وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

زبان پر پہرے بندی کی منظم سازشیں ناکام ہوگئیں، "بول" بولنے لگا!

بدھ 19 اکتوبر 2016 زبان پر پہرے بندی کی منظم سازشیں ناکام ہوگئیں،

bolبول ٹی وی بولنے لگا۔ گزشتہ سولہ ماہ سے بول ٹی وی نیٹ ورک کے خلاف ہونے والی منظم سازشوں کے باوجود ادارے نے انتہائی نامساعد حالات میں اپنی نشریات کا آغاز کردیا ہے جس نے  ذرائع ابلاغ کے   تمام حلقوں  میں ایک خوشگوار فضاء پیدا کردی ہے اور عامل صحافیوں میں خاصا گرمجوشی کا ماحول پیدا کیا ہے۔ بول ٹی وی کی انتظامیہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ اعلان کیا  ہے کہ چینل نے منگل کی شام چھ بجے سے اپنی نشریات کا آغاز کردیا ہے۔ یہ بول ٹی وی کی طرف سے ذرائع ابلاغ کے مختلف حلقوں میں سولہ ماہ  کی مسلسل قانونی رکاوٹوں کے بعد انتہائی خاموشی  سے اپنی پیش رفت کا پر عزم اظہار تھا۔

واضح رہے کہ عدالت عالیہ سندھ نے 26 ستمبر کو بول ٹی وی کا لائسنس بحال کرتے ہوئے پیمرا کے فیصلے کو غیر قانونی قرار  دیا تھا۔ باخبر حلقے اس امر سے پوری طرح واقف ہیں کہ پیمرا کا یہ فیصلہ پیشہ ورانہ  تقاضوں کے بجائے دراصل پاکستان کے چند بااثر میڈیا ٹائیکون کے اثرو دباؤ کے باعث تھا۔ جو بعدازاں سیاسی حکومت  کی حمایت میں انتہائی گرمجوشی کا مظاہر ہ کرتے رہے۔ بول ٹی وی کو 2015 میں لانچ کرنے کی تیاریاں مکمل تھیں ۔ مگر ایک منظم سازش کے تحت ایگزیکٹ کے جعلی ڈگری اسکینڈل کو امریکی جریدے نیویارک ٹائمز میں اُچھا لا گیا۔ حیرت انگیز طور پر کسی بھی مدعی کے بغیر ایگزیکٹ کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔ اور ایف آئی اے اس مقدمے میں کسی بھی مرحلے پر کوئی ثبوت دینے سے عاجز رہی۔ مگر پیمرا نے ایک دوسرے ادارے ایگزیکٹ کے جعلی اسکینڈل کی آڑ میں اسی کے دوسرے ادارے بول ٹی وی کا لائسنس منسوخ کردیا تھا۔ حکومت کا کوئی بھی وزیر کبھی اس کا کوئی جواب نہیں دے سکا کہ حکومت نے ایسا کیوں اور کس گراونڈ پر کیا۔ افسوس ناک طور پر اس ادارے سے وابستہ بڑے بڑے نام ادارے کو نامساعد حالات میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ جن میں کامران خان ، اظہر عباس اور افتحار احمد کے علاوہ  مختلف اینکرز اور دیگر اہم شعبوں سے وابستہ شخصیات بھی شامل تھیں۔ کسی کے پاس کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود اس انوکھے مقدمے میں گرفتاریاں پہلے کر لی گئی اور الزامات بعد میں عائد کیے گئے ۔ دنیا بھر کی خبریں دینے والے بڑے بڑے اینکرز تب یہ جانچنے کی صلاحیت سے محروم رہے کہ یہ اسکینڈل درحقیقت اس لیے گھڑا گیا ہے کہ بول ٹی وی نیٹ ورک ذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں کے لیے حقیقی خطرہ اور عامل صحافیوں کے لیے امکانات کی ایک نئی دنیا لے کر آرہا ہے۔

ایگزیکٹ کی طرف سے اس خبر کو مکمل مسترد کیا گیا تھا ،مگر”اصول پسند” وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایات پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کمپنی کے کاروبار کے حوالے سے تحقیقات شروع کی تھیں۔یہ سب کچھ صحافتی وسیاسی اشرافیہ کے ایک ناپاک اکٹھ کے باعث ہوا تھا۔ ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے دفاتر میں چھاپے مار کر اس کا ریکارڈ ہی قبضے میں نہیں کیا بلکہ وہ اس ادارے میں دشمن کی سرزمین کی طرح داخل ہوئے تھے اور اس کی ہر چیز کو تاراج کردیا تھا۔

تقریباً سولہ ماہ کی قید وبندش گزارنے کے بعد ادارے کے سربراہ شعیب شیخ گزشتہ ماہ ضمانت پر رہا ہوئے تھے ۔ اور اُنہوں نے رہائی کے بعد چند ہفتوں کی مختصر مدت میں نہ صرف ایگزیکٹ کو دوبارہ بحال کردیا۔ اور اپنے ملازمین کو پندرہ ماہ کی تمام تنخواہیں ادا کرکے پوری مارکیٹ کو حیران کردیا  بلکہ انتہائی مختصر مدت میں بغیر کسی بڑے نام کا سہارا لیے بول ٹی وی کی نشریات کا بھی آغاز کردیا ۔


متعلقہ خبریں


ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ، فائرنگ سے کئی مظاہرین زخمی وجود - منگل 14 جنوری 2020

ایران میں حکومت کی طرف سے یوکرین کا مسافر جہاز مارگرائے جانے کی غلطی تسلیم کرنے بعد ملک میں حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جن میں سیکڑوں افراد نے ایرانی رجیم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی طرف سے پرتشدد حربے استعمال کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ سماجی کارکنوں کی طرف سے سوشل میڈیا مظاہروں حکومت مخالف ریلیوں کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں جن میں مظاہرین کو حکومت کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ ویڈیوز میں پولیس اور قا...

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ، فائرنگ سے کئی مظاہرین زخمی

ہیری اورمیگھان کو کینیڈا اوربرطانیہ میں رہنے کی عبوری اجازت مل گئی وجود - منگل 14 جنوری 2020

ملکہ نے کہا ہے کہ شاہی خاندان نے سندرنگھم پر پرنس ہیری اور میگھان مرکل کے مستقبل کے حوالے سے مثبت بحث میں حصہ لیا مگر یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ جوڑے کو شاہی خاندان کے کل وقتی رکن کی حیثیت دینے کو ترجیح دیں گی۔ تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ پرنس ہیری، پرنس ولیم اور پرنس چارلس ہرمیجسٹی سے دو گھنٹے جاری رہنے والی بحرانی ملاقا ت کے بعد علیحدہ علیحدہ کاروں میں واپس جا رہے ہیں۔ ڈیوک آف سسیکس نے شاہی خاندان کے فردکی حیثیت ختم کرنے کے بعد ہر میجسٹی، اپنے بھائی اور اپنے والد کا پہلی بار ...

ہیری اورمیگھان کو کینیڈا اوربرطانیہ میں رہنے کی عبوری اجازت مل گئی

امریکی صدر کی ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت وجود - پیر 13 جنوری 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فارسی زبان میں ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں ایرانی حکومتکو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ایرانی عوام اور حکومت مخالف مظاہروںکی حمایت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی نظریں اس وقت ایران پرلگی ہوئی ہیں۔ ہم ایران کو مزید قتل عام کی اجازت نہیں دیں گے ۔امریکی صدر کی طرف سے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی پرمبنی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ایرانی شہروں میں اس وقت لوگ سڑکوں پرنکل آگئے جب ایرانی پاسداران انقلاب نے اعتراف کیا کہ 8جنو...

امریکی صدر کی ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت

پاسداران انقلاب ایران کے داعشی ہیں ، تہران میں عوام کی نعرے بازی وجود - پیر 13 جنوری 2020

ایران کے دارالحکومت تہران میں اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی جب تہران نے سرکاری سطح پر اعتراف کیا کہ حال ہی میں یوکرین کا ایک مسافر جہاز میزائل حملے کے نتیجے میں حادثے کا شکار ہوا تھا۔ مظاہرین سخت مشتعل اورغم وغصے میں تھے ۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ان کے خلاف' اے ڈکٹیٹر ۔۔۔ تم ایران کے داعشی ہو' کے نعرے لگائے ۔ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ٹی وی چینل ایران انٹرنیشنل کی طرف سے تہران میں نکالے جانے والے جلوس کی فوٹیج دکھائی ...

پاسداران انقلاب ایران کے داعشی ہیں ، تہران میں عوام کی نعرے بازی

مظاہروں میں شرکت پر ایران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری اور رہائی وجود - پیر 13 جنوری 2020

ایرانی پولیس نے حکومت کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس میں شرکت کرنے پرتہران میں متعین برطانوی سفیر روب مکائیر کو حراست میں لے لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا ۔برطانوی حکومت نے تہران میں اپنے سفیر کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار یا ہے ،جبکہ امریکا نے بھی تہران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری کو سفارتی آداب کی توہین قراردیتے ہوئے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اس اقدام پر برطانیہ سے معافی مانگے ۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مقرب ...

مظاہروں میں شرکت پر ایران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری اور رہائی

یوکرین کا طیارہ مار گرانے پرایرانی اپوزیشن کا خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ وجود - پیر 13 جنوری 2020

ایران میں پاسداران انقلاب کی طرف سے یوکرین کا مسافر ہوائی جہاز مار گرائے جانے کے بعد نہ صرف پوری دنیا بلکہ ایرانی عوام اور سیاسی حلقوں میں بھی حکومت کے خلاف سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ایران کی اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ حکومت کو یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی 'گرین موومنٹ' کے رہنما مہدی کروبی نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر ملک کی قیادت کے اہل نہیں ...

یوکرین کا طیارہ مار گرانے پرایرانی اپوزیشن کا خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ

 امریکاکے دشمنوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - جمعه 10 جنوری 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میری انتظامیہ اسلامی بنیاد پرست دہشتگردی کو شکست دینے سے باز نہیں آئے گی ، امریکہ کے دشمنوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور مسلم مخالف بیان منظر عام پر آیا ہے ، ٹوئیٹر پیغام میں امریکی صدر ٹرمپ نے دہشتگردی کو مذہب اسلام کے ساتھ جوڑنے کے اپنے ماضی کے بیانات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ میری انتظامیہ اسلامی بنیاد پرست دہشتگردی کو شکست دینے سے کبھی باز نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ...

 امریکاکے دشمنوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیلیوں کی اکثریت اپنی قیادت کو کرپٹ سمجھتی ہے ، سروے وجود - جمعه 10 جنوری 2020

اسرائیل میں کیے گئے رائے عامہ ایک تازہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلیوں کی اکثریت موجودہ صہیونی ریاست کو کرپٹ سمجھتی ہے ۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق''ڈیموکریٹک اسرائیل''انسٹیٹوٹ کی طرف سے کیے گئے سروے میں بتایا گیا کہ 58 فی صد یہودی آباد کاروں کاخیال ہے کہ ان کی لیڈر شپ بدترین کرپٹ ہے ۔اس سروے میں 24 فی صد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قیادت کوکرپٹ سمجھتے ہیں جب کہ 16 فی صد نے کہا کہ اسرائیلی قیادت کرپٹ نہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 55 فی صد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ ...

اسرائیلیوں کی اکثریت اپنی قیادت کو کرپٹ سمجھتی ہے ، سروے

امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے جنگ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور وجود - جمعه 10 جنوری 2020

امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے کی قرار داد کو منظور کر لیا گیا۔قرار داد ڈیمو کریٹس کے اکثریتی ایوان میں 194 ووٹوں کے مقابلے میں 224 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ قرار داد کا مقصد ایران کے ساتھ کسی بھی تنازع کی صورت میں عسکری کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری کو لازمی قرار دینا ہے ، سوائے اس کے کہ امریکا کو کسی ناگزیر حملے کا سامنا ہو۔ٹرمپ سے جنگ کا اختیار واپس لینے کا ڈیموکریٹس کا بل اگلے ہفتے سینیٹ میں بھیجے جانے کا امکان ہے ...

امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے جنگ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور

حرم شریف میں زمزم کے 15 ہزار کولر اور نئی قالینوں کا اضافہ وجود - جمعه 10 جنوری 2020

مسجد الحرام کی انتظامیہ نے حرم شریف کے خارجی صحنوں، دالانوں اور راہداریوں میں آب زمزم کے کولرز کی تعداد میں 15 ہزار کا اضافہ کر دیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مسجد الحرام انتظامیہ کے ماتحت زمزم سبیل کے ادارے کے ڈائریکٹر مشاری المسعودی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہمارے ادارے نے سٹیل اور سنگ مرمر والی آب زمزم کی سبیلیں بھی شروع کردی ہیں جبکہ حرم شریف میں اہم مقامات پر بھی آب زمزم کے کولرز کی تعداد میں 15 ہزار کولرش کا اضافہ کر دیا ہے جبکہ مسجد الحرام شریف کے دالانوں او...

حرم شریف میں زمزم کے 15 ہزار کولر اور نئی قالینوں کا اضافہ

مغربی میڈیا نے ایران میں تباہ یوکرینی طیارے کی فوٹیج جاری کردی وجود - جمعه 10 جنوری 2020

مغربی میڈیا نے ایران میں تباہ یوکرینی طیارے کی فوٹیج جاری کردی ،یوکرین کی ایئرلائن کو تہران ایئرپورٹ کے قریب نشانا بنایا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نے یوکرینن ایئرلائن کے جہاز کی تباہ ہونے کی فوٹیج حاصل کرلی ،فوٹیج میں یوکرینن ایئر لائنز کو ٹیک آف کے فوری بعد میزائل سے تباہ ہوتے دیکھا جاسکتا ہے ۔فوٹیج میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ یوکرینن ایئر لائن میزائل لگنے سے تباہ ہوئی، جہاز فنی خرابی کے باعث تباہ نہیں ہوا ہے ۔امریکی صدر نے الزام عائد کیا ہے کہ طیارہ کو نشانہ بن...

مغربی میڈیا نے ایران میں تباہ یوکرینی طیارے کی فوٹیج جاری کردی

عراق ،بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ وجود - جمعرات 09 جنوری 2020

عراقی دارالحکومت میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، امریکی سفارتخانے کے گرین زون میں 3 راکٹ داغے گئے جبکہ گرین زون میں 2 راکٹ امریکی سفارتخانے کے قریب گرے تاہم امریکی سفارتخانے کو راکٹ حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا،راکٹ گرنے سے 2 دھماکے ہوئے اور خطرے کے سائرن بجائے گئے ،ایک راکٹ امریکی سفارت خانے سے سو میٹر فاصلے پر گرا۔ وائٹ ہائوس یا...

عراق ،بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