وجود

... loading ...

وجود

شام میں خانہ جنگی: تیل کی قیمتوں میں کمی، خلیجی ممالک کی معیشت لرزنے لگی

هفته 01 اکتوبر 2016 شام میں خانہ جنگی: تیل کی قیمتوں میں کمی، خلیجی ممالک کی معیشت لرزنے لگی

oil-price

شام میں گزشتہ کئی سال سے جاری خانہ جنگی،عراق میں غیر یقینی صورتحال اورداعش کی سرگرمیوں کے اثرات اب مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی محسوس ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی روزبروز کم ہوتی ہوئی مانگ کے سبب تیل کی قیمتوں کی کمی نے خلیجی ملکوں کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اوریہ کہاجاسکتا ہے کہ اس صورتحال کے سبب خلیجی ممالک کی معیشتیں لرزنے لگی ہیں ۔ جس کا اندازہ مشرق وسطیٰ کے تیل سے مالامال ممالک میں کفایت شعاری کے اقدامات سے لگایاجاسکتاہے۔ اس صورتحال کی ایک جھلک گزشتہ دنوں دیکھنے میں آئی تھی جب سعودیہ کی مختلف کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے ہاتھ روک لیاتھا اور مختلف ممالک سے سعودی عرب پہنچنے والے ہزاروں محنت کش جن میں سیکڑوں پاکستانی بھی شامل تھے فاقہ کشی کا شکار ہونے لگے تھے اور حکومت پاکستان کو اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرکے سعودی عرب میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کو فوری ہنگامی امداد کی فراہمی کے ساتھ ہی انھیں وطن واپس لانے کے انتظامات بھی کرنا پڑے تھے۔ سعودی عرب کے علاوہ خلیج کے بعض دوسرے ممالک خاص طورپر اقتصادی اعتبارسے مضبوط تصور کیے جانے والے دبئی اور ابوظہبی جیسے ممالک میں بھی کساد بازاری کی وجہ سے بعض معروف کاروباری اداروں کی بندش اور ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے علاوہ بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھانٹی اور مراعات میں کٹوتی کی شکایتیں بھی اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے منفی اثرات خلیج کے دیگر ممالک کے علاوہ سعودی عرب میں بھی اس شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے کہ سعودی حکمرانوں کو بھی جن کی آمدنی کا انحصار صرف تیل پر نہیں ہے بلکہ عازمین حج اور عمرے کی ادائیگی کیلیے پوری دنیا سے پورے سال بھر مسلمانوں کی سعودی عرب آمد بھی سعودی عرب کے زرمبادلہ کی آمدنی کابڑا ذریعہ ہے ،انہیں بھی اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے اقدامات پر مجبور ہونا پڑا ہے، سعودی معیشت کو درپیش مشکلات کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں خود خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو اس حوالے سے باقاعدہ فرمان جاری کرنا پڑے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے گزشتہ روز یکے بعد دیگرے4 شاہی فرمان جاری کیے جن کے تحت سعودی وزرا جن کی اکثریت کاتعلق شاہی گھرانے سے ہی ہے ،کی تنخواہ میں 20 فیصد اور رکن شوریٰ کے محنتانے میں 15 فیصد کمی کردی گئی۔ تاہم ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کو تنخواہوں میں کٹوتی سے مستثنیٰ رکھاگیا ہے اور سعودی عرب کے جنوبی محاذ پر برسرپیکار فوجیوں کا سالانہ بونس جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔شاہی فرمان کے تحت ارکان شوریٰ کو رہائش اور فرنیچر کے لیے دیے جانے والے سالانہ بونس میں 15 فیصد کمی کردی گئی ہے۔ ار کان شوریٰ کے محنتانے میں کی گئی 15 فیصد کمی میں گاڑی کی قیمت، ڈرائیونگ ، اصلاح و مرمت اور پٹرول شامل ہیں۔ شاہی فرمان کے ذریعے مالی سال 39-1438 ھ کے آخر تک تمام بڑے ریاستی عہدیداروں کیلیے گاڑیوں کی فراہمی بند کردی گئی۔ وزرا اور ان کے ہم رتبہ افراد کو یکم محرم 1438 ھ سے لینڈ لائن اور موبائل فون کے اخراجات از خود برداشت کرناپڑیں گے۔

