وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

شام میں خانہ جنگی: تیل کی قیمتوں میں کمی، خلیجی ممالک کی معیشت لرزنے لگی

هفته 01 اکتوبر 2016 شام میں خانہ جنگی: تیل کی قیمتوں میں کمی، خلیجی ممالک کی معیشت لرزنے لگی

oil-price

شام میں گزشتہ کئی سال سے جاری خانہ جنگی،عراق میں غیر یقینی صورتحال اورداعش کی سرگرمیوں کے اثرات اب مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی محسوس ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی روزبروز کم ہوتی ہوئی مانگ کے سبب تیل کی قیمتوں کی کمی نے خلیجی ملکوں کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اوریہ کہاجاسکتا ہے کہ اس صورتحال کے سبب خلیجی ممالک کی معیشتیں لرزنے لگی ہیں ۔ جس کا اندازہ مشرق وسطیٰ کے تیل سے مالامال ممالک میں کفایت شعاری کے اقدامات سے لگایاجاسکتاہے۔ اس صورتحال کی ایک جھلک گزشتہ دنوں دیکھنے میں آئی تھی جب سعودیہ کی مختلف کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے ہاتھ روک لیاتھا اور مختلف ممالک سے سعودی عرب پہنچنے والے ہزاروں محنت کش جن میں سیکڑوں پاکستانی بھی شامل تھے فاقہ کشی کا شکار ہونے لگے تھے اور حکومت پاکستان کو اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرکے سعودی عرب میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کو فوری ہنگامی امداد کی فراہمی کے ساتھ ہی انھیں وطن واپس لانے کے انتظامات بھی کرنا پڑے تھے۔ سعودی عرب کے علاوہ خلیج کے بعض دوسرے ممالک خاص طورپر اقتصادی اعتبارسے مضبوط تصور کیے جانے والے دبئی اور ابوظہبی جیسے ممالک میں بھی کساد بازاری کی وجہ سے بعض معروف کاروباری اداروں کی بندش اور ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے علاوہ بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھانٹی اور مراعات میں کٹوتی کی شکایتیں بھی اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے منفی اثرات خلیج کے دیگر ممالک کے علاوہ سعودی عرب میں بھی اس شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے کہ سعودی حکمرانوں کو بھی جن کی آمدنی کا انحصار صرف تیل پر نہیں ہے بلکہ عازمین حج اور عمرے کی ادائیگی کیلیے پوری دنیا سے پورے سال بھر مسلمانوں کی سعودی عرب آمد بھی سعودی عرب کے زرمبادلہ کی آمدنی کابڑا ذریعہ ہے ،انہیں بھی اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے اقدامات پر مجبور ہونا پڑا ہے، سعودی معیشت کو درپیش مشکلات کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں خود خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو اس حوالے سے باقاعدہ فرمان جاری کرنا پڑے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے گزشتہ روز یکے بعد دیگرے4 شاہی فرمان جاری کیے جن کے تحت سعودی وزرا جن کی اکثریت کاتعلق شاہی گھرانے سے ہی ہے ،کی تنخواہ میں 20 فیصد اور رکن شوریٰ کے محنتانے میں 15 فیصد کمی کردی گئی۔ تاہم ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کو تنخواہوں میں کٹوتی سے مستثنیٰ رکھاگیا ہے اور سعودی عرب کے جنوبی محاذ پر برسرپیکار فوجیوں کا سالانہ بونس جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔شاہی فرمان کے تحت ارکان شوریٰ کو رہائش اور فرنیچر کے لیے دیے جانے والے سالانہ بونس میں 15 فیصد کمی کردی گئی ہے۔ ار کان شوریٰ کے محنتانے میں کی گئی 15 فیصد کمی میں گاڑی کی قیمت، ڈرائیونگ ، اصلاح و مرمت اور پٹرول شامل ہیں۔ شاہی فرمان کے ذریعے مالی سال 39-1438 ھ کے آخر تک تمام بڑے ریاستی عہدیداروں کیلیے گاڑیوں کی فراہمی بند کردی گئی۔ وزرا اور ان کے ہم رتبہ افراد کو یکم محرم 1438 ھ سے لینڈ لائن اور موبائل فون کے اخراجات از خود برداشت کرناپڑیں گے۔

سعودی کابینہ نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر شہری خدمات کی جانب سے بونس ، محنتانہ ، مالی ترغیبات اور مختلف خدمات کیلیے مراعات میں ترمیم، منسوخی یا بندش سے متعلق خط پر 15 اہم فیصلے جاری کیے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ 1438 ھ مالی سال کے دوران کسی سرکاری ملازم کو سالانہ بونس نہیں دیاجائے گا۔ ملازمت کے معاہدے میں توسیع یا تجدید یا جاری رکھنے یا ازسرنو معاہدہ کرنے پر کوئی مالی اضافہ نہیں ہوگا۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اس قرارداد سے منسلک چارٹ نمبر ایک میں مذکور مالی ترغیبات ، الاؤنس اور محنتانے منسوخ کردیے جائیں اور اس حوالے سے قانونی کارروائی پوری کرلی جائے۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ چارٹ نمبر بی میں مذکور مالی خصوصیات ، محنتانوں اور مختلف خدمات پر دی جانے والی مالی سہولتوں میں ترمیم کی جائے۔ اس حوالے سے قانونی کارروائی مکمل کرلی جائے۔ کابینہ نے چارٹ جی میں واضح مالیاتی ترغیبات ،محنتانوں اور خدمات پر دی جانے والی رقوم مقررہ نظام کے مطابق بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔ کابینہ نے طے کیا کہ اوقات کار سے خارج ڈیوٹی پر ملازم کو دی جانے والی رقم زیادہ سے زیادہ 25 فیصد بنیادی تنخواہ ڈیوٹی کے ایام اور سرکاری تعطیلات یا تہواروں کے موقع پر دی جانے والی اضافی ڈیوٹی پر زیادہ سے زیادہ 50 فیصد کا معاوضہ دیا جائے۔ کابینہ نے یہ بھی طے کیا کہ ایک مالی سال کے دوران ملازمین کو30 دن سے زیادہ ٹی اے ڈی اے نہ دیا جائے۔ کابینہ نے چھٹی کے دوران ملازم کو ٹرانسپورٹ الاؤنس بند کرنے کا بھی حکم جاری کردیا۔ کابینہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ مبینہ دفعات میں مذکور احکام تمام ملازمین پر لاگو ہونگے۔ وہ درجہ بندی والے ہوں یا تنخواہوں کے چارٹ والے ہوں یا اجرت والے ہوں یا مکافات والے ہوں۔ اس میں آپریشنل پروگرام اور خصوصی مد پر کام کرنے والے سعودی ، غیر ملکی شہری اور عسکری سب ملازم شامل ہونگے۔ اس میں تمام سرکاری اداروں کے ملازم داخل ہونگے۔ سعودی کابینہ نے تمام سرکاری اداروں کو وہ محکمے ہوں، جنرل کارپوریشنز ہو، فنڈز ہوں یا خودمختار حیثیت رکھنے والے ادارے ہوں، سب کے سب نئے فیصلوں کے مطابق اپنے قواعد و ضوابط میں ترمیم کے پابند ہونگے۔ یہ کام فیصلے کے اجرا کی تاریخ کے 60 دن کے اندر انجام دینا ہوگا۔

کابینہ نے ایک فیصلہ یہ کیا کہ سرکاری ادارے کا اعلیٰ عہدیدار اسی طرح افرادی قوت کے ادارے کا عہدیدار اور مالیاتی کنٹرولر اپنے اپنے دائرے میں اس فیصلے کے مندرجات کے نفاذ کیلیے ذمے دار ہونگے۔ کابینہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ پبلک کنٹرولر بورڈ اور دیگر کنٹرولر ادارے مقررہ اختیارات کے مطابق اس قرار داد کے مضامین کی پابندی کی نگرانی کریں گے اور اس حوالے سے ضروری کارروائی کے پابند ہونگے۔ سعودی کابینہ نے ہدایت جاری کی کہ شہری خدمات ، تعلیم اور مالیاتی امور کی وزارتوں کے نمائندوں پر مشتمل شہری خدمات کی وزارت کمیٹی تشکیل دے اس میں ایسی شخصیات کو شامل کیا جاسکتا ہے جنہیں وزارت مذکورہ مناسب سمجھے ۔ یہ کمیٹی تعلیمی وظائف کے لائحہ کا ازسرنو مکمل جائزہ لے۔ کارکردگی اور اخراجات میں معیار قائم کرنے کو یقینی بنائے۔ یہ کام 90 دن کے اندر انجام دے کر کابینہ کو رپورٹ پیش کی جائے۔ کابینہ نے خزانہ اور شہری خدمات کی وزارتوں کے نمائندوں کے اشتراک سے عسکری خدمات کونسل کمیٹی تشکیل دینے کا بھی حکم جاری کیا۔ اس میں دیگر عسکری اداروں کی تجاویز حاصل کرنے کیلیے دیگر شخصیتوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ کمیٹی کو مہم تفویض کی گئی ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی الاؤنس کے ضابطے تجویز کرے، طریقہ کار متعین کرے۔ مستحقین کی نشاندہی کرے۔ اس بات کا اہتمام کرے کہ مجوزہ الاؤنس قومی بجٹ میں منظور شدہ رقم سے زیادہ نہ ہو۔ کمیٹی 15 دن کے اندر اندر سفارشات کابینہ کو پیش کردے۔

سعودی کابینہ نے اس قرارداد کے اجراکے بعد مذکورہ دفعات میں آنے والے امور پر نظرثانی کا بھی عندیہ دیا اور واضح کیا کہ کوئی بھی سالانہ الاؤنس یا مالی سہولت یا مکافحہ یا بونس نہیں دیا جائے گا۔

کابینہ نے ایک فیصلہ یہ جاری کیا کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں ، محنتانوں ، ماہانہ الاؤنس، اجرتوں اور اس دائرے میں آنے والے تمام امور کا حساب 12ر بیع الثانی 1437 ھ کو جاری شدہ شاہی فرمان کے بموجب مقررہ قومی بجٹ کے مطابق کیا جائے گا۔ کابینہ نے اس فیصلے پر عملدرآمد کی تاریخ 30 ذی الحجہ 1437ھ مقرر کی ہے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان کی جانب سے جاری کردہ مذکورہ بالا احکامات یافرمان سے ظاہر ہوتاہے کہ خلیج کے دیگر ممالک کے ساتھ ہی سعودی عرب کی حکومت بھی اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات اور تیل کی آمدنی میں روزبروز آنے والی کمی کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کاشکار ہے اور تاریخ میں پہلی دفعہ اسے وزرا یعنی خود اپنے خاندان کے افراد کی مراعات اور تنخواہوں میں کٹوتی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی معیشت پر نظر آنے والے اس زوال سے جہاں خود ان ممالک کے عوام متاثر ہوں گے وہیں اس کے اثرات پوری دنیا خاص طورپر تیسری دنیا کے غریب ممالک پر شدت کے ساتھ محسوس کیے جائیں گے،اور ان ممالک سے روزگار کیلیے خلیجی ممالک جانے والے غریب ممالک کے لوگوں کو وطن واپسی پرمجبور ہونا پڑے گا ان کے روزگار کے مواقع بند ہوجائیں گے اور ان کی وطن واپسی کی وجہ سے خود ان ممالک کو بھی ان لوگوں کومتبادل روزگار کی فراہمی کیلیے شدید دباؤ سے گزرناہوگا۔


متعلقہ خبریں


کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت وجود - منگل 18 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھنوم نے کہا کہ چین کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نوول کورونا وائرس سے متاثرہ نئے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔اس لئے عالمی ادارہ صحت موجودہ نتائج کو برقرار رکھے گا یعنی نوول کرونا وائرس نمونیا عالمی سطح پر وبائی بیماری نہیں اور عالمی سطح پر وبا کے خطر ے کی درجہ بندی کو نہیں بڑھایا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کے تحت ہنگامی صحت عامہ پروگرام کے انچارج م...

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین وجود - منگل 18 فروری 2020

چین نے ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کردیا ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جو ایران اوردوسرے ممالک کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے داخلی قوانین اور یکطرفہ طور پر دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں اور اداروں پر پابندی عائد کرے ۔گنگ شوانگ نے ایران کے خلاف امریک...

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل وجود - منگل 18 فروری 2020

سعودی عرب دنیا کے دس پرکشش ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق2020 کے دوران سعودی عرب مختلف تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں ترین ملک بن جائے گا۔عالمی بنک نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں سعودی عرب کو دنیا کے دس پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ سعودی عرب دبئی کا طاقتور حریف بننے جارہا ہے ۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں سعودی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کی بدولت کمپنیاں دبئی سے سعودی عرب منتقل ہونے لگی ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے کاروبار کا ...

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز وجود - پیر 17 فروری 2020

سوڈان میں گزشتہ برس صدر عمر البشیر کا تختہ الٹے جانے کے بعد نئی حکومت نے اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز کردیا ۔ سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی اجازت سے اسرائیل کے لیے سوڈان کی فضائی حدود کو کھول دیا گیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے باب میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ سوڈان نے اسرائیلی سول طیاروں کو اپنی حدودمیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی ۔رپورٹ کے مطابق ایک سول طیارہ تل ابیب سے سو...

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز

امریکی کمپنی کا یہودی آبادکاروں کیلئے مفت کارگو سروس کا اعلان وجود - پیر 17 فروری 2020

امریکا کی سب سے بڑی آن لائن کاروباری کمپنی ایمازون نے غرب اردن اور القدس میں بسنے والے یہودی آبادکاروں کسی بھی قسم کا سامان منگوانے کی صورت میں مفت کارگو سروس فراہم کرنے کی پیشکش کردی ۔کمپنی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اگرآپ فلسطین میں قائم کی گئی کسی یہودی کالونی میں بسنے والے یہودی ہیں تو اس کالونی میں اپنا ڈاک کا پتا درج کریں، ہم آپ کی مطلوبہ چیز کسی اضافی سروس چارچز کے بغیر آپ تک پہنچائیں گے ۔کمپنی کی طرف سے کہا گیا کہ اگر یہودی کالونی میں کوئی فلسطینی آباد ہے ...

امریکی کمپنی کا یہودی آبادکاروں کیلئے مفت کارگو سروس کا اعلان

حماس کی سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں کو پھنسانے کی چال کامیاب‘اسرائیل کا اعتراف وجود - پیر 17 فروری 2020

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کے موبائل ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام نے بھی حماس کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے فوجیوں کے بارے میںمعلومات کے حصول کی کوشش کا اعتراف کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلٰی فوج کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خوبصورت اور پرکشش لڑکیوں کی تصاویر پرمبنی اکائونٹس سے اسرائیلی فوجیوں کو دوستی کا پیغام بھیجا جاتا اور فرین...

حماس کی سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں کو پھنسانے کی چال کامیاب‘اسرائیل کا اعتراف

چین میں ہسپتال تعمیر کرنے والی مشینوں کو ہیروز کا درجہ مل گیا وجود - پیر 17 فروری 2020

چین میں کورونا وائرس بحران کے نتیجے میں انسان تو گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے لیکن تعمیراتی کاموں میں حصہ لینے والی گاڑیوں کو ہیروز کا درجہ مل چکا ہے۔ان گاڑیوں کی مدد سے چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان میں دو نئے ہسپتال ریکارڈ مدت میں تعمیر کیے گئے تھے۔ملک کے سبھی حصوں میں چونکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی تھی اور تاکید کی گئی تھی کہ صرف اشد ضرورت کے تحت ہی باہر نکلا جائے۔ظاہر ہے کہ ان حالات میں یقیناً چینی عوام تفریحی موقعوں ک...

چین میں ہسپتال تعمیر کرنے والی مشینوں کو ہیروز کا درجہ مل گیا

ہواوے سے متعلق ممالک سے انٹیلی جنس شیئرنگ نہیں ہوگی‘ ٹرمپ وجود - پیر 17 فروری 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی کمپنی ہواوے کے ساتھ تعلق رکھنے والے ممالک کے ساتھ حساس معلومات کا تبادلہ ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔جرمنی میں تعینات امریکی سفیر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ہواوے کمپنی کے ساتھ تعلق رکھنے والے تمام ممالک کو متنبہ کیا جائے کہ امریکا ان کے ساتھ حساس معلومات کا تبادلہ نہیں کرے گا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا کچھ عرصے سے اپنے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ چین کی کمپنی ہواوے ٹیکنالوجی پر پابندی لگائیں۔ہواوے کا شمار دنیا کی ...

ہواوے سے متعلق ممالک سے انٹیلی جنس شیئرنگ نہیں ہوگی‘ ٹرمپ

برطانوی عدالت نے اسلامی شادیوں کوغیر مستند قرار دیدیا وجود - پیر 17 فروری 2020

ایک برطانوی عدالت نے دو سال قبل ایک مسلمان جوڑے کے مقدمے کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کیونکہ ان کی شادی کی تقریب اسلامی رسومات کے تحت ہوئی اس لیے اب وہ قانونی طور پر طلاق کا حق بھی رکھتے ہیں۔ 2018 میں ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اس (مسلم) جوڑے کا اسلامی طور پر ہونے والا نکاح کا بندھن بھی ملکی قانون کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ تاہم اپیل کورٹ نے سرے سے نکاح کی اس تقریب کو ہی ’غیر مستند‘ اور غیر قانونی قرار دیدیا۔ججز نے واضح کیا کہ مروجہ ملکی قوا...

برطانوی عدالت نے اسلامی شادیوں کوغیر مستند قرار دیدیا

امریکی یہودی تنظیم کاوفد 27 سال سعودی عرب کا دورہ کرے گا وجود - اتوار 16 فروری 2020

امریکا میں یہودیوں کی سب سے بڑی تنظیم امریکن جیوش کانگرس کے ایک وفد نے سعودی عرب کے دورے کا اعلان کیا ہے ۔ امریکی یہودی تنظیم کے وفد کا یہ 27 سال کے بعد پہلی بار سعودی عرب کا دورہ ہے ۔ اسرائیلی اخبار 'ہارٹز' نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنہ 1993 کے بعد امریکی یہودی تنظیم کے ارکان پہلی بار سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔ تاہم دوسری طرف سعودی عرب نے اس دورے کی تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھا ہے ۔اخباری رپورٹ کے مطابق سوموار سے جمعرات تک جاری رہنے والے اس دورے میں امریکی یہودی سعودی...

امریکی یہودی تنظیم کاوفد 27 سال سعودی عرب کا دورہ کرے گا

ایران بات چیت سے قبل اپنے کردار میں تبدیلی لائے ، سعودی وزیرخارجہ وجود - اتوار 16 فروری 2020

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ مملکت کی جانب سے ایران کو کوئی نجی پیغام نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اس کے لیے سعودی عرب کا پیغام بڑا واضح ہے ۔شہزادہ فیصل میونخ میں منعقدہ سالانہ سکیورٹی کانفرنس میں ایک پینل گفتگو میں شریک تھے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہمارا ایران کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ پہلے اپنے کردار میں تبدیلی لائے ۔ اس کے بعد ہی اس کے ساتھ کوئی بات چیت ہوسکتی ہے ۔انھوں نے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت میں مدا...

ایران بات چیت سے قبل اپنے کردار میں تبدیلی لائے ، سعودی وزیرخارجہ

سلیمانی کے قتل کا 'انتقام' پورا نہیں ہوا،جواد ظریف وجود - اتوار 16 فروری 2020

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک عسکری ملیشیائوں کو نہیں بلکہ ان افراد کی مدد کرتا ہے جو تہران کی حمایت کرتے ہیں۔ میونخ میں منعقدہ عالمی سلامتی کانفرنس سے خطاب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی فوج کے حملے میں ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا 'انتقام' پورا نہیں ہوا۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد بہت سے لوگوں نے اس کا انتقام لینے کا سوچا مگر ہم انہیں کنٹرول نہیں کرسکتے ۔ میں صرف یہ کہتا ہوں...

سلیمانی کے قتل کا 'انتقام' پورا نہیں ہوا،جواد ظریف