وجود

... loading ...

وجود

خاندانی نظام کے دشمن امریکی تنہائی کے مرض میں مبتلا

هفته 08 اکتوبر 2016 خاندانی نظام کے دشمن امریکی تنہائی کے مرض میں مبتلا

r_watson_physicians_500x279ا مریکا میں اخلاقی اقدار میں گراوٹ کے ساتھ ہی خود غرضی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے اب لوگ اپنے بوڑھے ماں باپ، دادا ، دادیوں ، نانا ، نانیوں وغیرہ کو ایک بوجھ تصور کر کے نرسنگ ہوم میں داخل کرا کر خود کو اپنے فرض سے سبکدوش تصور کرنے لگے ہیں۔اس طرح بڑے شہروں اور قصبوں میں نرسنگ ہومز کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ، لیکن باہر سے بڑے خوشنما نظر آنے والے یہ نرسنگ ہوم اس میں داخل کرائے جانے والے ضعیف لوگوں کے لیے کال کوٹھری کے مترادف ہوتے ہیں جہاں ان کے دل کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا، جہاں سیکڑوں افراد کی موجود گی میں ہر ایک خود کو تنہا اور بے بس تصور کرتا ہے اور جہاں داخل ہونے والا ہر شخص اپنی زندگی کے آخری لمحات جلد آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے ۔
امریکی ماہرین کاکہنا ہے کہ اب صرف امریکا کے ان نرسنگ ہومز میں داخل ہونے والے ضعیف العمر لوگ ہی تنہائی کے عذاب کا شکار نہیں ہیں بلکہ تنہائی کا یہ زہر اب ہر گھر میں پھیلتا جارہا ہے ، تنہائی کا یہ عذاب امریکا میں ایک ایسی لاعلاج بیماری کی شکل اختیار کرگیا ہے جس کا طبی دنیا میں اب تک کوئی علاج دریافت نہیں کیا جاسکا ہے ۔ہزاروں لاکھوں لوگوں یہاں تک کہ اپنے سگے لوگوں اوربیوی بچوں کے درمیان رہنے والے لوگ بھی اب ذہنی طور پر خود کو تنہا تصور کرنے لگے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان کے بیوی بچے دوست احباب سب اس وقت تک کے لیے ہیں جب تک ان کے ہاتھ پیر چل رہے ہیں ۔جہاں ان کے ہاتھ پیروں نے کام کرنا بند یا سست کیا یہ سب لوگ اپنی اپنی راہ لیں گے اور ان کے دکھ بٹانے والا کوئی نہیں رہے گا۔بعض لوگ اسے سماجی تنہائی یا دوسروں کے ساتھ میل جول میں مشکلات کا نام دیتے ہیں جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت صرف اور صرف تنہائی کی کیفیت ہے ۔پہلے یہ ضعیفی کی بیماری تصور کی جاتی تھی لیکن اب تازہ ترین سروے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیماری یعنی احساس تنہائی روز بروز بڑھتا جارہا ہے ، سروے رپورٹ کے مطابق امریکی باشندوں کے قریبی اورقابل اعتبار دوستوں اور حلقہ احباب میں کمی ہوتی جارہی ہے ۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس دور میں جبکہ ذرائع مواصلات میں تیزی سے ترقی ہوئی اور اب باہم رابطے کے لیے فون کے علاوہ موبائل فون،ای میل ، ایس ایم ایس اور ایسے ہی بیشمار ذرائع موجود ہیں لوگوں کے باہم رابطے کمزور ہوتے جارہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ احساس تنہائی کاشکارہوتے جارہے ہیں ۔
فیئر لے ڈکنسن یونیورسٹی کی ماہر نفسیات مارگریٹ جبس نے امریکی عوام کے احساس تنہائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دراصل حقیقت یہ ہے کہ اب امریکی عوام اتنے زیادہ مصروف ہوگئے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر کام فوری ہوجائے وہ کسی کام کے لیے انتظار کرنے کوتیار نہیں ہیں ،اسی طرح وہ دوسرے لوگوں اوراپنے ساتھیوں سے قریبی تعلقات کو اہمیت نہیں دیتے ۔وہ لوگوں کو زیادہ وقت دینے سے گریزاں رہتے ہیں ،بعض امریکی اس صورت حال سے گھبرا کر اب ایک دوسرے سے رابطے کرنے کی کوشش کررہے اور دوبارہ یکجا ہونے کے لیے کوشاں ہیں لیکن یکجا ہونے کے لیے یکطرفہ خواہش کامیاب نہیں ہوتی یہخواہش دونوں جانب سے ہونی چاہئے، جب تک دونوں فریق ایک دوسرے سے ملنے اور تعلقات بڑھانے پر تیار نہیں ہوں گے یکطرفہ طور پر تعلقات استوار نہیں ہوسکتے۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ امریکا میں احساس تنہائی کی بیماری میں اس تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس نے اتنا خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے ۔کیونکہ اس کی وجہ سے دل کے امراض، ڈپریشن اور ایسی ہی دوسری بیماریاں پھیلنا شروع ہوگئی ہیں اور ان کی وجہ سے جان کو لاحق خطرات بڑھ گئے ہیں۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بچے بڑے ہوتے ہی اپنا الگ گھر بسانے کی کوشش کرتے ہیں ،اب والدین کوشش کررہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے ساتھ رہنے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہوجائیں،اسی طرح شوہروں سے طلاق لینے والی خواتین بھی ذہنی اور سماجی طور پر زیادہ تنہائی کا شکار ہوجاتی ہیں ۔
امریکا کے عوام میں بڑھتی ہوئی تنہائی کا اندازہ حال ہی میں امریکا میں کی جانے والی مردم شماری کے نتائج سے لگایا جاسکتا ہے اس مردم شماری کے نتائج کے مطابق امریکا کے 25 فی صد گھروں میں یعنی ہر چوتھے گھر میں کوئی نہ کوئی تنہا رہتا ہے ۔
امریکی ماہرین کاکہنا ہے کہ اس تنہائی کے بڑے اسباب میں اوقات کار میں اضافے کے علاوہ دفاتر ، فیکٹریوں اور فارم ہاؤسز میں آمدورفت میں لگنے والے وقت میں اضافہ اور انٹرنیٹ کی سہولت ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کسی سے ملنے جانے کے بجائے انٹرنیٹ پر ہی بات کرلیتا ہے لیکن دوبدو ملاقات اور انٹرنیٹ کی اس ملاقات میں فرق یہ ہے کہ اس ملاقات میں اس اپنائیت اور خلوص کی کمی ہوتی ہے جو دوبدو ملاقات میں موجود ہوتی ہے ۔
رواں سال جون میں امریکا میں کئے گئے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ امریکی شہریوں کے اوسطاً 2 دوست ایسے ہوتے ہیں جن سے وہ دل کی بات کہہ سکتے ہیں اور جنھیں وہ واقعی دوست کہہ سکتے ہیں۔جبکہ 1985 کے سروے کے مطابق اس وقت ایک امریکی شہری کے اوسطاً 3 ایسے گہرے دوست ہوتے تھے جو اس کے دکھ درد اور جلوت و خلوت کے رازدار ہوتے تھے ۔
تنہائی کی اس کیفیت کی وجہ سے امریکی شہریوں میں ذہنی امراض میں اضافہ ہورہاہے اور ایک سروے کے مطابق اس وقت ہر امریکی گھرانے میں کوئی نہ کوئی ایسا فرد ضرور موجود ہے جو کسی نہ کسی ذہنی بیماری یاخلفشار کا شکار ہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ امریکی شہریوں میں تنہائی کابڑھتے ہوئے احساس کا ایک بڑا سبب روزمرہ استعمال کی ایسی چیزوں کی غیر ضروری اشتہار بازی بھی ہے جن کے بغیر انسان کسی مشکل اور پریشانی کے بغیر گزارہ کرلیتاہے ، ایسی اشیا کے اشتہارات سے متاثر ہوکر عام لوگ ان کی خریداری کو ضروری تصور کرتے ہیں اور کم آمدنی والے امریکی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ان کو خرید کر سود درسود کے چکر میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکلنا ان کے لیے مشکل ہوتاہے اور انھیں اپنے ارد گرد انھیں اس مشکل سے نکالنے میں مدد دینے والا جب کوئی نظر نہیں آتا تو وہ احساس محرومی اورتنہائی کے احساس کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ انھیں یہ محسوس ہوتاہے کہ دنیا میں ان کاساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے اور ان کے عزیزوں، رشتہ داروں اوردوست احباب نے انھیں حالات کا مقابلہ کرنے کیلیے تنہا چھوڑ دیاہے۔
ماہرین نفسیات نے تنہائی کا احساس رکھنے والے لوگوں کو مشورہ دیاہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات پر نظر ثانی کریں اور اپنے فارغ وقت میں اپنے دوستوں کو اپنے مشاغل میں شریک کرنے کی کوشش کریں خاص طورپر تعطیل یعنی چھٹی والے دن اپنے کسی قریبی عزیز یا دوست کو کھانے یا چائے پر مدعو کریں یا اس کے گھر یا اسے ہوٹل میں بلاکر اس کے مشاغل میں شریک ہونے کی کوشش کریں اس طرح ایک ساتھ مل جل کر دن گزارنے سے ان کے احساس تنہائی میں کمی آئے گی اور انھیں اپنے مسائل سے دوسروں کو آگاہ کرنے اور دوسروں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور دوسروں کے مسائل سن کر انھیں یہ اندازہ ہوگا کہ صرف وہ ہی مسائل کاشکار نہیں ہیں بلکہ دنیا میں موجود ہر فرد کسی نہ کسی چھوٹے بڑے مسئلے کاشکار ہے۔اس طرح کی ملاقاتوں اور میل ملاپ اور تبادلہ خیالات کے نتیجے میں ان کو درپیش مسائل کا کوئی آسان حل نکالنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ لوگ جب تک انٹرنیٹ اور فیس بک کے جال سے باہر نہیں نکلیں گے اس طرح کے مسائل کاشکار ہوتے رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر