وجود

... loading ...

وجود

’’جی جی بریگیڈ‘‘ اور ’’گالم گلوچ بریگیڈ‘‘ کے تذکرے

جمعه 07 اکتوبر 2016 ’’جی جی بریگیڈ‘‘ اور ’’گالم گلوچ بریگیڈ‘‘ کے تذکرے

aitizaz-ahsanکشمیر کے مسئلے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا تو اس لیے گیا تھا کہ مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی فوج کے مظالم اور کنٹرول لائن پر بھارتی ارحیت کے خلاف متفقہ موقف اپنایا جائے اور عالمی برادری بالخصوص بھارت کو یہ پیغام دیا جائے کہ مذکورہ حساس معاملات پر پاکستان کی حکومت اور حزب اختلاف ایک ہی صفحے پر ہیں مگر یہ اجلاس اتفاق رائے کا نمونہ بننے کے بجائے باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر دشنام طرازی کا عملی مظاہرہ ثابت ہوا۔ جمعرات کو اس مشترکہ اجلاس کا دوسرا ہی دن تھا لیکن اس میں ارکان پارلیمان کی بہت تھوڑی تعداد ہی حاضر تھی۔ نہ صرف حزب اختلاف کی جماعتوں کے بہت سے ارکان اس اہم اجلاس میں موجود نہ تھے بلکہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے بھی متعدد ارکان غائب تھے، یہاں تک کہ وزیر دفاع اور پانی وبجلی خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید بھی دکھائی نہ دیئے۔ مزید یہ کہ اس اجلاس میں جس طرح برسراقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالی، اس سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا وہ تاثر بھی جاتا رہا، جو پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔
حساس قومی معاملات پر اتحاد ویکجہتی پیدا کرنے کے مہم پر پہلا وار تو ’’کپتان‘‘ نے اسی وقت کردیا تھا، جب انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا، ان کے اس ایجنڈے کوپارلیمانی اجلاس میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی نے آگے بڑھایا، جسے اس قوم کی بدنصیبی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے؟ مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ’’جی جی بریگیڈ‘‘ اور ’’گالم گلوچ بریگیڈ‘‘ کے تذکرے ہوتے رہے، حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے پر یکے بعد دیگرے ’’سرجیکل اسٹرائیکس‘‘ کیے۔ حکمراں جماعت کی جانب سے سینیٹر مشاہداللہ خان اور پیپلزپارٹی کی طرف سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے مخالفین پر خوب گولاباری کی۔ مشاہداللہ خان نے پی پی مخالف شعلہ بیانی کے دوران اتنے اشعار پڑھ ڈالے کہ پارلیمانی اجلاس پر مشاعرے کا گماں ہونے لگا، دوسری جانب بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی وزیراعظم نواز شریف کو للکارتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان پارلیمان کو اشتعال دلانے کا سہرا مشاہداللہ خان کے سر رہا، جو اس سے پہلے بھی اپنی ’’گرم گفتاری‘‘ کے باعث وفاقی وزارت سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ اس اجلاس میں بھی انہوں نے شعلہ نوائی کے خوب جوہر دکھائے اور پیپلزپارٹی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہیں سب سے زیادہ غصہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات پیپلزپارٹی جیتے گی جبکہ میاں نواز شریف پاناما لیکس کے حوالے سے کرپشن کے مقدمے میں جیل جائیں گے۔ مشاہداللہ خان نے ایوان میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر 2018ء کا الیکشن مسلم لیگ (ن) نے جیتا تو جیل کون جائے گا؟‘‘ انہوں نے پی پی کے جیالوں کے صبر کا مزید امتحان لیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاناما پیپرز میں میاں نواز شریف کا نام نہیں تھا، البتہ بے نظیر بھٹو کا نام ضرور تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بیرسٹر اعتزاز احسن کا نام لیے بغیر یہ کہتے ہوئے ان پر نکتہ چینی کی کہ ایک صاحب تو (علیحدگی پسند) سکھوں کے ناموں کی فہرست خود انڈین انٹیلی جنس چیف کو دے آئے تھے، جس پر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے اس وقت کی پاکستانی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ بس یہ کہنا تھا کہ نہ صرف اعتزاز احسن بھی خورشید شاہ بھی تن کر کھڑے ہوگئے۔ اعتزاز احسن نے حزب اقتدار کو خوب کھری کھری سنائیں جبکہ خورشید شاہ تو اپنے ساتھیوں سمیت اجلاس کا بائیکاٹ کرکے ایوان سے ہی جانے والے تھے کہ انہیں اسپیکر نے درخواست کرکے اس اقدام سے باز رکھا۔ اس تمام محاذآرائی کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق بار بار مقررین سے درخواست کرتے رہے کہ جناب کشمیر کے موضوع پر بات کیجئے مگر متحارب ارکان پارلیمان ایک دوسرے کے ہی لتے لیتے رہے، یہاں تک کہ اسپیکر کو اجلاس ملتوی کردینا پڑا۔ اس معرکہ آرائی میں اگر دھچکا لگا تو صرف کشمیر کاز اور قومی یکجہتی کو جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے فاضل اراکین باہم پنجہ آزمائی کے بعد سینہ پھلائے ایوان سے رخصت ہوگئے۔
اس صورت حال پر تحریک انصاف کے سربراہ کا جو ردعمل کیمرے کی آنکھ اور کان نے محفوظ کیا اور جو تقریباً تمام ہی نیوز چینلز سے نشر ہوا، وہ بہت ہی شرمناک تھا۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی ’’توتو، میں میں‘‘ پر کپتان بالکل ’’موگیمبو‘‘ کی طرح خوش ہوتے رہے۔ خوشی سے نہال عمران خان نے اپنی جماعت کی سینٹرل ایڈوائزری کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے آتے ہوئے اسد عمر سے مخاطب ہوکر انہیں اس بات پر مبارکباد پیش کی کہ آج پارلیمانی اجلاس میں حکومت اور پیپلزپارٹی کے ارکان میں جھگڑا ہوا اور ان کا آپس میں ہی تیا پانچا ہوگیا، جس پر اسپیکر کو اجلاس ملتوی کردینا پڑا۔ یوں عمران خان کے ’’زریں خیالات‘‘ بے نقاب ہوگئے اور اندازہ ہوا کہ وہ اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں، یہاں تک کہ ایک ایسے وقت پر کہ جب قومی یکجہتی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، وہ حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعت کے مابین محاذ آرائی پر نہ صرف خوش ہورہے ہیں بلکہ اپنی پارٹی کے ایک اہم رہنما کو اس پر مبارک باد بھی دے رہے ہیں۔ جس جہاز کا ’’کپتان‘‘ ہی ایسا ہو، اس کے منزل پر صحیح سلامت پہنچنے کے لیے صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر