... loading ...

شام میں گزشتہ کئی سال سے جاری خانہ جنگی،عراق میں غیر یقینی صورتحال اورداعش کی سرگرمیوں کے اثرات اب مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی محسوس ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی روزبروز کم ہوتی ہوئی مانگ کے سبب تیل کی قیمتوں کی کمی نے خلیجی ملکوں کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اوریہ کہاجاسکتا ہے کہ اس صورتحال کے سبب خلیجی ممالک کی معیشتیں لرزنے لگی ہیں ۔ جس کا اندازہ مشرق وسطیٰ کے تیل سے مالامال ممالک میں کفایت شعاری کے اقدامات سے لگایاجاسکتاہے۔ اس صورتحال کی ایک جھلک گزشتہ دنوں دیکھنے میں آئی تھی جب سعودیہ کی مختلف کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے ہاتھ روک لیاتھا اور مختلف ممالک سے سعودی عرب پہنچنے والے ہزاروں محنت کش جن میں سیکڑوں پاکستانی بھی شامل تھے فاقہ کشی کا شکار ہونے لگے تھے اور حکومت پاکستان کو اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرکے سعودی عرب میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کو فوری ہنگامی امداد کی فراہمی کے ساتھ ہی انھیں وطن واپس لانے کے انتظامات بھی کرنا پڑے تھے۔ سعودی عرب کے علاوہ خلیج کے بعض دوسرے ممالک خاص طورپر اقتصادی اعتبارسے مضبوط تصور کیے جانے والے دبئی اور ابوظہبی جیسے ممالک میں بھی کساد بازاری کی وجہ سے بعض معروف کاروباری اداروں کی بندش اور ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے علاوہ بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھانٹی اور مراعات میں کٹوتی کی شکایتیں بھی اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں کمی اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے منفی اثرات خلیج کے دیگر ممالک کے علاوہ سعودی عرب میں بھی اس شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے کہ سعودی حکمرانوں کو بھی جن کی آمدنی کا انحصار صرف تیل پر نہیں ہے بلکہ عازمین حج اور عمرے کی ادائیگی کیلیے پوری دنیا سے پورے سال بھر مسلمانوں کی سعودی عرب آمد بھی سعودی عرب کے زرمبادلہ کی آمدنی کابڑا ذریعہ ہے ،انہیں بھی اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے اقدامات پر مجبور ہونا پڑا ہے، سعودی معیشت کو درپیش مشکلات کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں خود خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو اس حوالے سے باقاعدہ فرمان جاری کرنا پڑے۔
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے گزشتہ روز یکے بعد دیگرے4 شاہی فرمان جاری کیے جن کے تحت سعودی وزرا جن کی اکثریت کاتعلق شاہی گھرانے سے ہی ہے ،کی تنخواہ میں 20 فیصد اور رکن شوریٰ کے محنتانے میں 15 فیصد کمی کردی گئی۔ تاہم ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کو تنخواہوں میں کٹوتی سے مستثنیٰ رکھاگیا ہے اور سعودی عرب کے جنوبی محاذ پر برسرپیکار فوجیوں کا سالانہ بونس جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔شاہی فرمان کے تحت ارکان شوریٰ کو رہائش اور فرنیچر کے لیے دیے جانے والے سالانہ بونس میں 15 فیصد کمی کردی گئی ہے۔ ار کان شوریٰ کے محنتانے میں کی گئی 15 فیصد کمی میں گاڑی کی قیمت، ڈرائیونگ ، اصلاح و مرمت اور پٹرول شامل ہیں۔ شاہی فرمان کے ذریعے مالی سال 39-1438 ھ کے آخر تک تمام بڑے ریاستی عہدیداروں کیلیے گاڑیوں کی فراہمی بند کردی گئی۔ وزرا اور ان کے ہم رتبہ افراد کو یکم محرم 1438 ھ سے لینڈ لائن اور موبائل فون کے اخراجات از خود برداشت کرناپڑیں گے۔
سعودی کابینہ نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر شہری خدمات کی جانب سے بونس ، محنتانہ ، مالی ترغیبات اور مختلف خدمات کیلیے مراعات میں ترمیم، منسوخی یا بندش سے متعلق خط پر 15 اہم فیصلے جاری کیے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ 1438 ھ مالی سال کے دوران کسی سرکاری ملازم کو سالانہ بونس نہیں دیاجائے گا۔ ملازمت کے معاہدے میں توسیع یا تجدید یا جاری رکھنے یا ازسرنو معاہدہ کرنے پر کوئی مالی اضافہ نہیں ہوگا۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اس قرارداد سے منسلک چارٹ نمبر ایک میں مذکور مالی ترغیبات ، الاؤنس اور محنتانے منسوخ کردیے جائیں اور اس حوالے سے قانونی کارروائی پوری کرلی جائے۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ چارٹ نمبر بی میں مذکور مالی خصوصیات ، محنتانوں اور مختلف خدمات پر دی جانے والی مالی سہولتوں میں ترمیم کی جائے۔ اس حوالے سے قانونی کارروائی مکمل کرلی جائے۔ کابینہ نے چارٹ جی میں واضح مالیاتی ترغیبات ،محنتانوں اور خدمات پر دی جانے والی رقوم مقررہ نظام کے مطابق بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔ کابینہ نے طے کیا کہ اوقات کار سے خارج ڈیوٹی پر ملازم کو دی جانے والی رقم زیادہ سے زیادہ 25 فیصد بنیادی تنخواہ ڈیوٹی کے ایام اور سرکاری تعطیلات یا تہواروں کے موقع پر دی جانے والی اضافی ڈیوٹی پر زیادہ سے زیادہ 50 فیصد کا معاوضہ دیا جائے۔ کابینہ نے یہ بھی طے کیا کہ ایک مالی سال کے دوران ملازمین کو30 دن سے زیادہ ٹی اے ڈی اے نہ دیا جائے۔ کابینہ نے چھٹی کے دوران ملازم کو ٹرانسپورٹ الاؤنس بند کرنے کا بھی حکم جاری کردیا۔ کابینہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ مبینہ دفعات میں مذکور احکام تمام ملازمین پر لاگو ہونگے۔ وہ درجہ بندی والے ہوں یا تنخواہوں کے چارٹ والے ہوں یا اجرت والے ہوں یا مکافات والے ہوں۔ اس میں آپریشنل پروگرام اور خصوصی مد پر کام کرنے والے سعودی ، غیر ملکی شہری اور عسکری سب ملازم شامل ہونگے۔ اس میں تمام سرکاری اداروں کے ملازم داخل ہونگے۔ سعودی کابینہ نے تمام سرکاری اداروں کو وہ محکمے ہوں، جنرل کارپوریشنز ہو، فنڈز ہوں یا خودمختار حیثیت رکھنے والے ادارے ہوں، سب کے سب نئے فیصلوں کے مطابق اپنے قواعد و ضوابط میں ترمیم کے پابند ہونگے۔ یہ کام فیصلے کے اجرا کی تاریخ کے 60 دن کے اندر انجام دینا ہوگا۔
کابینہ نے ایک فیصلہ یہ کیا کہ سرکاری ادارے کا اعلیٰ عہدیدار اسی طرح افرادی قوت کے ادارے کا عہدیدار اور مالیاتی کنٹرولر اپنے اپنے دائرے میں اس فیصلے کے مندرجات کے نفاذ کیلیے ذمے دار ہونگے۔ کابینہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ پبلک کنٹرولر بورڈ اور دیگر کنٹرولر ادارے مقررہ اختیارات کے مطابق اس قرار داد کے مضامین کی پابندی کی نگرانی کریں گے اور اس حوالے سے ضروری کارروائی کے پابند ہونگے۔ سعودی کابینہ نے ہدایت جاری کی کہ شہری خدمات ، تعلیم اور مالیاتی امور کی وزارتوں کے نمائندوں پر مشتمل شہری خدمات کی وزارت کمیٹی تشکیل دے اس میں ایسی شخصیات کو شامل کیا جاسکتا ہے جنہیں وزارت مذکورہ مناسب سمجھے ۔ یہ کمیٹی تعلیمی وظائف کے لائحہ کا ازسرنو مکمل جائزہ لے۔ کارکردگی اور اخراجات میں معیار قائم کرنے کو یقینی بنائے۔ یہ کام 90 دن کے اندر انجام دے کر کابینہ کو رپورٹ پیش کی جائے۔ کابینہ نے خزانہ اور شہری خدمات کی وزارتوں کے نمائندوں کے اشتراک سے عسکری خدمات کونسل کمیٹی تشکیل دینے کا بھی حکم جاری کیا۔ اس میں دیگر عسکری اداروں کی تجاویز حاصل کرنے کیلیے دیگر شخصیتوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ کمیٹی کو مہم تفویض کی گئی ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی الاؤنس کے ضابطے تجویز کرے، طریقہ کار متعین کرے۔ مستحقین کی نشاندہی کرے۔ اس بات کا اہتمام کرے کہ مجوزہ الاؤنس قومی بجٹ میں منظور شدہ رقم سے زیادہ نہ ہو۔ کمیٹی 15 دن کے اندر اندر سفارشات کابینہ کو پیش کردے۔
سعودی کابینہ نے اس قرارداد کے اجراکے بعد مذکورہ دفعات میں آنے والے امور پر نظرثانی کا بھی عندیہ دیا اور واضح کیا کہ کوئی بھی سالانہ الاؤنس یا مالی سہولت یا مکافحہ یا بونس نہیں دیا جائے گا۔
کابینہ نے ایک فیصلہ یہ جاری کیا کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں ، محنتانوں ، ماہانہ الاؤنس، اجرتوں اور اس دائرے میں آنے والے تمام امور کا حساب 12ر بیع الثانی 1437 ھ کو جاری شدہ شاہی فرمان کے بموجب مقررہ قومی بجٹ کے مطابق کیا جائے گا۔ کابینہ نے اس فیصلے پر عملدرآمد کی تاریخ 30 ذی الحجہ 1437ھ مقرر کی ہے۔
سعودی عرب کے شاہ سلمان کی جانب سے جاری کردہ مذکورہ بالا احکامات یافرمان سے ظاہر ہوتاہے کہ خلیج کے دیگر ممالک کے ساتھ ہی سعودی عرب کی حکومت بھی اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات اور تیل کی آمدنی میں روزبروز آنے والی کمی کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کاشکار ہے اور تاریخ میں پہلی دفعہ اسے وزرا یعنی خود اپنے خاندان کے افراد کی مراعات اور تنخواہوں میں کٹوتی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی معیشت پر نظر آنے والے اس زوال سے جہاں خود ان ممالک کے عوام متاثر ہوں گے وہیں اس کے اثرات پوری دنیا خاص طورپر تیسری دنیا کے غریب ممالک پر شدت کے ساتھ محسوس کیے جائیں گے،اور ان ممالک سے روزگار کیلیے خلیجی ممالک جانے والے غریب ممالک کے لوگوں کو وطن واپسی پرمجبور ہونا پڑے گا ان کے روزگار کے مواقع بند ہوجائیں گے اور ان کی وطن واپسی کی وجہ سے خود ان ممالک کو بھی ان لوگوں کومتبادل روزگار کی فراہمی کیلیے شدید دباؤ سے گزرناہوگا۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...