سعودی کابینہ نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر شہری خدمات کی جانب سے بونس ، محنتانہ ، مالی ترغیبات اور مختلف خدمات کیلیے مراعات میں ترمیم، منسوخی یا بندش سے متعلق خط پر 15 اہم فیصلے جاری کیے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ 1438 ھ مالی سال کے دوران کسی سرکاری ملازم کو سالانہ بونس نہیں دیاجائے گا۔ ملازمت کے معاہدے میں توسیع یا تجدید یا جاری رکھنے یا ازسرنو معاہدہ کرنے پر کوئی مالی اضافہ نہیں ہوگا۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اس قرارداد سے منسلک چارٹ نمبر ایک میں مذکور مالی ترغیبات ، الاؤنس اور محنتانے منسوخ کردیے جائیں اور اس حوالے سے قانونی کارروائی پوری کرلی جائے۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ چارٹ نمبر بی میں مذکور مالی خصوصیات ، محنتانوں اور مختلف خدمات پر دی جانے والی مالی سہولتوں میں ترمیم کی جائے۔ اس حوالے سے قانونی کارروائی مکمل کرلی جائے۔ کابینہ نے چارٹ جی میں واضح مالیاتی ترغیبات ،محنتانوں اور خدمات پر دی جانے والی رقوم مقررہ نظام کے مطابق بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔ کابینہ نے طے کیا کہ اوقات کار سے خارج ڈیوٹی پر ملازم کو دی جانے والی رقم زیادہ سے زیادہ 25 فیصد بنیادی تنخواہ ڈیوٹی کے ایام اور سرکاری تعطیلات یا تہواروں کے موقع پر دی جانے والی اضافی ڈیوٹی پر زیادہ سے زیادہ 50 فیصد کا معاوضہ دیا جائے۔ کابینہ نے یہ بھی طے کیا کہ ایک مالی سال کے دوران ملازمین کو30 دن سے زیادہ ٹی اے ڈی اے نہ دیا جائے۔ کابینہ نے چھٹی کے دوران ملازم کو ٹرانسپورٹ الاؤنس بند کرنے کا بھی حکم جاری کردیا۔ کابینہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ مبینہ دفعات میں مذکور احکام تمام ملازمین پر لاگو ہونگے۔ وہ درجہ بندی والے ہوں یا تنخواہوں کے چارٹ والے ہوں یا اجرت والے ہوں یا مکافات والے ہوں۔ اس میں آپریشنل پروگرام اور خصوصی مد پر کام کرنے والے سعودی ، غیر ملکی شہری اور عسکری سب ملازم شامل ہونگے۔ اس میں تمام سرکاری اداروں کے ملازم داخل ہونگے۔ سعودی کابینہ نے تمام سرکاری اداروں کو وہ محکمے ہوں، جنرل کارپوریشنز ہو، فنڈز ہوں یا خودمختار حیثیت رکھنے والے ادارے ہوں، سب کے سب نئے فیصلوں کے مطابق اپنے قواعد و ضوابط میں ترمیم کے پابند ہونگے۔ یہ کام فیصلے کے اجرا کی تاریخ کے 60 دن کے اندر انجام دینا ہوگا۔

