بھارتی میڈیا اور انتہا پسندوں کا دباؤ‘ سرجیکل اسٹرائیکس ڈرامے کی وجہ بنا

بی جے پی اگلے سال ریاستی الیکشن میں شکست سے بچنے کے لئے جنگی ہوا کھڑا کررہی ہے

kashmir-loc

اوڑی حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیے جانے کے بعد بھارتی حکومت پر وہاں کے میڈیا اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کا شدید دباؤ تھا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے جوش خطابت میں پاکستان کو دندان شکن جواب دینے کی بڑھکیں تو لگادیں مگر جب انہیں عملی جامہ پہانے کا موقع آیا تو پاکستان کے یقینی موثر جواب کے خوف کے باعث گریز کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ بھارتی رائے عامہ اور’’آر ایس ایس‘‘ کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے جان چھڑانے کے لیے بالآخر مودی حکومت اور بھارتی فوج کو سرجیکل اسٹرائیکس کا ڈراما رچانا پڑا۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگلے سال یوپی سمیت پانچ ریاستوں میں الیکشن ہونے والے ہیں اور بی جے پی متوقع شکست سے بچنے کیلیے جنگی ہوا کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ سرجیکل اسٹرائیکس سے متعلق بھارتی دعوؤں کی پاکستان کی جانب سے پرزور تردید پر نئی دہلی کی جانب سے کہا گیا کہ اگر پاکستان نے بھارتی موقف تسلیم نہ کیا تو مناسب وقت پر اس کے صوتی وبصری شواہد منظرعام پر لائے جائیں گے۔ اب بھارتی نیتاؤں سے کون پوچھے کہ آخر اس سے زیادہ مناسب وقت اور کون سا ہوگا؟ پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر سرجیکل اسٹرائیکس کے بھارتی دعوؤں کی تردید کے بعد سب سے زیادہ موزوں وقت یہی تھا کہ اگر ان حملوں کے ثبوت موجود ہیں تو وہ سامنے لے آئے جائیں۔

طرفہ تماشا یہ ہوا کہ مبینہ بھارتی سرجیکل اسٹرائیکس کا سب سے سنگین اثر خود بھارتی معیشت پر پڑا، انڈین روپے کی قدر 36 پیسے کم ہوگئی، جو جون کے بعد بھارتی کرنسی کی قدر میں اب تک ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپے کی شرح مبادلہ 66.85 تک جا پہنچی جبکہ ہندوستان کے سب سے بڑے بمبئی اسٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں بھی 1.4 فیصد کمی دیکھی گئی۔ گویا ایل او سی پر جارحیت بھارت کو خود ہی مہنگی پڑی۔

یہاں یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوؤں پر عالمی برادری کا ردعمل کیا ہے؟ تادم تحریر صرف امریکا اور چین کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا، امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور بھارت پر زور دیا کہ وہ ایٹمی صلاحیت سے لیس اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے۔ یہ دو روز میں جان کیری کا اپنی بھارتی ہم منصب کے ساتھ دوسرا رابطہ تھا۔ قومی سلامتی کی امریکی مشیر سوزن رائس نے بھی اپنے بھارتی ہم منصب اجیت دووال سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ چین، پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کم کرانے کے لیے مختلف سطحوں پر دونوں ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ چینی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان اور بھارت باہمی رابطے بڑھائیں گے، اپنے اختلافات کو احسن انداز میں حل کرنے کی کوشش کریں گے اور خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے بھارت کی جانب سے ایل او سی کے پار سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوؤں کی مذمت نہیں کی، حالانکہ یہ دعوے سراسر دراندازی کے ہیں، جو مسلمہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کو اس حوالے سے عالمی رائے عامہ کو Sensitize کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کل وقتی وزیرخارجہ کی عدم موجودگی، ہماری وزارت خارجہ کی کارکاردگی پر بھی اثرانداز ہورہی ہے۔ اس کا ایک ثبوت تو یہی ہے کہ ہمارے سفارت کار موثر ڈپلومیسی کے ذریعے سارک کے رکن ملکوں کو اسلام آباد کے مجوزہ سربراہ اجلاس میں شرکت پر آمادہ نہ کرسکے اور بھارت یہ کانفرنس ملتوی کرانے کے اپنے مذموم مقصد میں کم سے کم وقتی طور پر تو کامیاب ہو ہی گی

Electrolux