظر کو دھندلا کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل نے نئے بلاگ میں بتایا کہ گوگل میٹ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے ، اس فیچر کے ذریعے پس منظر دھندلا ہوجائے گا مگر صارف کال میں شامل دیگر افراد کو صاف طور پر نظر آئے گا۔شور کو فلٹر آوٹ کرنے کی صلاحیت کی طرح یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے کانفرنس کالز کے دوران انتشار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔گوگل کا کہ...

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈان کی وجہ سے برطانیہ کی سرکاری ائیرلائن برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار ہوگئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق غیر ملکی میڈیا کے مطابق برٹش ائیرویز کے سی ای او نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس کے دوران پراوزیں اڑانے سے ڈرنے کی وجہ سے حالات فوری معمول پر آنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں لیکن ائیرلائن کی جانب سے موسم سرما کا سیزن گزارنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔برٹش ائیرویز کے سی ای او کا کہنا ت...

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اکتوبر اور نومبر میں یورپ کرونا وبا سے شدید متاثر ہو گا جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بدقسمتی سے اکتوبر اور نومبر یورپ کے کئی ملکوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ ان کے بقول کرونا وبا سے یورپ میں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور اسپین سمیت یورپ کے 55 ممالک میں جمعے کو کرونا کے 51 ہزار کے لگ بھگ کیس...

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے وجود - منگل 15 ستمبر 2020

دنیا کے بڑے اورترقی یافتہ ممالک میں اس وقت کورونا وائرس کی ویکسین کے حوالے سے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ یہ دوڑ علامتی طور پر ایک نئے طاقت کے اُبھار اور عالمی سطح پر نئے رجحانات کی تشکیل کا سبب بھی یقینی طور بنے گی۔ اس ضمن میں عالمی ذرائع ابلاغ پر روزانہ کی بنیاد پر اندازے ظاہر کیے جاتے ہیںاور اس دوڑ میں شامل ملکوں میں جاری تحقیقات کو جگہ دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے اب یہ بات زیادہ زور دے کر دہرائی جارہی ہے کہ چین دنیا میں کورونا ویکسین متعارف کرانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے ۔ برطانوی ...

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے

مصر، حجاب کی حمایت پر خاتون ٹی وی میزبان کو پوچھ تاچھ کا سامنا وجود - پیر 14 ستمبر 2020

مصر کی سپریم میڈیا ریگولیرٹری کونسل نے ایک نجی ٹی وی چینل کی خاتون پیش کار رضوی الشربینی سے مبینہ طور پر حجاب کی حمایت کرنے پر تحقیقات شروع کی ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک اسے کام سے روک دیا گیا ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق مصر سے عربی میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل کے پروگرام کی میزبان رضوی الشربینی نے حال ہی میں با حجاب خواتین کی تعریف کی تھی۔ میڈیا ریگولیرٹی کونسل کی انسداد شکایات کمیٹی کو ملنے والی شکایات میں کہا گیا کہ الشریبی نے ایک ٹی وی شو میں کہا تھا کہ میرا وجدان یہ کہت...

مصر، حجاب کی حمایت پر خاتون ٹی وی میزبان کو پوچھ تاچھ کا سامنا

بھارت میں پانچویں روز بھی 90 ہزارسے زائد کورونا کیس رپورٹ وجود - پیر 14 ستمبر 2020

دنیا بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس کے وار اب تک جاری ہیں، جس سے ناصرف مریضوں میں بلکہ اس سے اموات میں بھی ہر روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ بھارت میں مسلسل پانچویں روز 90 ہزار سے زیادہ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ۔ادھر شام میں حفاظتی اقدامات کے ساتھ اسکول کھل گئے جبکہ عراقی دارالحکومت بغداد میں کئی ماہ سے بند ریسٹورنٹ کھول دیے گئے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت میں 90 ہزار نئے کورونا کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد 47 لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ ہلاکتیں 79 ہزار کے قریب پہنچ چکی...

بھارت میں پانچویں روز بھی 90 ہزارسے زائد کورونا کیس رپورٹ

کورونا کی دوسری لہر، اسرائیل میں ملک گیر لاک ڈاون کااعلان وجود - پیر 14 ستمبر 2020

اسرائیل میں کورونا کی دوسری لہر کے بعد حکومت نے ملک بھر میں رواں ہفتے لاک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ ملک میں کرونا وبا کے کیسز میں غیرمعمولی اضافے کے بعد جمعہ سے یہودیوں کے سال نو کی تقریبات تک کم سے کم تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاون لگایا جا رہا ہے ۔خیال رہے کہ اسرائیل میں حالیہ ایام میں کورونا کے کیسز میں غیرمعمولی اضافہ سامنے آیا۔ اسرائیل میں کرونا کی یہ دوسری لہرہے ۔ آبادی کے تناسب سے اسرائیل کا شکا...

کورونا کی دوسری لہر، اسرائیل میں ملک گیر لاک ڈاون کااعلان

پب جی پر پابندی کیوں لگائی؟، ایک اور بھارتی طالبعلم کی خودکشی وجود - پیر 14 ستمبر 2020

آن لائن گیم پب جی کھیلنے کے عادی انجینئرنگ کے طالب علم نے ویڈیو گیم پر پابندی لگنے پر اپنی جان لے لی۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت میں پب جی گیم کھیلنے والے ایک اور نوجوان نے خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے ، خودکشی کا یہ واقعہ بھارتی ریاست اندرا پردیش میں پیش آیا۔بھارتی نوجوان کرن کمار پب جی کھیلنے کا اس قدر عادی تھا کہ اس نے ساڑھے لاکھ روپے بٹ کوائن کی صورت میں پب جی پر لگادئیے تھے جو اس نے اپنی والدہ سے ادھار لیے تھے جبکہ لیپ ٹاپ، موبائل فون و دیگر ذاتی جائیداد بھی پ...

پب جی پر پابندی کیوں لگائی؟، ایک اور بھارتی طالبعلم کی خودکشی

مروا قتل کیس، متعدد افراد زیرِ حراست، 5 کے مزید ڈی این اے سیمپل لیے گئے وجود - اتوار 13 ستمبر 2020

کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں 5 سالہ کمسن بچی مرواہ کے اغوا، زیادتی اور قتل کی واردات میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے مزید 5 افراد کے نمونے حاصل کر لئے ہیں۔ایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی کے مطابق اب تک 36 افراد کے بیانات ریکارڈ کیئے جا چکے ہیں جبکہ ان تمام 36 افراد کے ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کیئے جا چکے ہیں جن میں سے 17 سیمپلز گزشتہ روز سندھ کی جامشورو یونیورسٹی حیدر آباد پہنچا دیئے گئے ہیں۔ان میں مرکزی مشتبہ ملزم نواز کا ڈی این اے سیم...

مروا قتل کیس، متعدد افراد زیرِ حراست، 5 کے مزید ڈی این اے سیمپل لیے گئے

مرتضی وہاب کی تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل وجود - اتوار 13 ستمبر 2020

سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے ۔بیرسٹر مرتضی وہاب نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اسکول خصوصا پرائمری سیکشن کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ صورتحال تاحال غیر یقینی ہے ، بچے کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کر پائیں گے ۔خیال رہے کہ وزارت تعلیم سندھ نے عالمی وبا کورونا کے باعث بند تمام تعلیمی ادارے 15 س...

مرتضی وہاب کی تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل

امارات کی طرح عرب لیگ نے بھی فلسطینی قوم سے غداری کی، اسماعیل ھنیہ وجود - اتوار 13 ستمبر 2020

اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ عرب لیگ کا اسرائیلی ریاست کی طرف جھکائو خطرناک نتائج پر منتج ہوسکتا ہے ۔ عرب لیگ میں امارات اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کی مخالفت میں پیش کی گئی قرارداد ناکام کرنا شرمناک پیش رفت ہے جس سے عرب لیگ کے تاریخی موقف میں کھلے انحراف کا پتا چلتا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق بیروت میں علما کے ایک وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ عرب لیگ کے فورم پر قضیہ فلسطین اور فلسطینی کاز کی حمایت م...

امارات کی طرح عرب لیگ نے بھی فلسطینی قوم سے غداری کی، اسماعیل ھنیہ