کابینہ نے ایک فیصلہ یہ کیا کہ سرکاری ادارے کا اعلیٰ عہدیدار اسی طرح افرادی قوت کے ادارے کا عہدیدار اور مالیاتی کنٹرولر اپنے اپنے دائرے میں اس فیصلے کے مندرجات کے نفاذ کیلیے ذمے دار ہونگے۔ کابینہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ پبلک کنٹرولر بورڈ اور دیگر کنٹرولر ادارے مقررہ اختیارات کے مطابق اس قرار داد کے مضامین کی پابندی کی نگرانی کریں گے اور اس حوالے سے ضروری کارروائی کے پابند ہونگے۔ سعودی کابینہ نے ہدایت جاری کی کہ شہری خدمات ، تعلیم اور مالیاتی امور کی وزارتوں کے نمائندوں پر مشتمل شہری خدمات کی وزارت کمیٹی تشکیل دے اس میں ایسی شخصیات کو شامل کیا جاسکتا ہے جنہیں وزارت مذکورہ مناسب سمجھے ۔ یہ کمیٹی تعلیمی وظائف کے لائحہ کا ازسرنو مکمل جائزہ لے۔ کارکردگی اور اخراجات میں معیار قائم کرنے کو یقینی بنائے۔ یہ کام 90 دن کے اندر انجام دے کر کابینہ کو رپورٹ پیش کی جائے۔ کابینہ نے خزانہ اور شہری خدمات کی وزارتوں کے نمائندوں کے اشتراک سے عسکری خدمات کونسل کمیٹی تشکیل دینے کا بھی حکم جاری کیا۔ اس میں دیگر عسکری اداروں کی تجاویز حاصل کرنے کیلیے دیگر شخصیتوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ کمیٹی کو مہم تفویض کی گئی ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی الاؤنس کے ضابطے تجویز کرے، طریقہ کار متعین کرے۔ مستحقین کی نشاندہی کرے۔ اس بات کا اہتمام کرے کہ مجوزہ الاؤنس قومی بجٹ میں منظور شدہ رقم سے زیادہ نہ ہو۔ کمیٹی 15 دن کے اندر اندر سفارشات کابینہ کو پیش کردے۔

سعودی کابینہ نے اس قرارداد کے اجراکے بعد مذکورہ دفعات میں آنے والے امور پر نظرثانی کا بھی عندیہ دیا اور واضح کیا کہ کوئی بھی سالانہ الاؤنس یا مالی سہولت یا مکافحہ یا بونس نہیں دیا جائے گا۔

کابینہ نے ایک فیصلہ یہ جاری کیا کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں ، محنتانوں ، ماہانہ الاؤنس، اجرتوں اور اس دائرے میں آنے والے تمام امور کا حساب 12ر بیع الثانی 1437 ھ کو جاری شدہ شاہی فرمان کے بموجب مقررہ قومی بجٹ کے مطابق کیا جائے گا۔ کابینہ نے اس فیصلے پر عملدرآمد کی تاریخ 30 ذی الحجہ 1437ھ مقرر کی ہے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان کی جانب سے جاری کردہ مذکورہ بالا احکامات یافرمان سے ظاہر ہوتاہے کہ خلیج کے دیگر ممالک کے ساتھ ہی سعودی عرب کی حکومت بھی اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات اور تیل کی آمدنی میں روزبروز آنے والی کمی کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کاشکار ہے اور تاریخ میں پہلی دفعہ اسے وزرا یعنی خود اپنے خاندان کے افراد کی مراعات اور تنخواہوں میں کٹوتی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی معیشت پر نظر آنے والے اس زوال سے جہاں خود ان ممالک کے عوام متاثر ہوں گے وہیں اس کے اثرات پوری دنیا خاص طورپر تیسری دنیا کے غریب ممالک پر شدت کے ساتھ محسوس کیے جائیں گے،اور ان ممالک سے روزگار کیلیے خلیجی ممالک جانے والے غریب ممالک کے لوگوں کو وطن واپسی پرمجبور ہونا پڑے گا ان کے روزگار کے مواقع بند ہوجائیں گے اور ان کی وطن واپسی کی وجہ سے خود ان ممالک کو بھی ان لوگوں کومتبادل روزگار کی فراہمی کیلیے شدید دباؤ سے گزرناہوگا۔


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر