وجود

... loading ...

وجود

قائد کی حکمت عملی سمجھتے ہیں.. عمران خان کا ہرفیصلہ تمام کارکنوں کوقبول

جمعرات 03 نومبر 2016 قائد کی حکمت عملی سمجھتے ہیں.. عمران خان کا ہرفیصلہ تمام کارکنوں کوقبول

12498558_940833856000021_1337379099_nانٹرویو :۔ انوار حسین حقی
“فلک ناز چترالی کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کی مالاکنڈ ڈویژن کی خوبصورت اور دل نشیں وادی چترال سے ہے ۔ وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں سرگرم ہیں ۔ قبائلی طرز معاشرت کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے فلک ناز چترالی نے سیاست کے شعبے میں اپنے لیے احترام حاصل کیا ہے۔ دو نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں ’’ بنی گالہ ‘‘ آمد کے موقع پر ’’ جرأت ‘‘ کے لیے ان سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔”
جرأت : عمران خان کی جانب سے دو نومبر کے احتجاج کی کال پر جس انداز میں آپ کے صوبے کے لوگوں نے لبیک کہا اُسے دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتاہے کہ عمران خان کی جانب سے دھرنا ملتوی کرنے کے اعلان سے آپ کے ہاں مایوسی پائی جاتی ہے ؟
فلک ناز : ہماری پارٹی کے ورکرز خصوصاً نوجوانوں کو عمران خان کا جو سب سے پہلا سبق از بر ہوا ہے وہ یہی ہے کہ زندگی میں کبھی مایوس نہیں ہونا اور ہمت نہیں ہارنی ۔ عمران خان کے فیصلے سے پی ٹی آئی کے کارکن کبھی مایوس نہیں ہوئے ، ہم اپنے قائد کی حکمت عملی کو سمجھتے ہیں ۔ قائد کاہر فیصلہ مجھ سمیت ہر کارکن کو قبول ہوتا ہے ۔ وفاق اور پنجاب حکومت کی ہٹ دھرمی سے وفاق کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ،ان لوگوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ 31 اکتوبر کو جو بہیمانہ سلوک کیا ،اُس پر ہمارے قائد عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ردِ عمل ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے ۔ ان دونوں قائدین نے کسی ایسے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیاجس سے وفاق یا پاکستان کی سالمیت کو کسی قسم کا دھچکا پہنچے ۔ میں یقین سے کہ سکتی ہوں کہ موجودہ حالات میں عمران خان کی وجہ سے وفاق اور ریاست خطرات سے محفوظ ہے ۔ عمران خان نے ملک کو شورش سے محفوظ رکھا ہوا ہے ۔
جرأت : عمران خان نے ملک کو شورش سے کیسے محفوظ رکھا ہوا ہے جبکہ ان کی جانب سے آئے روز احتجاج کی کال دی جاتی ہے ۔ جلسے کیے جاتے ہیں ،جُلوس نکالے جاتے ہیں ؟
فلک ناز : ملک میں ہماری حکومتوں کی65 سالہ نااہلی اور کوتاہی کی وجہ سے حالات بہت زیادہ مایوس کن ہیں ۔ امن و امان کی صورتحال آپ کے سامنے ہیں ۔ معاشی حوالوں سے ہم کنگال ہو چُکے ہیں ۔ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور کرپشن نے ہمارے قومی ادارے تباہ کر دیے ہیں ۔ پاکستان اسٹیل ملز ، پاکستان ریلوے ، پی آئی اے اور دیگر اہم قومی اداروں کی حالت آ پ کے سامنے ہیں ۔ تعلیمی شعبہ حتیٰ کہ صحت کا شعبہ بھی بگاڑ کا شکار ہے ۔ ملک میں مایوسی دن بدن بڑھ رہی ہے ،غربت اپنی انتہاء کو پہنچ چُکی ہے، لوگوں کا ایک وقت کا کھا نا بھی مشکل ہو رہا ہے ۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے ،میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان کی قیادت اور شخصیت نے ملک کو خونی انقلاب اور تباہ کن ایجی ٹیشن سے محفوظ رکھا ہوا ہے ۔ عوام خصوصاً نوجوان نسل نے عمران خان سے اُمیدیں وابستہ کر لیں ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جو ملک میں تبدیلی لا سکتا ہے ۔اسی اُمید نے نوجوان نسل کو فرسٹریشن سے بچا کر ایک سماجی دھارے میں رکھا ہوا ہے ۔
جرأت:31 اکتوبر کو صوابی انٹر چینج پر صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو اسلام آباد میں داخلے سے جس انداز میں روکا گیا اُس کا خیبر پختونخوا میں کیا ردِ عمل ہے ؟ اور خصوصاً پاکستان تحریک انصاف اس کو کس نظر سے دیکھتی ہے ؟
فلک ناز: صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگ محبِ وطن اور وفاق پاکستان کی سلامتی اور مضبوطی کے داعی ہیں ۔ لیکن وفاق اور پنجاب کے موجودہ حکمرانوں نے اپنی گرتی ہوئی حکومت کو بچانے کے لیے وفاق کی ایک اہم اکائی خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ جو سلوک کیا، اُس نے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔ پرویز خٹک اور ان کے قافلے کے صبر اور برداشت نے وفاقی حکومت کے ان تمام دعووں اور الزامات کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے جن کو بنیاد بنا کر یا جن کا وا ویلا کر کے انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے قافلے کو بربریت کا نشانہ بنایا ۔ لیکن میں سلام پیش کرتی ہوں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو ان کی جانب سے کسی ایسے ردِ عمل کا اظہار سامنے نہیں آیا جس سے صوبائی تعصب کے اُبھرنے کی بو آتی ہو ۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے بھی پنجاب سے محبت کی بات ہوئی ہے، عمران خان نے بھی قومی یکجہتی کے فروغ اور وفاق کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ اس سب کچھ کے باوجود پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے اقدامات کے منفی اثرات سامنے آئیں گے ۔ ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف وفاق کی مضبوطی کی داعی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ مسلم لیگ ن کی قیادت ماضی میں ’’ جاگ پنجابی جاگ ‘‘ کے نعرے لگا چُکی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی سندھ کارڈ استعمال کرتی چلی آئی ہے ۔ ہماری بہت سی جماعتیں علاقائیت کا پرچار کرتی ہیں ، کچھ لسانیت کا سہارہ لیتی ہیں ۔ دینی سیاسی جماعتوں کا بھی اپنا ایک انداز ہے ۔ میری نظر میں پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی جماعت ہے جو ہر قسم کے تحفظات سے پاک ہے ، جو ہر قسم کی عصبیتوں سے بالا تر ہے ۔
جرأت : خیبر پختونخوا میں پاک چین راہداری منصوبے پر آپ کی جماعت کو کیا تحفظات ہیں ؟
* فلک ناز چترالی :۔ میاں نواز شریف کی حکومت نے سی پیک پر چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں اس حوالے سے بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے ۔کے پی کے کی منتخب حکومت کو بائی پاس کر کے وفاق نے اپنے سیاسی حلیف مولانا فضل الرحمن کی مرضی اور منشاء کے مطابق روٹ بنایا ہے ۔ اس نام نہاد روٹ کو مغربی روٹ کا نام دیا گیا ۔ اس نئے روٹ کو خیبر پختونخوا میں تمام جماعتوں نے مسترد کیا ہے۔ افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ وفاقی حکومت سی پیک پر تحفظات کے اظہار کو اس عظیم منصوبے کی مخالفت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ہماری پارٹی کے چیئر مین اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ہر سطح پر آواز اُٹھائی ۔ عمران خان نے عوامی جمہوریہ چین کے سفیر سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت اس عظیم منصوبے کی حامی ہے وہ ان تمام منصوبوں کی بھر پور حمایت کر تی ہے جو پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے تعاون سے جاری ہیں یا زیر تکمیل میں ہیں ۔ ہمارے صوبے میں موجودہ مغربی روٹ کی وجہ سے سی پیک کو پاک چین کاریڈور کی بجائے پنجاب چین کاریڈور کہا جانے لگا ہے ۔ وفاق کی شریف حکومت کی وجہ سے صوبوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں ۔ ملک میں ایک خاندان کی بادشاہت اور ان کے مصاحبوں کی حکومت کے مضمرات سے وفاق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔
جرأت : عمران خان کے اندازِ سیاست میں ایسی کون سی خوبی ہے جو آپ کی نظر میں اُسے دوسرے سیاستدانوں سے منفرد کر تی ہے ۔
فلک ناز :عمران خان نے پاکستان کی سیاست میں روایت سے بغاوت کی ہے ۔ ہماری ماضی کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو سیاست میں لگی لپٹی کہنے اور عیاری و مکاری کا راج تھا ۔ عمران خان ایک کھرا اور سچا انسان ہے، اُس نے لگی لپٹی کے بغیر دل کی بات زبان پر لانے کی رسم ڈالی ہے ۔ ہماری قوم عمران خان کی سیاست کی عادی نہیں ہے یہی وجہ ہے ہم میں سے بہت سوں کو عمران خان کی باتیں اور ان کا اندازِ سیاست عجیب لگتا ہے ۔ وہ خفیہ سیاسی ڈیل اور سازشوں کا عادی نہیں ہے ۔ اس کی سیاست ذاتی اور کاروباری مفاد سے پاک ہے ۔ یہی باتیں لوگوں کو اچھی لگتی ہیں ۔ ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے مولانا مفتی محمود ؒ کی حکومت بھی دیکھی ۔ اے این پی کا دور بھی دیکھا اور مجلسِ عمل کی حکومت بھی ہمارے سامنے رہی ۔ لیکن کے پی کے عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت کے دل عمران خان کے لیے دھڑکتے ہیں ۔ ہمارے ہاں سماجی روایات بہت مضبوط ہیں، خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے لیکن آپ نے دیکھا کہ خیبر پختونخوا سے خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد تحریک انصاف کے لیے سر گرمِ عمل ہے ۔ کے پی کے کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں اپنے صوبے اور مُلک کے روشن مستقبل کی خاطر عمران خان کے مشن نئے پاکستان کے لیے میدانِ عمل میں ہیں ۔ یہ عمران خان کے اندر کی سچائی ہے جس نے ایک عالم کو اُس کا دیوانہ بنایا ہوا ہے ۔
جرأت :خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی میں شدید قسم کے اختلافات کی اطلاعات ہیں ۔ اس حوالے سے حقائق کیا ہیں ؟
فلک ناز : ہماری پارٹی ایک بہت بڑی پارٹی ہے ۔ عمران خان کی بیس سالہ بے مثال جد وجہد نے تحریک انصاف کو پاکستان کی قومی سیاست کا ناگزیر حصہ بنا دیا ہے ۔ چاروں صوبوں میں پارٹی کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ پی ٹی آئی سے تمام جماعتیں خوفزدہ ہیں یہی وجہ ہے کہ آپس کے اختلافات کے باوجود یہ تما م جماعتیں عمران خان کی مخالفت میں متحد ہیں ۔ یہ انہی کے منظم پروپیگنڈے کا حصہ کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی میں سنجیدہ نوعیت کے اختلافات ہیں ۔ دیکھیں اختلاف رائے تو جمہوریت کی روح اور حُسن ہے ،اس سے فکر اور سوچ کے نئے نئے زاویے سامنے آتے ہیں ۔ کے پی کے کی سطح پر بھی اور مرکز میں بھی ہماری پارٹی متحد ہے ۔
جرأت :صوبہ کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف اپنے نعرے ’’ نئے پاکستان ‘‘ کی تکمیل میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے ؟؟
فلک ناز :صوبہ خیبر پختونخوا کے جرأت مند عوام نے روایتی سیاست سے بغاوت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو کامیاب کروایا ہے ۔ اس سے پہلے کوئی قومیت کے نام پر اور کوئی مذہب کے نام پر صوبے کے عوام کو بے وقوف بنا رہا تھا ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے میں بنیادی نوعیت کی اہم تبدیلیاں کی ہیں ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں دور رس نتائج کی حامل تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ آپ صوبے کے کسی ہسپتال میں بھی چلے جائیں ،آپ کو واضح تبدیلی محسوس ہو گی ۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بنیادی نوعیت کے اقدامات سامنے آئے ہیں ۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو فعال ، مؤثر بنایا گیا ہے ۔ عوام کو پٹواریوں اور تحصیلداروں کے رحم وکرم سے آزاد کیا گیا ہے ۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں عمران خان کی ہدایت کے مطابق اصلاحات کی گئی ہیں ۔ پولیس کو سیاست سے پاک کرکے قانون اور عوام کے سامنے جواب دہ بنایا گیا ہے ۔ ہم آپ کو میڈیا کے دیگر نمائندوں اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد اور اداروں کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ لوگ آئیں اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیں ۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر