وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو

جمعرات 27 اکتوبر 2016 کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو

پاکستان بار بار یہی بات دہرارہا ہے لیکن بھارت فوجی قبضے اورتسلط پراَڑاہوا ہے ،نتیجہ آنے تک مقد س اورجائزجدوجہد جاری رکھیں گے
بھارتی مظالم کے آگے سینہ سپر87سالہ ناتواں بزرگ لیکن جواں عزائم اورمضبوط اعصاب کے مالک چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس

Srinagar: Police arrest Separatist leader and Chairman of Hurriyat Conference Syed Ali Shah Geelani after he defy his house arrest and took out a protest march towards Army Headquaters in Badami Bagh to protest against the killing of civilians in Srinagar on Saturday. PTI Photo (PTI8_27_2016_000146B)

انٹرویوپینل:شیخ امین ۔مقصود منتظر
وجود:1990 سے لیکر آج تک ہزاروں نامور عسکری کمانڈر اور سیاسی رہنماشہید ہوئے ۔ آپ کی نظر میں وہ کیا خاص چیز تھی جس نے حزب المجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا یا اور 8جولائی کو کشمیرکی تاریخ میں ناقابل فراموش دن کے طور پر رقم کرایا ۔
سیدعلی گیلانی:شہید بُرہان وانی کی شہادت کے بعد پوری وادی ہی نہیں بلکہ چناب ویلی اور پیر پنچال کے مسلمان بھی حرکت میں آگئے اور انہوں نے بھارت کے فوجی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کا عہد کیا۔ برہان مظفرکے خلوص اور یکسوئی کے نتیجے میں یہ انقلابی لہر اُبھر آئی۔
وجود : موجودہ عوامی تحریک کے د وران عوام نے آپ کے احتجاجی پروگراموں پر من و عن عمل کیا اور تاحال کررہے ہیں جو یقیناًخوش آئند بات ہے۔لیکن بظا ہر دیکھنے میں آرہا ہے کہ بھارتی قیادت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے ۔ کیا اس ہٹ دھرمی کا توڑ کرنے کیلیے آپ کے پاس کوئی متبادل حکمت عملی ہے؟
سید علی گیلانی:موجودہ تحریک اور جدوجہد میں ہمارے پروگرام کا عوام نے بھرپور ساتھ دیا۔ عظیم اور بے مثال قربانیاں بھی دی گئیں جن کا ہمیں بھرپور احساس ہے اور ہم دل کی عمیق گہرائیوں کے ساتھ مظلوم عوام کے شکرگزار اور احسان مند ہیں۔ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ فوجی تسلط کے خلاف ہماری جدوجہد میں استقامت کا ہر سطح اور ہر مرحلے پر مظاہرہ کیا جائے۔ بھارت کی حکومت اور سیاسی قیادت نشۂ قوت کا شکار ہے۔ وہ مظلوم قوم کی بے مثال قربانیوں کو ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں دے رہی ہے۔ عالمی سطح پر بھی بھارت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جارہا ہے۔ مادہ پرستی کا دور ہے، ہر ملک اور ہر قوم مادی مفادات کے درپے ہیں۔ انسانیت اور اخلاقی اقدار کی کوئی پاسداری نہیں ہے۔ ایسے حالات اور پسِ منظر میں اللہ ربّ کائنات کی مدد اورنصرت کے سہارے ہی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزمِ صمیم ہی واحد ذریعہ اور راستہ ہے۔
وجود: کیا آپ پاکستان کی موجودہ کشمیر پالیسی سے مطمئن ہیں یا اس میں نظر ثانی کی ضرورت سمجھتے ہیں؟
سید علی گیلانی:پاکستان کی موجودہ کشمیر پالیسی حوصلہ افزا ہے، مگر اس میں تسلسل، تواتر اور استقلال کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو سب سے زیادہ سفارتی سطح پر سرگرم ہوجانے کی ضرورت ہے۔ بھارت نے سفارتی سطح پر قریب قریب پوری دنیا کو اپنے فریب اور مکاری کا شکار بنایا ہے۔ اس کا اندازہ اس دلدوز اور شرم ناک اقدام سے لگایا جاسکتا ہے کہ عرب دنیا میں بھارت کو خوش کرنے کے لیے دبئی میں مندر تعمیر کیا جارہا ہے۔ 2017 ؁ء میں اُس کی تعمیر مکمل ہوجائے گی۔ توحید کی داعی سرزمین میں اب شرک بھی پھیل جائے گا۔ فاعتبرویا اولیٰ الابصار
علامہ اقبالؒ نے پہلے ہی ان دل خراش حالات کی نشاندہی فرمائی ہے
چُنیں دور آسمان کم دیدہ باشد
کہ جبرئیل امینؑ را دل خراشد
چہ خوش دیرے بناکردند آنجا
پرستد مومن و کافر تراشد!
(چشم فلک نے آج کا دور بہت کم دیکھا ہوگا۔ صورتحال دیکھ کر جبرئیل امینؑ کا دل بھی زخمی ہواجارہا ہے۔ آج کے حالات میں ایک پُرکشش بُت خانہ تعمیر کیا جارہا ہے۔ جس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کافر بُت تراش رہا ہے اور ’’مومن‘‘ اُس کی پرستش کررہا ہے۔)
پاکستان کا استحکام، اتحاد، یکسوئی اور امن وسکون اولین ضرورت اور تقاضائے وقت ہے۔ پاکستان کی 18کروڑ آبادی میں ہر فرد کو بغیر کسی امتیاز رنگ وبو، مذہب، پیشہ، ذات پات،زبان اور روایات سے بالاتر ہوکر مال، جان، عزت، آبرو، مذہب، عقیدہ اور عبادت گاہوں کا تحفظ مل جانا چاہیے یہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اولین ضرورت ہے۔ پاکستان کی حکومت، سیاسی قیادت اور عسکری قوت کو سب سے زیادہ اپنے ملک اور اپنی آبادی کے لیے خوشحالی اور امن وسکون فراہم کرنے کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے۔ پھرکشمیر کے مظلوم، محکوم اور زیرِ عتاب دینی بھائیوں کے لیے ہرممکن مدد اور تعاون پیش کیے جانے کی از حد ضرورت ہے۔
وجود: تین ماہ سے کشمیری خون کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ عوام اپنے شہداء کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفناتے ہیں جواب میں پاکستان حکومت نے کیاکوئی ایسا اقدام کیا جس کو لیکر یہ کہا جائے کہ واقعی پاکستان حکومت مخلص ہے ؟
سید علی گیلانی: پاکستان کی حکومت اس کی پوری قوم کس حد تک کشمیر کے بارے میں مخلص ہے، واللہ اعلم بالصواب۔ دلوں کا حال صرف اور صرف اللہ رب کائنات ہی جانتا ہے۔ ہماری تمنا، اُمیدیں اور آرزوئیں یہی ہیں کہ پوراپاکستان مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور پُرامن حل کے لیے بھرپور اخلاص کا مظاہرہ کرے۔
وجود:اس وقت حریت کانفرنس کے منقسم دھڑے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں۔ کیا یہ اتحاد مستقبل میں بھی برقرار رہ سکتا ہے؟
سید علی گیلانی :حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے درمیان اچھے اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ حتی الامکان یہ تعلقات برقرار رہیں گے۔ ان شاء اللہ
وجود:2010ء کے عوامی احتجاج اور آج کیااحتجاجوں اور مظا ہروں میں کوئی واضح فرق دیکھتے ہیں؟
سید علی گیلانی:2010اور آج کے احتجاج اور مظاہروں کے درمیان واضح فرق یہ رہا ہے کہ آج دُور دراز آبادیوں کے عوام اور خاص طور جوانانِ ملّت نے بھی دلی اور ذہنی یکسوئی کے ساتھ پہلے سے بڑھ کرحصہ لیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اُن کی محنت اور قربانیاں قبول فرمائے اور بھارت کے جبری قبضہ سے آزادی نصیب ہوجائے۔ آمین
وجود:مسئلہ کشمیر کے حل کا آپ کے پاس کیا روڈ میپ ہے؟ اور کیا وہ پاکستان اور بھارت کو قابل قبول بھی ہے۔
سید علی گیلانی :مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمارے پاس ایک ہی روڈ میپ اور حل ہے کہ اقوامِ متحدہ کی درجنوں قراردادوں پر عمل کیا جائے۔ بھارت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی وعدے کیے ہیں۔ جموں وکشمیر کے عوام کی اکثریت کا صرف اور صرف یہی مطالبہ ہے کہ ان وعدوں کو پورا کرکے ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد آبادی کو حقِ خودارادیت کے استعمال کا موقع دیا جائے۔ یہی پائیدار اور پُرامن حل ہے اور دونوں ممالک کے لیے یہ قابل قبول ہونا چاہیے۔ پاکستان بار بار اس حل کو دہرارہا ہے، لیکن بھارت فوجی قبضہ اور تسلط پر ہی انحصار کررہا ہے یہی سب سے بڑی رُکاوٹ اور اڑچن ہے۔
وجود:اگر موجودہ عوامی تحریک خدانخواستہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکی تو مستقبل کی صورت حال کیا ہوگی؟
سید علی گیلانی:اگر خدانخواستہ آج کی عظیم اور بے مثال قربانیوں کے بعد بھی، بھارت حقیقت پسندانہ رویہ اختیار نہیں کرے تو ہم آئندہ بھی ہرحال میں اپنی جائز اور مقدس جدوجہد کو جاری وساری رکھیں گے۔ ان شاء اللہ
وجود:بعض نا قدین کا خیال ہے کہ احتجاج کی طوالت سے نہ صرف کشمیری قیادت کے حوالے سے مایوسی پھیلے گی بلکہ کشمیری عوام پاکستان سے بھی مکمل طور پر بد ظن ہو جائینگے۔آپ کی رائے؟
سید علی گیلانی :نہ کشمیری قیادت اور نہ ہی مظلوم کشمیریوں کو بددل اور مایوس ہونا چاہیے۔ مایوسی کفر ہے اور اہل ایمان کبھی مایوس اور بددل نہیں ہوتے ۔ اُنہیں ہرحال میں اللہ وحدہٗ لاشریک کی قدرت، طاقت، مدد اور نصرت پر یقین کامل رکھ کر جائز اور مقدس جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزمِ صمیم کرنا چاہیے۔ لا تقنطو۱ من رحمۃ اللہ (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو)۔ پاکستان سے بھی کبھی بددل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ پاکستان کے استحکام اور روشن مستقبل پر یقین رکھتے ہوئے ان کی طرف سے ہر ممکن مدد اورتعاون کی اُمید ہی نہیں بلکہ یقینِ کامل رکھنا چاہیے۔
وجود:یہ عیاں حقیقت ہے کہ آپ ہر امتحان میں پورا اترے اور ان شا ء اللہ اتریں گے ۔کیا آپ پُر امید ہیں کہ قومِ کشمیر بھی موجودہ امتحان میں پورا اترے گی؟
سید علی گیلانی:اللہ کی مدد اور نصرت کے سہارے میں نے ہر محاذ اور ہر مرحلے پر کامیابی اور کامرانی حاصل کی ہے۔
پورے قد سے کھڑا ہوں میں، یہ ہے تیرا کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا!
ہماری قوم اپنی کمزوریوں کو پیشِ نظر رکھ کر اپنا احتساب کرے۔ شخص پرستی اور مادہ پرستی سے ہر حال میں احتراز کیا جائے، قرآن اور اسوۂ رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی تعمیر کی جائے، اللہ رب کائنات کی طرف سے اُن راہوں سے مدد آئے گی جس کا ہمیں وہم وگمان بھی نہیں ہوگا۔
نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم وعرفان ہے
اُمید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں !
وجود:اوڑی حملے اور نا م نہاد بھارتی سرجیکل حملے کے بعد، عالمی میڈیا اور عالمی برادری کی ساری توجہ پاک بھارت تعلقات اور دھشت گردی کی طرف مبذول ہوئی ۔ان حالات میں کشمیر کے اندر ہونے والی جدوجہد کا مستقبل آپ کیسا دیکھتے ہیں ۔
سید علی گیلانی:گزشتہ 70سال سے بھارت مکرو فریب اور دھوکا دہی سے ہی کام لیتا رہا ہے، بلکہ اس حقیقت کو حرزِجان بنانا چاہیے کہ بھارت کی سیاست کی بنیاد ہی جھوٹ اور فریب پر ہے۔ قراردادوں پر دستخط کرنے کے بعد بھی وہ انکار کررہا ہے۔ اس لیے وہ مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے نت نئے حربے استعمال کررہا ہے، مگر مسئلہ کشمیر کی تاریخ ناقابل تردید ہے۔ شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ اس لیے ہر موقع پر ان کے حربے ناکام ہوجائیں گے، صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں کشمیر کے عوام کی اکثریت یکسو ہوجائے اور بھارت کی کلہاڑی کے دستوں سے، جو ہماری آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ اور اڑچن ہے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔یعنی اُن کی شاطرانہ چالوں سے بار بار دھوکا اور فریب کا شکار نہ ہوا جائے تو مستقبل ہمارا روشن ہے ان شاء اللہ۔
وجود: مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین ، امریکا اور دیگر ممالک کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟
سید علی گیلانی:مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کا کردار مثبت اور حقیقت پسندانہ ہے۔ چین بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت پر زور دے رہا ہے۔ اُن کو غیر مبہم الفاظ میں بھارت کو کہنا چاہیے کہ جن قراردادوں پر تم نے دستخط کیے ہیں جس کی پوری عالمی برادری گواہ ہے، خاص طورپر اقوامِ متحدہ کی تمام اکائیاں اور رکن ممالک۔ اُن کو عملایا جائے اور جموں کشمیر کی ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد آبادی کو اپنا پیدائشی اور بنیادی حق استعمال کا موقع دیا جائے۔ امریکا کے بھارت کے ساتھ گہرے روابط ہیں وہ بھی صرف بات چیت کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اب تک 150سے زائد بار بات چیت ہوئی ہے، مگر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے کہ بھارت بات چیت کے آغاز میں ہی کہتا ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس صورتحال میں بات چیت ہمیشہ ناکام رہی ہے۔ اب بھی اگر بات چیت ہوئی تو ناکامی کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کے ساتھ وابستہ ممالک اور خود اقوامِ متحدہ کو قراردادوں کے عملانے پر زور دینا چاہیے، یہی ایک واحد حل ہے جو پُرامن اور پائیدار حل ہوگا ۔
وجود: اوڑی حملہ اور کنٹرول لائن پر کشیدگی کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ مسئلہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کی ساز ش تھی۔ کیا آپ کا خیال بھی یہی۔۔۔۔ ؟
سید علی گیلانی :میں نے اپنی گزارشات میں کہا ہے کہ بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جب بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں مظلوم اور محکوم لوگ احتجاج کرتے ہیں تو بھارت توجہ ہٹانے کے لیے بے شمار حربے استعمال کرتا ہے۔ اوڑی واقعہ بھی اسی نوعیت کا حربہ ہوسکتا ہے، کچھ بعید نہیں ہے، مگر یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
وجود:پا کستانی عوام اور قیادت کے نام آپ کا پیغام !!!
سید علی گیلانی :پاکستان کے عوام اور پاکستان کی قیادت کے لیے ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ پاکستان اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا عطیہ اور انعام ہے۔ اس کی ہرحال میں حفاظت کی جائے۔ اس کی جغرافیائی سرحدوں اور خاص طور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پاکستان کے ہر فرد اور ہر خاتون کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دونوں سرحدوں کی حفاظت کرے۔ پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں یہ نعرہ لگایا جارہا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ‘‘۔ مگر میں نے پاکستان کے ایک لیڈر کی زبان سے خود سُنا ہے کہ یہ تو بچے ایسا نعرہ لگا رہے تھے، اسی لیے گزشتہ 70سال میں پاکستان میں وہ نظام قائم نہیں ہوا، جو پاکستان کے منصہ شہود پر آنے کا مقصد اور مدعا تھا۔ بلا خوفِ تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عدل وانصاف، انسانی اور اخلاقی اقدار کی پاسداری، امن وسکون کا ماحول اور بغیر کسی امتیاز کے انسانی جانوں کا تحفظ، صرف اور صرف اسلامی نظام کے قائم ہونے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے، کاش! پاکستان کے عوام، سیاسی قیادت، فوج اور حکومت اس حقیقت کا ادراک کرتے کہ دنیا میں رائج سارے نظام امن قائم کرنے میں بُری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ ہر جگہ اور ہر سمت قتل وغارت گری اور خون ریزی ہورہی ہے۔ انسانوں کے حقوق بُری طرح پامال ہورہے ہیں۔ طاقت ور ممالک کمزوروں کو دبوچ رہے ہیں۔ ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ کا بازار گرم ہے۔ خود اُمّتِ مسلمہ انتشارِ فکروعمل کا شکار ہے۔ پاکستان کو ایک ماڈل کی حیثیت سے پوری دنیا کے لیے نمونہ بن جانا چاہیے تھا، مگر افسوس صد افسوس!
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا


متعلقہ خبریں


لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ وجود - جمعرات 25 جون 2020

امریکا میں متعدی امراض سے بچا کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں وائرس کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔انھوں نے یہ بات کانگریس کے سامنے کہی۔ خیال رہے کہ امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ 23 لاکھ کے قریب متاثر ہو چکے ہیں۔ریڈفیلڈ نے کہا کہ ہم اس وائرس کا مقابلہ ...

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

افریقا کے صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول ہزاروں میل دور جزائر غرب الہند کے ملکوں پر چھانے لگی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحرائے اعظم یا صحرائے صہارا کی یہ دھول تیزی سے وسطی امریکا کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ حالیہ دنوں میں افریقہ میں آنے والے مٹی کے طوفان ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی مقدار میں دھول فضا میں پھیل گئی ہے ۔دھول کے باعث جزائر غرب الہند میں ہوا کا معیار انتہائی نیچے گر چکا ہے ۔عام طور پر نیلگوں نظر آنے والا کیریبین ملکوں کا آسمان اب سرمئی نظر ...

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا وجود - جمعرات 25 جون 2020

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے بعد چینی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت سبھاش ڈیسائی کا کہنا تھا کہ وہ تین چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر آگے بڑھنے کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں۔چین اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے درمیان ابتدائی معاہدوں کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کا مقصد کورونا سے متاثرہ بھارتی معیشت کی بحالی می...

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

برطانیا میں ایک خاتون کسی دماغی عارضے کی شکار ہونے کے بعد دو ماہ تک کچھ بھی بولنے سے قاصر رہیں۔ لیکن اچانک ان کی گویائی لوٹ آئی ہے لیکن اب وہ چار مختلف لہجوں میں بات کرتی ہیں۔31 سالہ ایملی ایگن کی اس کیفیت سے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی عارضی فالج یا دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسا ہوا لیکن اس کے ثبوت نہیں مل سکے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ان کا لہچہ اور بولنے کا انداز یکسر تبدیل ہونے لگا۔دو ماہ تک ایملی کمپیوٹر ایپ اور دیگر مشینی طریقوں سے اپنی بات کرتی رہی تھی۔ ت...

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی