... loading ...
*منصوبے میں شامل ممالک کو سی پیک کی تکمیل کے بعد ادائیگیوں کے بوجھ سے معیشت پر منفی اثرات سے ڈرایا جارہاہے
* اقتصادری راہداری سے خطے کی اقتصادی ترقی کی توقعات کا اندازہ یوں لگایاجاسکتاہے کہ ایران اور سعودی عرب بھی اس میں شمولیت کے خواہش مند ہیں
پاک چین اکنامک کوریڈور یعنی سی پیک کو پاکستان کی معیشت کیلیے تریاق قرار دیاجارہا ہے اور عام طورپر یہ تاثر دیاجارہاہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کی معاشی ترقی میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوجائے گا،سی پیک کی مالیت 51 ارب 50 کروڑ ڈالر ہوگی ،اس طرح اس منصوبے کو پاکستان کی قسمت بدلنے کے حوالے سے ایک ’گیم چینجر ‘کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔یاد رہے کہ5 جولائی 2013 کو وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورہ چین کے موقع پر چینی صدر سے ملاقات میں پاک۔چین اکنامک کوریڈور کے تحت 8منصوبوں کی مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے تھے، جن میں گوادر سے کاشغر تک 2 ہزار کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔اس کے بعد سن 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کی پاکستان آمد کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 46 ارب ڈالرز کی لاگت کے51 معاہدوں کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، سی پیک کے تحت گوادر میں ہی ایکسپریس وے کی تعمیر سمیت بلوچستان میں توانائی کا بھی ایک بڑا منصوبہ شامل ہے، جبکہ کئی منصوبوں پر ملک کے دیگر صوبوں میں کام کیا جائے گا۔
اس خطے کی اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی کیلیے سی پیک سے وابستہ توقعات کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ اطلاعات کے مطابق ایران اور سعودی عرب بھی سی پیک میں شمولیت کے خواہش مند ہیں اور پاکستان ہی نہیں چین بھی انھیں خوش آمدید کہنے کوتیارنظر آتا ہے۔ اس منصوبے میں ایران کی دلچسپی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائن میں ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے بھی گزشتہ دنوں کہاتھا کہ ایران، پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) میں کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے۔رواں برس ستمبر میں اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے دفتر کے دورے کے موقع پر ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ‘ان کا ملک توانائی کی فراہمی اور سڑکوں، ریلوے اور ڈیمز کی تعمیر کے ذریعے پاکستانی معیشت کی ترقی میں مدد کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ،اس منصوبے میں ایران کو شریک کرنے کے حوالے سے چینی رہنماؤں کی دلچسپی کااندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان میں تعینات چینی سفیر سن ویڈونگ کا کہنا ہے کہ بیجنگ، پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) پر ایران کے ساتھ تعاون بڑھانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا (IRNA) کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران ویڈونگ کا کہنا تھا کہ چین سی پیک کے ذریعے علاقائی تعاون بڑھانے کا خواہش مند ہے اور یہ اس حوالے سے ایک شاندار موقع ہوگا۔چینی سفیر کا کہنا تھا، ‘ہمارا خیال ہے کہ ایران بیلٹ اور سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے ایک اہم ملک ہوسکتا ہے، لہذا ہم اس کے ساتھ تعاون بڑھانے کا سوچ رہے ہیں، سی پیک تعاون کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پروجیکٹ ہے، لہذا ہم تمام علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے منتظر ہیں۔انٹرویو کے دوران چینی سفیر نے کہا، ’’مستقبل میں ایران سے چین تک توانائی کی ایک لائن کی توسیع کے امکانات ہیں۔‘‘
ایک طرف تو اس منصوبے سے علاقے کے ملکوں کی توقعات کا یہ عالم ہے کہ وہ اس منصوبے میں شریک ہونے کا برملا اظہار کررہے ہیں لیکن دوسری جانب اس منصوبے سے مغربی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کے خوف کا یہ حال ہے کہ انھوں نے اس منصوبے کے متوقع منفی پہلوؤں کو اجاگر کرکے اس منصوبے میں شریک ممالک کو یہ باور کرانے کی کوشش شروع کردی ہے کہ وہ اس منصوبے سے بہت زیادہ فوائد کی توقع نہ رکھیں کیونکہ یہ منصوبہ ان کی معیشت پر بوجھ بھی ثابت ہوسکتاہے ، جس کا اندازہ عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ ترین تجزیے سے لگایاجاسکتاہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کو سی پیک منصوبے کی تکمیل کے بعد پیش آنے والی متوقع مشکلات سے خبردار کرتے ہوئے یہ پیغام دیاہے کہ اس منصوبے کی تکمیل پر بہت زیادہ فوائد کی توقع نہ رکھی جائے ،عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں ختم ہونے والے پروگرام کے آخری جائزے میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی چینی سرمایہ کاری معاشی پیداوار کی صلاحیت میں اضافے کا موجب تو بنے گی لیکن اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں مالی ادائیگیوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں پاکستان کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہ داری (سی پیک) سے وابستہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے پاکستانی معیشت پر اثرات کے حوالے سے جائزے میں آئی ایم ایف کااستدلال ہے کہ ’سرمایہ کاری کے مرحلے میں جیسے جیسے منصوبے مکمل ہوں گے پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور ترسیلات زر کی آمد میں اضافہ ہوگا‘۔
تاہم آئی ایم ایف کے مطابق ان منصوبوں کے حوالے سے جب درآمدات کا مرحلہ آئے گا تو اس سے ملک میں آنے والی ترسیلات زر کا بڑا حصہ استعمال ہوجائے گا اور ان برسوں کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھے گا۔رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا کہ سی پیک کے حوالے سے کی جانے والی درآمدات 2020 تک متوقع مجموعی درآمدات کا 11 فیصد یا 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جبکہ سی پیک کے حوالے سے اْس سال ترسیلات زر کی شرح متوقع مجموعی قومی پیداوار کا 2.2 فیصد رہے گی۔
آئی ایم ایف کے مطابق 2020 تک پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات 60 فیصد تک بڑھ جائیں گی اور اس کا حجم 11 ارب ڈالر سے 17.5ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔رپورٹ کے مطابق سی پیک کے تحت ’جلد مکمل ہونے والے منصوبوں‘ کے لیے پاکستان کو آئندہ چند برسوں میں 27.8ارب ڈالر ملیں گے جبکہ بقیہ 16 ارب ڈالر 2030 تک بتدریج آئیں گے۔ پاکستان کو سی پیک منصوبوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے انخلائے زر کو سنبھالنے کی ضرورت ہوگی اور جب چینی سرمایہ کار ان منصوبوں سے اپنا منافع حاصل کرنا شروع کریں گے تو براہ راست بیرونی سرمایہ کاری پر بھی فرق پڑے گا۔ان منصوبوں کے لیے چینی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں کی ادائیگی کی صورت میں بھی انخلائے زر ہوگا جن میں 2021 کے بعد اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق قرضوں اور منافع کی ادائیگیوں کا مجموعی حجم سالانہ جی ڈی پی کا 0.4 فیصد تک پہنچ سکتا ہے اور کافی عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ’سی پیک کا بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے اصلاحات کی جائیں‘۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پیک سے جڑے انخلائے زر کو ان ہی منصوبوں سے فائدہ اٹھاکر پورا کرنے کے لیے کاروباری ماحول، گورننس اور سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جائزے سے قبل سی پیک منصوبوں سے وابستہ انخلائے زر کے معاملے پر آئی ایم ایف اور حکومتی نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی جس میں حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو بتایا تھا کہ چین کی طویل المدتی اضافی سرمایہ کاری انخلائے زر سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگی۔آئی ایم ایف کے خیال میں سی پیک منصوبوں کی وجہ سے ہونے والا انخلائے زر پاکستانی معیشت کو درپیش درمیانے اور طویل المدتی خطرات میں سے ایک ہوگا۔عالمی مالیاتی فنڈ نے مشورہ دیا ہے کہ اس خطرے کو کم سے کم کرنے کے لیے منصوبوں کا درست تخمینہ، کاسٹ بینیفٹ تجزیے پر مبنی ترجیحات کا مکینزم اور اقتصادی اور مالیاتی حالات کی حقیقت پر مبنی پیش گوئی ضروری ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ نے پروجیکٹ مینجمنٹ اور مانیٹرنگ میں شفافیت اور احتساب کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا اور خاص طور پر بجلی پیدا کرنے والی چینی کمپنیوں سے بجلی کی خریداری میں محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ خریدی جانے والی بجلی کی قیمت تقسیم کار کمپنیوں اور صارفین کے لیے موافق ہو۔
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...
برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...
جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...
علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...
حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...
خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...
ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...
پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...
گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...
حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...